فکرودانش کے معیارات اور ہمارا معاشرہ : ایک لمحہ فکریہ

فکرودانش کے معیارات اور ہمارا معاشرہ : ایک لمحہ فکریہ

فکرودانش کے معیارات اور ہمارا معاشرہ : ایک لمحہ فکریہ

مصنف: وسیم فارابی اکتوبر 2026

ابتدائیہ:

برِ صغیر پاک و ہند علمی و فکری طور ایک انتہائی زرخیز خطہ رہا ہے جس نے یہاں ان گنت عظیم مفکرین اور دانشوروں کو جنم دیا ہے- حتیٰ کے زوال پذیر دور میں بھی یہاں سے مرزا اسد اللہ غالب اور علامہ اقبال جیسے شاہکار شاعر اور مفکر پیدا ہوئے ہیں- لیکن عوامی غیر سنجیدگی اور بے توجہی کی وجہ سے اس خطے کی علمی و فکری روایات آہستہ آہستہ پست ہونا شروع ہو گئیں اور نو آبادیاتی دور میں تو عوام اپنی شناخت ، تہذیب، روایت ، زبان وغیرہ تک تقریبا بھول گئے- آج نوبت یہاں آ پہنچی ہے کہ پاکستانی معاشرے میں فکر و دانش کے معیارات بھی کھوکھلے ہو گئے ہیں- اس مضمون میں راقم نے ہمارے معاشرے میں پائے جانے والے فکر و دانش کے چند مشہور معیارات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے- ان معیارات کو سمجھنے کے بعد ایک عام پاکستانی ایک اصل مفکر اور ایک نام نہاد مفکر میں فرق ضرور کر سکے گا-

1- زبان:(Language)

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایک مفکر کیلئے زبان کا بہترین استعمال انتہائی ضروری ہے تا کہ وہ اپنی بات کو اپنے سننے والوں کے سامنے اس طرح سے پیش کر سکے کہ لوگ نہ صرف اس کے الفاظ کو بلکہ ان الفاظ میں چھپے مفہوم کو بھی اچھی طرح سمجھ سکیں- یعنی ایک مفکر کے پاس نہ صرف زبان کا ظاہری پہلو یعنی الفاظ ہوتے ہیں بلکہ ان الفاظ کے پیچھے ایک پیغام بھی ہوتا ہے جو کہ اس مفکر کی فکر کا حاصل ہوتا ہے- لہٰذا، ایک مفکر زبان کو ایک آلے کے طور پر استعمال کرتا ہے اور اس کا اصل مقصد اپنے افکار کو لوگوں کے سامنے پیش کرنا ہوتا ہے جس کا مقصد عوام کی علمی اور شعوری تربیت کرنا ہوتا ہے نا کہ ان کے سامنے اپنی علمی و فکری دھاک بٹھانا- اس لیے صرف زبان کے الفاظ اور قوانین پر عبور حاصل کر کے اس کو عوام کے سامنے بنا سنوار کر پیش کرنا جس سے لوگ واہ واہ اور عش عش کر اُٹھیں ایک مفکر کا معیار نہ کبھی رہا ہے اور نہ ہی کبھی ہو سکتا ہے- اقبال کے بقول نام نہاد کا فرمان چاہے منطق سے سلجھا ہواہو یا لغت کے بکھیڑوں میں الجھا ہوا ہو وہ در حقیقت ’’لذتِ شوق سے بے نصیب ‘‘ ہے - 

پاکستان میں ایک مفکر کا معیار شاید زبان کے ظاہری پہلو سے بھی نیچے آگیا ہے- یہاں تو اکثریت عوام کو اپنی قومی زبان پر اتنا عبور حاصل ہی نہیں ہے کہ وہ مشکل اور پیچیدہ الفاظ کے معنی اور استعمال کو جان سکیں- سونے پہ سہاگہ یہ کہ اکثر دانشور عوام پر اپنا علمی و فکری دبدبہ قائم کرنے کیلئے الفاظ کو بنا سنوار کر پیش کرتے ہیں اور عوام جو کہ پہلے ہی زبان کی باریکیوں سے با خبر نہیں ہے وہ ان لوگوں کو انتہائی قابل اور دانشور انسان سمجھنا شروع کر دیتے ہیں- جہاں تک ان الفاظ کے مفہوم اور ان کے معاشرتی، سیاسی اور مذہبی افکار پر اثرات کی بات ہے نہ تو اس دانشور کو اس کا مکمل ادراک ہوتا ہے اور نہ ہی عوام کو اس کی کچھ سمجھ بوجھ ہوتی ہے - سقراط کا اپنے دور کے نام نہاد دانشوروں سے یہی اختلاف تھا کہ وہ زبان کو استعمال کر کے اپنی لفاظی سے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ بنا دیتے تھے جبکہ اس دور کی علمی، سیاسی و فکری ضروریات سے وہ بالکل نا واقف تھے- یہی کچھ حال پاکستان میں پائے جانے والے مفکرین کا ہے-

2- قصہ گوئی:(Storytelling)

بلا شبہ قصے یا کہانیاں انسانی شعور کو بہت زیادہ متاثر کرتے ہیں- انسانی تاریخ میں کہانی ایک اہم آلہ رہی ہے جس سے مفکرین اپنی بات کو عام عوام تک آسانی سے پہنچا سکتے تھے- مگر کہانی محض کہانی بن کر رہ جائے اور اس میں کوئی اخلاقی و آفاقی سبق نہ ہو تو یہ انسان کے تخیل کو تباہ کر دیتی ہے- انسان سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہو کر محض لذت تک محدود رہ جاتا ہے- ہمارے ہاں آج کل عوام ایسے لوگوں کو مفکر سمجھتی ہے جو ان کو اپنی تحریر اور تقریر میں دلچسپ قصے کہانیاں سناتا ہے- ان کہانیوں کا مقصد لوگوں کے جذبات کو ابھار کر ان میں مختلف قسم کی نفسیاتی کیفیات کو پیدا کرنا ہوتا ہے- لوگ ان کیفیات کی بنیاد پر ان واقعات سے لطف اندوز ہوتے ہیں-

ان میں کچھ ایسے دانشور بھی ہیں جو من گھڑت کہانیاں سنا کر لوگوں کو مستقبل کے بارے میں بڑے بڑے خواب دکھاتے ہیں اور ایسی سحر کُن کہانیاں پیش کرتے ہیں کہ اچھے بھلے تعلیم یافتہ لوگ بھی ان کی باتوں سے متاثر ہو جاتے ہیں- نتیجتاً، عوام علم و شعور حاصل کرنے کی بجائے نفسیاتی لذت حاصل کرنے کے عادی ہو جاتے ہیں- اس لیے ان کے نزدیک ایک مفکر یا دانشور وہی ہے جو بہترین قصے بنا کر عوام کے سامنے پیش کر سکتا ہے- اب ان قصوں کا پاکستان کے موجودہ علمی و فکری مسائل سے کوئی تعلق ہے یا نہیں اس سے نہ عوام کو دلچسپی ہے اور نہ ہی ایسے دانشور ایسے فکری موضوعات کو سامنے لاتے ہیں جس سے عوام کے علم و شعور میں اضافہ ہو- اسلامی روایت میں بھی محض قصے کہانیاں سنانے والے مقررین کی سخت مذمت کی گئی ہے- جب حضرت علی (رضی اللہ عنہ)نے کوفہ کو اپنا دارالحکومت بنایا تو آپؓ نے وہاں کی مسجدوں سے تمام قصہ گو واعظین کو نکال دیا سوائے ان علماء کے جن کے وعظ میں علم و فکر اور نصیحت شامل تھی -

3- بے جا تنقید اور مخالفت :

 (Futile Criticism and Opposition)

پاکستان کی 7 عشروں کی تاریخ کا مطالعہ ایک تلخ حقیقت کو سامنے لاتا ہے جس کا تعلق پاکستان کی تقریبا خاص و عام تمام عوام سے ہے- ہم اجتماعی طور پر بے جا تنقید اور منفیت پر مبنی گفتگو جیسی نفسیاتی بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں - ایک عام آدمی سے خاص تک، چھوٹے سے بڑے تک، ان پڑھ سے پڑھے لکھے تک تقریباً ہر دوسرا شخص دوسروں پر بلا وجہ تنقید کرتا ہے اور جب بھی گفتگو کرتا ہے تو اس پر منفی سوچ غالب ہوتی ہے- شاید اسی لیے ہم اس شخص کو بھی ایک اعلیٰ مفکر سمجھتے ہیں جو ہر کسی پہ بلا وجہ کی تنقید کر کے علمی مجلسوں کو حق اور باطل کا ایک دنگل یا اکھاڑا بنا دیتا ہے- جیسے اکھاڑے میں پہلوان لڑتے ہیں تو دیکھنے والی عوام نعرے بازی سے ان کا جوش بڑھاتی ہے بالکل اسی طرح ہماری عوام ایسے لوگوں کی مباحث سے مزے اٹھاتی ہے جو اپنی شعلہ بیانی اور نفرت انگیز باتوں سے اپنے مخالفین کو پچھاڑ کر رکھ دیں یا عوامی زبان میں اسے یوں کہا جاتا ہے کہ جو ’’ مخالفین کی بولتی بند کر دے‘‘-

حضور نبی کریم (ﷺ) کو مسلمانوں کے حوالے سے دجال سے بھی زیادہ ایسے عالموں اور دانشوروں کا خوف تھا جو لوگوں کو اپنے علم سے گمراہ کریں گے- اسی لیے آپ (ﷺ)  نے تمام مسلمانوں کے لئے فرمایا:

’’ علم اس لیے حاصل نہ کرو کہ اس کے ذریعے علماء پر فخر کرو گے، جاہلو ں سے جھگڑا کرو گے اور لوگوں کو اپنی طرف مائل کرو گے- جو ایسا کرے گا وہ آگ میں جائے گا‘‘- [1]

پاکستان کی تاریخ میں یہ رجحان مذہبی، سیاسی اور دیگر جدید تعلیم یافتہ علمی حلقوں میں بھی بہت کثرت سے پایا جاتا ہے- دو لوگوں، دو گروہوں یا دو دانشوروں کے درمیان علمی گفتگو فقط لفظوں یا اصطلاحات کی حد تک ہوتی ہے ان کا اصلی مقابلہ تو بڑے بڑے دعووں اور نعروں کے ذریعے ہوتا ہے- عام عوام کی اکثریت ذاتی مطالعہ سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتی تو ان کو ان علمی مباحث کے بارے میں بنیادی نوعیت کا علم بھی نہیں ہوتا- ایسی تنقیدی مباحث میں فکری پہلو پہلے تو سرے سے ہوتا ہی نہیں اگر ہوتا بھی ہے تو عوام اسے اپنی کم علمی کی وجہ سے سمجھ نہیں پاتی ہے- اس لیے ایسی بحثوں میں ان دانشوروں کے پاس سب سے بڑا ہتھیار بحث کے اندر شدت اور اشتعال کو پیدا کر کے لوگوں کے جذبات کو ابھارنا ہوتا ہے جس کے لئے وہ ایسے موضوعات پر بات کرتے ہیں جن سے تنقیدی اور منفی پہلو سامنے آ سکیں - وہ ایسے ایسے پرانے اور دفن شدہ موضوعات کو دوبارہ سے زندہ کرتے ہیں جن سے پانی کو زیادہ سے زیادہ  گدلا کیا جا سکے- ان کی گفتگو کا موضوع اکثر ایسے علمی اور تاریخی مسائل ہوں گے جو پچھلی کئی صدیوں سے جوں کے توں آ رہے ہیں اور جن کا مقصد فقد بے جا بحث اور تنقید ہے- حتیٰ کے یہاں کے جدید تعلیم یافتہ دانشوروں اور روشن خیالی کے علمبرداروں کو بھی مذہب اور اس کے نظریات پر تنقید کے سوا کوئی تعمیری کام کرنا شاید آتا ہی نہیں یا پھر وہ کوئی اور کام کرنا چاہتے ہی نہیں-

سیاسی طور پر دیکھیں تو اسی خطے میں ایک سیاسی جماعت (آل انڈیا مسلم لیگ) کے سالانہ جلسے میں علامہ اقبال نے اپنا تاریخی خطبہ الٰہ آباد پڑھا تھا جو کہ پاکستان کی سیاسی تاریخ کا انتہائی اہم دستاویز سمجھا جاتا ہے- کیا آج یہ سوچا جا سکتا ہے کہ پاکستان کی کسی سیاسی جماعت کے جلسے میں اس قدر علمی و تحقیقی گفتگو ہو جو آنے والے دور میں ایک سیاسی دستاویز کا درجہ رکھے؟ یہاں تو سوائے بحث بازی، الزام تراشی اور گالم گلوچ کے کوئی بات دیکھنے کو نہیں ملتی اگر علمی بات ہوتی بھی ہے تو انتہائی سطحی نوعیت کی ہوتی ہے - ان لوگوں کی علمی و فکری وُسعت کی حقیقت اس وقت کھل کر واضح ہو جاتی ہے جب وہ اپنے مخالفین سے اختلاف کرتے ہیں تو جذبات سے بھرپور ہو کر ایک دوسروں پرذاتی نوعیت کی طعن زنی اور گالم گلوچ کرتے ہیں یعنی سیاسی تنقید کا جواب اپنے مخالف پر ذاتی تنقید کی صورت میں دیتے ہیں- لیکن پاکستان کے بانی قائد اعظم کا طرزِ عمل ایسا تھا کہ ایک مرتبہ ایک سینیئر لیگی رہنما نے انہیں جواہر لال نہرو اور ماؤنٹ بیٹن کی بیوی کے متعلق انگلش اور ہندو پریس کے تراشےدیے جن میں دونوں کے درمیان انتہائی حساس اور ذاتی نوعیت کی گفتگو درج تھی- تو قائدِ اعظم نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا اور ان خطوط کو جواہر لال نہرو سے اپنی سیاسی مخالفت کیلئے استعمال کرنے کی بجائے یہ کہتے ہوئے انہیں ایک طرف کر دیا ’’کسی خاتون کا کردار اچھالنا ہماری روایات کے خلاف ہے‘‘- جبکہ پاکستان کے سیاسی حلقوں میں لوگ اپنے مخالف کے ذاتی اور حتیٰ کہ اس کے گھر والوں کے ایسے راز ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں جسے سیاسی مخالفت کیلئے استعمال کیا جا سکے-

4- جدیدیت: (Modernism)

مغرب میں جدیدت یا جدت پسندی ان کے علم و فکر میں ایک شعوری انقلاب سے منسوب کی جاتی ہے جس میں مغرب نے اپنے معاشرے کو نئے اَفکار کی بنیاد پر نئے سرے سے تعمیر کیا اور ہر آنے والے دور میں اس میں مزید تبدیلیاں پیدا کیں- پاکستان میں جدیدیت کسی ایک فکر یا تحریک کا نام تو بالکل بھی نہیں رہا اور نہ ہی ہے بلکہ اسے ایک ہتھیار یا حربے کے طور پر ہر طبقے نے اپنی علمی و فکری وسعت کے مطابق استعمال کیا ہے- یہ ہتھیار اتنا کارگر ثابت ہوا ہے حتیٰ کہ جدیدیت کے مخالفین کو بھی اس کو اپنے استعمال میں لانا پڑا - سادہ سی زبان میں پاکستان میں جدیدت کا مطلب پرانی شراب کو نئے پیالے میں پیش کرنا ہے- جن علمی و فکری مسائل پر آج سے چند عشرے پہلے سادہ عوامی زبان میں بات کی جا رہی تھی ان میں وقت کے تقاضوں کے مطابق تبدیلی لانے اور ان کو نئی علمی و فکری بنیادیں دینے کی بجائے کچھ لوگوں نے ان کو نئے انداز میں پیش کرنا شروع کر دیا ہے اور عوام اس انداز پر فریفتہ ہو کر ایسے لوگوں کو بھی مفکرین سمجھے بیٹھی ہے-

ایسے لوگوں کا طریقہ کار کچھ اس طرح ہے کہ یہ جدید مغربی سائنسی، نفسیاتی اور بالخصوص فلسفیانہ علوم کی اصطلاحات اور نظریات کے لباس میں وہی پرانے فکری مسائل پر بات کرتے ہیں- عوام بھی ان جدید اصطلاحات اور نظریات کے جادو میں گرفتار ہوجاتی ہے اور یہی سمجھتی ہے کہ اس شخص نے کوئی نئی فکر یا سوچ دی ہے جبکہ اس کے پاس سوچ وہی پرانی ہے بس اس پر مغربی علوم کا لباس چڑھایا ہوا ہے- یعنی شراب تو وہی پرانی ہے اس میں کوئی تبدیلی کی ہی نہیں گئی ہاں پیالہ بدلا گیا ہے - عوام پیالے کی بناوٹ اور رنگت دیکھ کر ہی خوش ہو جاتی ہے جس کی وجہ اس طرح ایسے لوگ بھی اب مفکر ین اور دانشوروں کی فہرست میں شامل ہو چکے ہیں جن کے پاس سرے سے کوئی نئی سوچ ہے ہی نہیں اور نہ ان کی کوششوں سے کوئی نئی فکر پیدا ہو سکتی ہے-

5- علم کا ذخیرہ:

(Abundance of Knowledge)

پاکستان میں ایسے شخص کو بھی مفکر سمجھا جاتا ہے جس نے سینکڑوں ہزاروں کتابیں پڑھ رکھی ہوں اور اپنی ہر بات کو کتابوں کے حوالے سے ثابت کرنے کے علمی دعوے کرتا ہو- اس میں کوئی شک نہیں کہ علم حاصل کیے بغیر مفکر بننا قریباً نا ممکن ہے لیکن بس کتابیں پڑھ لینے یا طوطے کی طرح رٹا لگا لینے سے بھی کوئی مفکر نہیں بن جاتا- مفکر کیلئے یہ ضروری نہیں کہ یہ بتا سکے کی فلاں بات کونسی کتاب میں کہاں لکھی ہوئی ہے ہاں اتنا کم از کم ضروری ہے کہ وہ یہ جانتا ہو کہ وہ بات مصنف نے کیوں لکھی؟ اور آج کے دور میں اس کی علمی و فکری حیثیت کیا ہے؟ اور اس بات کو کہاں بیان کیا جانا چاہیے اور کہاں اس پر خاموشی اختیار کرنی چاہیے- اگر علم معلومات کے ذخیرے کا نام ہے تو پھر ایسے لوگوں کو مفکر کہا جا سکتا ہے لیکن اگر علم شعوری ، فکری اور تہذیبی بلندی کا نام ہے تو پھر ایسے کتاب دانوں کو کبھی بھی مفکر کا درجہ نہیں دیا جا سکتا جو کتابیں اپنی شعوری ، فکری اور تہذیبی بہتری کیلئے نہیں پڑھتے بلکہ اس لیے پڑھتے ہیں کہ عوام کے سامنے بڑے بڑے علمی دعوے کر سکیں اور ان پر اپنے علم کی دھاک بٹھا سکیں- ظہور اسلام کے وقت اکثر یہودی علماء کا بھی کچھ یہی طریقہ کار تھا کہ وہ سچ کو عوام سے چھپاتے تھے اور فقط اپنے علمی ذخیرے سے عوام پر اپنا رعب جماتے تھے تو قرآن کریم نے ان کو ایک ایسے گدھے سے تشبیہ دی جس پر کتابیں لادی ہوئی ہیں یعنی جیسے گدھے کو ان کتابوں سے کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا اسی طرح وہ علماء بھی اتنی کتابوں عالم ہونے کا باوجود بھی سچائی سے دور تھے تو معلوم ہوا محض کتابی کیڑا ہونا ایک مفکر ہونے کا معیار ہرگز نہیں ہے-

6- ہنر مندی کی حمایت:

(Support of Skill Development)

پاکستان میں کچھ ایسے لوگوں کو بھی مفکر سمجھا جاتا ہے جو علم کی بجائے ہنر کو ترجیح دیتے ہیں کہ نوجوانوں کو اعلیٰ فکری تعلیم حاصل کرنے کی بجائے فقط بنیادی تعلیم حاصل کرنا چاہیے اور اس کے بعد ایسا ہنر حاصل کرنا چاہیےیا کسی ہنر سے متعلق ہی کوئی اعلیٰ ڈگری (انجینئرنگ، میڈیکل، کمپیوٹر سائنس وغیرہ وغیرہ) حاصل کرنی چاہیے جس کے ذریعے سے وہ زیادہ سے زیادہ دولت کما سکیں- راقم کو دولت اور اس کی اہمیت کا بخوبی اندازہ ہے کیونکہ یہ انسان کی ایک بنیادی ضرورت ہے- لیکن نوجوانوں کو علم کی بجائے فقط دستکاری کی راہ پر ہی چلایا گیا تو آنے والے وقت میں پاکستان میں فکر اور تدبر رکھنے والے اعلیٰ ذہن نہیں بلکہ صرف ATM نماانسان ہی نظر آئیں گے جنکی سوچ پیسے سے شروع ہو کر پیسے پر ہی ختم ہو جاتی ہے- انہیں ملک و قوم کی علمی و فکری ضروریات کی پہلے تو اتنی سمجھ ہی نہیں ہے اگر کسی میں ہوتی بھی ہے تو اس پر عمل کرنا ایک ناکام تمنا بن کر رہ جاتی ہے کہ اگر زندگی میں فرصت ملی تو فلاں کام بھی کروں گا جو کہ سرمایہ دارانہ چکر میں بالکل ہی نا ممکن ہے- علامہ اقبال نے اسی فکر کو یوں بیان کیا ہے:

و ہ علم نہیں زہر ہے احرار کے حق میں
جس علم کا حاصل ہے جہاں میں دو کفِ جو

حرفِ آخر:

انسانی فکر ایک خداداد صلاحیت ہے جو انسان کو جانوروں سے ممتاز کرتی ہے- جانور زمانی و مکانی حقائق کے پابند ہوتے ہیں اور ان حقائق کو جوں کے توں قبول کر کے اپنی زندگی گزار دیتے ہیں جبکہ انسان ان حقائق کا مشاہدہ کرتا ہے اور ان مشاہدات کو اپنی فکر سے پرکھتا ہے- اس لیے ایک مفکر کیلئے ایسی عقل لازمی ہے جو زمانی و مکانی افکار کی قید سے آزاد ہو - ایک مفکر زمانی و مکانی افکار کو من و عن تسلیم نہیں کرتا بلکہ زمانے کی علمی و فکری ضروریات کے مطابق ان میں جدت لاتا ہے اور زمانے کے علمی و فکری مسائل کا حل پیش کرتا ہے - وہ ایک قوم کے تاریک ماضی سے بھی فکر کی ایسی شمعیں ڈھونڈ کر لاتا ہے جس سے قوم کا مستقبل روشن ہو سکے- لیکن ایک عظیم مفکر کیلئے ایک عظیم قوم کا ہونا بھی ضروری ہے جو اس کے افکار کو پروان چڑھائیں اور قوم کو بلندی کی نئی منزلوں تک لے جائیں اور ایک قوم عظیم تب بنتی ہے جب اس کے فکر و دانش کے معیارات عظیم ہوتے ہیں- وہ اس ہنر میں ایک سُنار کی طرح ماہر ہوتی ہے جو کھوٹے اور کھرے سونے کو پہچان لیتا ہے- اگر ہمیں ایک عظیم قوم بننا ہے تو ہمیں اپنے ہاں اعلیٰ علمی و فکری افکار کو فروغ دینا ہو گا جس کیلئے ہمیں بحیثیتِ قوم ان مفکرین کو سامنے لانا اشد ضروری ہے جو پاکستان کے موجودہ علمی و فکری مسائل کو سمجھتے ہوں اور ان کا مؤثر حل پیش کر سکیں- یہ کام پاکستان کی عوام کا ہے جب تک عوام اپنی فکر و دانش کے معیارات کو ٹھیک نہیں کرے گی تب تک یہاں نہ ہی کوئی مفکر جنم لے سکتا ہے اور نہ ہی کوئی محقق-

٭٭٭


[1](سنن ابن ماجہ)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر