اقتباس

اقتباس

اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

قُلْ لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰیط وَمَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَۃً نَّزِدْ لَہٗ فِیْہَا حُسْنًاط اِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ شَکُوْرٌo

’’فرما دیجیے: میں اِس (تبلیغِ رسالت) پر تم سے کوئی اُجرت نہیں مانگتا مگر (میری) قرابت (اور اﷲ کی قربت) سے محبت (چاہتا ہوں) اور جو شخص نیکی کمائے گا ہم اس کے لیے اس میں اُخروی ثواب اور بڑھا دیں گے-بے شک اللہ بڑا بخشنے والا قدر دان ہے‘‘-(الشوریٰ:23)

رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:

حضرت ابوذر (رضی اللہ عنہ) روایت بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (ﷺ) کویہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:میرے اہل بیت کی مثال نوح (علیہ السلام ) کی کشتی کی طرح ہےجو اس میں سوارہوگیا،وہ نجات پاگیااورجواس سے رہ گیاوہ غرق ہوگیا‘‘- (المستدرك على الصحيحين، كِتَابُ التَّفْسِيرِ)

فرمان سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ :

’’جو حسن ادب اختیار کرتا ہے اسی کو قرب نصیب ہوتا ہے -حسنِ ادب تجھ کو اللہ تعالیٰ تک پہنچائے گااور بے ادبی تجھ کو دور لے جائیگی-اللہ تعالیٰ کی اطاعت تو حسنِ ادب ہے اوراس کی معصیت بے ادبی -اے میری قوم! (اللہ تعالیٰ کےسامنے) اپنے نفسوں کی پیشی اور محاسبہ میں تاخیر مت کرو-اپنے نفسوں کے (محاسبہ میں)آخرت سے پہلے دنیا ہی میں جلدی کرو، سیدنا رسول اللہ (ﷺ)سے روایت ہےکہ آپ (ﷺ)نے ارشادفرمایا:بے شک اللہ تعالیٰ کو اپنے ان بندوں سے حساب لینے میں حیاء آئے گا جو دنیا میں تقویٰ رکھتے تھے‘‘- تقویٰ اختیارکرو ورنہ تیری گردن میں رسوائی (کی رسی) ہوگی -دنیامیں اپنے تصرفات کے اندر تقویٰ محفوظ رکھ ورنہ تیری خواہشیں دنیاوآخرت میں حسرتوں سے بدل جائیں گی ‘‘- (فتح الربانی)

فرمان سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ:

نجے محل پنجاں وچ چانن ڈیوا کت ول دھرئیے ھو
پنجے مہر پنجے پٹواری حاصل کت ول بھریئے ھو
پنجے امام تے پنجے قبلے سجدہ کت ول کرئیے ھو
باھو جے صاحب سر منگے ہرگز ڈھل نہ کریئے ھو (ابیاتِ باھو)

فرمان قائداعظم محمد علی جناح ؒ :

ایمان ، اتحاد، تنظیم

اپنا حوصلہ بلند رکھیے -موت سے نہ ڈرئیے ،ہمارامذہب ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ موت کا استقبال کرنے کیلیے تیار رہنا چاہیے، ہمیں پاکستان اور اسلام کا وقار بچانے کیلیے اس(موت) کا مردانہ وار سامنا کرنا چاہیے ،صحیح مقصد کے حصول کی خاطر ایک مسلمان کیلیے جامِ شہادت نوش کرنے سے بہتر اورکوئی راہ نجات نہیں‘‘- (پنجاب یونیورسٹی اسٹیڈیم میں عوام سے خطاب-لاہور،30 اکتوبر،1947ء)

فرمان علامہ محمد اقبالؒ:

کتاب ِ ملت ِ بیضا کی پھر شیرازہ بندی ہے
یہ شاخ ِ ہاشمی کرنے کو ہے پھر رگ و بر پیدا
اگر عثمانیوں پہ کوہ غم ٹوٹا تو کیا غم ہے
کہ خون صد ہزار انجم سے ہوتی ہے سحر پیدا (بانگِ درا) 

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر