ڈیجیٹل لرننگ: وقت کی اہم ضرورت
عصر ِحاضر میں ڈیجیٹل لرننگ(digital learning) نے نہ صرف انسانوں کے مابین نئے اور تیز روابط قائم کیے ہیں بلکہ حصولِ علم کے طریقہ کار کو بھی یکسر بدل کر رکھ دیا ہے- آج کے دور میں ڈیجیٹل لرننگ محض ایک تکنیکی سہولت نہیں رہی ہے بلکہ تعلیم و تربیت اور سماجی انصاف کے حصول کا ایک طاقتور ذریعہ بن گئی ہے-اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو (UNESCO) کی متعدد رپورٹس کے مطابق، دنیا کے کئی متنازعہ علاقوں اور دور دراز کے پسماندہ خطوں میں، جہاں تعلیمی ادارے ناپید ہیں یا امن و امان کی صورتحال کے سبب تعلیمی ادارے غیر فعال ہیں، وہاں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے تعلیم کے تسلسل کو برقرار رکھا ہوا ہے-
ڈیجیٹل دورمیں بدلنے والی دنیا کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ ورلڈ اکنامک فورم کی ایک رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں کام کرنے والے تقریباً 50 فیصد ملازمین کو عصرِ جدید میں اپنی مہارتوں کو دوبارہ ترتیب دینے (reskilling) کی ضرورت ہوگی اور یہ ہدف روایتی تعلیمی ڈھانچے کے ذریعے حاصل کرنا قریباً ناممکن ہے- اس لئے مصنوعی ذہانت(AI) کے ذریعے مواد کی تخلیق اور مصنوعات کے ڈیزائن سے لے کر خودکار کوڈنگ اور کسٹمر سروس تک پہلے ہی صنعتوں کی کایا پلٹ رہی ہےجو دنیا بھر کی ملازمتوں کے 40 فیصد حصے کو متاثر کر سکتی ہے- ترقی یافتہ معیشتوں کی ایک تہائی ملازمتوں کو بھی آٹومیشن (خودکاری) سے خطرہ لاحق ہے- لیکن یہی معیشتیں ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت پہ مبنی ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کے لیے بہتر پوزیشن میں بھی ہیں- ان کی 27 فیصد ملازمتیں مصنوعی ذہانت کے ذریعے مزید بہتر ہو سکتی ہیں، جو پیداوری صلاحیت میں اضافے اور انسانی مہارتوں کی تکمیل کا باعث بنیں گی-
اے آئی لرننگ(AI learning) کی وجہ سے دنیا بھر کے مختلف خطوں میں عوامی سطح پہ معاشی خودمختاری اور ترقی دیکھنے کو ملی ہے- مثلاً ایسے افراد جن کیلئے شہر سے باہر نکلنا یا اپنے مخصوص شعبہ سے نکل کر مزید تعلیم حاصل کرنا مشکل ہے، ڈیجیٹل لرننگ نے انہیں نئے تشکیل پانے والے سماجی و معاشی دھارے میں شامل ہونے کا موقع دیا ہے- ایک محتاط اندازے کے مطابق، انٹرنیٹ کی دستیابی اور ڈیجیٹل مہارتوں میں اضافہ کسی بھی ملک کی جی ڈی پی (GDP)میں اوسطاً 1.3 فیصد اضافے کا باعث بنتا ہے- اس طرح ڈیجیٹل لرننگ تعلیمی میدان میں کسی بھی امتیاز کو ختم کرنے اور معاشی ناہمواریوں کو دور کرنے کے ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر سامنے آئی ہے-
یو این ٹریڈ اور ڈیولپمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق، ای-لرننگ مارکیٹ 2023ء میں 189 بلین ڈالر تھی جو 25 گنا اضافے کے ساتھ 2033ء تک4.8 ٹریلین ڈالر تک بڑھنے کی توقع ہے- اس کی ضرورت اور اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے ڈیجیٹل لرننگ کا عالمی دن (International Day for Digital Learning) ہر سال 19 مارچ کو منایا جاتا ہے- اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر کے مختلف خطوں میں ممالک کو اپنی قومی حکمتِ عملیوں کو AI کی 3 کلیدی بنیادوں پر مرکوز کرنے کی ضرورت ہے جس میں انفراسٹرکچر (بنیادی ڈھانچہ)، ڈیٹا اور مہارتیں شامل ہیں-
اس حوالے سے عوامی سطح پر ڈیجیٹل لٹریسی (خواندگی) کا فروغ نہایت ہی ضروری ہے- جس کے لئے ابتدائی اسکول کی تعلیم سے لے کر تاحیات سیکھنے کے عمل تک تعلیم میں سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، ریاضی(STEM) اور اے آئی کو شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے- اس کے علاوہ The Technology and Innovation Report 2025 ایک ایسی جامع اے آئی گورننس کا مطالبہ کرتی ہے جو انسانوں کو ترجیح دے- یہ رپورٹ اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ایسے تعاون پر زور دیتی ہے جواے آئی کو عالمی ترقیاتی اہداف کے مطابق ڈھالے اور اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کے فوائد تمام افراد تک پہنچیں- آج کے AI کے منظر نامے کو بین الاقوامی ٹیک کمپنیاں (Multinational Tech Giants)تشکیل دے رہی ہیں- ایپل،اینویڈیا (Nvidia) اور مائیکروسافٹ میں سے ہر ایک کی مارکیٹ مالیت تقریباً 3 ٹریلین ڈالر ہے، جو کہ پورے براعظم افریقہ کی مجموعی قومی پیداوار (GDP)کے برابر ہے- پاکستان جیسے ممالک جن کی کثیر آبادی نوجوانوں پہ مشتمل ہے، اے آئی اور ڈیجیٹل لرننگ نہایت اہمیت کی حامل ہے - چنانچہ حکومت اور متعلقہ اداروں کو دور رس نتائج کی حامل پالیسی اپنانی چاہئے تاکہ اس ٹیکنالوجی سے جنم لینے والے چیلنجز سے بھی نمٹا جا سکے اور اس سے بھرپور فائدہ بھی اٹھایا جا سکے-