پانی زندگی ہے

پانی زندگی ہے

انسان اپنی روزمرہ زندگی میں پانی کا بے دریغ استعمال کرتا ہے اس حقیقت سے ناآشنا کہ یہ قدرت کا کتنا انمول عطیہ ہے-آج جدید سائنس ہمیں یہ بتاتی ہے کہ دنیا میں حیاتیاتی زندگی کی ابتداء پانی سے ہو ئی حالانکہ یہ  راز قرآن حکیم نے 1400 سال قبل بتا دیا تھا-ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَ اللّٰهُ خَلَقَ كُلَّ دَآبَّةٍ مِّنْ مَّآءٍ ‘‘[1]

’’اور اللہ نے ہر چلنے پھرنے والے (جاندار) کی پیدائش (کی کیمیائی ابتداء) پانی سے فرمائی‘‘-

پانی ہر طرح کی زندگی کا بنیادی عنصر ہے- ہر جاندار ایک چھوٹے سے مائکروسکوپک بیکٹیریا سے لے کر دیو ہیکل وہیل مچھلی تک پودوں سے انسانوں تک ہر زندہ حیات کی زندگی پانی پہ منحصر ہے- ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَیْءٍ حَیٍّ ‘‘[2]

’’اور ہم نے (زمین پر) ہر پیکرِ حیات (کی زندگی) کی نمود پانی سے کی‘‘-

انسانی جسم کا 60 سے 70 فیصد حصہ پانی پہ مشتمل ہے اور پودوں کا 70 سے 90 فیصد حصہ پانی پہ مشتمل ہے- پانی بطور ایک عالمگیر محلل (universal solvent) انسانی جسم میں زندگی کو دوام دینے والے تمام کلیدی عوامل جیسا کے خوراک ہضم کرنےکے  عمل تنفس اور توانائی پیدا کرنے میں ایک بنیادی محرک ہے- کرۂ ا رض کا 70 فیصد حصہ پانی سے ڈھکا ہوا ہے -جبکہ دوسرے سیاروں کی نسبت زمین پر پانی کی اس وافر مقدار کی وجہ سے ہی یہاں زندگی ممکن ہے- یہی وجہ ہےکہ کائنات میں کسی بھی جگہ زندہ حیات کی علامت تلاش کرنے کے لیے سائنسدان وہاں پانی کی تلاش کرتے ہیں کہ اگر پانی موجود ہوا تو زندگی بھی ممکن ہو گی- پانی زمین پہ وافر مقدار میں موجود ہے لیکن پینے، آبپاشی اور نہانے دھونے کیلئے قابل استعمال پانی صرف 3 فیصد ہے اور اس 3 فیصد کا بھی دو تہائی حصہ گیشئرز میں منجمد ہے- پینے کے پانی (fresh water)کی قدر قرآن حکیم اس طرح بیان فرماتا ہے:

’’اَفَرَءَیْتُمُ الْمَآءَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَ‘‘[3]

’’بھلا یہ بتاؤ جو پانی تم پیتے ہو ‘‘-

دنیا اس وقت میٹھے پانی کے ایک سنگین بحران کا سامنا کر رہی ہے جو انسانی صحت، معیشتوں اور ماحولیاتی استحکام کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے- تقریباً 1.1 ارب افراد کو محفوظ پینے کے پانی تک رسائی حاصل نہیں، جبکہ 2.7 ارب افراد سال میں کم از کم ایک ماہ شدید پانی کی کمی کا سامنا کرتے ہیں- دنیا کے بہت سے دریاؤں کے طاس (River Basins) جو اربوں لوگوں کے لیے میٹھے پانی کا بنیادی ذریعہ ہیں ، شدید دباؤ کا شکار ہیں یا ان کی حالت زوال پذیر ہے- یہ بحران صرف روایتی طور پر خشک علاقوں تک محدود نہیں رہا؛ مرطوب اور بارانی خطے بھی اب ضرورت سے زیادہ استعمال، آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث پانی کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں- وہ آبی نظام جو ماحولیاتی نظام کو زندہ رکھتے ہیں اور بڑھتی ہوئی انسانی آبادی کی ضروریات پوری کرتے ہیں، شدید دباؤ کا شکار ہو چکے ہیں- دریا، جھیلیں اور زیرِ زمین آبی ذخائر (aquifers) یا تو خشک ہو رہے ہیں یا اس قدر آلودہ ہو چکے ہیں کہ قابلِ استعمال نہیں رہے- دنیا کے نصف سے زیادہ دلدلی علاقے (ویٹ لینڈز) ختم ہو چکے ہیں-

موجودہ شرحِ استعمال برقرار رہی تو یہ صورتحال مزید خراب ہو جائے گی- سن 2050ء تک دنیا کی دو تہائی آبادی کو پانی کی قلت کا سامنا ہو سکتا ہے اور دنیا بھر کے ماحولیاتی نظام کو مزید شدید نقصان پہنچے گا-

عالمی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے جس کے باعث پینے کے پانی، خوراک کی پیداوار اور صنعتی استعمال کے لیے پانی کی طلب میں اضافہ ہو رہا ہے- شہری آبادی میں اضافے اور طرزِ زندگی میں تبدیلیوں کی وجہ سے گزشتہ 50 برسوں میں میٹھے پانی کے استعمال میں تین گنا اضافہ ہو چکا ہے-

دنیا بھر میں میٹھے پانی کا تقریباً 70 تا 72 فیصد حصہ زراعت میں استعمال ہوتا ہے، جس کا زیادہ تر حصہ آبپاشی کے لیے مختص ہے- غیر مؤثر آبپاشی کے طریقے اور نامناسب فصلوں کا انتخاب پانی کی قلت کو مزید سنگین بنا دیتے ہیں- موسمیاتی تبدیلی بارش کے نظام کو متاثر کر رہی ہے، جس سے خشک سالی کے دورانیے طویل اور زیادہ شدید ہو رہے ہیں- اس کے علاوہ دریاؤں کے بہاؤ میں کمی اور گلیشیئرز کے پگھلنے سے میٹھے پانی کے ذخائر متاثر ہو رہے ہیں- صنعتی فضلہ، زرعی کیمیکلز کا بہاؤ (رن آف) اور ناکافی نکاسی و صفائی کے نظام میٹھے پانی کے ذرائع کو آلودہ کر دیتے ہیں، جس سے وہ استعمال کے قابل نہیں رہتے اور دستیاب صاف پانی کی مقدار کم ہو جاتی ہے- زیرِ زمین پانی کو اس کی قدرتی بحالی کی رفتار سے زیادہ تیزی سے نکالا جا رہا ہے، خصوصاً خشک اور نیم خشک علاقوں میں- اس کے نتیجے میں کنویں خشک ہو رہے ہیں اور زمین دھنسنے (Land Subsidence) جیسے مسائل پیدا ہو رہے ہیں-

دنیا میں اس وقت شمالی افریقہ ااور مشرق وسطیٰ میں پانی کا بحران شدید نوعیت کا ہے- پانی کے شدید بحران میں مبتلا ممالک میں بحرین ، سپرس ، کویت ، لبنان، اومان اور قطر سر فہرست ہیں -

آج کے دور میں مصنوعی ذہانت AI یقیناً ایک انقلابی ترقی ہے جس نے انسانی زندگی میں بے شمار سہولیات پیدا کی ہیں- لیکن اس کے ساتھ یہ پہلو بھی قابلِ توجہ ہے کہ اے آئی کا یہ پھیلاؤ صاف پانی کے ذرائع پہ کس طرح اثر انداز ہو رہا ہے- ڈیٹا سینٹرز میں سرور کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پانی کا استعمال کیا جاتاہے اور کمپیوٹرز میں استعمال ہونے والے سیمی کنڈیکٹر بنانے کے لیے پانی کی بڑی مقدار ضرورت ہوتی ہے- ورلڈ اکنامک فورم کے مطابق اوسط سیمی کنڈکٹر انڈسٹری اتنا پانی استعمال کرتی ہے جتنا تقریباً 33 ہزار عام امریکی گھرانے استعمال کرتے ہیں- عالمی سطح پر ڈیٹا سینٹرز سالانہ تقریباً 560 بلین لیٹر پانی استعمال کر رہے ہیں اور اندازہ ہے کہ 2030ء تک یہ مقدار 1200 بلین لیٹر تک پہنچ جائے گی، جو ایک سال میں تقریباً سوا ارب انسانوں کے پینے کے پانی کے برابر ہے- جتنا زیادہ اے آئی ٹولز کا استعمال بڑھتا ہے، اتنا ہی زیادہ بوجھ ڈیٹا سینٹرز پر پڑتا ہے- حتیٰ کہ اے آئی کے ساتھ غیر ضروری طویل یا غیر مربوط تعامل بھی توانائی اور پانی کے اضافی استعمال کا باعث بنتا ہے، جبکہ سادہ اور براہِ راست استعمال نسبتاً کم توانائی اور پانی خرچ کرتا ہے-

پاکستان میں قدرتی طور پر اتنا پانی موجود ہے کہ عالمی بینک کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا کے صرف 35 ممالک ایسے ہیں جو پاکستان سے زیادہ آبی وسائل رکھتے ہیں- اس کے باوجود ہماری آبادی اُن ممالک کی فہرست میں شامل کی جاتی ہے جو شدید آبی خطرات (Extreme Water Risk) کا سامنا کر رہے ہیں- اس بڑھتے ہوئے بحران کی بنیادی وجہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس پانی ختم ہو رہا ہے، بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم پانی کو ایک قیمتی نعمت سمجھ کر اس کا مؤثر انتظام اور قدر کرنے میں ناکام رہے ہیں-

Falkenmark’s indicator کے مطابق پاکستان میں فی کس دستیاب پانی 1950ء کی دہائی میں تقریباً 5000 مکعب میٹر سالانہ تھا، جو کم ہو کر اب تقریباً 1000 مکعب میٹر سے بھی کم رہ گیا ہے- جس کی بنیادی وجہ آبادی میں تیزی سے اضافہ ہے- پاکستان میں 80 فیصد آبادی کو پینے کے لئے صاف پانی میسر نہیں ہے- آبادی میں اضافے کے تسلسل کے باعث 2030ء میں سالانہ فی کس پانی کی دستیابی مزید کم ہو کر 795 مکعب میٹر تک رہ جانے کا اندیشہ ہے- اس کے علاوہ زیر زمین پانی کے بے دریغ استعمال سے اور ناقص شہری مینجمنٹ سے پانی کا بحران سنگین ہو رہا ہے-

پانی کے انتظام میں ہماری کمزوری کو مزید بڑھاتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی ہمارے موجودہ نظاموں پر اضافی دباؤ ڈال رہی ہے، جو بے ترتیب اور غیر یقینی بارشوں، بار بار آنے والی خشک سالی اور شدید سیلابوں کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے- تھنک ٹینک جرمن واچ (Germanwatch) کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت موسمیاتی تبدیلی سے متاثر ہونے والا پانچواں سب سے زیادہ کمزور ملک قرار دیا گیا ہے-

غیر یقینی بارشوں کے سبب گزشتہ برس پاکستان میں اربن فلڈنگ کی وجہ سے بڑے پیمانے پہ تباہی ہوئی- جدید ممالک میں ایسے مسائل سے نمٹنے کے لیے زمین دوز ٹینکس بنانے کا منصوبہ بھی پروان چڑھ رہا ہے- جیسا کے ڈنمارک کے دارلخلافہ کوپن ہیگن میں پارکوں کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ پورے شہر سے بارشوں کے پانی کو زیر زمیں ذخیرہ کر لیتے ہیں جس سے اربن فلڈنگ کا خطرہ بھی ٹل جاتا ہے اور زیر زمین پانی کی سطح بھی برقرار رہتی ہے- لاہور میں بھی اس جیسا ایک منصوبہ زیر تعمیر ہے جس کے باقی شہروں میں بھی ضرورت ہے-

پاکستان میں پانی کی کمی کی ایک بڑی وجہ پانی کی ذخیرہ اندوزی کی کمی ہے- پاکستان میں صرف 30 دن کے لیے پانی کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے جبکہ بین الاقوامی معیار کے مطابق ایک ملک کے پاس کم سے کم 120 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہونی چاہیے- اگر دیگر ممالک کو دیکھا جائے تو ہمارے ہمسایہ ملک بھارت کے پاس 190 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہے- مصر700 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے- امریکہ 900 دن اور آسٹریلیا 600 دن کا پانی زخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے-جبکہ  پاکستان میں پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافے کی بجائے کمی واقع ہو رہی ہے- 1976ء میں پاکستان 16 ملین ایکڑ فیٹ پانی ذخیرہ کر سکتا تھا آج ذخیرہ کرنے کی صلاحیت گھٹ کر 13 ملین ایکڑ فٹ رہ گئی ہے- چھوٹے بڑے ڈیمز نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان سالانہ 10 کھرب گیلن پانی ضائع کر رہا ہے- اس وقت اس امر کی اشد ضرورت ہے کہ چھوٹے بڑے ڈیم تعمیر کر کے پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو بڑھایاجائے- واپڈا کے مطابق دریائے سندھ میں ڈیمز تعمیر کر کے 59 بلین کیوبک میٹر پانی ذخیرہ کیا جا سکتا ہے- لیکن پچھلے 4 عشروں میں ایک ڈیم بھی تعمیر نہیں کیا گیا- بین الصوبائی تنازعات کے باعث صرف چھوٹے ڈیمز پہ توجہ مرکوز رکھی گئی لیکن چھوٹے ڈیمز بڑے ڈیمز کا نعم البدل نہیں ہو سکتے- بڑے ڈیمز بڑی مقدار میں پانی ذخیرہ کر سکتے ہیں جس پانی کو آبپاشی و توانائی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے اور سیلابوں سے بھی بچا جا سکتاہے-

پاکستان میں پانی کی مجموعی دستیابی 250 ارب مکعب میٹر ہے جس میں سے 90 فیصد حصہ آبپاشی کے لیے استعمال ہوتا ہے- ملک کے آبی وسائل کا 80 فیصد سے زائد حصہ چار بڑی فصلوں (چاول، گندم، گنا اور کپاس) کے زیرِ استعمال ہے، جو مجموعی قومی پیداوار (GDP) میں صرف 5 فیصد حصہ ڈالتی ہیں- پاکستان میں ان فصلوں کی پیداوار دنیا کی دیگر بڑی زرعی معیشتوں کے مقابلے میں کم ہے- آبی ڈھانچے کی خستہ حالی پانی کے وسیع پیمانے پر ضیاع کا سبب بن رہی ہے- پاکستان کا آبپاشی نظام دنیا کے کم مؤثر ترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے، جس کی مجموعی کارکردگی صرف 39 فیصد ہے، جو اس نظام کی فرسودگی اور ناقص دیکھ بھال کی عکاسی کرتی ہے- اس کا مطلب یہ ہے کہ نہری ہیڈ ورکس پر دستیاب 143 ارب مکعب میٹر (BCM) پانی میں سے صرف 55 ارب مکعب میٹر زرعی شعبے میں استعمال ہو پاتا ہے، جبکہ باقی 61 فیصد (تقریباً 87 ارب مکعب میٹر) پانی نہروں، شاخوں، کھالوں اور کھیتوں تک ترسیل کے دوران ضائع ہو جاتا ہے-

اسٹیٹ بنک کی ایک رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں کپاس کی پیداوار میں تقریباً 41 فیصد کمی واقع ہوئی، جس کی بڑی وجہ سیلابی تباہی اور سیم و تھور (Waterlogging) ہے- اس کے نتیجے میں ٹیکسٹائل صنعت اور دیہی روزگار کو بھی شدید دھچکا پہنچا- گندم کی پیداوار میں معمولی اضافہ ضرور ہوا ہے، لیکن اس کی شرحِ نمو (سالانہ 2.5 فیصد سے کم) عالمی اوسط سے پیچھے ہے- اس کی ایک اہم وجہ پانی کی قلت اور غیر متوقع موسمی حالات ہیں، جنہوں نے زرعی پیداوار کو متاثر کیا ہے- سن 2022ء کے سیلاب نے اکیلے ہی تقریباً 17 لاکھ ہیکٹر زرعی اراضی تباہ کر دی، جس سے خوراک کے ذخائر اور کسانوں کا روزگار لمحوں میں ختم ہو کر رہ گیا- اس ضیاع کو کم کرنے کے لیے نہروں اور واٹر کورسز کو پختہ اور جدید بنایا جانا چاہیے- ساتھ ہی ساتھ زرعی شعبے میں اصلاحات پر بھی توجہ دینی چاہیے- روایتی سیلابی آبپاشی کی جگہ ڈرپ اور سپرنکلر اریگیشن جیسی جدید اور پانی بچانے والی ٹیکنالوجی کو فروغ دینا چاہیے- اسی طرح کسانوں کو پانی کے بہتر استعمال اور کم پانی والی فصلوں کو اگانے کے بارے میں تربیت اور سہولتیں فراہم کی جانی چاہئیں-

پاکستان ہر سال اپنے کل قابلِ تجدید میٹھے پانی کے وسائل کا تقریباً 83 فیصد استعمال کر لیتا ہے، جس کے باعث یہ دنیا کے اُن ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں پانی کا استعمال انتہائی زیادہ ہے- زیرِ زمین پانی کے غیر پائیدار استعمال نے بھی خطرناک حد اختیار کر لی ہے- اندازاً ہر سال تقریباً 50 ملین ایکڑ فٹ (MAF) پانی زیرِ زمین آبی ذخائر (Aquifers) سے نکالا جا رہا ہے، جو محفوظ حدِ پیداوار (Safe Yield) سے کہیں زیادہ ہے- پاکستان میں کوئی بھی شخص کسی بھی جگہ جتنے چاہے ٹیوب ویل لگا کر جتنا چاہے پانی نکال سکتا ہے- اس حوالے سے حکومتی سطح پہ پانی کے استعمال کا ضابطہ رائج ہونا چاہیے- 2018ء میں پاکستان نے پہلی نیشنل واٹر پالیسی بنائی تھی- لیکن اس پالیسی پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہو سکا-

پانی کے تحفظ کیلئے صرف حکومتی اقدامات کافی نہیں، بلکہ ہر فرد کو اپنی سطح پر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا-اگر ہم روزمرہ زندگی میں معمولی تبدیلیاں لے آئیں تو پانی کے ضیاع میں نمایاں کمی ممکن ہے- سب سے پہلے گھریلو استعمال میں احتیاط بے حد ضروری ہے- عام طور پر دانت برش کرتے، شیو بناتے یا برتن دھوتے وقت نل کھلا چھوڑ دیا جاتا ہے، جس سے بڑی مقدار میں پانی ضائع ہوتا ہے- اگر صرف نل بند رکھنے کی عادت ڈال لی جائے تو روزانہ ہر شخص کئی لیٹر پانی بچا سکتا ہے - اسی طرح شاور کے بجائے بالٹی اور مگ کا استعمال پانی کی بچت میں مؤثر ثابت ہو سکتا ہے- واشنگ مشین یا ڈش واشر کو مکمل لوڈ کے بغیر چلانا بھی پانی کے ضیاع کا سبب بنتا ہے، اس لیے ان آلات کو ضرورت کے مطابق استعمال کرنا چاہیے- گھروں میں لیکیج بھی پانی کے ضیاع کی ایک بڑی وجہ ہے- ٹپکتا ہوا نل بظاہر معمولی مسئلہ لگتا ہے، مگر یہ سالانہ ہزاروں لیٹر پانی ضائع کر سکتا ہے- پانی کی ٹینکیوں کا اوور فلو، خراب فلوٹ یا پائپ لائن کی خرابی فوری طور پر درست کی جانی چاہیے- باقاعدہ جانچ پڑتال اور بروقت مرمت پانی کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتی ہے- باغبانی اور صفائی کے طریقوں میں بھی تبدیلی لانا ضروری ہے- پودوں کو صبح یا شام پانی دینا بہتر ہے تاکہ بخارات کم بنیں اور پانی ضائع نہ ہو- گاڑی یا صحن دھونے کیلئے پائپ کے بجائے بالٹی کا استعمال پانی کی بچت میں مددگار ہے، جبکہ صحن کو پانی سے دھونے کے بجائے جھاڑو لگانا زیادہ مناسب طریقہ ہے- بارش کے پانی کو محفوظ کرنا بھی ایک مؤثر قدم ہے- گھروں میں سادہ رین واٹر ہارویسٹنگ کا نظام بنا کر بارش کا پانی جمع کیا جا سکتا ہے، جسے بعد میں باغبانی یا صفائی کے کاموں میں استعمال کیا جا سکتا ہے- اس طرح زیرِ زمین پانی پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے- خوراک کے ضیاع سے بچنا بھی دراصل پانی کی بچت ہے، کیونکہ ہر اناج، سبزی یا گوشت کی تیاری میں بڑی مقدار میں پانی استعمال ہوتا ہے- جتنا کم ہم خوراک ضائع کریں گے، اتنا ہی کم پانی بالواسطہ طور پر ضائع ہوگا-

پانی کی تقسیم اور انتظام کے حوالے سے بین الصوبائی ہم آہنگی پر بھی زور دینا چاہیے اور سب سے اہم کام ہے کہ پانی کی اہمیت کو اجاگر کیا جائے- میڈیا اور تعلیمی اداروں کے ذریعے پانی کی حفاظت کے بارے میں بڑے پیمانے پر عوامی آگاہی مہم چلائی جانی چاہیے- بچوں کو پانی کی اہمیت بتانا، خاندان اور معاشرے میں اس بارے میں آگاہی پھیلانا اور خود عملی مثال بننا نہایت ضروری ہے- انفرادی کوششیں مل کر اجتماعی تبدیلی کا ذریعہ بنتی ہیں- اگر ہم روزمرہ زندگی میں سادگی، احتیاط اور ذمہ داری کو اپنائیں تو نہ صرف پانی کے ضیاع کو روک سکتے ہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے اس قیمتی نعمت کو محفوظ بھی بنا سکتے ہیں-

٭٭٭


[1](النور:45)

[2](الانبیاء: 30)

[3](الواقعہ : 68)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر