اقتباس

اقتباس

اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

وَمَنْ یَّکْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَکْسِبُہٗ عَلٰی نَفْسِہٖط وَکَانَ اﷲُ عَلِیْمًا حَکِیْمًاo وَمَنْ یَّکْسِبْ خَطِٓیْئَۃً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِہٖ بَرِیْئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُہْتَانًا وَّاِثْمًا مُّبِیْنًاo(النساء:111-112)

اور جو شخص کوئی گناہ کرے تو بس وہ اپنی ہی جان پر (اس کا و بال عائد) کر رہا ہے اور اللہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے-اور جو شحص کسی خطا یا گناہ کا ارتکاب کرے پھر اس کی تہمت کسی بے گناہ پر لگا دے تو اس نے یقینا ایک بہتان اور کھلے گناہ (کے بوجھ) کو اٹھا لیا ‘‘-

رسول کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:

حضرت معقل بن یسار(رضی اللہ عنہ)سے روایت ہے کہ میں نےحضورنبی کریم (ﷺ)کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا:

مَا مِنْ أَمِيرٍ يَلِي أَمْرَ الْمُسْلِمِيْنَ، ثُمَّ لَا يَجْهَدُ لَهُمْ، وَ يَنْصَحُ، إِلَّا لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمُ الْجَنَّةَ

’’جو بھی امیر  مسلمانوں کے کسی معاملے  کا والی بنے ،پھر وہ ان کی خیرخواہی اوربھلائی کے لیے جدوجہدنہ کرے تووہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہوگا‘‘-(صحیح مسلم،کتاب الایمان)

فرمان سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ :

’’تجھ پر افسو س تو اپنے وقت کو علم کی طلب میں ضائع کرتا ہے اس پرعمل نہیں کرتا،تو جہالت کے قدم پر حرص میں ہے اللہ کے دشمنوں کی خدمت کرتا ہے اور انہیں اللہ عزوجل کا شریک ٹھہراتا ہے-اللہ تعالیٰ کو تیر ی اور تیرے شرک کی کوئی پروا ہ نہیں ،اسے اپنے ساتھ کوئی شریک قبول نہیں -کیا تجھے  نہیں پتہ کہ تو اُسی کابندہ کہلائے گاجس کے ہاتھ میں  تیر ی باگ  ہوگی،اگر تو اپنی بھلائی چاہتاہےتواپنے دل کی ڈور اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں دے،اسی کے ذات پہ حقیقی بھروسہ کر،اپنے ظاہر وباطن سے اس کی خدمت کر،اس پر تہمت نہ رکھ کیونکہ وہ ہرتہمت سے بری ہے، وہ تیر ی مصلحت تجھ سے زیادہ جانتاہے،وہ جانتا ہے اور تو نہیں جانتا-تجھ پہ لازم ہے کہ اس کے سا منے گم نام،آنکھیں بند کئے،سر کو جھکائے، گونگا اور خاموش بنا رہ،یہاں تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے تجھے بولنے کاحکم آجائے -اب تو اپنے ارادے سے نہیں اس کے ارادےسے بول ،ایسے میں تیرا بولنادلوں کے مرض کی دوا،باطن کے لئے شفا اورعقلوں کے لیے روشنی ہوگا ‘‘-(الفتح الربانی)

فرمان سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ:

ض: ضروری نَفس کُتّے نوں قِیما قیم کچیوے ھو
نال محبّت ذِکر اللہ دا دَم دَم پِیا پَڑھیوے ھو
ذکر کنوں ربّ حاصل تھِیندا ذاتوں ذات دِسیوے ھو
دوہیں جہان غلام تنہاندے باھو جنہاں ذات لبھیوے ھو (ابیاتِ باھو)

فرمان قائداعظم محمد علی جناح ؒ :

ایمان ، اتحاد، تنظیم

’’یاد رکھیے کہ ہم ایسی ریاست کی تعمیر کررہے ہیں ،جوعالمِ اسلام کی تقدیر بدلنے میں پورا پورا کردار ادا کرے گی-اس لیے ہمیں وسعت نظر کی ضرورت ہے جوصوبہ پرستی،محددوقسم کی قوم پرستی اور نسل پرستی سے ماورا ہو،ہمیں اپنے اندر ایسی حب الوطنی پیداکرنی چاہیے جو ہمیں متحد اور مضبوط قوم بنا کر ہم میں زندگی کی لہر دوڑادے‘‘- (خطاب اسلامیہ کالج پشاور،12 اپریل1948ء)

فرمان علامہ محمد اقبالؒ:

جو کرے گا امتیاز رنگ و خوں مٹ جائے گا
ترک خرگاہی ہو یا اعرابی والا گہر
نسل اگر مسلم کی مذہب پہ مقدم ہو گئی
اڑ گیا دنیا سے تو مانند خاکِ رہ گزر (بانگِ درا)

 

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر