سالانہ ملک گیردورہ

سالانہ ملک گیردورہ

سالانہ ملک گیردورہ

مصنف: ادارہ جنوری 2017

اِس کائنات کی حقیر سے حقیر شئے سے لیکر اعلیٰ ترین اشیا تک ہر ایک میں اللہ تعالیٰ نے اتنی وُسعت رکھی ہے کہ عقل ہزاروں برس کےارتقا و  تجربات کے باوجود بھی اشیا کی حقانیت سے آگاہ نہیں ہو سکی - ایک معمولی سے ذرے کو بھی لے لیا جائے تو وہ بھی ہر آئے روز اپنے اندر کے ایک نئے راز کو آشکار کرتا ہے جو سائنس کی تجربہ گاہوں میں بیٹھے عُقال و اہلِ طبیعیات کو ورطۂ حیرت میں مبتلا کر دیتا ہے - جہاں انسان ایک ذرہ کی ماہیت کو صحیح طرح شناخت نہیں کر سکا وہاں انسان کے لئے یہ کیسے ممکن ہے وہ اس کائنات کی ہر ایک چیز کو سمجھ سکےکہ جس کائنات کی وسعت کا ندازہ یہ آج تک نہیں لگا پایا ، یہ تو صرف اُس کہکشان جس کا اس کی زمین حصہ ہے اس کے راز و رموز نہیں جان سکا اور نہ جانے کتنی اربوں کہکشائیں اس سے بھی بڑی بڑی موجود ہیں - ان سب پہ کمال یہ کہ ، یہ کائنات مسلسل وسعت پذیر ہے اور قرآن یہ بتاتا ہے کہ ’’اللہ تعالیٰ اپنی تخلیق میں جو چاہتا ہے اضافہ فرماتا ہے‘‘- ستارے اور سیّارے نئے سے نئے بھی وجود میں آرہے ہیں اور جو موجود ہیں وہ بھی بتدریج اپنے وجود میں وُسعت اختیار کر رہے ہیں -  

اِس ہر دم بڑھتی اور وسعت اختیار کرتی کائنات میں سب سے مرکزی کردار خالق کی جانب سے انسان کو سونپا گیا ہے ، انسان کا طبعی و نفسی ارتقا اس کی حیات و موت اور اس کی زیست کے ہر لحظہ بدلتے تقاضے اِسے یہ روشنی عطا کرتے ہیں کہ بیشک خالقِ کائنات کے نائب و خلیفہ کے طور پہ انسان کو بیشمار اختیارات کا منبع بنایا گیا ہے ، جن میں سب سے اہم اختیار انسان کا اپنی زندگی کا راستہ چننے پہ ہے کہ یہ کس طریق کو اپنی بقا کے لئے ضروری گردانتا ہے - اِس لحاظ سے انسان پہ سب سے پہلے یہ لازم آتا ہے کہ یہ اپنے کردار کا جائزہ لے اور یہ فکر اچھی طرح جان لے کہ جہاں یہ اِس مخلوق میں صاحبِ قُوت و صاحبِ اختیار ہے وہیں خالق کی مقرر کردہ اجَل کی ایک پھونک اِس کے تمام پست و بلند سیاہ و سفید ہست سے عدم (موجود سے ناموجود) بنا دیتی ہے اور انسان ایک ابدی کائنات کی آغوش میں جا اُترتا ہے جہاں سے کوئی لوٹ کر نہیں آیا - اِس لئے اس انسان کوہی اعلیٰ سمجھا اور یاد رکھا جاتا ہے جس کے وجود سے انسانیت کو نفع پہنچے اور جس کی کاوشیں انسان کی گلاب کی پتی سے بھی نازک تر جان کے لئے محافظ و ممد و مفید ثابت ہوں –

 انسان ایسی عظیم جہد و کاوش تبھی کرتا ہے جب کہ اُس کی خواہشات کی تطہیر ہو چکی ہو ، اس کی فطرتِ لطیف اس کی فطرتِ کثیف پہ غالب آجائے ، اس کی مادیت کا ظلمت کدہ اس کی روح کی نورانیت سے منور ہو جائے ، انسان اپنے من میں بسی کائنات میں اُتر کر اپنے اندر کا وحشی ہلاک کر دے اور اپنے اندر کا شفیق و ہمدرد انسان بیدار کر لے -

انسان اپنے اندر میں مخفی اُس جہانِ باطن میں کیسے اُترے ؟ اس کے لئے اسے ایک ایسی راہنمائی درکار ہوتی ہے جو اسے راہِ بیداری کے اس راستے کے ہر نشیب و فراز سے قدم بہ قدم آگاہی عطا کرے - مگر ---- آج کا انسان --- اتنے سارے خطرات میں گھرا اور مادی زندگی کی دوڑ میں اپنا آپ سنبھالنے کی خواہش ! اس کے پاس اتنا وقت کہاں کہ یہ اندر کے وحشی کو کچلے اور اپنی انسانیت کو بیدار کرے - اِسی پیغامِ انسانی کو ہر انسان کے قریبِ رگِ جان کرنے کے لئے سُلطان العارفین حضرت سُلطان باھُو قدس اللہ سرہٗ کے فقرِ سُلطانی کے وارث حضرت سُلطان محمد اصغر علی صاحب (قدس اللہ سرّہٗ) نے اِصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کی بُنیاد رکھی - اِس سے قبل دستور تھا کہ ہمیشہ پیاسا پانی کی تلاش میں نکلتا ہے مگر آپ (قدس اللہ سرّہٗ)نے فقرِ سُلطانی کے اِس سمندر کو انسانیت کے ہر قریہ و بستی کی جانب موڑا کہ اِ س گئے گزرے دور میں ،ڈھونڈو اور تلاش کرو جیسے عالی ہمت و بلند مقصد انسانوں کو دیےجو انسانیت کا مستقبل وحشت و درندگی سے محفوظ کرنے کے لئے اپنے اندر کے انسان کو بیدار کریں اور اللہ تعالیٰ کی مخلوقات سے عدل و احسان کا معاملہ کریں - انسان خواہ سائنس سے متعلق ہو یا اقتصاد کے کسی شعبہ سے بہر حال اُس کے اندر کی فطرت اس کی خواہشات کی صورت میں ہر جگہ اپنا ظہور و اظہار ضرور کرتی ہے ، اِس لئے ایک باطنی اِصلاح یافتہ انسان انسانیت اور اس کے مستقبل کی حفاظت زیادہ بہتر طور پہ سر انجام دے سکتا ہے-

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین اِسی دعوتِ اصلاح و بیداریٔ انسانیت کے پیغام کو لیکر دُنیا کے طول  و عرض میں اپنی خدمات سرانجام دے رہی ہیں -

بانیٔ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین سُلطان الفقر حضرت سُلطان محمد اصغر علی  (قدس اللہ سرّہ) کے وِصال کے بعد جانشین سلطان الفقر ، شہبازِ عارفاں، سالارِ عارفین وارثِ میراثِ حضرت سُلطان العارفین حضرت سلطان محمدعلی صاحب مدظلہ الاقدس نے مسندِ تلقین و ارشاد سنبھالی تو نیابتِ سُلطانی کاحق اَدا فر مادِیا - آپ مد ظلہ الاقدس نے اصلاحی جماعت کے پلیٹ فارم کو مزید وسعت دی-اصلاحی جماعت کے زیر انتظام ہرسال ۱۲اور۱۳ اپریل کو آستانۂ عالیہ حضرت سلطان محمد عبدالعزیز (قدس اللہ سرّہ) (دربار حضرت سُلطان ا لعارفین  قُدس اللہ سرہ) پہ مرکزی اجتماع بسلسلہ میلادِ مصطفےٰ ﷺ منعقد ہوتا ہے - عامۃ الناس کو اس میں شرکت کی دعوت دینے کے لیے شہر شہر اجتماعات کااہتمام کیاجاتاہے-اصلاحی جماعت وعالمی تنظیم العارفین کے زیرِانتظام   ۱۷-۲۰۱۶ء کاسالانہ مرکزی ٹورپروگرامز کی جو کہ پاکستان کے مختلف اضلاع میں مرحلہ وار،پَے بہ پَے کامیاب،پُرہجوم نورانی،رُوحانی ،عرفانی ،وجدانی اوراصلاحی اجتماعات کے انعقادپذیر ہوئے ہیں اس تسلسل کے پہلے راؤنڈ کی مختصررپورٹ درج ذیل ہے:  

اوکاڑہ:

03-12-2016

بمقام گلبرگ سٹی اوکاڑہ

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین دربار عالیہ حضرت سخی سلطان باھو (قدس اللہ سرّہ) برانچ ضلع اوکاڑہ کی جانب سے ایک عظیم الشان میلاد مصطفےٰ (ﷺ) و حق باھو کانفرنس کا انعقاد کیا گیا جس کی صدارت جگر گوشہ حضور سلطان العارفین برھان الواصلین حضرت سخی سلطان باھو(قدس اللہ سرّہٗ) عکس سلطان الفقر حضرت سلطان محمد بہادر عزیز صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے فرمائی-

خصوصی خطاب میں  ناظم اعلیٰ اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین الحاج  محمد نواز قادری صاحب نے کہا کہ آج ہم آقا (ﷺ) کی ذات اقدس سے منسوب جس پروگرام میں شریک ہیں اس  کو ہم تین حصوں میں دیکھیں تو ہمارے لئے زیادہ آسانی ہوگی-

v     میلاد مصطفےٰ (ﷺ)

v     عظمت و شانِ مصطفےٰ (ﷺ)

v     پیغامِ مصطفےٰ (ﷺ)

ان تینوں کی اہمیت اور فضیلت اس قدر عظیم ہے کہ آدمی کی عقل اس کو کما حقہ سمجھنے سے قاصر ہے اس وقت جو ہمارے لئے زیادہ اہم اور ضروری امرہے وہ پیغامِ مصطفےٰ کو سمجھنے کی ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول پاک (ﷺ)کو ہماری ہدایت کے لئے بھیجا اور قرآن پاک  کو ہماری ہدایت کے  لئے نازل فرمایا ہے- اب ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم ان سے رہنمائی اور ہدایت حاصل کریں اور ہمیں کامل ہدایت تبھی نصیب ہوسکتی ہے کہ ہم آپ (ﷺ) کے اسوۂ حسنہ کو اختیار کر کے اپنے آپ کو ہدایت کے راستے پر گامزن کریں اور اپنے ظاہر کے ساتھ ساتھ اپنے قلب  و باطن کو اللہ تعالیٰ کے ذکر سے روشن اور منور کر کے اپنی زندگی کو کامیاب بنائیں-

 پروگرام کے آخر میں صلوٰۃ و سلام کا نذرانہ عقیدت پیش کیا گیا اورپروگرام کے  آخر میں کثیر تعداد میں لوگوں نے حضور عکس سلطان الفقر حضرت سلطان محمد بہادر عزیز صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے دستِ مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کر کے اصلاحی جماعت میں شمولیت اختیار کی اور اس پیغام کے ساتھ تجدید عہد کیا-

پاکپتن شریف :

2016-12-03

پائن ویلی پاکپتن

اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین دربارِ عالیہ حضرت سخی سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ) برانچ ضلع پاکپتن کی جانب سے ایک عظیم الشان میلاد مصطفےٰ (ﷺ) و حق باھو کانفرنس کا انعقاد کیا گیا- جس کی صدارت جگر گوشہ حضور سلطان العارفین برھان الواصلین حضرت سخی سلطان باھو(قدس اللہ سرّہٗ) عکس سلطان الفقر حضرت سلطان محمد بہادر عزیز صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے فرمائی-

جس میں خصوصی خطاب کرتے ہوئے الحاج محمد نواز قادری صاحب نے کہا کہ میلاد مصطفےٰ (ﷺ) کا بنیادی مقصد انسان کو اس کی حقیقت سے روشناس کرانا ہے کہ اے انسان تیری تکمیل فقط ظاہر پر اکتفا کرنے سے نہیں بلکہ ظاہر اور باطن دونوں کو مرتبہ کمال تک پہنچانے میں ہے – انسان کے ظاہر کو سنوارنے کے لئے شریعت پر عمل پیرا ہونا ہے اور انسان کے باطن کی تکمیل کے لئے قلبی ذکر یعنی ذکر الہٰی ہے- جب تک انسان اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اپنے باطن کا تزکیہ نہیں کر لیتا اس وقت تک کامیابی سے دور رہتا ہے – فرمان باری تعالیٰ ہے :

قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ[1]

’’تحقیق کامیاب ہوا وہ جس نے اپنا تزکیہ کر لیا‘‘-

بقول اقبال:

دلِ مردہ  دل نہیں اسے  زندہ کر دوبارہ
کہ یہی ہے اُمّتوں کے مرضِ کُہن کا چارہ[2]

ٹوبہ ٹیک سنگھ: 

04-12-2016

فٹبال اسٹیڈیم ٹوبہ ٹیک سنگھ میں ایک عظیم الشان پروگرام میلاد مصفطےٰ (ﷺ) و حق باھو کانفرنس زیر اہتمام اصلاحی جماعت و عالمی تنطیم العارفین دربارِ عالیہ حضرت سخی سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ) برانچ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی جانب سے کیا گیا جس کی صدارت جگر گوشہ حضور سلطان العارفین برھان الواصلین حضرت سخی سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ) عکس سلطان الفقر حضرت سلطان محمد بہادر عزیز صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے فرمائی-

تلاوت قرآن مجید اور نعتِ رسول مقبول (ﷺ) کے بعد خصوصی خطاب کرتے ہوئے الحاج محمد نواز قادری صاحب نے کہا کہ:

آقا علیہ الصلوۃ و السلام  کی ولادت با سعادت کے متعلق حضرت آمنہ (﷞) فرماتی ہیں  کہ:

’و ان ام رسول اللہ (ﷺ) رات حین و ضعتہ نوراً أضاءت لہ قصور الشام‘‘[3]

’’اور بیشک جب رسول اللہ (ﷺ) کی ولادت ہوئی تو آپ کی والدہ محترمہ نے ایک ایسا نور دیکھا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے‘‘-

آقا علیہ الصلوٰۃ و السلام کی ولادت کی ابتداءہی  میں یہ اثر ہوا  کہ مائی صاحبہ کے قلب مبارک کو روشنی  نصیب ہوئی اور دل کی آنکھ کھلی جس سے شام کے محلات نظر آئے –میلاد پاک کا بنیادی مقصد بھی قلبی آنکھ کو روشنی عطا کرنا ہے  اور آقا علیہ الصلوٰۃ و السلام کا فرمان مبارک ہے  کہ:

’’اِنَّ فِی الْجَسَدِ مُضْغَۃٌ فِاذَ صَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ وَاِذَ فَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُ کُلُّہٗ اَلَا وَھِیَ الْقَلْبُ‘‘[4]

’’بیشک انسان کے جسم کے اندر گوشت کا ایک لوتھڑا ہے اگر وہی صحیح ہے تو سارا جسم صحیح ہے اگر وہ خراب ہوجائے تو سارا جسم خراب ہوجاتا ہے خبردار! وہ دِل ہے‘‘-

جب قلب کی اصلاح کردی جائے  تو پورے وجود کی اصلاح ہو جاتی ہے اور اگر دل خراب ہوجائے تو پورا وجود خراب ہو جاتا ہے  اور دل کی صفائی کا آلہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے- جیسا کہ فرمان نبوی(ﷺ) ہے :

’’لِکُلِّ شَیٍٔ صِقَالَۃٌ وَّ صِقَالَۃُ الْقُلُوْبِ ذِکْرُاللہِ تَعَالٰی‘‘[5]

’’ ہر چیز کو صاف کرنے کےلئے کوئی نہ کوئی آلہ ہوتا ہے دل کو صاف کرنے کےلئے اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے‘‘-

پروگرام کے آخر میں صلوٰۃ و سلام کے بعد حضور عکس سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد بہادر عزیز صاحب نے کثیر تعداد میں لوگوں کو اپنے دستِ مبارک کی بیعت کا شرف عطا کر کے اسم اعظم کی دولت ِ لازوال سے نوازا اور آخر میں قوم و ملک کی سلامتی اور آنے والے تمام احباب کی نیک دلی مراد کی تکمیل کے لئے دعا خیر فرمائی-

ساہیوال:

04-12-16

بمقام جناح حال ساہیوال میں ایک عظیم الشان پروگرام میلاد مصفطےٰ (ﷺ) و حق باھو کانفرنس زیر اہتمام اصلاحی جماعت و عالمی تنطیم العارفین دربارِ عالیہ حضرت سخی سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ) برانچ ساہیوال کی جانب سے کیا گیا - جس کی صدارت جگر گوشہ حضور سلطان العارفین برھان الواصلین حضرت سخی سلطان باھو (قدس اللہ سرّہٗ) عکس سلطان الفقر حضرت سلطان محمد بہادر عزیز صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے فرمائی-

الحاج محمد نواز قادری صاحب نے کہا کہ:

اللہ تعالیٰ نے انسان کو تمام مخلوقات میں  فضیلت اور برتری عطا فرمائی ہے اور پوری انسانیت میں حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام  کی ذات اقدس کو افضل و اعلیٰ فرمایا-دورِ حاضر میں ضرورت اس امر کی ہےکہ ہم اپنےآقا (ﷺ) سے جس قدر محبت و عقیدت کا دم بھرتے ہیں اسی قدر ہم آپ (ﷺ) کے پیغام کو سمجھیں اور اپنے آپ کوا س میں ڈھالنے کی کوشش کریں کیونکہ آپ (ﷺ) نے اپنی امت کو محبت و امن اور مساوات کا درس دیا  ہے- قرآن کریم میں انسان کی عظمت کو اجاگر کیا گیا مگر افسوس! یہ ہے کہ انسان اہمیت اور فضیلت سے غافل ہوگیا- فرمانِ الہٰی ہےـ

’’أَ فَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰـکُمْ عَبَثًا وَّاَنَّکُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ‘‘[6]

سو کیا تم نے یہ خیال کر لیا تھا کہ ہم نے تمہیں بے کار (وبے مقصد) پیدا کیا ہے او ریہ کہ تم ہماری طرف لوٹ کر نہیں آؤ گے؟‘‘

اصلاحی جماعت یہی پیغام دیتی ہے کہ جب لوٹ کر اس کی بارگاہ میں جانا ہے تو پھر اس کے لئے پہلے سے تیاری کرنی چاہیے کہ اپنے ظاہر کو شریعت کے تابع اور اپنے باطن کو طریقت یعنی قلبی ذکر سے منور کریں اور دونوں جہانوں کی کامیابیوں کو حاصل کریں-

آخر میں صلوٰۃ و سلام اور اس کے بعد تمام شریک محفل کے لئے اور ملک و قوم اور استحکامِ پاکستان کی خاطر دعا خیر فرمائی اور آنے والوں میں سے کثیر تعداد  میں لوگوں نے حضرت سخی سلطان محمد بہادر عزیز صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے دستِ مبارک پر بیعت کا شرف حاصل کرکے اصلاحی جماعت و عالمی تنظیم العارفین کے پیغام سے وابستہ رہنے کا عہد کیا-

٭٭٭


[1](الاعلیٰ:۱۴)

[2](ضربِ کلیم)

[3](مسند احمد بن حنبل)

[4](بخاری شریف: جلد:۱، ص:۱۳)

[5](مشکوٰۃ المصابیح ،کتاب الدعوات، ص:۲۰۱)

[6](المومنون:۱۱۵)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر