فلسطین صدا بحضورِ غوث الوریٰ

فلسطین  صدا بحضورِ غوث الوریٰ

فلسطین صدا بحضورِ غوث الوریٰ

مصنف: صاحبزادہ سلطان احمد علی نومبر 2023

فلسطین

 صدا بحضورِ غوث الوریٰ 

 

 

میرے غوث! تیری اجازت ہو گر
کہوں کچھ، کرم کی اگر ہو نظر

کہستان و صحرا کے وہ شہسوار
ترے کُرد عاشق ترے جانثار

تیرے نام سے ان کے جذبے بلند
تیرے فیض سے وہ ہوئے ارجمند

تیرے نام کی دَف بجاتے ہیں وہ
تیرے نام پر جھوم جاتے ہیں وہ

ہیں لنگر چلاتے تیرے نام پر
ہیں قربان جاتے تیرے نام پر

جو ایوبی، سالارِ اسلام تھا
تیرے فیضِ صحبت میں ہی وہ پلا

زِرہ پوش جب آیا یہ کُرد شیر
تو پا بوس اس کے ہوا اردشیر

وہ کُردوں کی عظمت کا مینار تھا
زمیں پر خُدا کی وہ تلوار تھا

جو یورپ سے آئے کئی بادشاہ
کٹے اُن کے لشکر تو اُتری کُلاہ

بتا کیسے بھولوں میں حطّین کو
سلامی کروں مُحسنِ دین کو

امانت، جو فاروق نے لے کے دی
حفاظت اِسی کُرد نے اس کی کی

عبیدہ کی سُنت کو دُہرا دیا
قُدُس کو نصاریٰ سے چھڑوا لیا

مرے شیخ! اُس سے یہ کیونکر ہوا؟
اُسے کس کے ہاتھوں نے کندن کیا؟

وہ کس کی دعا کا اثر بن گیا؟
وہ کس کی دُعا کا ثمر بن گیا؟

میں تحدیثِ نعمت میں کیوں چُپ رہوں
ترے فیض کا خُوب چرچا کروں

اُسے آب دی تربیت نے تری
جو مہر اُس نے تاریخ پر ثبت کی

اثر تھا ترے وعظ و تلقین کا
جو ہے کارنامہ ’’صلادین‘‘ کا

ہوں افکار جن کے بھی ملاں نژاد
نہ کر پائیں گے وہ مبارک جہاد

وہ لاتے ہیں اُمت میں پہلے فساد
ہلاتے ہیں اسلامیوں کی نہاد

کہ صوفی مگر نیک و مسعود ہے
وجود اس کا اُمّت میں محمود ہے

“صلا دیں” پہ تیرا ہی فیضان تھا
وجود اُس کا اُمت کو احسان تھا

مجاہد جو لشکر میں شامل ہوئے
بکثرت “اَزَج” کے وہ طُلّاب تھے

تیرے شاہزادے ہیں عبد العزیز
ہوئے جن سے اہلِ خبر مستفیض

ہزاروں مریدین کے سنگ میں
وہ ساتھی تھے اُس کرد کے جنگ میں

زباں غوطہ زن رہتی قرآن میں
مگر تیغِ برّاں تھے میدان میں

وہاں معرکے آپ نے تھے لڑے
جہاں سے حجر عسقلانی ہوئے

ہر اِک شخص کو واں پہ معلوم ہے
کہ جبلِ عزیز اُن سے موسوم ہے

قُدُس کے تقدس کی خاطر لڑے
وہ تلمیذ تھے یا کہ بیٹے تیرے

ہمارے دلوں پر بھی شفقت کریں
کہ اقصیٰ کی خاطر تڑپتے رہیں

 

٭٭٭

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر