دنیا بھر کی ریاستوں کی جغرافیائی حدود اگرچہ الگ الگ ہیں، مگر ماحول ایک مشترکہ ورثہ ہے- کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والا ماحولیاتی بحران پوری دنیا پر دور رس اثرات مرتب کرتا ہے، پاکستان اس حقیقت کی ایک واضح مثال ہے- گزشتہ تین دہائیوں سے یہ سرزمین موسمیاتی تبدیلی کے سنگین بحران کا سامنا کر رہی ہے- حیرت انگیز امر یہ ہے کہ عالمی درجہ حرارت میں پاکستان کا حصہ کاربن بجٹ کے لحاظ سے ایک فیصد سے بھی کم ہے، جبکہ عالمی درجہ حرارت میں 66 فیصد حصہ چند صنعتی ممالک کا ہے- Worldometer کے مطابق، 2024ء تک کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق چین، امریکہ، بھارت، روس اور جاپان کا عالمی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج (Emissions) میں حصہ بالترتیب 33، 11، 7، 5اور 3 فیصد ہے-[1] اس اخراج کی بڑی وجوہات میں بھاری صنعتی پیداوار، فوسل ایندھن(Fossil Fuels) پر مبنی بجلی کی پیداوار اور نقل و حمل شامل ہیں-
ورلڈ فوڈ پروگرام پاکستان کو شدید موسمیاتی بحران کا سامنا کرنے والے دس سرفہرست ممالک میں شمار کرتا ہے- اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور(UN OCHA) نے 2022ء کے تباہ کن سیلاب کو تسلیم کیا ہے جس نے تقریباً 6.9 ملین افراد کو متاثر کیا-[2] COP27 کانفرنس کے دوران، عالمی ادارہ خوراک (WFP) نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ موسمیاتی موافقت کیلئے سرمایہ کاری میں اضافہ کرے، خاص طور پر ان کمزور ممالک کیلئے جو اس بحران سے زیادہ متاثر ہیں- پاکستان بھی اس موسمیاتی ناانصافی کا شکار ہے، جبکہ عالمی کاربن کے اخراج میں اس کا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے-
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرش نے پاکستان کو درپیش اس موسمیاتی ناانصافی(Climate Injustice) کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہا:
“Pakistan is facing a grim calculus of climate injustice. Pakistan is responsible for less than 1 percent of global greenhouse gas emissions, yet it is paying a heavy price for man-made climate change. A month ago, I visited and saw devastation beyond imagination: floodwaters had covered a surface three times the total area of my own country, Portugal”.[3]
ترجمہ:
دسمبر 2023ء میں منعقد ہونے والے COP28 سربراہی اجلاس کے دوران، کنگ چارلس نے پاکستان اور بنگلہ دیش میں رونما ہونے والے تباہ کن سیلابوں کو موسمیاتی شدت کی انتہائی تشویشناک علامات قرار دیا- انہوں نے خبردار کیا کہ دنیا ایک غیر یقینی اور نازک دور میں داخل ہو رہی ہے اور انسانیت ماحولیاتی نظام کو بیک وقت تبدیل کرنے کے ایک وسیع اور خطرناک تجربے کا حصہ بن چکی ہے-[4]
پاکستان انسانی جانوں کے نقصان، بنیادی ڈھانچے کی تباہی اور معاشی نقصانات کو کم کرنے کے لیے موثر اقدامات کو یقینی بنانے میں مسلسل چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے-بین الاقوامی برادری کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ وہ ماحولیاتی آفات کے خلاف پاکستان کی اس کٹھن جدوجہد کا ادراک کرے-
پاکستان، قطبین (شمالی اور جنوبی) کے علاوہ دنیا میں گلیشیئرز کے سب سے بڑے ذخائر رکھنے والے خطوں میں نمایاں مقام رکھتا ہے- اچانک آنے والے سیلاب (Flash Floods) اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے پیدا ہونے والے سیلاب (Glaciers Lake Outburst Floods) اس موسمیاتی بحران کے انتہائی شدید مظاہر ہیں جن کا پاکستان کو سامنا ہے- گلوبل وارمنگ ان دونوں اقسام کے سیلابوں کی شدت میں اضافے کا سبب بنتی ہے- بحیرہ عرب کی مرطوب ہوائیں مون سون کے موسم میں اس صورتحال کو مزید ابتر کر دیتی ہیں- عالمی اوسط درجہ حرارت میں ہر ایک ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کے ساتھ فضا میں نمی کی مقدار 7فیصد بڑھ جاتی ہے-[5] نتیجتاً، جتنی زیادہ گرم ہوا ہوگی، اتنی ہی اس کی آبی بخارات جذب کرنے کی صلاحیت بڑھے گی، جو مون سون کے نظام میں غیر متوقع تبدیلیوں کی بنیادی وجہ بنتی ہے- اسی طرح گلیشیائی جھیلوں کے معاملے میں، فضائی درجہ حرارت میں اضافہ گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلاؤ کا باعث بنتا ہے اور تباہ کن سیلابی صورتحال کو جنم دیتا ہے-
جولائی اور اگست 2010 میں پاکستان نے ایسے ہولناک سیلاب دیکھے جنہوں نے تقریباً 20 ملین افراد کو متاثر کیا اور 1700 سے زائد انسانی جانیں لیں- اس آفت نے رہائشی مکانات، فصلوں، طبی مراکز اور دیگر اہم بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا-NASA سائنس کی رپورٹ کے مطابق، 2010 کے سیلاب سے تقریباً 1.7 ملین گھر متاثر ہوئے- [6]
2015ء میں پاکستان میں پڑنے والی شدید گرمی کی لہر (ہیٹ ویو) کے دوران درجہ حرارت 49 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، خصوصاً سندھ اور کراچی میں، جہاں 2000 سے زائد افراد لقمہ اجل بنے اور ہسپتال ہیٹ اسٹروک کے مریضوں سے بھر گئے- ساحلی علاقوں میں عمومی طور پر زیادہ مرطوب ماحول کی وجہ سے فضا میں آبی بخارات کا تناسب زیادہ ہوتا ہے- یہ زیادہ نمی انسانی جسم کی پسینے کے توسط سے خود کو معتدل رکھنے کی صلاحیت کو محدود کر دیتی ہےاور درجہ حرارت میں اضافے کے ساتھ یہ کیفیت شدید حبس اور جان لیوا گھٹن کا سبب بنتی ہے-
NASA کے اعداد و شمار کے مطابق، عالمی درجہ حرارت کا انڈیکس ظاہر کرتا ہے کہ گزشتہ 3 سے 4 دہائیوں میں درجہ حرارت میں اضافے کا رجحان انتہائی تیزی سے بڑھ رہا ہے- قابل غور بات یہ ہے کہ پاکستان کا موسمیاتی بحران اسی تیز رفتار عالمی درجہ حرارت کے اضافے کے متوازی ہے- درجہ حرارت میں اضافہ اور پاکستان میں سیلابی صورتحال کا باہم متوازی ہونا محض ایک اتفاق نہیں، بلکہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ 1300 سے زائد گلیشیئرز کا پگھلاؤ گلوبل وارمنگ کا براہ راست نتیجہ ہے-
پاکستان کی حساسیت کا ایک اور اہم پہلو زراعت پر اس کا شدید انحصار ہے- یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ زرعی معیشتیں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے زیادہ متاثر ہوتی ہیں؛ معمولی سی موسمیاتی تبدیلی بھی زرعی شعبے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتی ہے- 2010 کے سیلاب نے پاکستان بھر میں تقریباً 3.2 ملین ہیکٹر رقبے پر کھڑی فصلوں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا- پاکستان کی شہری منصوبہ بندی عالمی معیار کے لچکدار بنیادی ڈھانچے کے تقاضوں پر پوری نہیں اترتی، جس کے باعث یہ علاقہ مسلسل شدید موسمی خطرات کی زد میں رہتا ہے- جب سیلاب کا پانی اترتا ہے تو وہ اپنے پیچھے تباہی چھوڑ جاتا ہے- کمزور طبقات کیلئے یہ حادثات گہرے نفسیاتی اثرات مرتب کرتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس اپنے مسکن دوبارہ تعمیر کرنے اور خاندان کی کفالت کیلئے کوئی متبادل وسیلہ نہیں ہوتا-
جون سے اکتوبر 2022ء کے دوران ایک اور المیہ پیش آیا، جب غیر معمولی مون سون بارشوں اور گلیشیئرز کے تیز رفتار پگھلاؤ نے مشترکہ طور پر ایک تاریخی سیلاب کو جنم دیا- پاکستان کا تقریباً ایک تہائی حصہ زیرِ آب آ گیا، جس سے 33 ملین افراد متاثر ہوئے- اس تباہ کن سیلاب نے 1700سے زائد قیمتی جانیں نگل لیں اور متاثرہ خاندانوں پر گہرا معاشی و سماجی دباؤ ڈالا- ایک ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے پاکستان بیک وقت کئی معاشی چیلنجز سے نبرد آزما ہے- معاشی دباؤ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کی بحالی کے دائرہ کار کو محدود کرتا ہے بلکہ حکومت کی جانب سے آفات سے نمٹنے کے لیے مختص وسائل کو بھی سکیڑ دیتا ہے-
یہ ایک واضح اصول ہے کہ جب کوئی اثاثہ ریاستوں کے درمیان مشترکہ ہو، تو اس کی حفاظت اور دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی اجتماعی ہوتی ہے- موسم ایک عالمی ورثہ ہے، جس کا تحفظ بقائے انسانی کے لیے ناگزیر ہےاور اس کی سب سے بڑی ذمہ داری ان ترقی یافتہ ریاستوں پر عائد ہوتی ہے جو کاربن کے اخراج میں سب سے نمایاں حصہ دار ہیں- یہ سراسر ناانصافی ہے کہ کاربن بجٹ کا بیشتر حصہ ترقی یافتہ ممالک استعمال کریں، مگر آفت کی گھڑی میں اس کے نتائج سے نمٹنے کا بوجھ اکیلی ریاست پر ڈال دیا جائے-
قومی سطح پر پاکستان نے کئی اہم اقدامات کیے ہیں- نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کا قیام 2007ء کے آرڈیننس کے تحت عمل میں آیا- اس کے ذمے آفات سے نمٹنے کیلئے قومی پالیسیاں بنانا، موسمیاتی بحرانوں میں بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ تعاون کرنا، اور عوام میں موسمیاتی خطرات سے متعلق شعور بیدار کرنا شامل ہے- تاہم، ان پالیسیوں کی حقیقی افادیت (Ground Reality) پر اب بھی سوالیہ نشان موجود ہیں کیونکہ ان کے ثمرات توقعات کے مطابق موثر ثابت نہیں ہوئے- اس کی تازہ مثالیں وقتاً فوقتاً آنے والی وہ آفات ہیں جو لاکھوں افراد کو متاثر کرتی ہیں-
موسمیاتی انصاف کا تقاضا ہے کہ زیادہ کاربن خارج کرنے والی ریاستیں اپنی دوہری ذمہ داری کو نبھائیں- کاربن سے پاک ماحول کے قیام کے لیے عالمی سطح پر شجرکاری مہمات کو وسعت دی جانی چاہیے- فوسل ایندھن(Fossil Fuels) پر انحصار برقرار رکھنے کے بجائے قابل تجدید توانائی کے ذرائع کی طرف منتقلی ایک انتہائی عملی اور ناگزیر حل ہے، جس پر پیش رفت جاری رکھنے کی ضرورت ہے-
اقوام متحدہ کو موسمیاتی بحران کی مشترکہ ذمہ داری کا احساس دلانے کیلئے عالمی سطح پر کانفرنسیں منعقد کرنی چاہئیں، تاکہ بین الاقوامی برادری پاکستان کی معاونت کے لیے عملی اقدامات اٹھا سکے- حکومت پاکستان کو ہر عالمی فورم پر موسمیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے اپنی مشکلات اور حقائق کو انتہائی مؤثر انداز میں پیش کرنا چاہیے اور وزارتِ موسمیاتی تبدیلی کو اقوام متحدہ کے فریم ورک کنونشن (UNFCCC) کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہنا چاہیے-
بین الحكومتی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی (IPCC - Intergovernmental Panel on Climate Change)، اقوام متحدہ کا ماحولیاتی پروگرام (UNEP - United Nations Environment Programme)، عالمی موسمیاتی تنظیم (WMO - World Meteorological Organization) جیسے اہم بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مربوط رابطہ کاری پاکستان کو اپنی موسمیاتی کمزوریوں کا ادراک کرنے اور موثر پالیسی سازی کے لیے صلاحیت بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے- عالمی میڈیا موسمیاتی ناانصافی کو اجاگر کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے، لہذا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، سیمینارز اور مباحثوں کے انعقاد کے ذریعے پاکستان کے موسمیاتی حقوق کی آواز کو عالمی سطح پر بلند کیا جانا چاہیے-
پاکستان کو بھی بین الاقوامی برادری کے ایک ذمہ دار رکن کی حیثیت سے قابل تجدید توانائی کے فروغ، شمسی اور ہوائی توانائی کی صلاحیت میں اضافے اور فوسل ایندھن پر انحصار کم کر کے اپنے عزم کا عملی مظاہرہ کرنا چاہیے- اس کے ساتھ ساتھ جنگلات، آبی گزرگاہوں اور قدرتی ماحولیاتی نظاموں کا تحفظ قومی ترجیح کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، کیونکہ یہ عناصر فضا سے کاربن کے اخراج کو جذب کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں-
علاقائی سطح پر جنوبی اور وسطی ایشیائی ممالک کا یہ مشترکہ مفاد ہے کہ وہ ماحول دوست توانائی (Clean Energy) کے اشتراک، پائیدار آبی وسائل کے انتظام اور آفات سے نمٹنے کیلئے ایک مشترکہ فریم ورک تشکیل دیں، کیونکہ اس نوعیت کے ماحولیاتی چیلنجز صرف باہمی تعاون اور مشترکہ عزم سے ہی طے کیے جا سکتے ہیں- بین الاقوامی برادری نے متعدد بار اجتماعی موسمیاتی اقدامات کے عزم کا اعادہ کیا ہے-پیرس معاہدہ (Paris Agreement) عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک محدود رکھنے کے تاریخی اتفاق رائے کی علامت ہے، جب کہ 11 دسمبر 1997ء کا کیوٹو پروٹوکول (Kyoto Protocol) یہ اہم اصول طے کرتا ہے کہ تاریخی طور پر زیادہ اخراج کرنے والے ممالک پر ذمہ داری کا بوجھ بھی متناسب طور پر زیادہ عائد ہوتا ہے-[7]
پاکستان، جو عالمی اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ دار ہے مگر تباہ کن سیلابوں، گلیشیئرز کے کٹاؤ اور شدید ہیٹ ویوز(Heat Waves) کی صورت میں غیر متناسب قیمت چکا رہا ہے، محض زبانی وعدوں کے بجائے منصفانہ اور موثر رویے کا مستحق ہے- اب وقت غور و فکر سے آگے بڑھ کر تمام فریقین کی جانب سے اصولی، فیصلہ کن اورمنصفانہ اقدامات کا ہے-
٭٭٭
[1]https://www.worldometers.info/co2-emissions/
[2]https://reliefweb.int/report/pakistan/pakistan-2022-monsoon-floods-situation-report-no-15-9-march-2023
[3]https://www.un.org/sg/en/content/sg/statements/2022-10-07/secretary-generals-remarks-the-general-assembly-pakistan-floods-delivered
[4]https://www.royal.uk/news-and-activity/2023-12-01/a-speech-by-his-majesty-the-king-at-the-opening-of-cop28-dubai-uae
[5]https://www.researchgate.net/publication/295084972_Temperature_dependency_of_hourly_precipitation_intensities_-_surface_versus_cloud_layer_temperature#:~:text=As%20the%20capacity%20of%20air,approximately%207%25%20per%20%C2%B0C.
[6]https://science.nasa.gov/earth/earth-observatory/flood-extent-in-pakistan-50018/
[7]https://www.un.org/en/climatechange/science/climate-issues/degrees-matter