اقتباس

اقتباس

اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

’’فَاطِرَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْض اَنْتَ وَلِیّٖ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِج تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ اَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ‘‘

’’اے آسمانوں اور زمین کے بنانے والے تو میرا کام بنانے والا ہے دنیا اور آخرت میں مجھے مسلمان اٹھا اور ان سے ملا جو تیرے قربِ خاص کے لائق ہیں‘‘-(یوسف:101)

رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ سیّدی سول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا کہ (اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  فرشتہ)عرض کرتا ہے:  ان (اولیاء اللہ )میں فلاں بندہ  تھا جو اُن میں سے نہیں تھاوہ توکسی کام سے آیا تھا،اللہ عزوجل ارشادفرماتے ہیں :یہ (ذکراللہ کرنے والے )وہ بیٹھنے والے ہیں کہ جن کے ساتھ بیٹھنے والا محروم و بدبخت نہیں رہتا‘‘- (صحیح البخاری ، بَابُ فَضْلِ ذِكْرِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ)

فرمان سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ :

’’حضرت ابو حفص (رضی اللہ عنہ)فرماتے ہیں :نفس پورےکا پوراتاریک ہے اور اس کا چراغ باطن یعنی اِخلاص ہے اور چراغ کی روشنی توفیق ہے-جب آدمی کے باطن میں توفیقِ الٰہی  نہ ہووہاں  اندھیرے کے سوا کچھ نہیں ہوتا-حضرت  ابو عثمان(رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں: جب تک آدمی اپنے نفس کے کاموں کو اچھا سمجھتا رہے وہ نفسانی عیب نہیں دیکھ سکتا یہ چیز وہی دیکھتا ہے جو ہر وقت نفس پر تہمت لگاتا رہتا ہے -حضرت ابو حفص(رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں سب سے جلدی وہ شخص ہلاک ہوتا ہے جو اپنے عیبوں کی پہچان نہیں رکھتا کیو نکہ گناہ کفر کے قاصد ہیں-حضرت ابو سلمان (رضی اللہ عنہ)فرماتے ہیں میں نے اپنے نفس کے کسی عمل کو اچھا خیال نہیں کیا کہ اسے شمار میں لاتا  ‘‘- (تفسیر الجیلانی)

فرمان سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ:

اَللہ پَڑھیوں پڑھ حافظ ہویوں نَاں گِیا حِجابوں پردا ھو
پَڑھ پَڑھ عَالِم فَاضِل ہویوں بھِی طَالِب ہویوں زَر دَا ھو
سَئیے ہَزار کِتاباں پَڑھیاں پَر ظَالم نَفس نَہ مَردا ھو
باجھ فَقِیراں کِسے نہ مَاریا باھوؒ ایہو ظالم چور اَندر دَا ھو (ابیاتِ باھو)

فرمان قائداعظم محمد علی جناح ؒ :

ایمان ، اتحاد، تنظیم

’’اب ایک نئے دور کا آغاز ہو گیا ہے ہمیں ان عوام کی، جنہیں اب تک افسوس ناک طریقے سے نظر انداز کیا گیا ہے، حالت کو بہتر بنانے کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو کام میں لانا ہو گا‘‘-(سری لنکا  آزادی پر پیغام تہنیت کراچی ،4 فروری 1948ء)

فرمان علامہ محمد اقبالؒ:

مقام بندۂ مومن کا ہے ورائے سپہر
زمیں سے تا بہ ثریا تمام لات و منات
حریم ذات ہے اس کا نشیمن ابدی
نہ تیرہ خاک لحد ہے، نہ جلوہ گاہ ِ صفات (ارمغانِ حجاز)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر