اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ہر مسلمان کیلئے ضروری ہے کہ وہ ہر اچھا کام ’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم‘‘ پڑھ کر شروع کرے کیونکہ اس صورت میں اللہ تعالیٰ اس کام کو اپنی خاص رحمت سے نوازے گا-
بسم اللہ میں ایک تو اللہ تعالیٰ کا ذاتی اسم مبارک ہےاور اس کے ساتھ دو صفاتی نام شامل ہیں:
- الرحمٰن یعنی اللہ کی اپنی ذات ہی بے حد مہربان ہے-
- الرحیم یعنی اللہ کا کرم اور رحم اپنے بندوں پر مسلسل جاری رہتا ہے-
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کو بندے کے توکل، تقویٰ، صبر اور شکر کے ساتھ جوڑا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا ہے کہ اس کی رحمت اس کے غضب پر ہمیشہ غالب رہتی ہے-اس کے متعلق تین آیات مبارکہ پیشِ خدمت ہیں:
’’اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ ہَاجَرُوْا وَ جٰہَدُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللہِ ۙ اُولٰٓئِکَ یَرْجُوْنَ رَحْمَتَ اللہِ ط وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ‘‘[1]
’’وہ جو ایمان لائے اور وہ جنہوں نے اللہ کے لئے اپنے گھر بار چھوڑے اور اللہ کی راہ میں لڑے وہ رحمت الٰہی کے امید وار ہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے‘‘-
’’وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِہَا وَادْعُوْہُ خَوْفًا وَّ طَمَعًاط اِنَّ رَحْمَتَ اللہِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ‘‘[2]
’’اور زمین میں اس کی اصلاح کے بعد فساد برپا نہ کرو اوراللہ سے دعا کرو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے- بیشک اللہ کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہے‘‘-
’’اَہُمْ یَقْسِمُوْنَ رَحْمَۃَ رَبِّکَ ط نَحْنُ قَسَمْنَا بَیْنَہُمْ مَّعِیْشَتَہُمْ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ رَفَعْنَا بَعْضَہُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِیَتَّخِذَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا سُخْرِیًّا ط وَ رَحْمَتُ رَبِّکَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ‘‘[3]
’’کیا تمہارے رب کی رحمت وہ بانٹتے ہیں؟ دنیا کی زندگی میں ان کے درمیان ان کی روزی (بھی) ہم نے ہی تقسیم کی ہے اور ہم نے ان میں ایک کو دوسرے پر کئی درجے بلندکیا ہے تاکہ ان میں ایک دوسرے کو اپنا خادم بنائے اور تمہارے رب کی رحمت اس سے بہتر ہے جو وہ جمع کررہے ہیں‘‘-
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ کی رحمت کےحصول کے کئی اہم پہلو بیان کیے گئے ہیں- جن میں سے سب سے نمایاں توبہ اور مغفرت ہے کیونکہ وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کر کے ان کے گناہ معاف کر دیتا ہے اور قرآن کریم میں اس کی فضیلت کا بار بار ذکر ملتا ہے- اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو سیدھے راستے پر چلانے کے لئے قرآن کریم اور انبیاء کرام (علیھم السلام) کے ذریعے ہدایت اور رہنمائی فراہم کی ہے اور انہیں دنیا میں بے شمار نعمتیں عطا کرنے کے ساتھ آخرت میں بھی اپنے فضل و کرم سے نوازنے کا وعدہ کیا ہے- قرآن کریم میں مایوسی کو گناہ قرار دیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اس کی ذات کی طرح بہت وسیع ہے اور اس رحمت کی عملی مثالیں ہمیں بارش، رزق، صحت اور ایمان کی صورت میں نظر آتی ہیں- الغرض! شانِ رحمت اللہ تعالیٰ کو اس قدر محبوب ہے کہ اس نے اپنے حبیب مکرم حضور نبی اکرم (ﷺ) کو جتنی شانیں عطا فرمائیں، ان میں سے ایک شان کا اظہار یوں فرمایا:
’’وَ مَآ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ ‘‘[4]
’’اور ہم نے تمہیں تمام جہانوں کیلئے رحمت بنا کر ہی بھیجا‘‘-
ایک اور مقام پر آپ (ﷺ) کی ذات پاک کو رؤوف و رحیم [5]بیان فرما کر مزید آپ (ﷺ) کی ذاتِ اقدس کو اپنی عظیم رحمت قرار دیا-گویا حضور نبی کریم (ﷺ) کی ذات پاک تک رسائی دراصل رحمتِ الہٰی تک رسائی ہے-
احادیثِ مبارکہ میں بھی اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کو مختلف زاویوں سے پیش فرمایا گیا ہے- آقا کریم (ﷺ) نے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ نے رحمت کے 100 حصے بنائے ہیں جن میں سے اُس نے 99 حصے اپنے پاس رکھ لئے اور ایک حصہ زمین پر نازل کیا- ساری مخلوق جو ایک دوسرے پر رحم کرتی ہے یہ اُسی ایک حصے کی وجہ سے ہے، یہاں تک کہ گھوڑا جو اپنے بچے کے اُوپر سے اپنا پاؤں اُٹھاتا ہے کہ کہیں اُسے تکلیف نہ پہنچے وہ بھی اسی ایک حصے کے باعث ہے‘‘-[6]
اسی طرح نیک اعمال بھی اللہ کی رحمت کے حصول کا ذریعہ ہوتے ہیں-حضرت عبد اﷲ بن عباس (رضی اللہ عنہ)سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم (ﷺ) نے اپنے رب سے روایت کرتے ہوئے فرمایا:
’’اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور بدیاں لکھ دیں اور اُنہیں واضح فرما دیا ہے- پس جس نے نیک کام کا ارادہ کیا اور اُسے کر نہ سکا تب بھی اللہ تعالیٰ اُس کے لئے پوری نیکی کا ثواب لکھ دیتا ہے اور اگر اُس نے ارادہ کیا اور پھر اُسے کر بھی لیا تو اللہ تعالیٰ اُس کے لئے 10نیکیوں سے 700 تک اور اُس سے بھی کئی گنا زیادہ کر کے لکھ دیتا ہے اور جس نے برائی کا ارادہ کیا اور پھر اُسے نہ کیا تو اللہ تعالیٰ اُس کے لئے ایک کامل نیکی لکھ دیتا ہے اور اگر اُس گناہ کے کرنے کا ارادہ کیا اور اس پر عمل بھی کر لیا تو اللہ تعالیٰ اُس کے نامہ اعمال میں صرف ایک برائی لکھتا ہے‘‘-[7]
حضور نبی اکرم (ﷺ)کی مبارک زبان سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصول کا ایک اور ذریعہ خفی ریاضت کرنے والوں کیلئے ذاتِ الٰہ کا آسمانِ دنیا پر نزول بھی ہے-حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا:
’’ہر رات اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق آسمان سے دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے جبکہ رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے- تو وہ فرماتا ہے: کون ہے مجھ سے دعا کرنے والا تاکہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے مجھ سے سوال کرنے والا کہ میں اسے عطا کروں؟ کون ہے مجھ سے استغفار کرنے والا تاکہ میں اس کی مغفرت کروں‘‘-[8]
اللہ پاک اپنےنیک بندوں کو جہاں مزیدعطا کرتا ہے تو وہیں خطا کاروں کی توبہ کا منتظر رہتا ہے-راہِ سلوک میں قرآن و سنت کے انہی منازل و مراتب کے حصولِ رحمت کا طریقہ بیان ہوتا ہے- زیرِ غور مقالہ میں سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ کی تعلیمات سے اس ترتیب کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے-
1. تصورِ اسمِ اللہ ذات و کلمہ طیبات
ذکرِ قلبی بندے کو اللہ تعالیٰ کی دائمی رحمت اور پاکیزگی کے سایہ میں لانے کا بنیادی ذریعہ ہیں-حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
’’جس شخص کی نظر میں ہر وقت اسمِ اللہ ذات کا تصور سمایا رہتا ہے وہ ہر وقت اللہ تعالیٰ کی نگاہِ رحمت کے سایہ میں رہتا ہے- تصورِ اسمِ اللہ ذات میں غرق رہنے والا شخص اگرچہ بظاہر فسق وفجور میں ملوث کیوں نہ نظر آئے اسمِ اللہ ذات کی برکت وتاثیر سے اُس کا وجود آخرکار پاک ہوجاتا ہے اور مرتے وقت وہ تائب ہو جاتا ہے- فرمانِ حق تعالیٰ ہے: ”بے شک اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں اورصاف ستھرا رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے“ -[9]
اِسی پاکیزگی اور رحمت کو قائم رکھنے کے لیے کلمہ طیب اہم ترین بنیاد ہے- آ پؒ فرماتے ہیں:
’’کلمہ طیب اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے، کلمہ طیب برکت ہے، کلمہ طیب اِیمان ہے‘‘- [10]
جب یہ ذکر دل کی گہرائیوں میں اُتر کر ذاکرِ خفیہ کا مقام حاصل کر لیتا ہے تو اس کی نگہداشت براہِ راست رحمتِ الہٰی کے سپرد ہو جاتی ہے:
’’ذاکرِ خفیہ کے گناہ کراماً کاتبین کے دفاتر میں نہیں لکھے جاتے کہ اُس کے دل پر ہر وقت اللہ تعالیٰ کی نگاہِ رحمت مرکوز رہتی ہے‘‘- [11]
پس اسمِ ذات اور ذکرِ قلبی کو باقاعدگی سے اختیار کرنے سے تصورِ اسمِ ذات انسان کو ظاہری و باطنی آلودگیوں سے پاک کرتا ہے اور اسے رحمتِ الٰہی کا مستحق بناتا ہے-
2. انفاق فی سبیل اللہ اور زہد (دنیا سے بے رغبتی)
دنیا کی فانی حقیقت کو سمجھ کر مال و اسباب راہِ خدا میں خرچ کرنا اور ترکِ دنیا اختیار کرنا رحمتِ الٰہی کا عظیم سبب ہے-سلطان صاحب فرماتے ہیں:
’’جو آدمی جان کنی کی تلخی، روزِ قیامت، پل صراط اور ملاقاتِ ملک الموت عزرائیل (علیہ السلام) کو یاد رکھتا ہے وہ اپنی ملکیت میں کچھ نہیں رکھتا بلکہ اپنا تمام گھر بار اور مال و اسباب راہِ خدا میں خرچ کردیتا ہے اور دم بھی نہیں مارتا‘‘- [12]
اس جذبہ انفاق اور دنیا سے بے رغبتی ہی کے ذریعے آخرت کی کامیابی ممکن ہوتی ہے- جیسا کہ حضرت سلطان باھوؒ ایک مقام پر بیان فرماتے ہیں:
’’دنیا آخرت کی کھیتی ہے لیکن آخرت کی کھیتی تب بنتی ہے جب بندہ اِسے دل وجان سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرے جس طرح کہ حضرت عثمانِ غنی (رضی اللہ عنہ) خرچ کیا کرتے تھے- جو آدمی دنیا جمع کرتا ہے اور راہِ خدا میں خرچ نہیں کرتا وہ شیطانِ ثانی ہے- کیا وجہ ہے کہ بعض علماء تارکِ دنیا ہو کر اؤلیاء اللہ کے مراتب پر پہنچ جاتے ہیں اور بعض دنیا کے حریص بن کر اللہ تعالیٰ کے دشمن بن جاتے ہیں؟ [13]
مزید برآں، تعلیماتِ سلطانی میں ترکِ دنیا کو تمام روحانی عبادات کا مغز اور اصل قرار دیا گیا ہے:
’’حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:’’ترکِ دنیا تمام عبادات کی جڑ ہے اور حُبِّ دنیا تمام برائیوں کی جڑ ہے‘‘- ترکِ دنیا اور محبتِ الٰہی عبادت کا مغز ہے کہ اِس میں اسرارِ ہدایت پوشیدہ ہیں- دنیا کی محبت فتنہ و بدعت کی جڑ ہے- عجیب احمق لوگ ہیں کہ جنہوں نے بدعت کو ہدایت سمجھ رکھا ہے- وہ سیاہ دل اندھے آنکھیں رکھتے ہوئے بھی نابینا ہیں‘‘- [14]
3. محبتِ الٰہی، اتباعِ رسول(ﷺ)اور مقامِ فقیر
محبتِ الٰہی وہ قوی جذبہ ہے جو طالبِ حق کو تمام ظاہری مراتب سے بلند کر کے معشوقیّت کے مقام پر فائز کر دیتا ہے-رحمتِ الہٰی کے اس عالی مرتبہ کو آپ سادہ انداز میں یوں فرماتے ہیں:
’’تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ اصحابِ کہف کے کتے کو محبت کہاں سے کھینچ لائی اور شیطان کو علم نے کہاں جا پہنچایا؟‘‘ [15]
اس محبتِ الٰہی کے حصول کا ایک اہم ذریعہ فقراءِ حق سے محبت اور ان کی صحبت اختیار کرنا ہے:
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے:”فقراء کی محبت جنت کی چابی ہے“-[16]
جب بندہ فقراء کا راستہ چن کر اتباعِ رسول (ﷺ) کی راہ پر گامزن ہوتا ہے تو وہ محبوبِ الٰہی بن جاتا ہے حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:
’’فرمانِ حق تعالیٰ ہے:”اے نبی! آپ فرما دیں کہ اگر تم اللہ کی محبت کے طلبگار ہو تو میری اتباع کرو- اللہ تم سے محبت کرے گا-“ پس معلوم ہوا کہ فقیر حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کا معشوق اور اللہ کا عاشق ہے اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا معشوق اللہ کا بھی معشوق ہوتا ہے- بیت: ”اِس مقام پر عشق، عاشق اور معشوق سب برابر ہیں- جب یہاں وصل نہیں تو ہجر کیسا؟“ [17]
محبت میں غرق ہونے والے طالبِ حق کے سامنے کائنات خود مسخر ہو جاتی ہے اور سالک محض اللہ ہی پر توکل رکھتا ہے- جیسا کہ آپؒ فرماتے ہیں:
’’جان لے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی طلب اور اُس کی محبت میں غرق ہوجائے تو دنیا و اہلِ دنیا اُس کی طلب و محبت میں گرفتار ہو کر اُس کی طاعت و غلامی اختیار کر لیتے ہیں-بیت: اگر کوئی مجھ پر ظلم و ستم بھی ڈھائے تو مَیں اللہ کو چھوڑ کر کسی اور کی طرف نہیں دیکھوں گا‘‘-[18]
ایسے اہل ِ محبت کی اپنی ذاتی ہستی مٹ جاتی ہے اور وہ فنا کے مرتبے پر پہنچ جاتے ہیں-جیسا کہ فرمان ہوا:
’’اہلِ محبت کو نام و خطاب کی کیا حاجت؟ کہ وہ تو اُس حباب کی مثل ہیں کہ جس کی اپنی ہستی مٹ جائے تو محض پانی ہوتا ہے‘‘- [19]
حقیقت میں ایسا فقیر اللہ تعالیٰ کے اسرار کا مظہر بن جاتا ہے-
4. طلب، منصبِ محبت اور مرشدِ کامل
روحانی منازل کی طے داری کیلئے طلب کی سچائی، حبِ دنیا سے مکمل قطع تعلقی اور مرشدِ کامل کی رہنمائی ضروری ہے- حضرت سلطان باھوؒ اس کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں:
’’ابتدائی مراتب تین ہیں: ”طلب، محبت اور شوق- طلب مرتبہ ہے، محبت منصب ہے اور شوق عنایت ہے- جونہی طالب طلب میں قدم رکھتا ہے وہ نفس و طمع و حرصِ دنیا اور معصیتِ شیطان کو تین طلاق دے دیتا ہے- جو کوئی درمِ دنیا جمع کرتا ہے شیطان اُس کا مصاحب بن جاتا ہے اور اُس سے ہرگز جدا نہیں ہوتا اور نفسِ اَمّارہ اہلِ دنیا کے وجود میں خود پسندی کا وصف بھر دیتا ہے جس سے اُس کا وجود خصلتِ فرعونی، بخلِ قارونی، شامتِ شَدّادی اور فضیحتِ فتنۂ نمرودی سے خالی نہیں ہوتا- مرشدِ کامل وہ ہے جو مرتبۂ طلب سے طالب کے جملہ مطالب کھول کر دکھا دے- اِسی طرح منصبِ محبت سے اہلِ محبت کو معرفت و حضوری کا مشاہدہ کھول کر دکھا دے اور ملکِ شوق سے اہلِ شوق کو عینِ عنایت کھول کر عین بعین دکھا دے‘‘- [20]
الغرض! یہ کہ سچی طلب، نفسانی رذائل کے ترک اور مرشدِ کامل کی توجہ سے ہی طالبِ حق معرفت و حضوری کے اعلیٰ مراتب تک پہنچ پاتا ہے-یعنی اللہ پاک کے فیض و فضل کو پالیتا ہے جو اس کی رحمانیت اور رحیمی کا نام ہے-
٭٭٭
[1](البقرۃـ218)
[2](الاعراف:56)
[3](الزخرف:32)
[4](الانبیاء:107)
[5](التوبۃ:128)
[6](صحیح بخاری، کتاب الادب)
[7](صحیح بخاری، کتاب الرقاق)
[8](صحیح بخاری، کتاب الدعوات)
[9]( محک الفقر، ص :63)
[10](محک الفقر، ص:117)
[11](محک الفقر، ص:133)
[12](محک الفقر، ص:235)
[13](محک الفقر، ص:427)
[14](نور الہدیٰ، ص:558)
[15](عقل بیدار، ص:83)
[16](عقل بیدار، ص:103)
[17](عقل بیدار، ص:161)
[18](نور الہدیٰ، ص:67)
[19](نور الہدیٰ، ص:153)
[20](عقل بیدار، ص:317)