مسلم انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام نیشنل لائبریری اسلام آباد میں ’’سیرت النبی (ﷺ) کانفرنس: 1500واں میلاد النبی (ﷺ)‘‘ کے عنوان سے ایک کانفرنس منعقد ہوئی- اجلاس کی صدارت راجہ ظفر الحق (سیکرٹری جنرل، موتمر العالم الاسلامی) نے کی، جبکہ صاحبزادہ سلطان احمد علی (چیئرمین،مسلم انسٹی ٹیوٹ) نے استقبالیہ کلمات پیش کیے-ڈاکٹر حبیب عاصم (چیئرمین، اقبال چیئر، بحریہ یونیورسٹی) اور ڈاکٹر حبیب الرحمن (صدر، سیرت ریسرچ سینٹر و ڈائریکٹر جنرل ڈی بی ایف سیرت انسائیکلوپیڈیا) نے اظہار خیال کیا-کانفرنس کی نظامت جناب یوسف جان بابر خوازی خیل (محقق، مصنف) نے کی- کانفرنس کے اختتام پر معروف نعت خواں راجہ حامد علی نے نعتیہ کلام پیش کیا- اس کانفرنس میں سفارتکاروں، علماء، وکلا، پالیسی سازوں اور ماہرینِ تعلیم نے شرکت کی اور مباحثوں میں بھرپور حصہ لیا-
مقررین کے اظہار خیال کا خلاصہ درج ذیل ہے :
استقبالیہ کلمات
صاحبزادہ سلطان احمد علی:
یہ ہماری سعادت ہے کہ آج ہم اس عظیم موقع پر جمع ہیں کہ جس میں اللہ کے آخری نبی، رسولِ رحمت حضرت محمد مصطفےٰ (ﷺ) کی ولادتِ باسعادت کا 1500واں جشن منایا جا رہا ہے- آپ (ﷺ) کی حیاتِ طیبہ اور سیرتِ مبارکہ قیامت تک کے انسانوں کے لیے ہدایت، امن اور رحمت کا سرچشمہ ہے-
قرآنِ مجید میں انبیاء کرام (علیھم السلام) کی ولادت کو اللہ تعالیٰ نے سلامتی اور امن کا دن قرار دیا ہے- سورہ مریم میں حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے یومِ ولادت پر سلام بھیجا گیا- جب سابقہ انبیاء کی ولادت کا ذکر بطور رحمت اور سلامتی کیا گیا تو پھر امام الانبیاء (ﷺ) کی ولادت کا دن بدرجہ اولیٰ عظمت اور تکریم کا مستحق ہے-
یہی وجہ ہے کہ خود رسول اللہ (ﷺ) نے اپنی ولادت کے دن کی عظمت کو اجاگر کیا- جیسا کہ ’’صحیح مسلم‘‘ کی حدیث مبارکہ ہے کہ جب آپ (ﷺ) سے پیر کے دن کے روزے کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ (ﷺ) نے فرمایا: ’’یہ وہ دن ہے جس میں میری ولادت ہوئی اور اسی دن مجھ پر وحی نازل ہوئی‘‘-
اس سے معلوم ہوا کہ یومِ میلاد ِ نبی کا شکر اور اظہارِ مسرت دراصل خود سنتِ نبوی (ﷺ) ہے-
رسول اللہ (ﷺ) نے اپنی حقیقت کو یوں بیان فرمایا: ’’میں اپنے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا اور عیسیٰ(علیہ السلام) کی اپنی قوم کو دی گئی بشارت ہوں‘‘-[1] قرآن کریم میں بھی حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل(علیہ السلام) کی وہ دعا مذکور ہے جب انہوں نے کعبہ کی تعمیر کے بعد عرض کی:
’’اے ہمارے رب! ان میں انہی میں سے ایک عظیم رسول بھیج دے ‘ جو ان لوگوں پر تیری آیات کی تلاوت کرے اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کے نفوس کی اصلاح کرے‘ بیشک تو ہی بہت غالب بڑی حکمت والا ہے‘‘- [2]
یوں آپ (ﷺ) کی ولادت دراصل اس دعا کی قبولیت اور تمام سابقہ انبیاء کی بشارتوں کی تکمیل تھی- آپ (ﷺ) کی بعثت کا مقصد انسانیت کو توحید کی طرف بلانا، اخلاق و کردار کو سنوارنا اور دنیا کو رحمت سے آشنا کرنا تھا- جیسا کہ قرآن کریم میں ہے: ’’اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر‘‘-[3]
ماحولیاتی تبدیلی کے چیلنجز اور حضور نبی کریم (ﷺ) کی تعلیمات:
ڈاکٹر حبیب الرحمٰن:
حضور نبی اکرم (ﷺ) کی ذات اقدس کائنات کیلئے سب سے بڑی نعمت ہیں حضور اکرم (ﷺ) کی سیرت کا ہر پہلو ہمیشہ تازہ رہتا ہے اور آئندہ نسلوں کے لیے ایک نہ ختم ہونے والا علمی سرمایہ فراہم کرتا ہے-
سیرتِ رسول (ﷺ) سے ہمیں ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے درس ملتا ہے- زمین، فضا، دریا، پہاڑ اور جنگلات سب انسانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور امانت دیے گئے ہیں-مسلمان کی شان یہ ہے کہ وہ امانت میں خیانت نہیں کرتا، اس لیے ماحول کی تباہی اور آلودگی سے بچنا دینی فریضہ ہے- موجودہ دور میں صنعتی ترقی، بے لگام کنزیومرازم، حد سے زیادہ سفر، گاڑیوں اور جہازوں کا بڑھتا ہوا استعمال، پلاسٹک اور ڈسپوزیبل کلچر، جنگلات کی کٹائی اور دریاؤں کی آلودگی تباہی کا بنیادی سبب ہیں- مثلاً دنیا ہر سال دو ارب ٹن کچرا پیدا کرتی ہے، پچاس ملین ٹن الیکٹرانک ویسٹ بنتا ہے اور آٹھ ملین ٹن پلاسٹک سمندروں میں پھینکا جاتا ہے اسی طرح صرف ہاؤسنگ انڈسٹری سے چالیس فیصد کاربن کا اخراج ہوتا ہے جبکہ فارمنگ انڈسٹری اور گوشت کی حد سے زیادہ کھپت سے چودہ فیصد سے زیادہ گرین ہاؤس گیسز خارج ہوتی ہیں-
قرآن کریم و سنت مبارکہ نے ہمیشہ اسراف، فضول خرچی اور گندگی سے منع کیا ہے-حضورنبی اکرم (ﷺ) کی سیرت پاک اس کی بہترین مثال ہے- آپ (ﷺ) وضو کے لیےمحض ڈیڑھ لیٹر اور غسل کے لیے ساڑھے چار لیٹر پانی استعمال فرماتے تھے-اسی طرح قرآن مجید نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ زمین کو صاف ستھرا رکھو، اسے بیکار نہ چھوڑو اور اگر کسی کے پاس کاشت نہ کرنے کی گنجائش ہو تو زمین کو کسی اور کے حوالے کر دے تاکہ زمین آباد ہو- یہ تعلیمات اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ اسلام میں ماحولیاتی توازن اور صفائی کو محض دنیاوی ضرورت نہیں بلکہ ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے-
ماحولیاتی بحران کا حل محض سائنسی ایجادات یا پالیسیوں میں نہیں بلکہ اسوۂ نبوی (ﷺ) کو اپنانے میں ہے- حضور نبی اکرم (ﷺ) کی تعلیمات ہمیں ایک متوازن طرزِ زندگی سکھاتی ہیں، جو نہ صرف فرد کے لیے سکون کا ذریعہ ہے بلکہ پوری انسانیت کیلئے خیر و فلاح کا راستہ بھی ہے- اگر دنیا اسلامی اصولوں کے مطابق ماحول کو اللہ کی امانت سمجھ کر اس کی حفاظت کرے تو نہ صرف یہ بحران ختم ہو سکتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کیلئے بھی ایک بہتر اور محفوظ زمین چھوڑی جا سکتی ہے-
عصر حاضر میں بین الثقافتی ہم آہنگی کے چیلنجز اور حضور (ﷺ) کی تعلیمات:
ڈاکٹر حبیب عاصم:
آقا کریم (ﷺ) کی عملی زندگی اور تعلیمات میں یہ اصول نمایاں طور پر جھلکتا ہے کہ دین تنگی پیدا کرنے کیلئے نہیں بلکہ وُسعت اور سہُولت کے لیے نازل ہوا ہے-یہی وجہ ہے کہ آپ (ﷺ) نے انسانی معاشرے کے اچھے اصولوں اور روایات کو ہمیشہ تسلیم کیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی-
اسلام کی بنیادی روح یہ ہے کہ جہاں بھی کوئی اچھائی موجود ہو، چاہے وہ کسی قبیلے یا غیر مسلم قوم میں پائی جاتی ہو، اس کو اختیار کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ وہ فطرت اور اخلاق کے دائرے میں ہو- رسول اللہ (ﷺ) نے سوید الازدی کے قبیلے کے پانچ اصولوں کو تسلیم کیا، جو شکر گزاری، صبر، قضا پر رضا، سچائی حتیٰ کہ دشمن کے ساتھ بھی اور دشمن پر شَماتت نہ کرنے پر مشتمل تھے-
اسلام نے ثقافتی ہم آہنگی اور وسعت قلبی کو فروغ دیا سیرتِ نبوی (ﷺ) میں کئی مواقع ایسے ہیں جب مختلف مذاہب اور ثقافتوں کے لوگ مسلمانوں کے ساتھ رابطے میں آئے اور آپ (ﷺ) نے ان کے ساتھ برداشت اور عزت کے ساتھ معاملہ فرمایا- ایک نمایاں مثال یہ ہے کہ نجران کے عیسائی علماء کو مسجد نبوی میں قیام کی اجازت دی گئی اور ان سے سوال و جواب کا سلسلہ جاری رکھا گیا- اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام مکالمے اور بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دیتا ہے اور دوسروں کے عقائد کے بارے میں برداشت کی تعلیم دیتا ہے-
اسلام نے فنون اور ثقافتی اظہار کی بھی گنجائش رکھی ہے- شاعری، غزل، دف بجانا یا شادی بیاہ کے موقعوں پر خوشی کا اظہار، یہ سب چیزیں آپ (ﷺ) کے زمانے میں موجود رہیں اسلام نے ان کو ختم نہیں کیا بلکہ ان کے لیے ایک اخلاقی دائرہ مقرر کر دیا- اس کا مقصد یہ تھا کہ انسانی جذبات اور خوشیوں کے اظہار کو ایک مثبت اور مُفید رُخ دیا جائے- اسلام نے فنون کو مکمل طور پر ردّ نہیں کیا اور نہ ہی انہیں بے لگام آزادی دی بلکہ ان کو اعتدال اور اخلاقیات کے سانچے میں ڈھالا-
اسلام کی وسعت نظری کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ غیر مسلم اقوام سے علمی، فنی اور معاشی میدان میں سیکھنے کی اجازت دی گئی ہے- البتہ سیاسی اور قومی معاملات میں محتاط رہنے کی ہدایت کی گئی تاکہ رازداریاں اور تعلقات مسلمانوں کے اجتماعی مفاد کے خلاف نہ ہوں- اس سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے مکمل علیحدگی یا نفرت کا رویہ نہیں اپنایا بلکہ تعاون اور سیکھنے کا دروازہ کھلا رکھا ہے-
صدارتی کلمات
سینیٹر راجہ ظفر الحق:
اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آپ (ﷺ) سے بے مثال محبت کریں، ایسی محبت جو دنیا کی ہر محبت سے بڑھ کر ہو- قرآن مجید واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ یہ محبت والدین، اولاد، مال و دولت اور حیثیت پر مبنی محبت سے بھی زیادہ ہونی چاہیے ایسی محبت کے بغیر حقیقی اطاعت ممکن نہیں-
رسول اکرم (ﷺ) کی جدوجہد، صبر، کامیابیاں اور روحانی عظمت پوری دنیا کیلئے سبق ہیں- آپ(ﷺ)کا انقلاب دولت یا عسکری قوت کے ذریعے نہیں بلکہ کردار اور عملی مثال کے ذریعے برپا ہوا- آپ(ﷺ)نے سچائی، رحمت، عدل، صبر اور انکساری کی مجسم صورت اختیار کی اور ایک بکھری ہوئی قوم کو متحد کرکے دنیا کی قیادت کے مقام تک پہنچایا-ہمیں باہمی انتشار اور اختلافات کے چیلنج کا بھی سامنا ہے- حضور نبی اکرم (ﷺ)کی حدیث کے مطابق امت ایک جسم کی مانند ہے، جب ایک عضو کو تکلیف پہنچتی ہے تو پورا جسم اُس کا درد محسوس کرتا ہے-فلسطین، کشمیر اور دنیا بھر میں مظلوم مسلمان ہماری یکجہتی اور حمایت کے مستحق ہیں اتحاد کے بغیر ہم کمزور ہیں، اتحاد کے ساتھ ہم عدل، امن اور بھلائی کے حقیقی علمبردار بن سکتے ہیں-
رسول اکرم (ﷺ) نے اپنے پیچھے پتھر کی عمارتیں نہیں چھوڑیں بلکہ زندہ یادگاریں چھوڑی ہیں جیسے، ابو بکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ، علیؓ، فاطمہؓ، عائشہؓ، بلالؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ کے کردار شامل ہیں- حقیقی تہذیب محلات اور نمائشوں سے نہیں بلکہ اقدار اور کردار سے بنتی ہے وہ معاشرہ جو آپ (ﷺ) نے تشکیل دیا عقل و فکر کی بنیادوں پر استوار تھا، جس نے ابن سینا، الفارابی، غزالی اور ابن عربی جیسے روشن مینار پیدا کیے- آج ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم بھی اپنے معاشرے کو جذباتی نعروں پر نہیں بلکہ عقلی استدلال اور فکری بنیادوں پر تعمیر کریں-
وقفہ سوال و جواب :
عالمی سرمایہ دارانہ نظام نے لوگوں کے شعور اور احساس کو متاثر کیا ہے، لیکن مقامی سطح پر ہم اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنی اصلاح کر سکتے ہیں- اسراف سے بچنا، سادگی اپنانا اور فطرت سے قریب رہنا کلائمیٹ کے بحران کے حل کی طرف پہلا قدم ہے- بچوں کو گھر کے ماحول میں قرآن و سنت سے جوڑا جائے، ایک بچے نے دادا، دادی سے صحابہ کرام کی کہانیاں سن کر یہ خواہش کی کہ وہ خود بھی صحابی بنے اس سے واضح ہے کہ عملی ماحول اور خاندان کی تربیت بچوں کے رویے پر سب سے زیادہ اثرانداز ہوتی ہے-سیرت النبی(ﷺ) میں سادہ، متوازن اور صحت مند زندگی کی رہنمائی ملتی ہے- یہ ضروری ہے کہ پالیسی سطح پر بھی ایسے اصول اپنائے جائیں تاکہ معاشرہ مجموعی طور پر صحت مند رویوں کی طرف بڑھ سکے-سوشل میڈیا اور ٹیکنالوجی ایک چیلنج ہے، لیکن موقع بھی ہے ضروری ہے کہ جدید پلیٹ فارمز جیسے سوشل میڈیا اور مصنوعی ذہانت (AI) کو استعمال کرتے ہوئے بچوں اور نوجوانوں کے لیے اعلیٰ معیار کا اسلامی مواد تیار کیا جائے، تاکہ وہ بیرونی کلچر کے ساتھ ساتھ اپنی اقدار اور سیرت النبی (ﷺ) سے بھی جڑے رہیں-
٭٭٭