اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:
’’ فَلَمَّآ اَنْ جَآءَ الْبَشِیْرُ اَلْقٰىہُ عَلٰی وَجْہِہٖ فَارْتَدَّ بَصِیْرًا ج قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ ج لا اِنِّیْٓ اَعْلَمُ مِنَ اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ‘‘
’’پھر جب خوشی سنانے والا آیا اس نے وہ کُرتا یعقوب (علیہ السلام) کے منہ پر ڈالا اسی وقت اس کی آنکھیں پھر آئیں (روشن ہو گئیں تو یعقوب (علیہ السلام) نے ) کہا میں نہ کہتا تھا کہ مجھے اللہ عزوجل کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے ‘‘- (یوسف:96)
رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:
حضرت ربیعہ بن کعب (رضی اللہ عنہا) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں رات بسر کیا کرتا تھا (توایک رات ) میں آپ (ﷺ) کیلئے وضو اورحاجت کے لیے پانی لے کر آیا تو آپ (ﷺ)نے ارشادفرمایا:(جو چاہو) سوال کرو-تو میں نے عرض کی (یارسول اللہ(ﷺ)!) میں جنت میں آپ کی رفاقت و معیت چاہتا ہوں- تو آپ (ﷺ) نے ارشادفرمایا:اس کے علاوہ؟تو میں نے عرض کی یہی کافی ہے- تو آپ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا: تو اپنے معاملہ میں سجود کی کثرت کے ساتھ میری مدد کر‘‘- (صحيح مسلم،كِتَابُ الصلاۃ)
فرمان سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ :
’’ اے میر ے بیٹے !تو مجھے اپنا آئینہ بنا لے ،اپنے دل کا آئینہ بنا لے ،اپنے باطن اور اعمال کا آئینہ بنالے ،مجھ سے قریب ہوجا،یقینی طور پر میرے قُرب کی وجہ سے تو اپنے نفس میں وہ کچھ دیکھ سکے گا جو تُو مجھ سے دور رہنے کی وجہ سے نہیں دیکھ سکتا ،اپنے دین کے حوالے سے اگر تجھے کچھ پوچھنا ہے تو مجھ سے پوچھ،میں اللہ پاک کے دین کے حوالے سے تمہاری کوئی الجھن نہیں رہنے دوں گا ،شریعت الٰہی کی تعمیل کے لئے میں نہایت بے باک اور بے جھجک ہوں-میں نے دین ایسے مضبوط ہاتھ والوں اورراسخ ارادے والوں سے سیکھا ہے جو نہ تو منافق تھے اور نہ ہی کوئی فائدہ اُٹھانے والے تھے (یعنی انتہائی مخلص تھے )تُو اپنی دنیا چھوڑ آاور میرے قریب ہوجا- یقینی طور پر میں آخرت کے دروازے پر کھڑا ہوں ،میرے پاس ٹھہر ،میری بات غور سے سُن اورجلد مرنے سے پہلے اس پر عمل کر ‘‘-(فتح الربانی)
فرمان سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ:
اللہ چنبے دی بوٹی میرے من وچ مرشد لاندا ھُو
جس گت تے سوہنا راضی ہوندا اوہو گت سکھاندا ھُو
ہر دم یاد رکھے ہر ویلے سوہنا اٹھاندا بہاندا ھُو
آپ سمجھ سمجھیندا باھُوؒ آپ آپے بن جاندا ھُو (ابیاتِ باھو)
فرمان قائداعظم محمد علی جناح ؒ :
ایمان ، اتحاد، تنظیم
’’ہماری صفوں میں کوئی بھی خلفشار تباہ کن ثابت ہوسکتاہے اور جو لوگ اپنے اختلافات کو بھلانے اور انہیں ختم کرنے کیلئے تیارنہیں وہ اس نازک مرحلے پرہمارے مخالفین کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں -ہمیں اپنی ذاتی لڑائیوں کو خیر باد کہہ دینا چاہیے اور اپنی تنظیم کیلئے مضبوطی کے ساتھ متحدہوکرکھڑے ہو جائیں‘‘- (بمبئی ،30 جنوری ،1945ء)
فرمان علامہ محمد اقبالؒ:
مردِ سپاہی ہے وہ اس کی زِرہ ’لَا اِلہ‘
سایۂ شمشیر میں اس کہ پنہ ’لَا اِلہ‘
ہاتھ ہے اللہ کا بندۂ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں، کارکُشا، کارساز (بالِ جبریل)