موسمیاتی سفارت کاری: ماحولیاتی بحران سے امن کی راہ تک

موسمیاتی سفارت کاری: ماحولیاتی بحران سے امن کی راہ تک

موسمیاتی سفارت کاری: ماحولیاتی بحران سے امن کی راہ تک

مصنف: ڈاکٹر محمد ارسلان اقبال اکتوبر 2026

کئی دہائیوں تک ملکوں کی سلامتی کا مطلب صرف فوج، سرحدیں اور پرانی جغرافیائی سیاست سمجھا جاتا رہا- کسی ملک کی مضبوطی کو اس کی فوجی طاقت، اپنے علاقے کا دفاع کرنے کی صلاحیت اور مقابلے کی اہلیت سے ناپا جاتا تھا- لیکن آج کے سب سے بڑے خطرے فوجی کارروائی سے نہیں آ رہے، بلکہ پگھلتے گلیشیئرز، پانی کی کم ہوتی سطح، بے ترتیب مون سون، فصلوں کی کم پیداوار، سمندر کی سطح بڑھنے اور موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والی نقل مکانی سے آ رہے ہیں- ماحولیاتی خرابی اب صرف ماحول کا مسئلہ نہیں رہی، بلکہ روزمرہ کی حقیقت بن چکی ہے جو ایشیا، افریقہ اور عالمی جنوب (Global South) کے دوسرے علاقوں میں سماجی ہم آہنگی، معاشی مضبوطی، نقل مکانی کے رجحانات، باہر کی دنیا کے ساتھ تعلقات اور سلامتی کے تصور کو بھی متاثر کر رہی ہے- اگر ہم صرف قدرتی آفات پر نظر رکھیں تو اس صورت حال میں چھپے اہم مواقع نظر انداز ہو جاتے ہیں- موسمیاتی تبدیلی سماجی اور معاشی دباؤ، حکمرانی کی کمزوریوں اور وسائل پر بڑھتے مقابلے کی وجہ سے خطرات کئی گنا بڑھا سکتی ہے، مگر یہی بحران وقت سے پہلے امن قائم کرنے کے لیے ایک اچھا موقع بھی بن سکتا ہے-

ماحولیاتی مسائل سرحدوں کو نہیں مانتے، اسی لیے یہ ملکوں کے درمیان مقابلے کی بجائے مل کر کام کرنے کی وجہ بنتے ہیں- موسمیاتی سفارت کاری کا اصل مقصد یہ ہے کہ عالمی رابطوں، سائنسی تعاون اور وسائل کے مشترکہ انتظام کے ذریعے موسمیاتی خطروں پر قابو پایا جائے، سیاسی اعتماد بڑھایا جائے اور مل کر سلامتی مضبوط کی جائے- زرعی وسائل ان برادریوں کے روزگار اور زندگی کی بنیاد ہیں جو براہ راست زمین اور پانی پر انحصار کرتی ہیں، مگر شدید سیلاب اور خشک سالی اکثر انہی وسائل کو نقصان پہنچا کر بڑی مشکلات پیدا کر دیتے ہیں- اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کسانوں کو نقصان ہوتا ہے، خوراک مہنگی ہو جاتی ہے اور لوگ گاؤں چھوڑ کر شہروں کی طرف جاتے ہیں، جس سے پہلے سے دباؤ کا شکار شہروں میں رہائش، بلدیاتی نظام اور عوامی خدمات پر مزید بوجھ پڑتا ہے- اس کے علاوہ بارش کے بدلتے انداز اور دریاؤں کی سرحدوں پر پانی کی مقدار بدلنے کی وجہ سے مشترکہ دریائی نظام آہستہ آہستہ کشیدگی کے ممکنہ مراکز بن رہے ہیں- ان خطرات سے نمٹنے کے لیے سلامتی کا ایک نیا تصور درکار ہے، ایسی سلامتی جو سفارت کاری، بروقت معلومات کے تبادلے اور آفات کا خطرہ کم کرنے کے لیے مل کر کیے گئے پیشگی اقدامات سے حاصل ہو- روایتی فوجی ذرائع نہ زمین کی خرابی روک سکتے ہیں، نہ ختم ہوتے زیرِ زمین پانی کے ذخیرے واپس لا سکتے ہیں اور نہ ہی بدلتے موسمیاتی نظام کو قابو میں رکھ سکتے ہیں-

یہ حالات خاص طور پر عالمی جنوب سے ایک بڑا اور فیصلہ کن قدم اٹھانے کا تقاضا کرتے ہیں- ترقی پذیر دنیا ایک بڑے تضاد کا سامنا کر رہی ہے: گرین ہاؤس گیسز کے ماضی کے اخراج میں اس کا حصہ نسبتاً کم رہا ہے، مگر موافقت (adaptation) یعنی خود کو حالات کے مطابق ڈھالنے کی محدود صلاحیت کی وجہ سے اسے موسمیاتی تبدیلی کا زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے- شدید موسمی واقعات چند ہی دنوں میں برسوں کی ترقی ضائع کر سکتے ہیں، بنیادی ڈھانچہ تباہ کر سکتے ہیں، سرکاری قرضے بڑھا سکتے ہیں اور حکومتی خرچ کو ترقیاتی کاموں سے ہٹا کر ہنگامی تعمیرِ نو کی طرف موڑ سکتے ہیں- تاہم یہی کمزوری سفارتی سطح پر ایک طاقت میں بھی بدل سکتی ہے- جب موسمیاتی خطرات کا سامنا کرنے والے ممالک مل کر ایک ہی مؤقف پر بات کرتے ہیں تو ان کی مشترکہ آواز پوری دنیا میں وزن رکھتی ہے- ’’Loss and Damage Fund‘‘اس کی ایک بڑی مثال ہے، جو برسوں کی مسلسل سفارتی کوشش کا نتیجہ تھا اور جس سے موسمیاتی تبدیلی کے نقصانات کو دنیا بھر میں باقاعدہ تسلیم کرنے کی بنیاد مضبوط ہوئی- اس کے علاوہ مشترکہ سائنسی تحقیق اور ماحولیاتی نگرانی ایسے غیر جانبدار ذرائع مہیا کرتی ہیں جو سیاسی کشیدگی کے دور میں بھی ملکوں کے درمیان رابطے کا راستہ کھلا رکھتے ہیں-

پاکستان ایک بڑی مثال ہے کہ شدید موسمیاتی کمزوری کو عالمی سفارت کاری میں کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے- 2022ء کے تباہ کن سیلاب نے 3 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو متاثر کیا اور تقریباً 30 ارب ڈالر کا نقصان اور تعمیرِ نو کی ضرورت پیدا کی- اس واقعہ نے واضح طور پر یاد دلایا کہ موسمیاتی بے قاعدگی ترقی پذیر ممالک پر کتنا تباہ کن اثر ڈال سکتی ہے-پاکستان نے COP27 میں G77 اور چین کی قیادت کرتے ہوئے ان ممالک کو قائل کرنے میں اہم کردار ادا کیا کہ موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات (Loss and Damage) کا ازالہ کیا جائے-پاکستان نے یہ بات بھی اجاگر کی کہ موسمیاتی تبدیلی صرف ماحول کا مسئلہ نہیں بلکہ دنیا کے غریب اور متاثرہ ممالک کیلئے انصاف اور برابری کا مسئلہ بھی ہے- اس سفارتی کوشش سے عالمی موسمیاتی مالیات کی بحث میں ایک اہم تبدیلی آئی اور قرض پر مبنی پرانی مدد کی بجائے آسانی سے ملنے والی اور بغیر قرض کی مالی مدد کی ضرورت زیادہ واضح ہوئی- تاہم عالمی سطح پر یہ قائدانہ کردار برقرار رکھنے کیلئے ملک میں اداروں پر بھروسہ ضروری ہے- اٹھارھویں آئینی ترمیم کے تحت ماحولیاتی اختیارات صوبوں کو دیے گئے، جس سے صوبائی حکومتوں کا کردار تو بڑھا، لیکن ساتھ ہی وفاقی اداروں اور مقامی حکومتوں کے درمیان رابطہ مزید مشکل ہو گیا-

عالمی موسمیاتی مالی مدد سے فائدہ اٹھانے کے لیے شفاف مالیاتی نظام، قابلِ اعتماد موسمیاتی اعداد و شمار اور اچھی منصوبہ بندی ضروری ہے- حقیقی عالمی موسمیاتی قیادت کا آغاز اپنے گھر سے ہوتا ہے- پائیدار امن کیلئے موسمیاتی سفارت کاری کو ان عملی نظاموں پر توجہ دینی ہوگی جو معاشروں کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہیں، یعنی پانی، تجارت اور بنیادی ڈھانچہ- دریائے سندھ کا طاس (Indus River Basin) اس حوالے سے ایک اہم آزمائش ہے- 1960ء کا سندھ طاس معاہدہ (Indus Waters Treaty) کئی دہائیوں کی سیاسی کشیدگی کے باوجود قائم رہا ہے، مگر ہندوکش ہمالیہ کے خطے میں گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں اور مون سون کا انداز بدل رہا ہے، جس سے ایسے نئے انتظامی نظاموں کی ضرورت پیدا ہو گئی ہے جو موسمیاتی معلومات کے بروقت تبادلے اور ماحول کی مشترکہ دیکھ بھال کو ترجیح دیں- اسی طرح چین پاکستان اقتصادی راہداری (China–Pakistan Economic Corridor – CPEC) جیسے بڑے منصوبوں میں مالی فائدے کے ساتھ ساتھ آئندہ کی موسمیاتی سرمایہ کاری کو بھی اہم سمجھنا ضروری ہے- توانائی کی سرمایہ کاری کا رخ شمسی توانائی، ہوا سے بننے والی بجلی اور دریاؤں کے قدرتی بہاؤ سے بننے والی پن بجلی کی طرف موڑنا، زرعی رسد کے نظام کو بہتر بنانا اور گوادر و کراچی میں موسمیاتی آفتوں کا مقابلہ کرنے والا مضبوط بندرگاہی ڈھانچہ بنانا، معاشی ترقی کو زیادہ مستحکم اور لچکدار بنائیں گے، جس سے ماحولیاتی سلامتی بھی بہتر ہوگی-

عالمی موسمیاتی مالیاتی نظاموں کو موافقت (adaptation) اور ’’ Loss and Damage‘‘ کے طریقہ کار کے درمیان واضح فرق رکھنا چاہیے- موافقتی اقدامات آفت آنے سے پہلے کیے جاتے ہیں، جبکہ ’’Loss and Damage‘‘ کا طریقہ کار اس وقت اپنایا جاتا ہے جب موافقت کی گنجائش ختم ہو چکی ہو- آسانی سے ملنے والی، شفاف اور گرانٹ کی صورت میں دی جانے والی مالی مدد ترقی پذیر ممالک کو پہلے سے بھاری قومی قرضوں میں مزید اضافہ کیے بغیر موسمیاتی لچک کی طرف بڑھنے میں مدد دے گی- مؤثر ماحولیاتی اقدامات کیلئے ٹیکنالوجی، مالی وسائل اور پالیسی کے ساتھ ساتھ لوگوں کی ثقافتی قبولیت بھی ضروری ہے- تحفظ کی پالیسیاں اس وقت زیادہ کامیاب ہوتی ہیں جب برادریاں انہیں کوئی باہر سے تھوپی ہوئی ذمہ داری سمجھنے کے بجائے اپنا معاملہ سمجھ کر اپناتی ہیں- جنوبی ایشیا اور عالمِ اسلام میں میزان (توازن) اور خلافت (زمین پر انسان کی نگہبانی و امانت داری) کے تصورات اور ادبی روایات، انسان اور فطرت کے رشتے کو سمجھنے کی اہم فکری بنیادیں فراہم کرتے ہیں- جب ان اقدار کو مقامی حکمرانی کا حصہ بنایا جاتا ہے تو شجرکاری، آبی گزرگاہوں کے تحفظ اور پائیدار زراعت میں مقامی برادریوں کی شرکت بڑھتی ہے، جو اس بات کو مزید واضح کرتی ہے کہ ماحولیاتی امن سازی دراصل لوگوں کے درمیان اعتماد قائم کرنے کا عمل ہے-

موسمیاتی بحران عالمی سیاست کو ضرور بدلے گا، لیکن اس تبدیلی کا رخ اس بات پر منحصر ہوگا کہ ممالک اس بحران پر کیا ردعمل دیتے ہیں- دباؤ نئی تقسیم اور مقابلہ بازی کو جنم دے سکتا ہے، مگر یہی دباؤ نئی اور غیر متوقع شراکت داریوں کی وجہ بھی بن سکتا ہے- مشترکہ دریاؤں کا انتظام، کمزور برادریوں کا تحفظ اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کیلئے تعاون، مستقبل کے عالمی امن میں اتنا ہی اہم ہوں گے جتنے فوجی اتحاد اور روایتی سفارت کاری-

اسی لیے موسمیاتی سفارت کاری ریاستی حکمتِ عملی میں ایک بنیادی تبدیلی ہے، خاص طور پر پاکستان اور عالمی جنوب کیلیے، جہاں لچک پیدا کرنا، تعاون بڑھانا اور پائیداری کو ترجیح دینا بین الاقوامی تعلقات کے نئے بنیادی اصول بن کر سامنے آئے ہیں- یہ صرف ماحولیاتی پالیسی نہیں، بلکہ پاکستان کے لیے ریاستی حکمتِ عملی کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے- عالمی گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں پاکستان کا حصہ بہت کم ہے، مگر وہ موسمیاتی کمزوری کی سب سے آگے کی صف میں کھڑا ہے- پاکستان نے COP27 میں ’’Loss and Damage‘‘ بنانے کیلئے مؤثر سفارتی کردار ادا کر کے یہ ثابت کیا کہ وہ وقت کی ضرورت کے مطابق قیادت کی ذمہ داری اٹھا سکتا ہے-

اسلام آباد کیلئے اگلا قدم یہ ہے کہ وہ اپنی توجہ صرف بین الاقوامی سطح پر بات کرنے سے ہٹا کر ملک کے اندر طویل مدتی موسمیاتی لچک پیدا کرنے پر مرکوز کرے- آنے والے برسوں میں پاکستان تین خاص اقدامات کے ذریعے خطے میں ایک مضبوط اور امن پسند ملک کے طور پر اپنا مقام بنا سکتا ہے:

  1. ہندوکش ہمالیہ کے خطے میں پانی اور موسم سے متعلق (ہائیڈرو میٹرولوجیکل) معلومات کا تبادلہ بڑھانا اور گلیشیئرز پر نظر رکھنے کا دائرہ وسیع کرنا-
  2. سی پیک (CPEC) جیسے بڑے بنیادی ڈھانچے اور سرمایہ کاری کے منصوبوں میں موسمیاتی لچک کے معیار شامل کرنا-
  3. وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان اندرونی حکمرانی کے طریقہ کار اور اداروں کے عمل کو بہتر بنانا، تاکہ بین الاقوامی موسمیاتی مالی مدد سے اچھے طریقے سے فائدہ اٹھایا جا سکے-

اگر یہ اقدامات آپس میں جوڑ کر اٹھائے جائیں تو ایک فعال اور امن پسند خارجہ پالیسی، شفاف اندرونی موسمیاتی انتظام کے ساتھ مل کر، پاکستان کو موسمیاتی انصاف کی ایک ضروری آواز اور علاقائی استحکام کا ایک مضبوط ستون بنا سکتی ہے-

٭٭٭

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر