کشمیرکی حالیہ صورتحال : پاکستان کیلئےپالیسی آپشنز

کشمیرکی حالیہ صورتحال : پاکستان کیلئےپالیسی آپشنز

کشمیرکی حالیہ صورتحال : پاکستان کیلئےپالیسی آپشنز

مصنف: اُسامہ بن اشرف ستمبر 2019

دوسری جنگِ عظیم کے بعد اقوامِ متحدہ کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنا ہے- یہ بین الاقوامی ادارہ ممالک کے درمیان پیدا ہونے والے مختلف الجہت مسائل و تنازعات کو باہمی گفت و شنید سے حل کرانے میں اپنا کردار ادا کرتا ہے اور یوں مسائل و تنازعات کسی بڑی ناگہانی آفت (عالمی جنگ) کا باعث نہیں بنتے- گو کہ اس ادارے نے بہت سے مسائل کو کامیابی سے حل کیا لیکن دنیا بھر میں ابھی بھی کئی حل طلب مسائل موجود ہیں جن کی وجہ سے امنِ عالم کو شدید خطرات لاحق ہیں- ان مسائل میں مسئلہ کشمیر سرِ فہرست ہے چونکہ یہ اقوامِ عالم میں واحد ’’نیو کلئیرفلیش پوائنٹ‘‘ہے جو تیسری جنگِ عظیم (ممکنہ طور پر جوہری جنگ) کا باعث بن سکتا ہے- مقبوضہ کشمیر دراصل تین ایٹمی طاقتوں (بھارت، چائنہ اور پاکستان ) کے وسط میں موجود ہونے کی وجہ سے ایک ’’نیو کلئیر رنگ‘‘ کہلاتا ہے-عالمی دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر کی چنگاری کسی بھی وقت جوہری آگ کی شکل اختیار کر سکتی ہے-بلاشبہ کشمیر کے حریت پسند غیور عوام کم و بیش ایک صدی سے اپنی آزادی اور بنیادی انسانی حقوق کے حصول کی جد وجہد کر رہے ہیں البتہ کشمیر میں احتجاجات و مظاہرات کی موجودہ لہرتین برس قبل 8 جولائی 2016ء میں تحریکِ آزادی کشمیر کے ہیرو، نوجوان حریت پسند اور عظیم مزاحمت کاربرہان مظفر وانی کی شہادت سے شروع ہوئی اور بھارت نے ہمیشہ کی طرح تحریک آزادی کو دبانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈوں، طاقت کا بے دریغ استعمال اور ظلم و ستم جاری رکھا- بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں نافذ کیے جانے والے خونی، قاتل اور خونخوار ’’ڈریکونین لاز‘‘اور 7 لاکھ سے زائد فوج کے ذریعے ان تین سالوں میں انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں کی گئیں اور سینکڑوں بے گناہوں کو شہید کیا گیا جس کا ثبوت اقوامِ متحدہ کے ہائی کمیشن آفس برائے انسانی حقوق کی حالیہ 2018ء اور 2019ء  کی رپورٹس سے ملتا ہے-2019ء میں بھارتیا جنتا پارٹی (BJP) کی الیکشن میں کامیابی اور مودی کے دوبارہ وزیرِاعظم بننے کے بعد کشمیر کے حالات مزید خراب ہو گئے- ہندو شدت پسند تنظیم آر ایس ایس (RSS)کی کوک سے جنم لینی والی موجودہ حکومتی پارٹی بی جے پی (BJP) نے حکومت میں آتے ہی (تجزیہ کاروں کی پیشن گوئی کے عین مطابق)کشمیریوں پر ظلم و ستم کا نیا باب شروع کر دیا - پہلے تمام سیاحوں کو مقبوضہ وادی کشمیر سے نکلنے کا حکم نامہ جاری کیا گیا-مقبوضہ کشمیر میں پہلے ہی 7 لاکھ سے زائد بھارتی فوج موجود تھی لیکن مزید 40ہزار بھارتی فوج کو مقبوضہ وادی میں بھیجا گیا جس کی وجہ سے مقامی آبادی سمیت دیگر دردِ دل رکھنے والے انسانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی کہ بھارت لازمی کوئی گھناؤنی سازش کا مرتکب ہونے جا رہا ہے-8 اگست 2019ء کو بھارت نے مقبوضہ کشمیر کےمخصوص آئینی تشخص سے متعلق بھارتی آئین کا آرٹیکل  370 منسوخ کر دیا جس کے بعد سے مقبوضہ وادی کی صورتحال کافی تشویش ناک ہے اورمسئلہ کشمیر کا فوری حل نا گزیر بن چکا ہے- زیرِ مطالعہ مضمون میں مسئلہ کشمیر کی مختصر تاریخ، آرٹیکل 370 کی اہمیت، اس کی تنسیخ،تنسیخ کی وجوہات، مقبوضہ وادی کی موجودہ صورتحال اور پاکستان کے لیے پالیسی آپشنز کو بیان کیا گیا ہے-

فلسطین و سائپرس کی طرح مسئلہ کشمیر کا آغاز بھی سلطنتِ برطانیہ کے زوال اور یورپی نوآبادیاتی نظام کے خاتمے سے ہوا-تقسیم ِبرصغیر پاک و ہند میں ہندو بنیے کے سازشوں اور منافق و کرپٹ برطانوی بیورو کریٹس کی وجہ سے مسئلہ کشمیر نے جنم لیا-یہی وجہ ہے کہ مسئلہ کشمیر کو ’’تقسیمِ ِبرصغیر پاک و ہند کا نامکمل ایجنڈا‘‘ (Unfinished Agenda of Partition of Indo-Pak Subcontinent) بھی کہتے ہیں- مسئلہ کشمیر در حقیقت لاکھوں لوگوں کے حقِ خودارادیت (بنیادی عالمی انسانی حق) کا مسئلہ ہے- مسئلہ کشمیر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھایا جانے والا دوسرا اہم مسئلہ تھا جس پر کم و بیش 27 قرار دادیں منظور ہوئیں لیکن اس کے باوجود یہ مسئلہ پچھلی 7 دہایوں سے سلامتی کونسل کےسرد خانے میں حل طلب ہے- بھارت کی بین الاقوامی قوانین و قراردادوں کی مخالفت، ہٹ دھرمی اور عالمی برادری کے غیر سنجیدہ رویے کی وجہ سے تاحال کوئی حل ممکن نہیں ہو سکا- اس مسئلے کی وجہ سے پاکستان اور بھارت بیشتر سرد و گرم جنگیں لڑ چکے ہیں-1947ء میں پاک بھارت جنگ کے بعد کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا-جموں، لداخ اور وادی کشمیر پر مشتمل پہلے حصے پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ ہے جسے مقبوضہ جموں کشمیر کہتے ہیں جبکہ دوسرا حصہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان پر مشتمل ہے- اقوامِ متحدہ کے قرارادوں میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دیا گیا اور 1949ء کی ایک قرارداد میں آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے بارڈر کو ’’سیز فائر لائن‘‘ (Cease Fire Line) کہا گیا جس کا نام 1971ء پاک بھارت شملہ منصوبے میں معمولی جغرافیائی تبدیلی کے بعد ’’لائن آف کنٹرول‘‘ (Line of Control) رکھ دیا گیا تھا-بھارت کے ابتدائی حکمران (گاندھی و نہرو وغیرہ) کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت دینے کے حامی تھے اور انہوں نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کےمطابق مسئلہ کشمیر کو استصوابِ رائے سے حل کرنے پر رضا مندی کا اظہار کیا تھا لیکن بعد میں بھارت اپنے فیصلے سے یکسر بدل گیا- بھارت کے ابتدائی حکمرانوں نے ریاستِ مقبوضہ جموں کشمیر کو مرکزی بھارتی حکومت کے ساتھ منسلک کرنے کے لیے اسے اپنے آئین کے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے کے تحت ایک منفرد حیثیت دے رکھی تھی-بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 دراصل 26 جنوری 1950ء میں تشکیل دیا گیا تھا جس کا مسودہ مہاراجہ ہری سنگھ کے سابق دیوان گوپل سوامی نے تشکیل دیا - بھارتی آئین کی دفعہ 370کے تحت ریاست مقبوضہ جموں کشمیر کو آئین ہند میں خصوصی حیثیت حاصل تھی -اس آرٹیکل کے تحت ریاست مقبوضہ جموں و کشمیر کو انڈین یونین میں خصوصی نیم خودمختار حیثیت حاصل تھی-اس آرٹیکل کو ریاست مقبوضہ جموں کشمیر کے وزیر اعلیٰ شیخ عبداللہ اور انڈین وزیر اعظم جواہر لعل نہرو کی پانچ ماہ کی مشاورت کے بعد آئین میں شامل کیا گیا تھا-آئین کا یہ آرٹیکل درحقیقت ہندو بنیے کی ایک سازش تھی تاکہ کسی نہ کسی طرح کشمیر پر بھارت کی حکومت قائم کی جا سکےجبکہ حقیقت یہ ہے کہ کشمیریوں نے کبھی بھارت کی حکومت کو تسلیم ہی نہیں کیا اور نہ ہی کشمیر کا کبھی بھارت سے کوئی الحاق ہوا- اس لیےآرٹیکل 370 غیر قانونی و غیر آئینی اور کالعدم تھا- اس غیر قانونی آئینی سازش کی پیچھے بھارت کے مذموم عزائم کا اندازہ بھارتی وزیر گلزار نندو کے  1964ء میں لوک سبھا میں دیے جانے والے مندرجہ ذیل بیان سے لگایا جا سکتا ہے:

“The only way of taking the Constitution (of India) into Jammu and Kashmir is through the application of Article 370… It is a tunnel. It is through this tunnel that a good deal of traffic has already passed and more will”.

’’بھارتی آئین کو کشمیر میں لا گو کرنے کا واحد راستہ آرٹیکل 370ہے---یہ ایک سرنگ ہے- یہی وہ سرنگ ہےجس کے ذریعے بے تحاشا ٹریفک گزر چکی ہے اور مزید بھی گزرے گی‘‘-

گو کہ بھارتی آئین کا آرٹیکل 370 شروع ہی سے متنازعہ، غیر قانونی اور کالعدم تھا لیکن پھر بھی یہ آرٹیکل کسی حد تک کشمیریوں کی منفرد حیثیت کو تحفظ فراہم کرتا تھا- اس آرٹیکل کے مطابق مقبوضہ کشمیر پر بھارتی آئین کا نفاذ ممکن نہیں تھا بلکہ مقبوضہ کشمیر کااپنا آئین تھا اور بھارتی قانون ساز اسمبلی کا اختیار فقط دفاع، امورِ خارجہ اور مواصلات تک محدود رکھا گیا تھا- اس آرٹیکل کے چند اہم نکات مندرجہ ذیل تھے -

  1. اس آرٹیکل کی شق نمبر 3 کے مطابق بھارتی صدر کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ اس آرٹیکل کو کشمیر کی دستور ساز اسمبلی کی منظوری سے منسوخ کر سکتا تھا-
  2. بھارت کی دیگر ریاستوں کا کوئی بھی شہری مقبوضہ ریاستِ کشمیر کا نا تو شہری بن سکتاتھا اور نہ ہی جائیداد خرید سکتا تھا-
  3. آرٹیکل 352 کے مطابق بھارتی صدر اپنا صدارتی حکم نامہ مقبوضہ کشمیر میں مقبوضہ کشمیر کی دستور ساز اسمبلی کی منظوری کے بغیر نافذ نہیں کرسکتا-
  4. ریاستِ مقبوضہ کشمیر کو یہ حق بھی حاصل تھا کہ وہ بھارت کو فوجی چھاؤنی کی تعمیر کیلیے زمین دینے سےانکار کر دے-
  5. ریاستِ مقبوضہ کشمیر بھارتی سپریم کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں تھی-
  6. جمّوں و کشمیر کی حدود میں بھارتی پرچم (ترنگا) اور دیگر قومی علامتوں کی بے حرمتی قانوناً جرم نہیں تھی -

ہندو شدت پسند تنظیم RSS اور اس کی سیاسی شاخ BJP ابتداء  ہی سے مقبوضہ کشمیر کی مخصوص آئینی حیثیت کو ختم کرنا چاہتی تھی- بھارتیا جنتا سنگھ (Bharatiya Jana Sangh ) (جو بعد میں بی جے پی بنی )کا بانی سیاما پراساد مکھرجی(Syama Prasad Mukherjee) بھی مقبوضہ کشمیر کی مخصوص آئینی حیثیت کا سخت مخالف تھا اور بی جے پی سالہا سال سے آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے اور مقبوضہ جموں و کشمیر کو مکمل طور پر بھارت میں شامل کرنے کی گھناؤنی سازش کر رہی تھی- 2019ء کے عام انتخابات میں BJP نے واضح طور پر آرٹیکل 370 کی منسوخی کو اپنے الیکشن مینی فیسٹو (Manifesto) کا حصہ بنایا اور حکومت میں آتے ہی اس آرٹیکل کو ایک صدارتی حکم نامے سے منسوخ کر دیا جس کی وجہ سے مقبوضہ کشمیر کا سپیشل سٹیٹس ختم ہو گیا اور آرٹیکل 370 کی نسبت سے حاصل ہونے والے تمام حقوق ختم ہو گئے- مزید یہ کہ ریاست مقبوضہ جموں و کشمیر کو تقسیم کر کے مرکز ی حکومت کے زیرِ انتظام دو علاقے بنائے گئے ہیں جن میں سے ایک کا نام جموں و کشمیر اور دوسرے کا لداخ ہے اور ان اب دونوں علاقوں کا انتظام و انصرام لیفٹیننٹ گورنر چلائیں گے-جموں کشمیر میں قانون ساز اسمبلی ہو گی تاہم لداخ میں کوئی اسمبلی نہیں ہو گی- اس آرٹیکل کو منسوخ کرنے کی سب سے بڑی وجہ مقبوضہ کشمیر میں ڈیموگرافک تبدیلیوں کی راہ ہموار کرنا ہے-بھارتی حکومت مسلم اکثریت کے علاقوں کو ہندو اکثریت میں تبدیل کرنا چاہتی ہے جیسا کہ بھارتی فوج کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتلِ عام کی وجہ سے جموں کے چند اضلاع کے علاوہ اکثر علاقے مسلمان اکثریت کے اقلیت میں تبدیل ہو چکے ہیں-بھارتی فوجیوں کی مقبوضہ جموں کشمیر میں آبادکاری درحقیقت مقبوضہ کشمیر کی سماجی و ثقافتی حیثیت کو تبدیل کرنے کی سازش کا ثبوت ہے- اب آرٹیکل 370 کے منسوخی کے بعد بھارت کا مرکزی آئین دوسری ریاستوں کی طرح مقبوضہ جموں کشمیر میں بھی لاگو ہو گا اور اب بھارت کی کسی بھی ریاست کا کوئی بھی شہری مقبوضہ جموں کشمیر کا مستقل شہری بھی بن سکے گا اور اُسے متنازعہ علاقے میں جائیداد خریدنے کا حق بھی ہو گا- ایک بات تو واضح ہے کہ بھارت اسرائیل کی طرح ہندو آبادکاریوں سے متنازعہ علاقے کی ڈیموگریفکس کو تبدیل کرنے کی بھر پور کوشش کرے گا تاکہ اگر مستقبل میں استصوابِ رائے کروانا پڑے تو نتائج بھارت کی مرضی کی مطابق ہوں -اس کے علاوہ بھارت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کشمیری مسلمانوں کا قتلِ عام کر رہا ہے- پچھلی سات دہائیوں میں کم و بیش ایک لاکھ سے زائد نہتے معصوم کشمیریوں کو بے رحمی سے شہید کیا جا چکا ہے-صرف 2019ء  میں 300 سے زائد کشمیریوں کو شہید کیا گیا ہے-بھارت اسرائیلی ماڈل کو فالو کرتے ہوئے کشمیریوں کی نسل کشی کر رہا ہے - پاکستان سمیت دنیا بھر کے مبصرین مودی کو جنوبی ایشیا کا ہٹلر اور مسولینی قرار دے رہے ہیں -

قابلِ غور بات یہ ہے کہ آرٹیکل 370 کے مطابق بھارت اس آرٹیکل کو ریاستِ مقبوضہ جموں کشمیر کی دستور ساز اسمبلی کی منظوری پر ہی منسوخ کر سکتا ہے-بھارتی مقبوضہ جموں کشمیر کی کٹھ پتلی دستور ساز اسمبلی 1957ء میں تحلیل ہو گئی تھی-اس لیے مقبوضہ کشمیر کی دستور ساز اسمبلی کی منظوری کے بغیر یک طرفہ فیصلے سے اس آرٹیکل کی تنسیخ غیر قانونی ہے- مقبوضہ کشمیر کی بھارت نواز ہائی کورٹ پہلے ہی یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں ہے لہذا کوئی بھی یکطرفہ فیصلہ غیر قانونی ہو گا-اس کے علاوہ چونکہ مقبوضہ جموں کشمیر اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ایک متنازعہ علاقہ ہے اس لیے بھارت کی جانب سے متنازعہ مقبوضہ جموں کشمیر کی حیثیت کو تبدیل کرنے کا کوئی بھی یک طرفہ فیصلہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے جسے کسی بھی قانون کی روشنی میں درست تسلیم نہیں کیا جا سکتا-حتٰی کہ مقبوضہ جموں کشمیر کی بھارت نواز کٹھ پتلی حکومت اور بھارت نواز سیاسی قائدین نے بھی بھارت کے اس یک طرفہ عمل کی شدید مذمت کی ہے- مقبوضہ جموں کشمیر کی سابقہ وزیرِ اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی اس عمل کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا ہے- بھارتی اپوزیشن جماعتوں نے بھی اس عمل کی شدید مذمت کی ہے- گو کہ اس آرٹیکل کی تنسیخ سے مسئلہ کشمیر کی بین الاقوامی حیثیت پر تو کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا چونکہ اس مسئلہ پر اقوامِ متحدہ کی بہت سی قراردادیں موجود ہیں البتہ کشمیریوں کو ملنے والے سپیشل سٹیٹس کے خاتمے کے بعد آبادی کے تناسب میں تبدیلی کا خطرہ اور بھارتی آر ایس ایس کے دہشت گرد وں کا کردار انتہائی تشویش ناک ہے-

بھارت کے اس غیر آئینی عمل کے بعد مقبوضہ جموں کشمیر سمیت دنیا بھر میں احتجاج ہو رہے ہیں- مقبوضہ جموں کشمیر میں حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے بھارت نے کرفیو نافذ کر رکھا ہے - مقبوضہ وادی میں کمیونیکشن مکمل طور پر بلیک آؤٹ ہے وہاں نہ تو ٹیلیفون اور موبائل نیٹ ورک ہے اور نہ ہی انٹرنیٹ-اس کے ساتھ ساتھ کسی بھی قومی و بین الاقوامی نیوز چینل کو مقبوضہ وادی میں جانے کی اجازت نہیں جس کی وجہ سے اصل صورتحال سامنے نہیں آ رہی ہے تاہم کچھ نشریاتی اداروں کے مطابق کشمیری حریت پسند غیور عوام سخت ترین کرفیو کے باوجود سراپا احتجاج ہیں - بھارتی قابض افواج پیلٹ گنز ، آنسو گیس، لاٹھی چارج اور مرچوں والے بموں سے کشمیریوں کا حوصلہ توڑنے کی ناکام کوشش کر رہی ہے-مقبوضہ وادی میں کم و بیش 10 لاکھ کے قریب فوج اور پولیس موجود ہے- ایک اندازے کے مطابق اس وقت مقبوضہ جموں کشمیر میں ہر 7 کشمیریوں پر ایک بھارتی فوجی مسلط ہے- پاکستان کی کل فوج چھ سے سات لاکھ ہے جبکہ بھارت کی صرف مقبوضہ کشمیر میں موجود فوج پاکستان کی مکمل فوج سے کہیں زیادہ ہے-یہی وجہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر کو دنیا کا ’’موسٹ میلیٹرائزڈ زون‘‘ (Most Militarized Zone)کہتے ہیں- پوری وادی میں خار دار تاریں پچھائی گئی ہیں اور لوگوں کو اپنے گھروں سے نکلنے کی اجازت نہیں- عید الالضحیٰ کے موقع پر نماز کے لیے اجتماعات پر پابندی تھی-آج بھی بھارت کی جانب سے نہتے کشمیریوں پر کلسٹر بم کے ذریعے حملے کیے جا رہے ہیں -بھارتی فوج نے مقبوضہ جموں کشمیر کی تمام حریت لیڈر شپ کو ان کے اپنےگھروں میں قید کر رکھا ہے-قائدِ اعظم محمد علی جناح کی دور اندیشی سے غافل رہنے والے بھارت نواز مسلمانوں کے ورثا کو آج اس بات کا بخوبی ادراک ہو چکا ہے کہ دو قومی نظریہ اور قائد کی پیشن گوئی درست تھی-بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کی ایک بہت بڑی وجہ مذہب اور ہندو شدت پسندی ہے جو درحقیقت دو قومی نظریے کی صداقت کا منہ بولتا ثبوت ہے- اس کے علاوہ بھارت بھر میں دردِ دل رکھنے والے انسانوں کی جانب سے احتجاج ریکارڈ کروائے گئے ہیں -خادم ِدرگاہ اجمیر شریف کی جانب سے بھی بھارتی عمل کی شدید مذمت کی گئی ہے- بھارتی ایڈووکیٹ ایم ایل شرما سمیت چند دیگر لوگوں نے ہندوستان کے آئین میں موجودہ ترمیم کو بھارتی سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے-

ہمیشہ کی طرح پاکستانی حکومت و عوام کی جانب سےبھی شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے- اس فیصلے کے فوراً بعد پاکستان کے دفترِ خارجہ اور خود وزیرِاعظم نے دیگر ممالک کے حکمرانوں کے ساتھ رابطے کرنا شروع کر دیے- ترکی، ملائشیا، سعودی عرب، دبئی، بحرین، ایران، چائنہ، روس ، برطانیہ اور امریکہ سمیت دیگر کئی ممالک کے حکمرانوں کو کشمیر کی موجودہ صورتحال اور بھارت کے ظلم و ستم سے آگاہ کیا گیا- پاکستان میں موجود بھارتی ہائی کمشنر کو بھارت واپس بھیج دیا گیا اور پاکستانی ہائی کمشنر کو ملک واپس بلا لیا گیا- بھارت سے ہر قسم کے سفارتی و تجارتی تعلقات کو ختم کر دیا گیا ہے-پاکستان کی درخواست پر 50 سال بعد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کا مسئلہ کشمیر پر بند کمرہ اجلاس بھی ہوا جس میں مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا- مسئلہ کشمیر پر چائنہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا، امریکہ اور برطانیہ نےبھی پاکستانی موقف کی حمایت کی - روس نے پہلے دفعہ مسئلہ کشمیر پر ویٹو نہیں کیا-فرانس نے بھارت کی ساتھ رافیل طیاروں کے معاہدے کے باوجود خاموشی کا اظہار کیا-المختصر!  یہ کہ سلامتی کونسل کے بند کمرہ مشاورتی اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر اجلاس بلانے پر تمام رکن ممالک متفق تھے-اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت دیگر کئی ممالک کے حکمرانوں نے مقبوضہ کشمیر کی حالیہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا-پاکستان نے اپنےیومِ آزادی (14 اگست ) کو کشمیریوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے طور پر منایا گیا جبکہ 15 اگست کو انڈیا کے یومِ آزادی کو یومِ سیا ہ کے طور پر منایا گیا-پاکستان کی موجودہ حکومت نے مسئلہ کشمیر کے حقائق کو دیگر ممالک تک پہنچانے کے لیے دفترِ خارجہ میں کشمیر سیل کے قیام کا فیصلہ کیا ہے جبکہ دیگر ممالک میں موجود پاکستانی سفارت خانوں میں کشمیر ڈیسک بنایا جائے گا- گو کہ یہ تجو یز مسلم انسٹیٹیو ٹ کے پلیٹ فارم سے 2013ء  میں دی گئی تھی مگر اس پر کبھی عمل نہیں کیا گیا- البتہ موجودہ گورنمنٹ کی جانب کے کیے جانے والے اقدامات خوش آئند ہیں -

مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال اور آبادی کے تناسب میں تبدیلی کے لئے بی جے پی کے استبدادی ہتھکنڈوں کو سامنے رکھتے ہوئے پاکستان کے لیے ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو ہر متعلقہ بین الاقوامی فورم پر اٹھائے اور بین الاقوامی برادری کو مقبوضہ جموں کشمیر کے تمام حالات و واقعات سے باخبر رکھے-اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی میٹنگ کے بعد اس مسئلہ کو انٹر نیشنلائز کرنا زیادہ آسان ہو گیا ہے لہذا موقع کو غنیمت جانتے ہوئے لابنگ اور تمام ممکنہ سفارتی چینلز کے ذریعے بین الاقوامی برادری تک مسئلہ کشمیر پر پاکستان کا اصولی موقف بخوبی پہنچایا جائے- بھارت سمیت بین الاقوامی برادری کو واضح پیغام دیا جائے کہ بھارت کی جانب سے کسی بھی قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا- بوکھلاہٹ کے شکار، بھارت کے دفاعی منسٹر راج ناتھ سنگھ (Rajnath Singh)نے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے متعلق بھارتی پالیسی میں تبدیلی کا اشارہ بھی دیا ہے البتہ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے 14 اگست کو آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے دنیا پر یہ واضح کیا ہے کہ اگر مسئلہ کشمیر کی وجہ سےجنگ ہوئی تو اس کی ذمہ دار بین الاقوامی برادری ہو گی- بین الاقوامی سطح پر یہ بات واضح کی جائے کہ بھارتی جوہری ہتھیا ر دہشت گرد، شدت پسند ہٹلر کے ہاتھ میں انتہائی غیر محفوظ ہیں جس کی وجہ سے اربوں لوگوں کی جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہیں لہذا اقوامِ متحدہ کے متعلقہ ادارے بھارتی ایٹمی ہتھیار وں کے متعلق بروقت لائحہ عمل بنائے-مزید یہ کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس کروانے اور مسئلہ کشمیر کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کروانے پر زور دیا جائے-یہ بات خوش آئند ہے کہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کو ہر فورم پر چائنہ کی مکمل حمایت حاصل ہے البتہ اس مسئلہ کے حل کے ساتھ چائنہ کے بہت سے ذاتی مفادات بھی جڑے ہوئے ہیں -مقبوضہ کشمیر کی آزادی، پاکستان کے ساتھ الحاق اور امن و امان قائم ہونے سے چائنہ کو اپنی تجارت کیلیے ایک انتہائی مختصر اور محفوظ گزرگاہ مل جائے گی- چونکہ پاکستان اور چائنہ کے مقاصد و مفادات باہم ملتے ہیں تو دونوں ممالک کو مل کر جلد از جلد اس مسئلے کے مستقل حل کی طرف جانا ہو گا- پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے حالیہ دورہ امریکہ پر امریکی صدر نے مسئلہ کشمیر پر ثالثی کے کردار کی پیشکش کی تھی اور اس کے بعد بھی اپنی پیشکش کو دوہرا چکا ہے لیکن ہمیشہ کی طرح بھارت مسئلہ کشمیر پر کسی قسم کی بات چیت نہیں کرنا چاہتا-پاکستان امریکہ کو یہ باور کروائے کہ جنوبی ایشا میں پائیدار امن کے قیام کے لیے لازم ہے کہ مسئلہ کشمیر اور مسئلہ افغانستان کو حل کیا جائے- امریکہ کو یہ بات واضح کی جائے کہ ان دونوں مسائل کا آپس میں گہرا تعلق ہے -امریکہ کو اس موقف پر قائل کیا جائے کہ چونکہ بھارت بات چیت اور ثالثی میں دلچسپی نہیں رکھتا اور اپنی روایتی ہٹ دھرمی پر قائل ہے لہذا امریکہ سمیت عالمی طاقتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے بھارت کے ظلم و ستم کو بزورِ بازو روکنا ہو گا-اب وقت آگیا ہے کہ بھارت کے ساتھ اُسی لہجے میں بات کی جائے جو لہجہ وہ معصوم کشمیریوں کے ساتھ پچھلے 70سالوں سے روا رکھے ہوئے ہے- اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں چیپٹر سیون(Chapter 07) کے ذریعے قرارداد منظور کر کے اس مسئلے کو پرانی قراردادوں کے مطابق استصوابِ رائے سے حل کروانا واحد ممکن آپشن ہے- چیپٹر سیون کے تحت منظور ہونے والی قرارداد پر عمل درآمد کروانا اقوامِ متحدہ کی ذمہ داری ہو گی جس کے لیے اقوامِ متحدہ طاقت کے استعمال کا حق بھی رکھتی ہے- فی الوقت بھارت کو یہ واضح کر دینے کی ضرورت ہے کہ مقبوضہ کشمیر ایک متنازعہ علاقہ ہے اور آرٹیکل 370 کے منسوخ ہونے سے اس کی بین الاقوامی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا البتہ مقبوضہ جموں کشمیر میں کسی قسم کی ڈیموگریفک تبدیلی نامنظور ہو گئی اور اگر بھارت نے ڈیموگریفک تبدیلیوں کی گھناؤنی سازش کی تو اسے بین الاقوامی سطح پر شدید نتائج سے دوچار ہونا پڑے گا-لہذا ضروری ہے کہ پاکستانی دفترِ خارجہ میں جلد از جلد کشمیر سیل قائم ہو جائے اور دیگر ممالک میں موجود سفارت خانوں میں کشمیر ڈیسکس کے تحت ہنگامئ بنیادوں پر کام شروع ہو جائے - انتہائی اہم یہ ہے کہ اس وقت تمام مسلم امہ کو اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے حق کیلیے آواز بلند کرنا ہو گئی وگرنہ کشمیر و فلسطین کو بوسسنیا بنتے اور پھر ملتِ اسلامیہ کا شیرازہ بکھرتے دیر نہیں لگے گئی- اللہ پا ک ہمارا حامی و ناصر ہو- آمین!

٭٭٭

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر