دستک: دہشت گردی کے خلاف قومی عزم اور روحانی تربیت کی ضرورت

دستک: دہشت گردی کے خلاف قومی عزم  اور روحانی تربیت کی ضرورت

دستک: دہشت گردی کے خلاف قومی عزم اور روحانی تربیت کی ضرورت

مصنف: اکتوبر 2026

دہشت گردی کے خلاف قومی عزم اور روحانی تربیت کی ضرورت

مملکت خداداد پاکستان اور اس کے باسیوں نے حالیہ تین دہائیوں کے دوران، دہشت گردی کے خلاف ایک طویل، صبر آزما اور کٹھن جنگ لڑی ہے اور آج بھی  لڑ رہے ہیں - اس جنگ میں پاکستانی قوم، افواج پاکستان، پولیس , قانون نافذ کرنے والے اداروںمشائخ و علما ، وابستگانِ صحافت، بچوں بڑوں بوڑھوں عورتوں مردوں سب نے غیر معمولی قربانیاں پیش کی ہیں -  محتاط اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانیں  لقمہ اجل  ہوئیں جبکہ ملک کو 150 ارب ڈالر سے زائد کا معاشی نقصان ہوا ہے- دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریاست نے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف  کارروائیاں کرتے ہوئے ان کے منظم ڈھانچوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے- چنانچہ دہشت گردی کے خلاف  جدوجہد محض ایک عسکری کارروائی نہیں بلکہ قومی استقامت، قربانی اور اجتماعی عزم کی تاریخ کا ایک اہم باب ہے-

   کوہاٹ میں  پولیس لائنز پر 18 ستمبر 2026ء کو نمازِ جمعہ کے دوران ہونے والا دہشت گردانہ حملہ ایک نہایت المناک اور افسوسناک واقعہ ہے، جس میں  16 پولیس اہلکاروں سمیت کم از کم 23 افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ قریباً  20 گھنٹے تک جاری رہنے والے کلیئرنس آپریشن میں 8دہشت گرد مارے گئے- بدقسمتی سے خارجی سوچ نے ایک مرتبہ پھر عبادت گاہ کو نشانہ بنایا ہے-

  یہ سانحہ اس تلخ حقیقت کی ایک اور یاد دہانی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف طویل ریاستی جدوجہد اور پاکستانی قوم و افواج کی بے شمار قربانیوں کے باوجود مذہبی انتہاپسندانہ عسکریت پسندی کی فکری بنیادیں مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکیں- اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی Analytical Support and Sanctions Monitoring Team کی رپورٹ S/2025/796 کے مطابق 2025ء کے دوران خارجی تنظیم کے حملوں میں مسلسل اضافہ ہوا اور بعض اندازوں کے مطابق پاکستان میں اس کے حملوں کی تعداد 600 سے تجاوز کر گئی- اسی طرح Global Terrorism Index 2026 کے مطابق 2025 میں خارجی تنظیموں سے 595 حملے منسوب کیے گئے، جن میں 637 افراد جاں بحق ہوئے- یہ اعداد محض دہشت گردی کی شدت کو ظاہر نہیں کرتے بلکہ ایک بنیادی سوال اٹھاتے ہیں:  ملک بھر میں مذہبی اداروں کی نگرانی و اصلاح کے لیے متعدد اقدامات کیے گئے ہیں حتیٰ کہ مدارس کے نصاب پر بہت حد تک ریاستی کنٹرول قائم ہوا ہے، تو اس سب کے باوجود  تشدد کو مذہبی جواز فراہم کرنے والی ذہنیت اب تک کیوں موجود ہے؟ حالات بتا رہے ہیں کہ اس سوال کا جواب صرف نصاب کی اصلاح تک محدود نہیں ہو سکتا؛ ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے فکری اور تاریخی  محرکات کو بھی سمجھا جائے اور ایسے روحانی و اخلاقی تربیتی نظام کی تشکیلِ نو کی جائے جو مذہبی تعلیم کو انسانی حرمت، برداشت، عدل، ذمہ داری اور امن کے ساتھ مضبوطی سے مربوط کرے-

پاکستان کو درپیش شدت پسندی اور دہشت گردوں کی خارجی  فکر  کا تاریخی پس منظر نہایت اہمیت کا حامل ہے- نوآبادیات کے زمانے میں سکھوں اور پختونوں کو کمزور کرنے ، سرد جنگ کے دوران عالمی طاقتوں کے علاقائی مفادات، افغانستان کے تنازع اور خطے میں جاری پراکسی سیاست نے مذہبی، تعلیمی اور سماجی اداروں کو  نہ صرف متاثر کیا بلکہ ان کو تباہی کے دہانے پہ پہنچا دیا- اولاً نو آبادیات ، بعد ازاں سرد جنگ کے زمانے میں ایک سوچی سمجھی عالمی سکیم کے تحت روحانی تربیت پہ مبنی نصاب اور کردار سازی پہ مبنی تربیت کو مذہبی اداروں سے بے دخل کیا گیا- اس دور کے تاریخی ریکارڈ کا غیر جانب دارانہ مطالعہ یہ سمجھنے میں بھی مدد دے سکتا ہے کہ   تربیت کے بعض روایتی پہلو کس طرح سیاسی اور عسکری مقاصد کے تابع بنائے گئے ہیں-

برصغیر بالخصوص پاکستانی معاشرے کی مذہبی تشکیل میں  اسلام کی سماجی اور تہذیبی تشکیل پر عارفانہ روایت کا گہرا اثر رہا ہے اور پاکستان کے مذہبی و ثقافتی مزاج میں صوفیانہ فکر، خانقاہی روایت، تزکیۂ نفس، محبت، رواداری اور خدمتِ خلق کے عناصر نمایاں رہے ہیں- اس روایت کے تربیتی نظام میں محض معلومات نہیں بلکہ اخلاق، کردار، روحانی اصلاح اور انسان کے باطن کی تربیت کو بھی اہمیت حاصل تھی- آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اس تاریخی ورثے کو محض مزار یا ثقافتی علامت کے طور پر نہیں بلکہ اس کے علمی، اخلاقی اور روحانی تربیتی پہلوؤں کے ساتھ دوبارہ اپنایا جائے- چنانچہ دہشت گردی کے مستقل خاتمے اور خارجیانہ سوچ سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے روحانی و اخلاقی تربیت کے ان پہلوؤں کی تجدید بھی ضروری ہے جو انسان میں برداشت، عدل، رحم، خود احتسابی، اختلاف کے احترام اور انسانی جان کی حرمت پیدا کرتے ہیں-

گلوبلائزیشن، نوجوان نسل اور بچوں کی تربیت

خاندان ایک معاشرتی اکائی ہے جس پر قوم کی بنیاد استوار ہوتی ہے- بدقسمتی سے، پاکستان میں حالیہ چند برسوں میں گلوبلائزیشن کے اثرات،  جذباتی فیصلوں اور طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح نے اس معاشرتی ستون کو شدید نقصان پہنچایا ہے-اس ستون کے کمزور ہونے کا ایک اثر بچوں کے خلاف بڑھتے جرائم کی صورت میں بھی سامنے آیا ہے-ایسے اکثر مسائل ہماری خاندانی اقدار کی کمزوری، تربیت کے فقدان اور انٹرنیٹ و سوشل میڈیا کے بے لگام اثرات کا نتیجہ ہیں- جب تک ہم عائلی نظام کے اس ٹوٹ پھوٹ، بدلتے ہوئے رویوں اور ڈیجیٹل دور کے منفی اثرات کا ایک ساتھ جائزہ نہیں لیں گے، تب تک ہم اس معاشرتی بگاڑ کی بڑی وجوہات تک نہیں پہنچ سکتے-

نیشنل کمیشن برائے حقوقِ اطفال (NCRC )کی رپورٹ The State of Children in Pakistan 2025 کے مطابق سال 2025ء کے دوران بچوں کے خلاف جنسی جرائم کے 17348 کیسز رپورٹ ہوئے- رپورٹ کے مطابق 16–17 سال کی عمر کے بچے رپورٹ شدہ جرائم کا 56 فیصد جبکہ 11–15 سال کی عمر کے بچے 30 فیصد تھے- NCRC کی رپورٹ آن لائن grooming، بچوں کے جنسی استحصال پر مبنی مواد (CSAM)،جنسی بلیک میلنگ/دباؤ اور ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والے دیگر استحصالی طریقوں کی طرف بھی توجہ مبذول کرواتی ہے- اس تناظر میں بچے اب صرف گھر، سکول اور محلے جیسے روایتی ماحول میں ہی نہیں بلکہ ایک وسیع ڈیجیٹل ماحول میں بھی خطرات سے دوچار ہیں- لہٰذا بچوں کے تحفظ کی حکمتِ عملی میں خاندانی، سماجی اور ادارہ جاتی حفاظتی نظام کو مزید مؤثر بنانا اور بالخصوص آن لائن ماحول محفوظ بنانا بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے-

بدقسمتی سے سوشل میڈیا اور سمارٹ فونز جہاں اپنے فوائد ساتھ لائے ہیں وہیں بچوں کیلئے نت نئے چیلنجز سامنے آئے ہیں- بے حکمت والدین کی جانب سے اکثر اوقات بچے کی پیدائش کے چند ماہ بعد اس کو بہلانے کے لئے اسمارٹ فون تھما دیا جاتا ہے- بڑھتی عمر کے ساتھ یہ استعمال ناقابلِ تَرک عادت میں تبدیل ہوتا ہے اور نتیجتاً ان گنت تخلیقی ، ذہنی اور صحت افزاء سرگرمیاں سیکھنے سے بچے محروم ہو جاتے ہیں- اس کے ساتھ ہی غیر اخلاقی مواد بھی چند سیکنڈز کی دوری پر موجود ہوتا ہے، بغیر کسی مؤثر نگرانی اور عمر کی تصدیق کے سوشل میڈیا پہ ایسا مواد نوجوانوں و بچوں کے سامنے آتا رہتا ہے- اسی ماحول میں اجنبیوں سے رابطے، جھوٹی محبت کے جھانسےاور بلیک میلنگ کے واقعات بھی بڑھتے ہیں جو بالآخر خاندان کی ٹوٹ پھوٹ یا استحصال کی صورت میں سامنے آتے ہیں-

غیر اخلاقی مواد کو دلفریب انداز میں پیش کیے جانے کے باعث نوجوان نسل میں سطحی جذباتیت، عجلت میں فیصلے کرنے اور ازدواجی رشتوں میں بے صبری جیسے رجحانات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کا انجام اکثر طلاق اور ناچاقیوں کی صورت میں نکلتا ہے- ایسے خاندانی مسائل اور بکھراؤ بھی بچوں کو ملنے والی توجہ میں کمی کا سبب بنتے ہیں اور انہیں مجرمانہ ذہنیت والے افراد کے لیے آسان شکار بنا دیتے ہیں-

نفسیاتی نقطہ نظر سے غیر اخلاقی مواد انسان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مسخ کر دیتا ہے- البرٹ بینڈورا کی ’’سوشل لرننگ تھیوری‘‘ کی روشنی میں انسان اپنے ماحول اور میڈیا پر دیکھے جانے والے مناظر کی تقلید کرتا ہے- جب کوئی شخص مسلسل انٹرنیٹ پر تشدد پر مبنی یا غير اخلاقی مواد دیکھتا ہے تو اس کا ذہن ان رویوں کو عمومی رویہ تصور کرنے لگتا ہے- اسی طرح ’’ڈیسینسیٹائزیشن تھیوری‘‘یہ بتاتی ہے کہ غیر اخلاقی اور پُرتشدد مواد کے بار بار مشاہدے سے انسان کے اندر کا احساسِ جرم اور حیا ختم ہو جاتی ہے، جس کے نتیجے میں وہ سخت سے سخت جرم کرتے ہوئے بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرتا اور جارحانہ افعال پر اتر آتا ہے-نفسیات دان اسے ’’ڈس انہیبیشن ایفیکٹ‘‘ (Disinhibition Effect) یعنی روک تھام کے احساس کے خاتمے سے بھی جوڑتے ہیں، جس میں انسان وہ اقدامات بھی کر گزرتا ہے جن سے عام حالات میں وہ اخلاقی یا سماجی خوف کے باعث رک جاتا ہے- اس سنگین معاشرتی مسئلے سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ ریاست انٹرنیٹ پر غیر اخلاقی مواد بالخصوص سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ان کے پھیلاؤکی مکمل اور سخت بلاکنگ کو یقینی بنائے اور ساتھ ہی ساتھ نوجوانوں اور بچوں کیلئے سوشل میڈیا لٹریسی یقینی بنائے- مزیدبرآں ڈارک ویب اور فحش مواد سے جڑے گھناؤنے کاروبار سے منسلک افراد سخت ترین سزائیں دے کر نشانِ عبرت بنائے - دوسری طرف والدین کو بھی چاہیے کہ بچے کو عقل و بلوغت کی عمر کے پہنچنے سے پہلے ڈیجیٹل اسکرین جیسے مہلک ہتھیار کا عادی نہ بنائیں اس کی بجائے وہ بچوں کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کریں، ان کی سرگرمیوں پر نظر رکھیں- میڈیا اور تعلیمی اداروں کو بھی اپنا مثبت کردار ادا کرتے ہوئے حیا، اخلاقیات اور مضبوط خاندانی اقدار کو فروغ دینا ہو گا تاکہ ہم اپنے بچوں اور آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور متوازن ماحول فراہم کر سکیں=-

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر