دستک: ایران پر مسلط جنگ، خطے کی بگڑتی صورتحال اور اتحاد امت کی پکار

دستک: ایران پر مسلط جنگ، خطے کی بگڑتی صورتحال  اور اتحاد امت کی پکار

دستک: ایران پر مسلط جنگ، خطے کی بگڑتی صورتحال اور اتحاد امت کی پکار

مصنف: اپریل 2026

ایران پر مسلط جنگ، خطے کی بگڑتی صورتحال اور اتحاد امت کی پکار

ایران کے ساتھ جاری مذاکرات کے دوران 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیاجس کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت متعدد رہنما شہید ہو چکے ہیں- اس کے بعد سے طرفین کی جانب سے ایک دوسرے پہ حملے جاری ہیں - مجموعی طور پہ ایران میں شہادتوں کی تعدادہزاروں میں پہنچ چکی ہے- یہ امر کسی سے ڈھکا چھپا نہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا ایجنڈا صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ یہ صہیونی ایجنڈے کی بنا پہ ’’ارضِ اسرائیل‘‘ کے تصور کے تحت پورے مشرقِ وسطیٰ کا نقشہ بدلنے کا منظم منصوبہ ہے- اسرائیل نے اپنی جارحانہ کاروائیوں کا دائرہ لبنان تک وسیع کیا ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد جان کی باری ہار چکے ہیں- ایران کی جوابی کارروائیوں میں اسرائیل کو اور خلیجی ممالک میں موجود امریکی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے- ساتھ ہی ساتھ ایران نے آبنائے ہرمز کو بھی بند کر دیا ہے-یہ جنگ اب صرف ایران، امریکہ اور اسرائیل تک محدود نہیں ہے بلکہ پورے خلیج میں پھیل رہی ہے-

ایران کی جانب سے خطے کے ممالک بشمول سعودی عرب میں ہونے والے ڈرون اور میزائل حملوں نے ریاستِ پاکستان کو بھی شدید سفارتی چیلنج سے نبردآزما کیا ہے- پاکستان نے جہاں ایران پہ اسرائیلی حملوں کی مذمت کی ہے وہیں سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں پہ ہونے والے حملوں کی بھی مذمت کی ہے- پاکستان نے سلامتی کونسل سمیت سعودی عرب میں منعقدہ عرب و مسلم وزرائے خارجہ اجلاس میں بھی اپنا نقطہ نظر بھر پور پیش کیا ہے- تاہم یہ خدشہ بہرطور موجود ہے کہ اسرائیلی اور امریکی حملوں کے سبب پڑوسی برادر ملک ایران اور خلیجی ممالک کے مابین بڑھتے فاصلے خطے کو کسی بڑی تباہی کی جانب لے جا سکتے ہیں- بات چیت اور سفارتی ذرائع کے استعمال سے مسائل کا حل پاکستان کی پالیسی ہے- فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق پاکستان، ترکیہ اور مصر کے ساتھ مل کر تنازعے کے حل لئے کردار ادا کر رہا ہے- ایسے میں پاکستان، ترکیہ، مصر اور چند دیگر ممالک کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا خیر مقدم کیا جانا چاہئے اور اس جنگ کو کسی طور مسلم ممالک کی آپسی جنگ میں تبدیل نہیں ہونے دینا چاہئے-

ایران جنگ سے قبل لیبیا، شام، عراق، فلسطین، یمن، سوڈان اور اردن کے حالات ہمارے سامنے ہیں-ان تمام تنازعات میں بظاہر اسباب مختلف ہو سکتے ہیں تاہم مسلمانوں کے خون کا ضیاع اور ان کے انفراسٹرکچر اور معاشروں کی تباہی سب میں مشترک ہے - اگر ہم گزشتہ چند دہائیوں کی تاریخ کا جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ موجودہ عالمی نظام کے تحت دنیا کے بیشتر ترقی پذیر ممالک بظاہر جغرافیائی حدود کے ساتھ خود کو خود مختار ریاستیں قرار دیتے ہیں، مگر درحقیقت ان کی معیشت، دفاعی حکمتِ عملی اور اہم پالیسی فیصلے بڑی عالمی طاقتوں کے اثر و رسوخ سے طے پاتے ہیں- اسی نظام کے تحت عالمی مالیاتی اداروں نے ایسے ڈھانچے قائم کیے جن میں تیسری دنیا کے بیشتر ممالک معاشی طور پہ محتاج ہو کر رہ گئے ہیں- ورلڈ بینک کی رپورٹس کے مطابق 2024 ءتک کئی ترقی پذیر ممالک اپنی قومی آمدنی کا 40 فیصد سے زیادہ حصہ صرف بیرونی قرضوں کے سود کی ادائیگی (Debt Servicing) پر خرچ کر رہے ہیں، اور بدقسمتی سے ان ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے-اگر ہم جغرافیائی اعتبار سے دیکھیں تو مشرق وسطیٰ، افریقہ، جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا، یورپ اور لاطینی امریکہ کے وہ خطے جو ماضی میں نوآبادیاتی نظام کی لپیٹ میں رہے، جن میں بڑی تعداد مسلم ممالک کی ہے، ان کی اکثریت کسی نہ کسی طرح معاشی اور سیاسی حصار میں جکڑی ہوئی ہے-

اسلامی دنیا کو اس چیلنج کا مقابلہ کرنے کے لیے محض جذباتی نعروں کے بجائے ٹھوس سیاسی اقدامات کے ساتھ ساتھ سائنسی اور سٹریٹیجک اقدامات کی ضرورت ہے- مثال کے طور پر تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں فرق واضح ہے- عالمی رپورٹس کے مطابق اسرائیل اپنی مجموعی پیداوار (GDP) کا تقریباً 5.4 فیصد تحقیق و ترقی پر خرچ کرتا ہے جبکہ زیادہ تر مسلم ممالک اس مد میں ایک فیصد سے بھی کم سرمایہ کاری کرتے ہیں- یہی وجہ ہے کہ عالمی تعلیمی درجہ بندی میں مسلم دنیا کی کوئی یونیورسٹی دنیا کی بہترین پچاس جامعات میں شامل نہیں-جب تک مسلم ممالک علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں سنجیدہ اور مستقل سرمایہ کاری نہیں کریں گے، اس عدم توازن کو ختم کرنا ممکن نہیں ہوگا-

اس تمام پس منظر میں مسلم دنیا کی ایک بڑی کمزوری داخلی انتشار بھی ہے- گزشتہ چند دہائیوں میں باہمی اختلافات اور سیاسی تقسیم نے امت کو کمزور کر دیا ہے- جب تک باہمی تنازعات میں مسلم دنیا تقسیم رہے گی، بیرونی طاقتوں کو مداخلت کے مواقع ملتے رہیں گے-

ایک بڑی تبدیلی جو گزشتہ چند سال سے دیکھنے کو ملی ہے کہ ماقبل عالمی قانون اور عالمی اداروں کی موجودگی کہیں نہ کہیں محسوس کی جاتی تھی- اگرچہ یہ ادارے سامراجی طاقتوں کے سامنے بے بس ہی نظر آئے تاہم پھر بھی بڑی جنگوں اور تنازعات کو ان میں زیرِ بحث لایا جاتا رہا- اب تو حالات اس نہج پہ آ گئے ہیں کہ اقوام متحدہ سمیت تمام ادارے قریباً بے بس ہو چکے ہیں اور فقط بیانات تک محدود ہوتے جا رہے ہیں اور ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کا محاورہ جو پسِ پردہ تھا، وہ سرِ عام کام کر رہا ہے-

ایک ایسے وقت میں جب اسلامی ممالک کی علیحدہ علیحدہ باری لگائی جا رہی ہے سبھی اپنی باری پہ کچلے جا رہے ہیں - ایسے ماحول و حقائق کے روبرو  ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم ممالک اپنے مسائل کے حل کے لیے خود باہمی مکالمہ اور مشترکہ حکمتِ عملی اختیار کریں- حالیہ برسوں میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال اس حقیقت کی واضح مثال ہے کہ عالمی طاقتیں اکثر علاقائی تنازعات کو اپنے مفادات کے مطابق جنم بھی دیتی ہیں اور استعمال بھی کرتی ہیں- آج کے دور میں مسلم دنیا کے لیے سب سے بڑا چیلنج باہمی اتفاق رائے اور علمی، معاشی اور فکری خود مختاری حاصل کرنا ہے- جب تک علم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور مضبوط داخلی اتحاد کو اپنی ترجیحات کا مرکز نہیں بنایا جائے گا، اس غیر مرئی سامراجی نظام سے چھٹکارا حاصل کرنا اور دیرپا قیامِ امن کا حصول ممکن نہیں ہوگا-  

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر