اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
’’ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ط وَ الَّذِیْنَ مَعَہٗٓ اَشِدَّآءُ عَلَی الْکُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَہُمْ تَرٰىہُمْ رُکَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللہِ وَ رِضْوَانًا ‘‘
’’محمد مصطفٰے ﷺ اﷲ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت اور آپس میں رحمدل ہیں-آپ انہیں دیکھتے ہیں کہ وہ رکوع اور سجدے کررہے ہیں ، اﷲ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں ہیں‘‘- (الفتح:29)
رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشادفرمایا:’’ستارے آسمان کیلئے امان ہیں، لہٰذا جب ستارے جھڑ جائیں گے تو آسمان بھی نہیں رہے گا جیسا کہ اس سے وعدہ کیا گیا ہے-اور میں اپنے صحابہ کے لئے امان ہوں ، لہٰذا جب میں وصال کرجاؤں گا تو میرے صحابہ پر وہ وقت آ جائے گاجس کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور میرے صحابہ (رضی اللہ عنھم) میری امت کے لئے امان ہیں-لہٰذا جب میرے صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) تشریف لے جائیں گے تو میری امت پر وہ چیز نازل ہوجائے گی جس کا اس سے وعدہ کیا گیا ہے(یعنی مصائب و آزمائشیں اُن پر نازل ہوں گی)‘‘- (صحیح المسلم: بَابُ بَيَانِ أَنَّ بَقَاءَ النَّبِيِّ(ﷺ) أَمَانٌ لِأَصْحَابِهِ، وَ بَقَاءَ أَصْحَابِهِ أَمَانٌ لِلْأُمَّةِ)
فرمان سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ :
’’اولیاء اللہ کی جنت قُربِ الٰہی ہے اور ان کی دوزخ اللہ تعالیٰ سے دُوری ہے۔ وہ اس جنت(جنتِ قُرب) کے علاوہ کسی شے کے اُمید نہیں رکھتے اور نہ ہی وہ اس دوزخ (اللہ تعالیٰ سے دوری) کے سوا کسی آگ سے ڈرتے ہیں-وہ ہر وقت اللہ عزوجل کے قُرب کے طالب رہتے ہیں-ان کے پاس کھوٹ ہی کیا ہے؟ جو دوزخ سے ڈریں (یعنی ان کے پا س کھوٹ نہیں بلکہ اخلاص ہی اخلاص)دوزخ تو خود مومن سے فریاد رسی کرتی ہے اور اس سے بھاگتی ہے، پھر بھلا وہ محبّین، مقربین اور مخلصین سے کیسے نہ بھاگے گی‘‘- (الفتح الربانی)
فرمان سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ:
ز:زَاہد زُہد کرینْدے تھَکے روزے نفل نمازاں ھو
عاشق غرق ہوئے وچ وَحدت اللہ نال محبّت رازاں ھو
مَکھی قید شہد وِچ ہوئی کیا اُڈسی نال شہبازاں ھو
جنہاں مجلس نال نَبِیؐ دے باھوؒ سوئی صاحب ناز نوازاں ھو (ابیاتِ باھو)
فرمان قائداعظم محمد علی جناحؒ :
ایمان ، اتحاد، تنظیم
’’الفاظ سے زیادہ عمل کی اہمیت ہے اور مجھے اعتبار ہے کہ جب آپ کو اپنے ملک کے دفاع اور اپنی قوم کی سلامتی اور بقا کے لیے پکارا جائے گا تو آپ اپنی روایات قائم رکھیں گے-مجھے یقین ہے کہ آپ پاکستان کے پرچم کو سر بلند اور ایک عظیم قوم کی حیثیت سے اس کی عزت اور وقار کو برقرار رکھیں گے‘‘-(پشاور 15 اپریل 1948ء)
فرمان علامہ محمد اقبالؒ:
ہو حلقہ یاراں تو بریشم کی طرح نرم
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن
افلاک سے ہے اس کی حریفانہ کشاکش
خاکی ہے مگر خاک سے آزاد ہے مومن (ضربِ کلیم)