دستک : آن لائن تعلیم کا بڑھتا ہوا رجحان

دستک :  آن لائن تعلیم کا بڑھتا ہوا رجحان

دستک : آن لائن تعلیم کا بڑھتا ہوا رجحان

مصنف: مئی 2026

 آن لائن تعلیم کا بڑھتا ہوا رجحان

اکیسویں صدی کے تیسرے عشرے میں حصولِ تعلیم کے ذرائع میں تیزی سے تبدیلی رونما ہو رہی ہے- آن لائن تعلیم کے بڑھتے رحجان میں اس حقیقت کو مزید تقویت مل رہی ہے کہ تعلیم مسلسل سیکھنے اور خود کو وقت کے ساتھ بدلتے ہوئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کا عمل ہے- انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت(AI) کے عام ہونے سے اب تعلیم مروجہ روایتی طریقہ سے نکل کر موبائل اور لیپ ٹاپ کی اسکرین پہ آ رہی ہے- جہاں مواصلات (communication) نے عام زندگی اور کامرس میں فاصلوں کو ختم کیا ہے وہیں اب دنیا کی بہترین جامعات کے کورسز دنیا کے کسی کونے میں بیٹھے شخص کوایک کلک پر دستیاب ہیں- چنانچہ بدلتے دور میں اب صرف اچھی یونیورسٹی سے ڈگری یا سرٹیفکیٹ حاصل کرنا ہی کامیابی کی ضمانت نہیں رہا بلکہ ڈیجیٹل شعبہ میں ہنر سیکھنا بھی اہمیت اختیار کر گیا ہے-

کووڈ-19 کی وبا کے دوران تیزی سے اپنائے جانے والے آن لائن سسٹم نے عالمی تعلیمی منظر نامے کو مستقل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے، اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ روایتی تعلیمی ڈھانچہ، علم کے حصول کا اب واحد راستہ نہیں رہا- آن لائن تعلیم کے بدلتے ہوئے منظر نامے کی دسویں رپورٹ (CHLOE 10) کے مطابق امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کے تین چوتھائی اداروں نے آن لائن تعلیم میں بڑھتی دلچسپی کو رپورٹ کیا ہے- اسی طرح، 66 فیصد بالغ انڈر گریجویٹ طلبہ اور 60 فیصد روایتی عمر کے کالج طلبہ (traditional-age students) بھی اب آن لائن تعلیم کی طرف راغب ہو رہے ہیں- اس وقت دنیا بھر میں 400 ملین سے زائد افراد آن لائن علم و ہنر سیکھ رہے ہیں-ای لرننگ کے 2026ء کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اس سال عالمی مارکیٹ کی مالیت تقریباً 276 ارب ڈالر ہے، اور 2031ء تک اس کے 462 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ہے جس سے اس تبدیلی کا ناقابلِ تردید ہونا واضح ہے- پاکستان میں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد قریباً 140 ملین ہے- چنانچہ آن لائن اور روایتی تعلیم کا امتزاج تعلیمی نظام کو درپیش چیلنجز میں مؤثر حل ثابت ہو سکتا ہے-

 تعلیمی مارکیٹ میں مصنوعی ذہانت کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے اور 2028 ءتک عالمی سطح پر اس شعبے کے اخراجات میں تقریباً 21 ارب ڈالر کا اضافہ ہوگا- اس شعبے میں دنیا بھر کے بڑے بڑے ممالک اپنے بجٹ کا ایک خطیر حصہ خرچ کر رہے ہیں- مثلاً افرادی قوت کی تربیت (ورک فورس ٹریننگ) کے شعبے میں، امریکہ نے 2023 میں 101.8 ارب ڈالر خرچ کیے ہیں-

تاہم ایک طرف جہاں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نے زندگی میں سہولیات پیدا کی ہیں وہیں اس کے آنے سے انفرادی زندگی میں نئے مسائل نے جنم لیا ہے- یہ بات حقیقت ہے کہ جو شخص ان پلیٹ فارمز پہ زیادہ وقت بسر کرتا ہے اس کا زیادہ لوگوں سے ملنا جلنا کم ہو جاتا ہے جس سے ’’سوشل آئسولیشن‘‘ اور ڈپریشن کے خطرات بڑھ جاتے ہیں- اس کے علاوہ مسلسل اسکرین کے سامنے بیٹھنے سے موٹاپا، کمر کے مہرے دبنا اور نظر کی کمزوری جیسے مسائل بڑھتے ہیں - حصولِ علم کیلئے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پہ بہت زیادہ انحصار غیر معیاری اور غلط معلومات کی جانب لے جاتا ہے- اس میں کوئی شک نہیں کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اب زندگی کا ناگزیر حصہ بنتے جا رہے ہیں لیکن کامیابی کا حصول اعتدال میں ہے-

اگرچہ آن لائن تعلیم کی اہمیت اپنی جگہ ہے، لیکن استاد اور طالب علم کا براہ راست تعلق شخصیت سازی اور اخلاقی تربیت کیلئے ناگزیر ہے- محض معلومات کافی نہیں بلکہ تربیتِ استاد اصل شے ہے جیسا کہ علامہ محمد اقبالؒ نے فرمایا تھا کہ:

خرد نے کہہ بھی دیا لا الہ تو کیا حاصل

 

دل و نگاہ مسلماں نہیں تو کچھ بھی نہیں

آن لائن تعلیم اسی صورت کارگر ہے جب سیکھنے والے میں خود سے سیکھنے کا شوق ہو اور مناسب رہنمائی دستیاب ہو- بالخصوص کم عمر بچوں کے لیے والدین کی سخت نگرانی ضروری ہے تاکہ وہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے منفی اثرات سے محفوظ رہ سکیں- پاکستان جیسے ملک میں کامیابی کا راستہ ہائبرڈ ماڈل میں ہے، جہاں جدید ٹیکنالوجی کی سہولت تو موجود ہو لیکن استاد کی براہ راست رہنمائی اور والدین کا فعال کردار بھی شاملِ حال رہے- آن لائن پلیٹ فارمز سے تعلیم کا سلسلہ ضرور شروع کرنا چاہیئے لیکن اپنی جسمانی صحت کے ساتھ ذہنی و روحانی صحت کا خیال رکھنا بھی از حد ضروری ہے - اخلاقیات اور روحانی اقدار کیلئے استاد ناگزیر ہے اور بطور فرد و قوم اس اہم پہلو کو ہر وقت مدنظر رکھنا سب سے ضروری ہے -

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر