تصوف اور سماجی تربیت

تصوف اور سماجی تربیت

افراد کے ایک ایسے گروہ کو سماج کہا جاتا ہے جس کی بنیادی ضروریات زندگی میں ایک دوسرے سے مشترکہ روابط موجود ہوں اور معاشرے کی تعریف کے مطابق یہ لازمی نہیں کہ ان کا تعلق ایک ہی قوم یا ایک ہی مذہب سے ہو- جب کسی خاص قوم یا مذہب کی تاریخ کے حوالے سے بات کی جاتی ہے تو پھر عام طور پر اس کا نام معاشرے کے ساتھ اضافہ کر دیا جاتا ہے جیسے ہندوستانی معاشرہ، مغربی معاشرہ یا اسلامی معاشرہ-

اسلام نے مشترکہ بنیادی ضروریات زندگی کے اس تصور کو مزید بڑھا کر بھائی چارے اور فلاح و بہبود کے معاشرے کا قرآنی تصور پیش کیا ہے،یہ ایک ایسا تصور ہے کہ جس کے مقابل معاشرے کی تمام لغاتی تعریفیں اپنی چمک کھو دیتی ہیں- اللہ پاک نے قرآن میں اسی مثالی معاشرے کے بارے میں فرمایا کہ معاشرہ کیسا ہونا چاہیئے:

’’کُنْتُمْ خَیْرَ اُمَّۃٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَتُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ‘‘[1]

’’تم بہتر ہو ان امتوں میں جو لوگوں میں ظاہر ہوئیں بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو‘‘-

اس قرآنی تصور سے ایک ایسا معاشرہ بنانے کی جانب راہ کھلتی ہے کہ جہاں معاشرے کے بنیادی تصور کے مطابق تمام افراد کو بنیادی ضروریات زندگی بھی میسر ہوں اور ذہنی آسودگی بھی-کسی بھی انسانی معاشرے کو اس وقت تک ایک اچھا معاشرہ نہیں کہا جاسکتا جب تک اس کے ہر فرد کو مساوی انسان نہ سمجھا جائے-ایک کمزور کو بھی وہی انسانی حقوق حاصل ہوں جو ایک طاقتور کے پاس ہوں، خواہ یہ کمزوری طبیعی ہو یا مالیاتی یا کسی اور قسم کی- [2]جب فرد کا تعلق اللہ پاک سے بن جاتا ہے تو’’إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ‘‘ کے فرمان پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اسلامی معاشرے میں تمام افراد کے حقوق و فرائض یکساں ہوتے ہیں-

اسلامی معاشرہ تہذیبی اور نظریاتی بنیادوں پر تشکیل پاتا ہے- یہ نسل، نسب، زبان ووطن پر مبنی نہیں ہے- اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات عطا کرتا ہے جس کو اپنانا ہر مسلمان بلکہ ہر انسان کے لیے ضروری ہے -اگر اسلام کو حقیقی معنوں میں اپنایا جائے تو انسان دنیا کی زندگی بھی اطمینان و چین سے بسر کرتا ہے اور آخرت میں بھی نجات پا تا ہے- اسلامی معاشرہ ایک متوازن معاشرہ ہے- خواہ عبادت ہو یا سیاست، معاشرت ہو یا معیشت، ہر معاملے میں اس کی تعلیمات اور احکام ا عتدال پسندانہ ہیں-اس نے غیر طبقاتی معاشرے کی بنیاد رکھی جس میں کسی گورے کو کالے پر ، کسی عربی کو عجمی پر ، کسی امیر کو غریب پر کوئی فضیلت نہیں سوائے تقویٰ کے-تمام انسان برابر ہیں-

اب دنیا کو یہ احساس ہوا ہے کہ موجود ہ صدی میں جمود و تعطل اور مادیت پرستی و روحانی امراض نے جس قدر تیزی سے انسان کو اپنی لپیٹ میں لیا ہے ایسے میں تمام شعبہ ہائے زندگی میں فرد کے روحانی استحکام و روحانی  ترقی، عرفان ِ خودی و خود گری (Self-actualization) اور قلبی و باطنی تطہیر کیلئے روحانیتِ اسلام (Islamic Spirituality)  سے رہنمائی ناگزیر ہے جس سے انفرادی و اجتماعی سطح پر کار آمد مقاصد و اہداف کا حصول ممکن بنایا جاسکتا ہے -[3]

عصرِ حاضر کے نامو ر فرانسیسی ڈاکٹر موریس بوکائیے نے اپنی تصنیف ’’بائبل، قرآن اور سائنس‘‘ میں اس حقیقت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے :

’’موجودہ سائنس (کے تحت ہونے والی مادی ترقی) نے انسانی دماغوں کو جس قدر ناپاک کر دیا ہے ان کو پاک کرنے کیلئے بڑی روحانی قوت کی ضرورت ہے اور وہ اسلام کی تعلیمات سے ہی حاصل ہو سکتی ہے‘‘-

اللہ رب العزت نے تمام مخلوق کو پیدا فرمایا اور تمام مخلوق میں انسان کو اشرف بنایا- انسانوں کی رہنمائی کے لیے انبیاء کرام کو مبعوث فرمایا جنہوں نے انسانوں کی تربیت فرمائی اور مخلوق کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ استوار فرمایا- اس تربیت کی بدولت انسانوں کے اندر اعلیٰ اخلاق پیدا ہوئے- آخری نبی حضرت محمد مصطفےٰ (ﷺ) ہیں - آپ (ﷺ) کے بعد صحابہ کرام (﷢) نے قرآن و سنت پر عمل پیرا ہوتے ہوئے تربیت فرمائی- آپ کے تابعین (رح) پھر تبع تابعین (رح) نے اس ذمہ داری کو پورا کرنے کی کوشش کی- تبع تابعین (رح)کے بعد اولیاء کرام (رح) اس ڈیوٹی کو نبھانے کی کوشش فرما رہے ہیں اور ان شاء اللہ قیامت تک یہ سلسلہ جاری رہے گا-

 

 

سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی قدس اللہ سرّہٗ نے اصلاحی جماعت کی 1987ء میں بنیاد رکھی جس کا مقصد تعلق باللہ قائم کرنا اور انسانوں کی تربیت فرمانا ہے - آپ نے سب سے پہلے عوام کی رہنمائی کے لیے لوگوں کی تربیت فرمائی جن کی یہ ڈیوٹی لگائی کہ معاشرے میں جا کر اسلام کے حقیقی پیغام کو عام کرنے کی سعی کریں تاکہ معاشرے میں عوام کے تعلق باللہ کو مضبوط کیا جائے - جب انسان کا تعلق باللہ مضبوط ہوتا ہے تو وہ اعلیٰ اخلاق کا مالک بنتا ہے - اس میں خوفِ الٰہی پیدا ہوتا ہےتو وہ برائی کو چھوڑ کر اچھائی کو اپناتا ہے- اس جماعت کی دعوت ہے ’’فَفِرُّوا إِلَى اللّٰهِ ‘‘اور مقصود ہے اللہ بس ماسویٰ اللہ ہوس- تزکیہ کے لیے قرآن پاک کے فرمان کے مطابق آپ نے تصور اسم اللہ ذات کو عام فرمایا تاکہ انسان کا ہر سانس اللہ کے ذکر میں جائے- جس سے انسان کا تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب ہو جیسے اللہ پاک نے فرمایا :

’’فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَاذْكُرُوا اللهَ قِيَامًا وَ قُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِكُمْ ‘‘[4]

’’پھر جب تم نماز پڑھ چکو تو اللہ کی یاد کرو کھڑے اور بیٹھے اور کروٹوں پر لیٹے‘‘-

یعنی حالت بدلے، کیفیت بدلے، جگہ بدلے، وقت بدلے،سمت بدلے جو کچھ بھی ہو تمہاری سوچ و فکر کا مرکز و محور نہ بدلے-ہر لمحہ و ہر لحظہ تمہاری سوچ و فکر رب ذوالجلال کے گرد گھومتی رہے،اسی ذات کا طواف کرتی رہے- جیسا کہ کہا گیا ہے ’’ہتھ کار ول ،دل یار ول‘‘[5]

نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ، جہاد کے ساتھ ذکر اللہ کو بھی فرض فرمایا گیا- قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں ذکر اللہ پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے- ذکر اللہ اس لیے فرض کیا گیا ہے کہ اس سے تزکیہ نفس اور تصفیہ قلب ہوتاہے جیسا کہ حضور نبی کریم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’لكل شيء صقالة وصقالة القلوب ذكر الله وما من شيء أنجى من عذاب الله من ذكر الله قالوا : ولا الجهاد في سبيل الله ؟ قال : ولا أن يضرب بسيفه حتى ينقطع‘‘ [6]

’’ہر چیز کے لئے صفائی ہے اور قلوب کی صفائی اللہ کا ذکر ہے اور ایسی کوئی چیز نہیں ہے جو ذکر الٰہی کے برابر اللہ کے عذاب سے بہت نجات دلائے- صحابہ کرام (رض)   نے عرض کیا کہ کیا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی ایسی چیز نہیں؟ آپ (ﷺ) نے فرمایا نہیں! اگرچہ وہ (مجاہد) اپنی تلوار اتنی مارے (یعنی اتنی شدت کے ساتھ مارے) کہ اس کی تلوار ٹوٹ جائے ‘‘-(بیہقی)

جب ذکر اللہ سے بندے کا دل صاف ہو جاتا ہے تووہ اپنے اندر سے اس ذات باری تعالیٰ کو پا لیتا ہے اور بندے کو معرفتِ الٰہی نصیب ہوتی ہے تو بندے کا تعلق باللہ مضبوط ہو جاتا ہے- بندے کو اپنےمن کی حقیقت تک رسائی نصیب ہوتی ہے-جیسا کہ  علامہ اقبالؒ فرماتے ہیں:

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

اگر انسان کو اپنے من کی حقیقت تک رسائی ہو جائے تو تمام جھگڑے خود بخود مٹ جاتے ہیں کیونکہ انسان کا شعور اسے یہ تفہیم عطا کر دیتا ہے کہ تجھے دنیا میں ’’تسخیر کنندہ پست و بالا‘‘کا منصب اعلیٰ کیوں نصیب ہے - جیسے کہ اللہ پاک نے قرآن پاک میں فرمایا ہے:

’’وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ‘‘[7]

’’اور ہم اس کی شہہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں‘‘-

حدیث قدسی میں فرمانِ الٰہی ہے:

’’لَا یَسَعُنِی أرْضِی وَلا سَمائِی وَلکِن یَسَعُنِی قَلْبُ عَبْدِیَ الْمُؤْمِنِ ‘‘[8]

’’میں نہ تو زمین میں سماتا ہوں اور نہ ہی آسمانوں میں بلکہ صرف بندہ مومن کے دل میں سماتا ہوں‘‘-

 

 

انسان کو جب یہ ادراک نصیب ہوتا ہے کہ میری تحریم میرے باطن میں جلوہ گر ہستی کی وجہ سے ہے تو اُسے اپنے سامنے بیٹھا ہر انسان اُسی مکین کا مکان نظر آتاہےکہ جس طرح میرے باطن میں لامحدود و لا فانی کا جلوہ ہے میرے سامنے والا انسان بھی اسی شرف سے نوازا گیا ہے- اِسے اِس تمثیل سے بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ جس مکان میں مَیں موجود ہوں اگر اس مکان پر کوئی گُل پاشی کررہا ہے تو کیا اُس گُل پاشی کا اطلاق اِس مکان کے در و دیوار پر ہے یا مجھ پر؟ اگر اِس مکان پر کوئی دشنام طرازی کرتا ہے تو کیا اُس دشنام طرازی کا مخاطب مکان کےسنگ و خشت ہیں یا مَیں؟ اس مادی مثال کو اُس روحانی کائنات میں جا کر منطبق کریں کہ جب کسی انسان کو فروعی عناد کی بھینٹ چڑھاتے ہوئے اُس کے چیتھڑے اُڑا دئیے جائیں یا اس کے خون سے ذاتی مقاصد کی تکمیل کے لیے کھیلا جائے کیا یہ وجودِ انسان کے گوشت پوست کی توہین ہے یا قلبِ انسانی کے مکین کی توہین ہے؟اس فکر کو اپنے اندر اجاگر کرنے کو قرآن نے ’’تزکیہ‘‘ کی اصطلاح دی ہےجسے تابعین نے ’’تصوف‘‘کہا ہے اور عہدِ جدید میں اِسے ’’صوفی ازم‘‘ کہتے ہیں- [9]

اکثر لوگ جو حضرت سلطان محمد اصغر علیؒ کے تربیت یافتہ نوجوانوں سے ملتے ہیں تو اس حیرت و تعجب میں ہوتے ہیں کہ ایک یا دو یا چار دوست ایک گروپ میں نرم اور منکسر مزاج ہو سکتے ہیں مگر یہ کیسے ممکن ہے کہ یہ سب کے سب نوجوان اتنے نرم اور شُستہ و شگفتہ مزاج ہیں ؟ تو اس کی وجہ تصوف کا یہی ’’ڈاکٹرائن‘‘ ہے جو حضرت سلطان محمد اصغر علیؒ نے عملی تربیت سے نوجوانوں میں روحِ حیات کی طرح شامل کر دیا ہے کہ آدمی کو صرف خاک کا پُتلا ہی مت جانو بلکہ اس میں نُوری جوہر بھی ہے اسے مد نظر رکھ کر ہر انسان کی طرف دیکھو -

اللہ تعالیٰ نے امربالمعروف و نہی عن المنکر کے لیے جماعت کا حکم فرمایا ہےجیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَلْتَكُن مِّنكُمْ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ‘‘[10]

’’اور تم میں سے ایسے لوگوں کی ایک جماعت ضرور ہونی چاہئے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائیں اور بھلائی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں، اور وہی لوگ بامراد ہیں‘‘-

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے تحت اصلاحی جماعت کا قیام عمل میں لایا گیا ہے - اس کے مبلغین کی تربیت فرما کر میدانِ عمل میں اتارا گیا ہے جو لوگوں کو اللہ کی دعوت دیتے ہیں- اس جماعت کا کام گراس روٹ لیول سے شروع ہوتا ہے - ہر شعبہ زندگی کے لوگ اس کے مخاطب ہوتے ہیں - یہ لوگوں کی خوشی و غمی میں شریک ہوتے ہیں اور اللہ کی دعوت دیتے ہیں-اس جماعت کا کام سوشل میڈیا کے ذریعے بھی بہت تیزی سے ہو رہا ہے-

ہمارے معاشرے میں فرقہ واریت بہت زیادہ ہے فرقہ واریت کی وجہ سے کئی جھگڑے وقوع پذیر ہوتے ہیں - یہ جماعت فرقہ واریت سے پاک پیغام دیتی ہے اور قرآن پاک کے اس فرمان کے مطابق عمل پیرا ہے :

’’وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا‘‘[11]

’’اور اللہ کی رسی مضبوط تھام لو سب مل کر اور آپس میں پھٹ نہ جانا (فرقوں میں نہ بٹ جانا)‘‘-

 

 

پاکستان کے ایک عام آدمی بالخصوص نوجوان نسل، جو اس کنفیوژن کا شکار تھی کہ کونسا مکتبہ فکر درست ہے اور کس مکتبہ فکر کی جانب جانا چاہیے، انہیں بھی اس جماعت نے روحانی، فکری، علمی، مذہبی اور فکری تحرک دے کر زندگی گزارنے کا ایک بہترین طریقہ اور صحیح توازن پر مبنی معاشرے کا تصور دے کر ان کے وجود سے شدت، تشدد، تعصب اور نفرت کو ختم کیا-یہ سب ثمرات ایک زندہ جاوید اور انتہائی باکمال صاحبِ نگاہ قیادت کے بغیر ممکن نہیں- [12]

اصلاحی جماعت ان اصولوں پر معاشرے میں کردار ادا کرنے کی سعی کر رہی ہے جو اصول مثالی معاشرے کے ہوتے ہیں جہاں فرد کی روحانی  ترقی  بھی ہو،اس کے پاس اپنی زندگی کا ایک مقصد ہو، فلسفہ حیات موجود ہو اور وہیں معاشرے کے پاس عالمگیر اصول بھی موجود ہوں جو اسی فلسفۂ حیات سے منسلک ہوں جن پر ایک فرد کی تعمیر ہو رہی ہو-

جیسا کہ حضرت علامہ محمد اقبالؒ اپنے چھٹے خطبے میں فرماتے ہیں :

“Humanity needs three things today…a spiritual interpretation of the universe, spiritual emancipation of the individual and basic principles of a universal import directing the evolution of human society on a spiritual basis”. [13] 

انسانیت کو آج تین چیزوں کی ضرورت ہے:

1- کائنات کی روحانی تعبیر

2- فرد کا روحانی  استخلاص

3- ایسے عالمگیر نوعیت کے بنیادی اُصول جو روحانی بنیادوں پر انسانی سماج کی نشو و نما میں رہنما ہوں-

اصلاحی جماعت جہاں ایک جانب فرد کے روحانی  ترقی  پر بنیاد کرتی ہے تو وہیں فرد کو معاشرے میں اپنے کردار سے بخوبی آگاہ کرتی ہے اور ساتھ ہی ساتھ معاشرے کی تعمیر کیلئے رہنما اصول وضع کرتی ہے-بانئ اصلاحی جماعت نے اس تحریک کی صورت میں ایسی عملی مثال پیش کی ہے کہ دنیاوی علوم اور ادارہ جات چلانے کیلئے ضروری تجربہ و فہم سے بظاہر ناآشنا لوگوں نے اس تحریک کے نظم و ضبط اور فعال کردار کے لئے وہ کارنامے سر انجام دئیے ہیں جو شاید ڈگری والے اور تجربہ کار لوگ بھی نہ کر سکیں-اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ لوگ ایسے محور سے منسلک ہو گئے جس سے انہیں اپنی ذاتی حیثیت اور معاشرتی و تنظیمی حیثیت میں رہنما اصول فراہم ہوئے- [14]

اللہ پاک نےقرآن مجید میں فرمایا ہے:

’’قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ‘‘[15]

’’بے شک مراد کو پہنچا جو ستھرا ہوا‘‘-

جب انسان کا تزکیہ ہوجاتا ہے تو انسان کو اللہ تعالیٰ کی معرفت نصیب ہو جاتی ہے اور انسان نفس کی آفتوں اور گناہ کی آلودگیوں سے پاک ہو جاتا ہے، انسان کے وجود سے تکبر ، غرور،  انا ، حرص، ہوس ، بغض، کینہ وغیرہ ختم ہو جاتا ہے- تزکیہ، تصور اسم اللہ ذات اور فقیر کامل کی نگاہ سے نصیب ہوتا ہے-اصلاحی جماعت کے افراد حضرت سخی سلطان باھوؒ کے اس پنجابی ابیات کا عکس نظر آتے ہیں-

جیوندیاں مر رہناں ہووے تاں ویس فقیراں بَہیے ھو
جے کوئی سٹے گودڑ کوڑا وانگ اروڑی سَہیے ھو
جے کوئی کڈھے گاہلاں مَہنے اُس نوں جی جی کَہیے ھو
گِلا اُلاہماں بَھنڈی خواری یار دے پاروں سَہیے ھو
قادر دے ہتھ ڈور اساڈی حضرت باھوؒ جیوں رکھے تیوں رہیے ھو

حضرت سلطان باھوؒ نے اس بیت میں معاشرے کے حوالے سے اصول بیان فرمائے ہیں کہ اگر آپ اپنی نفسانی خواہشات کی نفی چاہتے ہیں تو فقراء کی صحبت اختیار کریں- اگر آپ پر کوئی کوڑا کرکٹ بھی پھینکے تو اس پر صبر اختیار کریں- اگر کوئی گالی گلوچ بھی کرے تو اس کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہوئے اس کو جی جی کہیں- گلہ ، طعنہ ، بدنامی اور خواری سب خوشنودیٔ محبوب حقیقی کے لیے سہنا چاہیئے- انسان کی باگ ڈور مالک مطلق کے دستِ قدرت میں ہے اس کی رضا پہ راضی رہنا چاہیئے -

 

 

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کی تنظیمی باڈی اور کسی بھی سطح کا کارکن اپنی انفرادی حیثیت میں برابر حیثیت رکھتا ہے اور فقط تنظیمی ڈھانچہ کے مطابق اپنے فرائض سر انجام دیتا ہے-ایثار و قربانی کے جذبہ سے سرشار یہ جانثار اپنی زندگی انسانیت کی بھلائی اور عالمگیر امن کے پیغام کو گھر گھر تک پہنچانے کے لئے وقف کئے ہوئے ہیں اور اسی بنیادی رشتہ پر ایسا مثالی نوعیت کا تنظیمی ماحول مرتب ہوا جس نے کارکنوں کے مابین ایک دوسرے سے خونی رشتوں سے بھی بڑھ کر محبت پیدا کی-بے سروسامانی کے عالم میں بھی ان مبلغین نے قرآن و سنت کے پیغام کو ملک کے طول و عرض میں انتہائی منظم انداز میں پہنچایا ہے- [16]

اصلاحی جماعت کے صدور و عہدیدار اپنے کارکنان، حلقہ احباب اور عام عوام سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں-ان کے سوالات اور مسائل کو سنا جاتا ہے اور ان مسائل و سوالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی ترتیب دی جاتی ہے-

اصلاحی جماعت کے دور جدید میں عوامی روابط کےلئے سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز مثلاً فیس بک، ٹویٹر، انسٹاگرام، یوٹیوب پر اکاونٹ موجود ہیں جن پر روزانہ کی بنیاد پر عوام کی اصلاح اور آگاہی کے حوالے سے پوسٹس ہوتی ہیں جن سے لوگ استفادہ کرتے ہیں-  سبھی پیغامات مستند حوالوں پہ مبنی ، تربیتی نقطہ نظر سے بنائے جاتے ہیں جن میں کسی قسم کی منافرت، انتہا پسندی اور تعصب نہیں ہوتا -

اصلاحی جماعت کے زیر اہتمام ملک بھر میں ضلعی سطح پہ اکثر عوامی اجتماعات اور تربیتی نشستیں ہوتی ہیں-مرکزی قیادت کے بھی مختلف اضلاع میں وقتاً فوقتاً روحانی و تربیتی دورے ہوتے ہیں- کانفرنسز، محفل میلاد شریف کے پروگرام اور تربیتی پروگرامز منعقد کئے جاتے ہیں- ہر سال ہر ضلع میں مرکزی دورہ ہوتا ہے- ہر ضلع میں ’’میلادِ مصطفٰے و حق باھو کانفرنس‘‘ کے عنوان سے پروگرام منعقد ہوتے ہیں جن میں سرپرست اعلیٰ اصلاحی جماعت جانشین سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد علی صدارت فرماتے ہیں اور مرکزی سیکرٹری جنرل اصلاحی جماعت صاحبزادہ سلطان احمد علی روح پرور خطاب فرماتے ہیں-ان پروگرامز میں لاکھوں افراد شریک ہوتے ہیں- یہ دورہ تقریباً 3 ماہ جاری رہتا ہے ہر روز ایک ضلع میں پروگرام ہوتا ہے-

بانئ اصلاحی جماعت سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی (قدس سرہ العزیز)نے جس انداز میں روحانیتِ قرآن کو منکشف فرمایا، عام لوگوں کی کشادگی اور شرحِ صدر فرمائی ان پہ علمِ دین کو منکشف فرمایا،تصور اسمِ اللہ ذات کی دعوت دی ،جس طرح خود آپ نے اپنی زندگی کے نمونہ عمل کو پیش کیا، آج اسی طرح آپ کے جانشین صاحبزادہ سلطان محمد علی صاحب شب و روز کاوشیں فرما رہے ہیں-اپنے والد گرامی و مرشد گرامی کی طرح آپ بھی تعلیم و تربیت پہ بہت توجہ دیتے ہیں- ملک بھر سے لاکھوں نوجوان آپ کی تربیت سے ادب و اخلاق ، نرمی و شگفتگی ، عاجزی و مروت اور اخلاص و ایمانداری کے ساتھ زندگی بسر کر رہے ہیں- چاہے روحانی تربیت کی بات ہو، تلقین کی بات ہو،  زندگی میں اطمینان کی بات ہو، تزکیہ نفس کی بات ہو یا تصفیہ قلب کی- آپ کی ایک نگاہ آج بھی دلوں کی زندگیوں کو اور انسان کی سوچ کے دھارے کو تبدیل کر دیتی ہے- [17]اس جماعت کو ثباتِ دوام اس لیے بھی نصیب ہے کہ اس کے بانی مردِ خود آگاہ ہیں اور آج بھی اس کی باگ ڈور ایک مردِ خود آگاہ کے ہاتھ میں ہے جو ظاہر و باطن کا بہترین امتزاج ہیں جو اس جماعت کو احسن انداز میں چلا رہے ہیں-بقول علامہ اقبال:

ہے مگر اس نقش میں رنگِ ثباتِ دوام
جس کو کیا ہو کسی مردِ خدا نے تمام
مردِ خدا کا عمل عشق سے صاحبِ فروغ
عشق ہے اصلِ حیات، موت ہے اس پر حرام

اللہ تعالیٰ اس تحریک کا حامی و ناصر ہو اور اسے اپنے مقاصد میں کامیاب فرمائے-آمین ثم آمین!

٭٭٭



[1](آلِ عمران:110)

[2]https://ur.wikipedia.org

[3]صاحبزادہ سُلطان احمد علی،  ’’جدید ادارے اور سماجی روحانیت: سیرت النبی(ﷺ) کے تناظر میں ‘‘-(ماہنامہ مرآۃ العارفین انٹرنیشنل - اکتوبر 2022)

[4](النساء:103)

[5]علامہ مفتی محمد شیر القادری،’’سلطان الفقر ششم کی ملی بصیرت‘‘ ( ماہنامہ مرآۃ العارفین انٹرنیشنل - اکتوبر 2011)

[6](مشکوٰۃ المصابیح ، رقم الحدیث: 2304)

[7](سورۃ ق:16)

[8](مرقاۃ المفاتیح، کتاب الرقاق)

[9](صاحبزادہ سلطان احمد علی ،’’انسانی درندگی کو کیسے روکا جائے‘‘، ص:5)

[10](آلِ عمران:104)

[11](آلِ عمران:103)

[12]صاحبزادہ سُلطان احمد علی،’’رنگِ ثباتِ دوام: جانشین سلطان الفقر ششم کا معیارِ قیادت اور نیا زمانہ‘‘-( ماہنامہ مرآۃ العارفین انٹرنیشنل –اکتوبر 2016)

[13]The Reconstruction of religious thoughts in Islam, Chapter VI

[14]عثمان حسن،’’ورک پلیس سپرچوئیلٹی اور بانیِ اصلاحی جماعت کا اسلوبِ تربیت‘‘ (ماہنامہ مرآۃ العارفین انٹرنیشنل - اکتوبر 2017)

[15](الاعلیٰ:14)

[16]ایضاً

[17]صاحبزادہ سُلطان احمد علی - مضمون :’’رنگِ ثباتِ دوام: جانشین سلطان الفقر ششم کا معیارِ قیادت اور نیا زمانہ‘‘-( ماہنامہ مرآۃ العارفین انٹرنیشنل –اکتوبر 2016)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر