سلطان الفقر کی بصیرت 'سبز خانقاہ' کےقیام کی سعی جمیلہ

سلطان الفقر کی بصیرت  'سبز خانقاہ' کےقیام کی سعی جمیلہ

سلطان الفقر کی بصیرت 'سبز خانقاہ' کےقیام کی سعی جمیلہ

مصنف: ملک محمدرفاقت حسین دسمبر 2022

خالق کائنات نے سارے جہاں کو ایک خاص ترتیب اور مقدار سے پیدا فرمایا جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’اَلَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًاط مَا تَرٰی فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍط فَارْجِعِ الْبَصَرَ لاھَلْ تَرٰی مِنْ فُطُوْرٍ‘‘[1]

’’جس نے سات آسمان بنائے ایک کے اوپر دوسرا تو رحمٰن کے بنانے میں کیا فرق دیکھتا ہے تو نگاہ اٹھا کر دیکھ تجھے کوئی رخنہ نظر آتا ہے‘‘-

اللہ رب العزت کی صناعی میں ذرا برابر بھی بے ترتیبی یا عدم تناسب نہیں- پوری کائنات میں واحد ایک انسانی کرۂ ارض ہے جہاں انسانی زندگی موجود ہے ورنہ کسی بھی دیگر سیارے پر انسانی زندگی کا نشوونما پانا اور زندہ رہنا بعید از قیاس ہے- اس کی وجہ یہ ہے کہ جس خاص مقدار میں آکسیجن، پانی، درجہ حرارت، زمین کا سورج سے فاصلہ، زمین کی کشش ثقل، زمین کے چاند کا حجم غر ضیکہ ہر ایک مقدار کے حساب میں ذرا برابر بھی رد و بدل نہیں ہوسکتی - خالق کی  صناعی کا کوئی پہلو بھی ذرا سا متاثر کرنے سے زمین پر انسانی زندگی کے امکانات معدوم ہو جاتے ہیں-ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ‘‘[2]

’’سورج اور چاند حساب سے ہیں‘‘-

اگر سورج سے زمین کا فاصلہ زیادہ ہوتا تو زمین پر شدید سردی ہوتی اگر یہ فاصلہ کم ہو تا تو یہاں جھلسا دینے والی گرمی ہوتی- قدرتی آبی نظام کا وجود نہ ہوتا تو زمین کی فضا بکھر جاتی- اسی طرح چاند کا زمین سے فاصلہ اور اس کے حجم کے باعث خاص مقدار کی کشش ثقل کرہ ٔارض کے ماحول کو قائم رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیے ہوئے ہے-

خالق کے اس خاص مربوط، توازن کو سائنسدان بہترین ترتیب (fine tuning) کا نام دیتے ہیں- بہترین ترتیب میں رد و بدل تمام انسانیت اور زمینی حیات کی تباہی کا باعث بن سکتی ہے- گزشتہ دو صدیوں میں صنعتی انقلاب کے بعد انسان نے قدرت کے اس نظام کے ساتھ تخریبی عمل شروع کیا جس کا ردعمل اب انسانیت کو بھگتنا پڑ رہا ہے - اس تخریبی عمل میں ایک بڑا حصہ گرین ہاوس گیس کا ہے جو حیاتیاتی ایندھن کو جلانے کی صورت میں پیدا ہوتی ہے-گزشتہ برس پچپن بلین ٹن کاربن ڈائی آکسائید کا اخراج کیا گیا- فضااور سمندری پانی میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار تیزی سے بڑھ رہی ہے اور اس کی وجہ کوئلہ، تیل اور گیس جلاکر توانائی کا حصول ہے- مزید برآں انسان زراعت اور نئی آبادکاریوں کیلیے جنگلات کا بے دریغ کٹاؤ کر رہا ہے اور اس کی صنعتی سرگرمیوں میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے- ان عوامل کے باعث ہماری آب و ہوا آلودہ ہو رہی ہے- عالمی ادارہ صحت کے مطابق سال 2012ء میں ہر نو اموات میں سے ایک موت آلودہ ہوا سے بننے والی بیماریوں کے باعث ہوئی ہے-جنگلات کے بے دریغ کٹاو کا جائزہ لیا جائے تو دیکھا جاسکتا ہے کہ آج ہماری زمین کا صرف 30 فیصد حصہ جنگلات سے ڈھکا ہوا ہے، جبکہ تقریباً 12000 برس قبل زمین کا 60فیصد حصہ جنگلات سے ڈھکا ہوا تھا - اس وقت دنیا کی آبادی تقریباً آٹھ ارب کے قریب ہے جو 2050ء میں تقریباً 10 ارب ہو جائے گی- علاوہ ازیں گرین ہاوس گیسز کے اخراج سے زمینی درجہ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے- فضائی آلودگی اور بڑھتے درجہ حرارت سے برف پگھلنے کا عمل تیز ہوسکتا ہے- ان تبدیلیوں سے پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان، بھارت، بھوٹان، چین، میانمار اور نیپال متاثر ہو رہے ہیں- پاکستان میں حالیہ سیلاب کی تباہ کاریاں بھی ماحولیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہیں- ایک سائنسی تحقیق کے مطابق ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے کرۂ ارض پر موجود 40 فیصد حشرات معدوم ہونے کا خطرہ ہے- حشرات الارض انسانی زندگی کیلئے کلیدی اہمیت رکھتے ہیں اور یہ75 فیصد تخم کاری کا باعث بنتے ہیں،یہ مٹی کو زرخیز بناتے ہیں اور اس میں موجود ضرر رساں کیڑوں کی تعداد بھی ضبط میں رکھتے ہیں-

مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں از حد ضروری ہے کہ انسان اپنے رہن سہن کے ماحول اور طرز زندگی کو ماحول دوست بنائے - اس وقت انسانیت کا المیہ یہ ہے کہ ہر جانب ذاتی مفادات کی جنگ جاری ہے وہ چاہے عالمی سطح ہو، ملکی سطح ہو یا معاشرتی سطح ہو- ایسی شخصیات مفقود نظر آتی ہیں جو انسانیت کو درپیش مسائل پہ بے لوث اقدام اٹھائیں - ماحولیاتی آلودگی سے نمٹنے کے لیے ’’پیرس ماحولیاتی معاہدے‘‘سے کچھ ممالک کا پیچھے ہٹنا اس مفاد پرستی کی مثال ہے-  اس بین الاقوامی چیلنج پہ تمام اقوام کو اپنا کردار  ادا کرنا ہے-صرف حکومتیں یا عالمی ادارے اس سے نبرد آزما نہیں ہو سکتے بلکہ اس زمین پہ بسنے والے ہر ذی شعور کی ذمہ داری ہے کہ اپنے حصہ کا فرض پورا کرے- تعلیم، سپورٹس، آرٹس کے ساتھ منبر و محراب کی بھی ذمہ داری ہے کہ اس عالمی مشکل میں کردار ادا کریں- اگر منبر و محراب کی بات کریں تو یقیناً اور بھی مثالیں موجود ہونگی ، مگر سلطان العارفین حضرت سلطان باھُو ؒ کے خانوادگان میں سلطان الفقر حضرت سلطان محمد اصغر علیؒ اورآپ کے جانشین صاحبزادہ سلطان محمد علی صاحب نے اس عالمی مشکل کا بروقت ادراک فرماتے ہوئے خانقاہ عالیہ پہ ماحول دوستی کو فروغ دیا ہے اور ایسے اقدامات فرمائے ہیں کہ جو خانقاہ عالیہ اور اس کے گرد و نواح کیلئے تو باعث خیر بن ہی رہے ہیں ساتھ ساتھ لاکھوں زائرین و ارادتمندوں کیلئے بھی بہترین تربیت و پیغام ہیں کہ کس طرح اپنے گھروں، سکولوں/دیگر اداروں اور گرد و نواح کو ماحول دوست بنایا جا سکتا ہے -

سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ اور صاحبزادہ سلطان محمد علی صاحب جیسی شخصیات کی زندگی ایک مشعل راہ ہے جنہوں نے ہمیشہ قومی مفادات و عالمی سطح پہ انسانیت کو درپیش مسائل پہ اپنے حصہ کا فریضہ ادا کرتے ہوئے مثبت کردار ادا کیا- آپ کی بصیرت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے ہمیشہ ماحول دوست طرز زندگی کی حوصلہ افزائی کی-مزید ایسے تمام امور پہ اپنے پیروکاروں کی حوصلہ افزائی کی جن کا تعلق شجر کاری، جنگلات کے کٹاو کی حوصلہ شکنی، قیمتی اشیا ء کی ری سائیکلنگ ،پانی کے استعمال میں احتیاط، پاکیزگی و صفائی- سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کے فراست پر مبنی نظریہ سےخانقاہ حضرت سخی سلطان محمد عبد العزیز ؒ کو ایک ’’سبزخانقاہ‘‘ بنانے کیلئے جانشین سلطان الفقر صاحبزادہ سلطان محمد علی نے ایسے اقدام متعارف کروائے ہیں جو قابل تقلید ہیں- ذیل میں ان اقدامات کا مختصر جائزہ لیا گیا ہے :

قابل تجدید توانائی کا ذریعہ :

Renewable energy resource

نامیاتی ایندھن سے توانائی حاصل کرنا ماحولیاتی آلودگی کی ایک بڑی وجہ ہے- اس کا حل یہ ہے کہ قابل تجدید توانائی کا ذریعہ اختیار کیا جائے جس میں فضائی آلودگی کا شائبہ نہ ہو- خانقاہ حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیزؒ پہ قابل تجدید توانائی کا ذریعہ شمسی توانائی کا استعمال کیا جاتا ہے جو نہ صرف ماحول دوست ذریعہ توانائی ہے بلکہ قومی گرڈ پر بھی بوجھ کم کرتا ہے اور اگر اس ذریعہ توانائی کو استعمال کیا جائے تو پاکستان کے خطیر درآمدنی خرچے پر بھی قابو پایا جا سکتا ہے- علاوہ ازیں خانقاہ پہ توانائی کا ایک ذریعہ حیاتیاتی گیس ہے جو کہ خانقاہ کے موجود مویشیوں کے گوبرسے بنائی جاتی ہے - جس سے توانائی کا انحصار نامیاتی ایندھن کی بجائے قدرتی قابل تجدید ذریعہ پہ منتقل ہو جاتا ہے -

توانائی کے اسراف پہ قابو: 

ماحولیاتی آلودگی/ کاربن اخراج پہ قابو پانے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ توانائی کے اسراف پہ قابو پایا جائے- نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری، نہ اسراف میں توانائی استعمال ہونہ پیداوار رہے اور نہ ہی اس کے مضر اثرات مرتب ہوں- خانقاہ حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیزؒ پراس بات کا سختی سے نفاذ کیا گیا ہے کہ کسی بھی برقی آلہ کا غیر ضروری استعمال نہ ہو- خانقاہ پہ ہر جانب مُستعد ایل ای ڈی بلب کا استعمال کیا گیا ہے- علاوہ ازیں سادہ طرز زندگی اپنایا گیا ہے جس سے نہ صرف فی کس کاربن فٹ پرنٹ ( ایک شخص کےتوانائی یا دیگر عوامل کے باعث فضا میں شامل ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ) کم ہوتا ہے بلکہ فاضل اشیاء کی پیداوار کم سے کم ہوتی ہے - مزید برآں خانقاہ پہ استعمال ہونے والی ہر شے کو استعمال کے بعد ناکارہ پھینکنے کی بجائے از خود ممکن دوبارہ کسی کارآمد استعمال میں لایا جاتا ہے مثلاً لنگر خانے میں کھانے کے بعد بچ جانے والی ہڈیوں کو بھی دیگر پرندوں کی خوراک کیلیے استعمال کیا جاتا ہے- جس سے خانقاہ کے کوڑا کرکٹ کی پیداوار میں بہت کمی واقعی ہوتی ہے جس کا بالواسطہ تعلق ماحولیاتی تحفظ اور بلاواسطہ تعلق توانائی کے استعمال میں بچت سے ہے- کوڑا کرکٹ کےلئے Waste Managementکا مکمل طریقہ کار وضع کیا گیا ہے- آدمی دیکھ کے دنگ رہ جاتا ہے کہ مدرسہ اور سکول کے سینکڑوں طلباء اور دیگر شعبہ جات کے سینکڑوں کارکنان مستقل رہائش پذیر ہیں ، ان کے علاوہ ہزاروں زائرین و مریدین روزانہ آتے جاتے ہیں مگر کسی جگہ کوڑا کرکٹ نظر نہیں آتا-کئی ایک احباب تو خوش طبعی میں تعریف کرتے ہوئے اسے ’’سلطانی کنٹونمنٹ‘‘ کہتے ہیں کہ پاکستان میں ایسی صفائی اور ایسا نظم و ضبط صرف کنٹومنٹس میں ہی دیکھنے کو ملتا ہے جیسا کہ صاحبزادہ سلطان محمد علی صاحب کی خانقاہ و مدرسہ میں ہے-

پانی ضائع کرنے کی ممانعت :

پانی کا غیرضروری استعمال نہ صرف ایک قیمتی نعمت کا ضیاع ہے بلکہ اس کی ترسیل پہ ضائع ہونے والی توانائی ماحولیاتی آلودگی کا باعث بھی بنتی ہے- رسول اکرم (ﷺ) نے صحابہ کرام (﷢) کو پانی کے ضائع ہونے سے بچانے کے لئے جس قدر تاکید فرمائی ہے آدمی پڑھ کر حیران ہوجاتا ہےـ

حضرت ابن عمر (رض)فرماتے ہیں کہ:

’’رسول اللہ (ﷺ)نے ایک شخص کو وضو کرتے دیکھا تو ارشاد فرمایا اسراف نہ کرو، اسراف نہ کرو‘‘-

خانقاہ حضرت سلطان محمد عبد العزیزؒ پہ اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ پانی کی ایک بوند بھی ضائع نہ ہونے پائے اور مستعمل پانی کا زیر زمین ذخیرہ کر کے کھیتوں کی آب پاشی کیلیے استعمال کیا جاتا ہے-

خوراک کے ضیاع کا تدارک:

دنیا میں جتنی خوراک ضائع ہوتی ہے اگر اسےقابل استعمال بنایا جائے تو دو ارب افراد کھانا کھا سکتے ہیں یہ شمار محرومی غذا کا سامنا کرنے والے افراد کے شمار سے دوگنا ہے- خوراک کا ضیاع نہ صرف اضافی ایندھن خرچ کرنے کا سبب بنتی ہے بلکہ اس کے تحلیل ہونے سے میتھین گیس پیدا ہوتی جو گلوبل وارمنگ کا سبب بنتی ہے-

حضرت عبد اللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ  (ﷺ) دعا فرمایا کرتے تھے کہ:

’’یا اللہ! میں تجھ سے تیری نعمت کے زائل ہوجانے، تیری عافیت کے پلٹ جانے، اچانک مصیبت آجانے اور تیری ہر قسم کی ناراضگی سے پناہ مانگتا ہوں‘‘-

خانقاہ حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیزؒ کے لنگرخانے پہ ہر خاص و عام کو لنگر پیش کیا جاتا ہے لیکن ضائع ہونے والی خوراک کا تناسب انتہائی کم ہے اور کھانے کے بعد بھی جو اجزاء بچتے ہیں ان کو کارآمد بنایا جاتاہے جس میں حیوانوں کےلئے چارہ وغیرہ شامل ہے-

شجر کاری کی ترغیب:

سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ نے ہمیشہ شجر کاری کی ترغیب دی اور درختوں کی حفاظت کی ہدایت کی- سیرت النبی(ﷺ) کی روشنی میں شجر کاری کی ترغیب کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے  ارشادفرمایا:

’’ اگر قیامت کی گھڑی آجائے اور تم میں سے کسی کے ہاتھ میں پودا ہے اور وہ اس کو لگا سکتا ہے تو لگائے بغیر کھڑا نہ ہو‘‘-[3]

زمینی اور فضائی آلودگی سے نجات پانے کا ایک ذریعہ شجر کاری ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ کے خاتمے اور آکسیجن کی افزودگی کا بہترین ذریعہ ہے- حضرت سلطان محمد عبد العزیزؒ   کی خانقاہ سے منسلک جگہوں پر ہزاروں کی تعداد میں پھلدار پودے (زیتون و دیگر) لگائے گئے ہیں اور خانقاہ پر بھی ہر طرف ہریالی دیکھنے کو ملتی ہے-

جانوروں کی حفاظت :

قدرت کے کارخانے میں موجود ہر شے کسی مقصد کے لیے بنائی گئی ہے چاہے وہ ایک معمولی سا کیڑا ہو، جنگلی حیات ہو یا ایک جانور- بہترین مرتب (fine tuned) حیاتیاتی نظام میں جانوروں کی بقاء کا ایک کلیدی کردار ہے- اس ضمن میں حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کی بصیرت پھر انسانیت کی راہنمائی فرماتی ہے اور آپ کے عظیم خلق سے یہ سبق ملتا ہے کہ جانوروں کی بہترین نگہداشت، ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور بلا ضرورت کسی پرندے یا جانور کو ہلاک نہ کیا جائے- خانقاہ پہ جانوروں کی حفاظت کا خاص خیال رکھا جاتا ہے- تازی داری میں خانقاہ حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیزؒ اپنی مثال آپ ہے جہاں گھوڑوں کی بہترین نگہداشت کی جاتی ہے- خانقاہ پہ گھوڑوں کی معدوم نسل (شئین) کو خاص طور پہ بچا (preserve)کے رکھا گیاہے جوکہ حیاتیاتی ماحول کے تخفط کے حوالے سے ایک خوش آئند قدم ہے -

پاکیزگی اور صفائی کی تاکید :

سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ نے سیرت طیبہ کی روشنی میں باطن کی صفائی کے ساتھ ساتھ ظاہری پاکیزگی و صفائی ستھرائی پہ ہمیشہ بہت زور دیا- پاکیزگی اور صفائی کے اعتبار سے اسلام سے بڑھ کر کوئی مذہب نہیں ہے- آپ نے اپنے پیروکاروں کو اجسام سمیت اپنے آس پاس کے ماحول کو بھی صاف ستھرا رکھنے کا حکم دیا ہے ـ جیسا کہ حضور نبی کریم (ﷺ) کا فرمان ہے :

’’الطُّهُورُ شَطْرُ الإِيمَانِ ‘‘

 ’’پاکیزگی نصف ایمان ہے‘‘-

ذاتی صفائی ستھرائی کے علاوہ سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ نہ صرف راستوں تک کو صاف سُتھرا رکھنے کی ترغیب دیتے بلکہ اس کا اہتمام بھی فرماتے تھے -

حضرت ابوہریرہ (رض)سے روایت ہے کہ رسول اللہ(ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’ایک آدمی نے قطعاً کوئی نیکی نہیں کی سوائے ایک کانٹے دار ٹہنی کو راستے سے ہٹانے کے، خواہ اسے درخت سے کاٹ کر کسی نے ڈال دیا تھا یا کسی اور طرح پڑی تھی تو اس تکلیف دہ چیز کو (راستے سے ہٹانا) اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا اور اس کی وجہ سے جنت میں داخل فرما دیا‘‘-

حرف اختتام:

حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ اور آپ کے جانشین صاحبزادہ سلطان محمد علی صاحب کا انداز تربیت پہلے خود پیکر مثال بننا ہے-کیونکہ اگر تھیوری کا پریکٹیکل عملی کردار کی صورت میں پیش کر دیا جائے تو مقصد کی خاطر زبانی لسانی تبلیغ کی ضرورت کم رہ جاتی ہے اور لوگ عمل کے حسن کو دیکھ کر خود ہی راغب ہوتے ہیں اور اسے اختیار کرتے ہیں-خانقاہ عالیہ کی حاضری روحانی فیضیابی کے ساتھ ساتھ ہمارے عہد کے عالمی مسائل میں ہمیں ایک ذمہ دار شہری کا کردار ادا کرنے پہ بھی مائل کرتی ہے- کاش کہ منبر و محراب میں عمل کا یہ شیوہ عام ہو جائے -

٭٭٭



[1](الملک:3)

[2](الرحمٰن:5)

[3](مسند احمد)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر