ابیات باھو: مُرشد مکہّ تے طالِب حَاجی کعبہ عِشق بنایا ھو

ابیات باھو: مُرشد مکہّ تے طالِب حَاجی کعبہ عِشق بنایا ھو

ابیات باھو: مُرشد مکہّ تے طالِب حَاجی کعبہ عِشق بنایا ھو

مصنف: Translated By M.A Khan اکتوبر 2026

مُرشد مکہّ تے طالِب حَاجی کعبہ عِشق بنایا ھو
وِچ حضور سَدا ہَر وَیلے کریئے حج سَوایا ھو
ہر دم میتھوں جُدا ناں ہووے دِل ملنی تے آیا ھو
مُرشد عین حیاتی باھوؒ میرے لُوں لُوں وِچ سَمایا ھو

Murshid is Makka, desirous is pilgrim (hājī) and passionate love becomes Ka‘bah Hoo

Within his presence, perform acceptable pilgrimage (ẖajj) all the while Hoo

He would not separate from me for a moment yet heart is longing to meet him all the while Hoo

Murshid is actual life, Bahoo, who lives in my every hair all the while Hoo

Murshid makkah te ṯālib ẖājī Ka‘bah ‘ishq banāiyā Hoo

Vich ẖaḏūr sadā har vele kar-iye ẖajj savāiyā Hoo

Har dam maithūn judā nān hove del milne te āiyā Hoo

Murshid ‘ayn hayātī Bahoo mere lūn lūn vich samāiyā Hoo

تشریح

طالبی بر دم قدم اثبات تر

 

طالبی موسیٰ بود مرشد خضر

1-2:’’طالب کو چاہیے کہ وہ ہر دم ثابت قدم رہے- طالب و مرشد کو موسیٰ و خضر ؑ صفت ہونا چاہیے‘‘-(نورالھدٰی)

جس طرح حاجی اور خانہ کعبہ آپس میں لازم وملزوم ہیں ، ایسے ہی تعلیماتِ اسلام میں طالب اورمرشد کے تعلق میں ایک گہرا ربط ہوتا ہے بلکہ یوں کہہ لیں کہ دوقالب و یک جان والی کیفیت ہوتی ہے - جیساکہ حضرت سُلطان باھوؒ طالب اور مرشد کے اسی تعلق کو اپنی نثری تعلیمات میں یوں بیان فرماتے ہیں :

’’مرشد کے چار حروف ہیں: م رش د- حرف’’ م‘‘ سے مشاہدۂ حضور، معراجِ معرفت- حرف’’ ر ‘‘سے رازِحق، غرق فی التوحید ِنور- حرف ’’ ش ‘‘ سے شہسوار عارفِ نظارغالب بر روحانیت ِاہل ِقبور اورحرف’’ د ‘‘ سے دوام الہام بخش- طالب کے بھی چار حروف ہیں: ط ا ل ب-حرف’’ ط‘‘ سے طاعت، طوقِ بندگی، سر افگندگی (سرفروشی)، دوام درحکمِ حق پسندگی- حرف’’ ا ‘‘ سے ارادۂ صادق، باادب، آہ نہ کرے سرآئی پر- حرف’’ ل ‘‘ سے لائق ِلقا ء- لا یحتاج ، لاف زنی نہ کرے اور حرف’’ ب ‘‘ سے بہرہ مند، باوفا، باحیا، قلب صفا، راضی بہ قضا- جب چاروں حروفِ مرشد اور چاروں حروفِ طالب ایک دوسرے سے مبدل ہو کر یک وجود ویک جثہ و یک جسم ویک قلب و یک قالب ہو جائیں اور مرشد کی زبان و طالب کی زبان، مرشد کی آنکھیں اور طالب کی آنکھیں، مرشد کے کان و طالب کے کان، مرشد کا قلب و طالب کا قلب، مرشد کی روح و طالب کی روح، مرشد کے ہاتھ و طالب کے ہاتھ اور مرشد کے قدم و طالب کے قدم ایک ہو جائیں، مرشد کا مرتبہ طالب کے مرتبے سے مبدل ہو جائے ، طالب کے نفس کی موت مرشد کے نفس کی موت ہو جائے اور دونوں کی حیاتِ قلب اور فرحت ِروح بھی ایک ہو جائے تو اُسے فنا فی الشیخ کہتے ہیں- اِس مرتبے پر طالب و مرشد دونوں کے اسم وجسم ورسم رسوم اور جسم کے تمام احوال ایک جیسے معلوم ہوتے ہیں اور مرشد کی رفاقت میں طالب کو توفیق ِتحقیق حاصل رہتی ہے ‘‘-(امیر الکونین)

3:حقیقت میں طالب و مرشد کے تعلق کو نہ توالفاظ میں بیا ن کیا جاسکتاہے اورنہ کسی پیمانے سے ناپا جاسکتا ہے ،یہ ایک بے مثل و بے مثال پاکیزہ جذبہ ہے-یہ تعلق کس طرح پروان چڑھتا ہے ؟آپؒ اس کو یوں بیان فرماتے ہیں :

’’الغرض!قادری طریقے کے طالبوں اور مریدوں کا اِبتدائی مرتبہ ہی سروری یعنی سرداری ہے-قادری کو نر شیر کا شہسوار کہا جاتاہے-جان لے کہ آدمی کو سات چیزیں حاصل کرنی چاہییں یعنی اعتقاد ، یقین، اخلاص، صدق ، اعتبار، طلب اور محبت-اِن سات چیزوں کا تعلق طالب کی کوشش سے نہیں بلکہ پیر و مرشد کی کشش و جذب اور التفات سے ہے-پیر و مرشد کی عطا سے جب یہ سات چیزیں طالب کے وجود میں پیدا ہو تی ہیں تو اُسے جمعیت نصیب ہو جاتی ہے اور یقین کے باعث اُس کے وجود میں ایک صورتِ نور پیدا ہو جاتی ہے جو ہمیشہ پیر و مرشد کی بارگاہ میں عرضِ احوال کرکے راہنمائی حاصل کرتی رہتی ہے- پیر و مرید اور طالب و مرشد کے درمیان یگا نگت و حضوری اور عرضِ احوال کا ذریعہ یقین کی یہی صورتِ نور ہوتی ہے-اگر طالب یوں فنا فی الشیخ و فنا فی پیر نہ ہوتے تو ظاہر و باطن میں کوئی طالب بھی اپنے مقصود و مطلوب کی بازی نہ لے جاتا- وہ عجیب احمق لوگ ہیں جو خود کو طا لب مرید کہتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ نفس ِامارہ کے قیدی اور مطلب پرست ہوتے ہیں، وہ نہ تو مراتب ِپیر کی حقیقت جانتے ہیں اور نہ ہی پیر سے اعتقاد رکھتے ہیں، لہٰذا وہ رُوحِ با یزیدؒ سے بے خبرنفس و شیطان یزید کے قیدی بنے رہتے ہیں-قوی و صاحب ِقوت طالب مرید وہ ہے جو اپنے پیر و مرشد پر جان و مال نثا ر کرے-ایسا ہی طالب مرید صاحب ِ فر است و روشن ضمیر ہوتاہے‘‘- (کلید التوحید کلاں)

4:طالب ِصادق مرشد ِکامل سے اِتنی شدید محبت کرتاہے کہ اُس پر عاشقوں کا یہ قول صادق آتاہے:  ’’میرا گوشت تیرا گوشت، میرا خون تیرا خون‘‘- وہ اپنے مرشد کے سامنے عجز و انکسار سے خاک بن کر رہتاہے، اُس پر اپنی جان فدا کرتاہے اور اُس کی محبت میں اپنا دل چاک چاک کرلیتاہے-اگرطالب مرشد سے بے اخلاص و بے اعتقا د ہوکر اُس سے روگردانی اختیار کرے اور اُس کی مخالفت پر اُترآئے تو خس کم جہاں پاک، وہ دنیا و آخرت میں ہلاک ہوجاتاہے‘‘- (نور الھدٰی)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر