ہر سال 4 اپریل کو دنیا بھر میں بارودی سرنگوں کے خطرات و انسداد سے آگاہی کےلیے عالمی دن منایا جاتاہے تاکہ دنیا بھر میں بارودی سرنگوں اور جنگی باقیات کے انسانی، سماجی، معاشی اور ماحولیاتی اثرات کو اجاگر کیا جا سکے -بارودی سرنگوں کی تیاری کو عسکری نظریات میں سٹریٹجک ڈیفنس (Strategic Defensive Mechanism) کے طور پر دیکھا جاتا ہے- جدید ریاستی نظام میں سرحدی تحفظ اور جغرافیائی خودمختاری کو برقرار رکھنے کیلئے ایسے ہتھیاروں کو اہم سمجھا گیا جو کم وسائل کے ساتھ زیادہ رقبے کا کنٹرول فراہم کر سکیں - بارودی سرنگیں اسی مقصد کے تحت تیار کی گئیں تاکہ دشمن کی فوجی نقل و حرکت کو محدود کیا جا سکے اور جنگی میدان میں نفسیاتی دباؤ پیدا کیا جا سکے-عسکری ماہرین کے مطابق یہ ہتھیار طاقت کو کئی گنابڑھانے کا کردارادا کرتا ہے-
بارودی سرنگوں کا استعمال انیسویں صدی سے جنگی میدانوں میں ہوتا رہا ہے، پہلی جنگِ عظیم میں یورپ کے میدانوں میں لاکھوں سرنگیں بچھائی گئیں جو جنگ کے بعد بھی شہریوں کی جانیں لیتی رہیں- دوسری جنگِ عظیم نے افریقہ اور ایشیا میں اسے مزید پھیلایا-سرد جنگ کے دوران افغانستان میں سوویت یونین نے لاتعداد سرنگیں بچھائیں- 1990ء کی دہائی میں انگولا، موزامبیق اور بوسنیا کی خانہ جنگی نے اس بحران کو عروج دیا-جدید تحقیق یہ واضح کرتی ہے کہ بارودی سرنگوں کا استعمال بین الاقوامی انسانی قانون اور جنگی اخلاقیات کے اصولوں سے متصادم ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ ہتھیار جنگ کے خاتمے کے بعد بھی فعال رہتے ہیں اور شہری و فوجی اہداف میں تمیز نہیں کرتے- اسی تناظر میں ان کی تیاری اور استعمال کو انسانی سلامتی کے وسیع تصور کے خلاف سمجھا جانے لگا، جس کے نتیجے میں1997ء میں اوٹاوا کنونشن نے بارودی سرنگیں بنانے پر پابندی عائد کی،جسے 164 ممالک نے قبول کیا- اقوام متحدہ نے 8 دسمبر 2005ء کو قرارداد منظور کی اور 2006ء سے یہ دن منایا جا رہا ہے-
اس عالمی مہم کو منظم انداز کے ساتھ فروغ دینے میں اقوام متحدہ نے مرکزی کردار ادا کیا اور اسی پلیٹ فارم کے تحت ایک خصوصی ذیلی ادارہ (United Nations Mine Action Service) قائم کیا گیا جو عالمی سطح پر بارودی سرنگوں کے خاتمے اور آگاہی کے لیے کام کرتا ہے-اس کے علاوہ دیگر ادارے بھی اس ضمن میں اہم کردار ادا کرتے ہیں جیسا کہ بارودی سرنگوں کے انسداد کےلیے عالمی مہم (International Campaign to Ban Landmines) ایک نمایاں پلیٹ فارم ہے-
بارودی سرنگوں کے جانی اور طبی اثرات:
بارودی سرنگوں اور غیر پھٹے ہوئے دھماکہ خیز مواد کے اثرات مختلف براعظموں میں نمایاں طور پر موجود ہیں- ایشیا میں افغانستان، شام اور یمن سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شمار ہوتے ہیں جہاں طویل تنازعات اور اندرونی جنگوں نے وسیع پیمانے پر بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد کو زمین میں چھوڑ دیا ہے- افریقہ میں صومالیہ اور لیبیا بھی نمایاں مثالیں ہیں، جہاں خانہ جنگی اور ریاستی عدم استحکام نے زمین کو خطرناک بنا دیا ہے -یورپ میں یوکرین اور بوسنیا ایسے ممالک ہیں جہاں حالیہ اور ماضی کے تنازعات کے باعث بارودی سرنگوں کا مسئلہ سامنے آیا- اسی طرح کولمبیا میں بھی یہ ایک اہم مسئلہ ہے جہاں طویل گوریلا جنگ کے بعد دیہی علاقوں میں بارودی سرنگوں کے خطرات برقرار ہیں-
بارودی سرنگوں کا سب سے بڑا اثر قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہے، عالمی لینڈ مائن مانیٹر رپورٹ2024 میں بارودی سرنگوں اور بنا پھٹے دھماکہ خیز مواد کے باعث دنیا بھر میں کم از کم 6279 افراد ہلاک اورزخمی ہوئےجن میں تقریباً 90 فیصد متاثرین عام شہری تھے جبکہ بچوں کا تناسب بھی بہت زیادہ رہا، جو انسانی بحران کی سنگینی کو واضح کرتا ہے- بارودی سرنگوں کے دھماکوں کے نتیجے میں جسمانی اور طبی پیچیدگیاں نہایت سنگین اور کثیرالجہت نوعیت کی ہوتی ہیں،جسمانی اعضاء کے نقصان کے علاوہ اعصابی مسائل، مصنوعی اعضا کی ضرورت اور نفسیاتی مسائل بھی شامل ہیں جو متاثرہ افراد کی جسمانی بحالی کے ساتھ ساتھ ان کی سماجی اور معاشی زندگی کو بھی متاثر کرتے ہیں- [1]
معاشی اور ماحولیاتی اثرات:
بارودی سرنگوں کی موجودگی متاثرہ علاقوں کی معاشی ترقی کو بھی متاثر کرتی ہے کیونکہ زرعی زمینیں، تجارتی راستے اور نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کے منصوبے غیر محفوظ ہو جاتے ہیں، جس کے باعث سرمایہ کاری اور روزگار میں کمی ہوتی ہے جو مقامی معیشت کیلئے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے- اس سے نہ صرف غذائی قلت بڑھتی ہے بلکہ درآمدات پر انحصار بڑھ جاتا ہے- صحت اور بحالی کے اخراجات قومی بجٹ پر بھاری بوجھ ڈالتے ہیں- ہزاروں معذور افراد کے مصنوعی اعضاء، علاج اور نفسیاتی بحالی کیلئے اربوں ڈالر درکار ہوتے ہیں، جو غریب آبادیاں برداشت نہیں کر سکتیں- [2]شام اور عراق میں لاکھوں زخمیوں کی دیکھ بھال معیشت کو کمزور کر رہی ہے، جہاں صحت کے بجٹ کا بڑا حصہ صرف سرنگوں کے متاثرین پر صَرف ہوتا ہے- سرنگ آلودہ علاقوں میں سڑکیں، پل اور صنعتی مراکز آسانی سے نہیں بنائے جا سکتے، جس سے غیر ملکی سرمایہ کاری متاثرہوتی ہے- مزید ان کی صفائی کیلئے بڑا سرمایہ درکار ہوتا ہے -[3]سرنگ ہٹانے کیلئے بھاری مشینری اور کیمیکلز استعمال ہوتے ہیں، جو مٹی کو کھود دیتے ہیں اور کاربن اخراج بڑھاتے ہیں- ویتنام میں 188000 ہیکٹر صاف کرنے میں 40000 ہیکٹر سالانہ کی شرح سے کام ہو رہا ہے ،بارودی سرنگیں معاشی تباہی اور ماحولیاتی بربادی کا دوہرا حملہ ہیں جو دہائیوں تک جاری رہتا ہے- [4]
ویتنام اور لاؤس میں 50 سال بعد بھی زمین کا زیادہ تر حصہ ناقابلِ کاشت ہے جہاں بارودی سرنگوں کے سبب زرعی پیداوار کا30فیصد نقصان ہوا- طویل مدتی اثرات میں بارودی سرنگوں سے پیدا ہونے والی آلودگی فوڈ چین میں داخل ہو کر جانوروں اور انسانوں کو بھی متاثر کرتی ہے- کمبوڈیا کے جنگلات میں ہر سال سینکڑوں جانور ہلاک ہوتے ہیں، جس سے ماحولیاتی توازن بگڑتا ہے- بارودی سرنگوں کا زہریلامواد ندی نالوں میں گھل جاتا ہے جو پینے کے پانی کو بھی آلودہ کرتا ہے-افغانستان اور شام میں بارودی سرنگوں کی وجہ سے پانی کی مزیدقلت ریکارڈ کی گئی ہے-
بین الاقوامی اداروں کا کردار: بارودی سرنگوں کی صفائی و آگاہی
اقوام متحدہ مائن ایکشن سروس (UNMAS) مرکزی عالمی ادارہ ہے جو 1997ء سے بارودی سرنگوں کی صفائی، خطرات سے آگاہی کی تعلیم اورمتاثرین کی مددکرتا ہے - یہ ادراہ 19ممالک میں براہ راست کام کرتا ہے جس کا مقصدآلودہ زمین کو کھیل کے گراؤنڈز میں تبدیل کرنا ہے-2025ءمیں جنیوا میں28واں قومی ڈائریکٹرز اجلاس منعقد کیا گیا جس میں تاریخی طور پربتایا گیا کہ2004سے اب تک UNMAS کے پروگرام نے 1.2 بلین مربع میٹر سے زائد زمین کو صاف کیاجس میں32,000 ہزارسے زائد افراد کو محفوظ کیا اور950000سے زائد غیر پھٹے دھماکہ خیزمواد کوتلف کیا، اسی طرح تقریباً 4 ملین افراد کو خطرات سے آگاہ کیا، جس سے کئی علاقوں میں بنیادی انفراسٹرکچر، تعلیمی ادارے اور صحت کی سہولیات محفوظ بنائی گئی-
اقوام متحدہ مائن ایکشن سروس کی بنیادی ذمہ داری بارودی سرنگوں اور غیر پھٹے ہوئے دھماکہ خیز مواد کی نشاندہی اور محفوظ طریقے سے صفائی کرنا ہے- یہ ادارہ متاثرہ آبادی کو خطرات سے آگاہی فراہم کرتا ہے اور زخمی افراد کی بحالی و معاونت کے پروگرام بھی چلاتا ہے- [5]
انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس (ICRC)
بارودی سرنگوں کے حوالے سے یہ ادارہ متاثرہ افراد کو طبی امداد، سرجری، مصنوعی اعضا کی فراہمی کرتا ہے، ساتھ ہی حکومت اور مسلح گروہوں کو بارودی سرنگوں کے نقصانات سے آگاہ کر کے ان کے خاتمے کی کوششوں میں معاونت کرتا ہے-1990ءکی دہائی سے یہ ادارہ بارودی سرنگوں سے متاثرہ ممالک میں Risk Awareness and Safer Behaviour (RASB) پروگرام کے تحت سرگرم عمل ہے اور اب تک 30 سے زائد متاثرہ ممالک میں آگاہی اور حفاظتی تربیت فراہم کر چکا ہے-[6] یہ ادارہ نارویجن ریڈ کراس کے تعاون سے پانچ مراحل پر مشتمل طریقہ کار تیار کر چکا ہے، جس میں خطرات کی نشاندہی، حفاظتی پیغامات کی تیاری، محفوظ طرزِ عمل کی تعلیم، مانیٹرنگ اور جائزہ شامل ہیں- [7]
اقوامِ متحدہ ترقیاتی پروگرام (UNDP)
اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام نے بارودی سرنگوں کے انسداد اور متاثرہ علاقوں کی بحالی میں ایک نمایاں کردار ادا کیا ہے، جس میں وہ صرف صفائی کے عمل تک محدود نہیں بلکہ بارودی سرنگوں سے آزاد زمین کو معاشی ترقی، زرعی پیداوار اور بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی کیلئے استعمال کرنے پر بھی کام کرتا ہے- یہ ادارہ دنیا بھر میں تقریباً 40 سے زائد متاثرہ ممالک میں مائن ایکشن پروگرامز کے ساتھ شراکت داری کرتا ہے، اور اس کا کام Sustainable Development Goals (SDGs) کے تحت امن، روزگار، صحت اور تعلیم جیسی معاشی و سماجی خدمات تک عوام کی رسائی کو بہتر بنانا ہے-[8]2025ء کی رپورٹ کے مطابق بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز باقیات سے متاثرہ کم از کم 58 ریاستی علاقوں میں سخت انسانی خطرات برقرار ہیں، جہاںUNDP کام کر رہا ہے تاکہ متاثرہ افراد کی زندگیوں میں بہتری لائی جا سکے-
International Campaign to Ban Landmines (ICBL) ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جو 1992ء میں قائم ہوا اور جس کا بنیادی مقصد اینٹی پرسنل بارودی سرنگوں کی تیاری، استعمال، ذخیرہ اندوزی اور منتقلی پر مکمل پابندی عائد کروانا ہے- یہ مہم عالمی سطح پر انسانی حقوق، بین الاقوامی انسانی قانون اور انسانی سلامتی کے اصولوں کے تحت کام کرتی ہے اور حکومتوں، بین الاقوامی اداروں اور غیر سرکاری تنظیموں کے درمیان اشتراک کو فروغ دیتی ہے-[9] ICBL نے 1997 کے اوٹاوا معاہدے (Mine Ban Treaty) کی تشکیل اور منظوری میں کلیدی کردار ادا کیا، جس کے نتیجے میں 166 ریاستوں نے بارودی سرنگوں پر پابندی قبول کی اور اپنے ذخائر تلف کیے-مزید برآں، یہ تنظیم Landmine Monitor کے ذریعے سالانہ نگرانی اور تحقیقی رپورٹس شائع کرتی ہے، جن میں معاہدے پر عمل درآمد، متاثرین کی صورتحال، سرنگوں کی صفائی اور ریاستی ذمہ داریوں کا جامع تجزیہ پیش کیا جاتا ہے-[10] اس کی مؤثر عالمی وکالت اور انسانی بنیادوں پر جد و جہد کے اعتراف میں اسے 1997ء میں نوبل امن انعام سے نوازا گیا، جو بین الاقوامی امن اور انسانی تحفظ کے میدان میں اس کی نمایاں خدمات کا ثبوت ہے-[11]
بارودی سرنگوں کی تلاش میں HeroRATs کا سائنسی و انسانی کردار:
بارودی سرنگوں کی نشاندہی میں HeroRATs ایک انقلابی اور مؤثر حیاتیاتی حل کے طور پر سامنے آیا ہے- افریقی نسل کے بڑے جسامت والے چوہوں (African Giant Pouched Rats) کو خصوصی تربیت دے کر دھماکہ خیز مواد کی بو سونگھ کر سرنگوں کی نشاندہی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے- ان کی سب سے بڑی خصوصیت ان کا ہلکا وزن ہے، جس کی وجہ سے یہ زمین پر چلتے ہوئے بارودی سرنگ کو فعال نہیں کرتے، یوں یہ انسانی جان کو خطرے میں ڈالے بغیر وسیع رقبے کی تیز رفتار اور کم لاگت جانچ ممکن بناتے ہیں- بارودی سرنگوں کی نشاندہی میں ان تربیت یافتہ چوہوں کے استعمال کا ایک بنیادی اور نمایاں فائدہ ان کی غیر معمولی رفتار ہے- جس رقبے کا جائزہ ایک ہیرو ریٹ تقریباً 40 منٹ میں مکمل کر لیتا ہے، اسی علاقے کی جانچ روایتی دھات تلاش کرنے والے آلات )میٹل ڈیٹیکٹر (کے ذریعے کرنے میں کئی دن درکار ہوتے ہیں- ان کی کامیاب نشاندہی کے بعد ماہرین سرنگ کو محفوظ طریقے سے ناکارہ بناتے ہیں- اسی طرح کمبوڈیا، موزامبیق اور تنزانیہ جیسے ممالک میں ان کی کامیاب تعیناتی نے زرعی زمینوں کی بحالی، کمیونٹی کی واپسی اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا ہے- اس طرح HeroRATs مائن کلیئرنس کے عمل کو تیز، محفوظ اور پائیدار بنانے میں ایک انقلابی سائنسی حل کے طور پر تسلیم کیے جا رہے ہیں- [12]
پاکستان میں بارودی سرنگوں کاجائزہ:
پاکستان نے روایتی جنگی حکمتِ عملی اور سرحدی دفاع کے تناظر میں مختلف ادوار میں بارودی سرنگوں کا استعمال کیا ہے- تاریخی شواہد کے مطابق 1947–48ء، 1965ء اور 1971ء کی پاک-بھارت جنگوں کے دوران بھارتی فوج نے سرحدی علاقوں میں بے دریغ بارودی سرنگیں بچھائیں، جبکہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول کے بعض حصوں میں بھی دفاعی مقاصد کے تحت بارودی سرنگیں نصب کی گئی- رپورٹس کے مطابق ان دفاعی مائن فیلڈز میں P2 اور P4 طرز کی اینٹی پرسنل سرنگیں بھی شامل تھیں-پاکستان میں بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز باقیات کا مسئلہ بنیادی طور پر سرحدی اور شورش زدہ علاقوں، خصوصاً خیبر پختونخوا سابقہ فاٹا اور بلوچستان کے بعض اضلاع میں بھی موجود ہے جو بھارتی پشت پناہی رکھنے والی دہشت گرد تنظیموں نے بچھائی ہیں - ان بارودی سرنگوں اور دھماکہ خیز مواد نے مقامی آبادی، خصوصاً بچوں اور چرواہوں، کیلئے بھی خطرہ پیدا کیا ہے، جس کے باعث جانی نقصانات، جسمانی معذوری اور معاشی سرگرمیوں میں رکاوٹ جیسے مسائل سامنے آئے ہیں- پاکستان اوٹاوا معاہدے کا فریق نہیں ہے تاہم ریاستی سطح پر بارودی سرنگوں کی صفائی اور خطرے سے آگاہی کے اقدامات کئے جا تے ہیں، جن میں فوجی انجینئرنگ کور اور سول ادارے متاثرہ علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز اور Mine Risk Education پروگرامز شامل ہیں- مزید برآں، اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے اور انسانی ہمدردی کی تنظیمیں متاثرین کی بحالی، مصنوعی اعضا کی فراہمی اور نفسیاتی معاونت میں کردار ادا کرتی ہیں- مجموعی طور پر پاکستان میں مسئلہ مقامی نوعیت کا ہے، لیکن متاثرہ علاقوں کی سماجی و معاشی بحالی کے لیے مربوط پالیسی اور بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے- [13]
اختتامیہ:
مجموعی طور پر بارودی سرنگوں کا مسئلہ عالمی سطح پر ایک سنگین انسانی اور معاشی چیلنج ہے جس کے اثرات جنگوں و تنازعات کے خاتمے کے بعد بھی مدتوں برقرار رہتے ہیں- جنگوں، سرحدی تنازعات اور سیکورٹی آپریشنز کے نتیجے میں زمین میں موجود بارودی سرنگیں لوگوں کیلئے خطرہ بن جاتی ہیں- اگرچہ بین الاقوامی ادارے جیسے ICBL، UNDP، UNMAS اور ICRC مختلف زاویوں سے مائن کلیئرنس، خطرات سے آگاہی، متاثرین کی بحالی اور پالیسی سازی میں کردار ادا کر رہے ہیں، تاہم اس مسئلہ کے مکمل خاتمے کیلئے مسلسل سیاسی عزم، مالی وسائل اور تکنیکی تعاون درکار ہے-
جدید دور میں بارودی سرنگوں کےخاتمے کے عمل کو بہتر بنانے کیلئے روبوٹک سسٹمز، ڈرون سروے، جیوگرافک انفارمیشن سسٹم (GIS)، سیٹلائٹ امیجری اور مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) جیسے جدید ٹیکنالوجیکل ٹولز کا استعمال بڑھ رہا ہے، جس سے بارودی سرنگوں کی نشاندہی زیادہ تیز، محفوظ اور مؤثر ہو رہی ہے- اسی طرح HeroRATs جیسے حیاتیاتی حل اور کمیونٹی بیسڈ مائن ایکشن پروگرامز بھی عملی اور کم لاگت متبادل کے طور پر سامنے آئے ہیں، لیکن متاثرہ علاقوں کی مکمل صفائی اور محفوظ زمین کی بحالی اب بھی ایک طویل المدتی عمل ہے- لہٰذا ضروری ہے کہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر مربوط حکمتِ عملی کے ذریعے نہ صرف بارودی سرنگوں کے خطرات کو کم کیا جائے بلکہ متاثرہ افراد کی سماجی و معاشی بحالی کو بھی پائیدار ترقی کے فریم ورک سے جوڑا جائے-
٭٭٭
[1]https://www.aa.com.tr/en/world/landmine-casualties-hit-4-year-high-as-funding-declines-report/3759308
[6]https://www.icrc.org/en/statement/international-mine-awareness-day-addressing-threat-explosive-ordnance-syria
[7]https://www.icrc.org/sites/default/files/external/doc/en/assets/files/publications/t0016-mine-risk-education-nepal.pdf
[10]Landmine Monitor, 2025