انسانی حقوق کی پامالی : بوسنیا کے مسلمانوں کی نسل کُشی کا جائزہ اور اسباق

انسانی حقوق کی پامالی : بوسنیا کے مسلمانوں کی نسل کُشی کا جائزہ اور اسباق

انسانی حقوق کی پامالی : بوسنیا کے مسلمانوں کی نسل کُشی کا جائزہ اور اسباق

مصنف: میجرجنرل(ر) خالد عامر جعفری جنوری 2026

یہ موضوع میرے لیے خاص طور پر تکلیف دہ ہے، کیونکہ میں نے بوسنیا میں اپنی آنکھوں سے اُن لوگوں کی نسلوں کو دیکھا ہے جنہوں نے یہ مظالم سہے، وہ علاقے دیکھے ہیں جو جینوسائیڈ کا حصہ تھے، قبریں دیکھیں- یہ جدید یورپی تاریخ کے سب سے تاریک ابواب میں سے ایک ہے- بوسنیا کی جنگ کے دوران ہونے والا جینوسائیڈ ایک تکلیف دہ عمل ہے لیکن اس کی یاد دہانی ضروری ہے - اس بات کو سمجھنا کہ یہ ہولناک واقعات کیسے پیش آئے، ہمیں اس قابل بناتا ہے کہ ہم مستقبل میں ایسے سانحات کا راستہ روک سکیں- بدقسمتی سے، یہ واقعات دہرائے بھی جاتے ہیں -

بوسنیائی جینوسائیڈکوئی اچانک یا تنہا رونما ہونے والا واقعہ نہیں تھا- یہ سیاسی جوڑ توڑ، نسلی قوم پرستی اور ایک پوری قوم کو مٹانے کی سوچی سمجھی مہم کا نتیجہ تھا- 1992 سے 1995 کی جنگ کے دوران ایک لاکھ سے زائد افراد قتل ہوئے، لاکھوں بے گھر ہوئے اور بے شمار خاندان ٹوٹ کر بکھر گئے- اس سانحے کا بنیادی مقصد بوسنیائی مسلمانوں کی منظم نسل کشی تھی—جسے سابق یوگوسلاویہ کیلئے قائم بین الاقوامی فوجداری ٹربیونل (ICTY) اور عالمی عدالتِ انصاف نے باضابطہ طور پر جینوسائیڈقرار دیا- دوسری جنگِ عظیم کے بعد یورپ میں یہ واحد تسلیم شدہ جینوسائیڈہے-

یہ سمجھنے کے لیے کہ بیسویں صدی میں ایسا کیسے ہوسکتا ہے، ہمیں تاریخی پس منظر دیکھنا ہوگا- دوسری جنگِ عظیم کے بعد بوسنیا و ہرزیگووینا، یوگوسلاویہ کی ایک جمہوریہ کے طور پر موجود تھا جو کئی قومیتوں پر مشتمل ریاست تھی- صدر جاسف براز ٹِٹو کے دور میں نسلی تناؤ موجود تو تھا مگر قابو میں رہا- بوسنیا ایک منفرد خطہ تھا جہاں بوسنیائی مسلمان، آرتھوڈوکس سرب اور کیتھولک کروٹس ایک ساتھ، مخلوط آبادیوں میں رہتے تھے-مگر 1980 میں ٹِٹو کی وفات کے بعد یوگوسلاویہ بکھرنے لگا- شدید معاشی بحران، سیاسی مفادات اور مرکز میں کمزور ہوتی حکومت نے ایک خلا پیدا کیا- اس خلا کو قوم پرست رہنماؤں نے پُر کیا- سب سے نمایاں نام سربیا کے سلوبودان میلوشووچ کا تھا، جو ’’گریٹر سربیا‘‘ کے نعرے کے ساتھ سامنے آیا- آج بھی ہم بعض رہنماؤں کو اس طرح کی زبان استعمال کرتے دیکھتے ہیں-مثلاً مودی کا ’’اکھنڈ بھارت‘‘- یہ مماثلت حیران کن ہے- میلوشووچ کی زبان نے پرانے زخم ہرے کیے، خوف پیدا کیا اور سرب باشندوں کو مظلوم بنا کر پیش کیا کہ انہیں ’’بچانے‘‘ کی ضرورت ہے- یہ بیانیہ تیزی سے پھیلا اور اس نے یوگوسلاویہ بھر میں پہلے سے موجود تناؤ کیلئے جلتی پہ تیل کا کام کیا-

1991ء میں جب سلووینیا اور کروشیا نے آزادی کا اعلان کیا تو جنگ چھڑ گئی- بوسنیا، جہاں کوئی ایک کمیونٹی اکثریت میں نہ تھی اور سیاسی توازن نازک تھا، اگلا ہدف بنا- مارچ 1992ء میں آزادی کے لیے ریفرنڈم ہوا- اکثریت نے اسے منظور کیا، مگر بیشتر بوسنیائی سربوں نے بائیکاٹ کیا- اس کے فوراً بعد سرب رہنماؤں نے، سربیا کی پشت پناہی سے، منظم تشدد کی مہم شروع کی اور یوں بوسنیائی جنگ کا آغاز ہوا-

شروع ہی سے یہ جنگ محض عسکری محاذ آرائی نہیں تھی، بلکہ اس میں باقاعدہ اور منظم کوشش تھی کہ بوسنیائی مسلمانوں اور غیر سرب باشندوں کو اُن علاقوں سے نکال دیا جائے جنہیں سرب فورسز اپنا علاقہ کہتی تھیں- اسے بعد میں نسل کشی کہا گیا،یعنی لوگوں کو ان کی شناخت کی بنیاد پر قتل کرنا، جبری طور پہ بے دخل کرنا یا ہجرت پر مجبور کرنا- اقوامِ متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اور(International Criminal Tribunal for the former Yugoslavia)  ICTY نے ان مظالم کو تفصیل سے دستاویزی شکل دی-

سرائیوو کا محاصرہ اس جنگ کا اہم باب ہے- دارالحکومت کو تقریباً 4 سال محاصرے میں رکھا گیا،جو جدید تاریخ کا طویل ترین محاصرہ ہے- شہریوں کو نشانہ بنا کر قتل کیا جاتا تھا، بازاروں، اسپتالوں اور اسکولوں پر مارٹر گولے گرائے جاتے رہے- 11 ہزار سے زائد شہری مارے گئے، جن میں 1500 سے زیادہ بچے شامل تھے- یہ واضح تھا کہ عام لوگ حادثاتی طو رپہ نشانہ نہیں بنے بلکہ براہِ راست نشانہ بنائے گئے تھے-حال ہی میں آپ نے سنا ہوگا کہ اٹلی اس حوالے سے تحقیقات کر رہا ہے - یہ کوئی الزامات نہیں،میں نے خود وہ مقامات دیکھے ہیں جہاں سے یہ اسنائپر فائر کرتے تھے- یورپ بھر سے بڑے بڑے بزنس مین اور سرمایہ دار لوگ پیسے دے کر آتے تھے اور بوسنیائی مسلمانوں، خصوصاً بچوں پر سنائپر سے گولی چلانے کی اجازت لیتے تھے، جیسے کسی سفاری میں شکار ہو رہا ہو-جب میں نے پہلی بار یہ سنا تو مجھے لگا مبالغہ آرائی کی گئی ہے- لیکن سرائیوو کے لوگوں نے کہا: ’’یہ وہ جگہ ہے جہاں سے ہمیں نشانہ بنایا جاتا تھا‘‘-

میں تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ انسانیت اس حد تک گر سکتی ہے کہ پیسے دے کر مسلمانوں کو ویسے مارا جائے جیسے کسی شکار گاہ میں ہرن یا دوسرے جانوروں کا سنائپر سے شکار کیا جاتا ہے - مسلمانوں کے خلاف انتہاپسندانہ نفرت جو ان کے آباؤ اجداد سے چلی آرہی تھی،ان مظالم کی بنیادی وجہ تھی-

میڈیا نے مختلف کیمپ، جیسے اومارسکا، کراٹرم اور ٹرنپولجےبھی دریافت کیے جہاں قیدیوں کو بھوک، تشدد اور قتل کا سامنا کرنا پڑا- خاردار تاروں کے پیچھے نحیف و نزار قیدیوں کی تصاویر نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا-ریپ کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا—خواتین اور لڑکیوں کو منظّم انداز میں زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تاکہ انہیں خوفزدہ، رسوا اور نفسیاتی طور پر تباہ کیا جائے- ہزاروں خواتین کو مخصوص ’’ریپ کیمپوں‘‘میں رکھا جاتا تھا تاکہ ان کا حمل ضائع نہ ہوسکے- حملہ آور اعلان کرتے تھے:’’ہم تمہاری نسل بدل دیں گے‘‘- بعد میں ICTY نے ریپ کو جنگی جرم اور انسانیت کے خلاف جرم قرار دیا-

سربرینیتسا کے قتلِ عام کے بارے میں آپ سب نے سنا ہوگا، اس جنگ کا سب سے دلخراش باب ہے- یہ جولائی 1995 میں مشرقی بوسنیا کے ایک چھوٹے سے قصبے میں پیش آیا- اسے 1993 میں اقوامِ متحدہ نے محفوظ علاقہ قرار دیا تھا، لیکن وہاں تعینات امن فوج نہایت کمزور، کم تعداد میں اور لڑنے کے قابل نہ تھی-11 جولائی 1995 کو سرب جنرل رتکو ملادچ کی افواج نے اس علاقے پر قبضہ کر لیا- ڈچ امن فوج نے انہیں اندر آنے دیا- آنے والے دنوں میں 8 ہزار سے زائد بوسنیائی مسلمان مردوں اور لڑکوں کو عورتوں سے الگ کر دیا گیا، اب تک کی گنتی کے مطابق ان کی تعداد 8372  ہے جنہیں مختلف مقامات پر لے جا کر اجتماعی طور پر گولیاں مار دی گئی- زندہ بچ جانے والوں کے مطابق قاتل فائرنگ کرتے کرتے تھک جاتے، پھر کافی کا وقفہ لیتے اور واپس آکر دوبارہ قتل عام شروع کر دیتے- لاشوں کو پہلے اجتماعی قبروں میں دبایا گیا، پھر ثبوت چھپانے کے لیے قبریں کھود کر لاشوں کو مختلف جگہوں پر ٹکڑوں کی صورت میں بکھیر دیا گیا- آج تک ہر سال 11 جولائی سے قبل ان باقیات کو جمع کر کے ، ڈی این اے ٹیسٹ کر کے، شناخت کے مطابق تابوتوں میں دفن کیا جاتا ہے- یہ منظر میری زندگی کے سب سے افسوسناک مناظر میں سے ایک ہے- ICTY اور عالمی عدالت دونوں نے اسے باضابطہ جینوسائڈقرار دیا یعنی ایک قوم کے حصے کو جان بوجھ کر مٹانے کی کوشش-ہمیں ایک گودام دکھایا گیا جہاں فائرنگ ہوئی تھی- خون کے دھبے اب بھی دیواروں پر موجود تھے- سربرینیتسا کا واقعہ صرف بوسنیا کا سانحہ نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے تنبیہ ہے-

بین الاقوامی برادری کا ردِعمل سست، کمزور اور افسوسناک حد تک ناکافی تھا- برسوں دنیا خاموشی سے نسل کشی دیکھتی رہی- امن فوج کے پاس اختیارات، وسائل اور سیاسی حمایت کی کمی تھی- صرف سربرینیتسا کے بعد، اور سرائیوو کے ’’مارکالی مارکیٹ‘‘ پر گولہ باری کے بعد، نیٹو نے سرب فورسز کے خلاف کارروائی کی- اسی کے بعد طاقت کا توازن بدلا اور ڈیٹن معاہدے پر دستخط ہوئے، جس نے جنگ ختم کی- مگر اتنی تاخیر مہذب دنیا کے ماتھے پہ ایک بڑا اور بدنُما داغ ہے-

بوسنیا کے سابق صدر، حارث سیلائجزق، جو ایک عظیم رہنما ہیں، نے مجھے بتایا کہ وہ مدد کیلئے دنیا بھر کے دارالحکومتوں میں گئے- آخر کار ویانا سے انہیں وہ مدد ملی، اور اگلے دن عالمی میڈیا نے بوسنیا کے مظالم کو دکھانا شروع کر دیا- مجھے یاد ہے کہ میں اُس وقت کوئٹہ میں تعینات تھا اور ہم نے مارکالی مارکیٹ پر حملے کی خبریں دیکھی تھیں- سربوں نے عجیب دعویٰ کیا کہ ’’یہ بوسنیائیوں نے خود کیا ہے‘‘- انسان کہاں تک مضحکہ خیز بات کر سکتا ہے!

جنگ کے بعد ICTY نے جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور نسل کشی کرنے والوں کے خلاف مقدمات چلائے- ملادچ اور کاراڈچ دونوں کو نسل کشی پر سزا ملی- درجنوں فوجی، سیاسی اور پولیس اہلکار بھی سزا یافتہ ہوئے- انصاف مکمل یا مثالی تو نہیں، لیکن ان مقدمات نے ایک مضبوط قانونی مثال قائم کی کہ بڑے جرائم کے مرتکب حتیٰ کہ سربراہِ مملکت بھی سزا سے نہیں بچ سکتے-

اعدادوشمار صرف ایک پہلو بتاتے ہیں کہ ایک لاکھ سے زیادہ افراد قتل ہوئے- جبکہ تقریباً 20 لاکھ بے گھر ہوئے- پورے پورے قصبے مٹ گئے- ہزاروں لوگ آج بھی لاپتہ ہیں- ہر عدد کے پیچھے ایک خاندان ہے، ایک خواب ہے، ایک بکھرتا ہوا مستقبل ہے- زندہ بچ جانے والوں کے ذہنی زخم کبھی نہیں بھرتے- سربرینیتسا میں جب عورتیں اور بچے بھاگ کر نزدیک ترین شہر تُزلہ پہنچے، وہاں پاکستانی بٹالین تعینات تھی اور پاکستانی بٹالین نے اپنے تمام راشن تین دن تک ان لوگوں کو کھلانے کے لیے پیش کر دیے- آج وہاں ان کے نام سے ایک یادگار قائم ہے،یہ میجر راجہ عزیز بھٹی کی بٹالین تھی-

بوسنیائی نسل کشی ہمیں تلخ مگر اہم سبق دیتی ہے- سب سے بڑھ کر یہ کہ نسل کشی لفظوں سے شروع ہوتی ہے- قوم پرستی، پروپیگنڈا، نفرت انگیزی،یہ سب بنیادی عناصر ہوتے ہیں- ایسا وقت آ جاتا ہے جب ایک گروہ کو دوسرے کے لیے خطرہ بنا کر پیش کیا جاتا ہے- اس وقت دنیا کو جاگ جانا چاہیے-احتساب کے بغیر امن کمزور ہوتا ہے- انصاف صرف سزا کا نام نہیں،یہ سچائی، یادداشت اور تاریخ کو مسخ ہونے سے روکنے کا نام ہے- بوسنیا کو نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ بقائے باہمی کی علامت تھا- اسے تباہ کر کے یہ ثابت کرنا مقصد تھا کہ مختلف قومیتیں ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں- بوسنیا کے جینوسائیڈکو یاد رکھنا محض سوگ نہیں،ذمہ داری بھی ہے- ہم ان مظلوموں کو یاد رکھتے ہیں تاکہ وہ بھلائے نہ جائیں- ہم ان واقعات کا ذکر کرتے ہیں تاکہ سچ جھٹلایا نہ جائے- ہم تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تاکہ آنے والی نسلیں خطرے کی علامات پہچان سکیں اور ہم امن، انصاف اور انسانیت کی حرمت کے عزم کو تازہ کرتے ہیں- بوسنیا کی داستان ہمیں یاد دلاتی ہے کہ جینوسائڈ صرف ماضی کی قدیم ادوار میں نہیں بلکہ یہ جدید دنیا میں، مہذب معاشروں  کی ناک تلے بھی ہو سکتاہے- اسی لیے اسے صرف برسی پر نہیں بلکہ ہمیشہ یاد رکھنا ضروری  ہے -

آئیے! ہم مظلوموں کا احترام اس طرح کریں کہ دنیا کو ایسا بنانے کی کوشش کریں جہاں ایسے جرائم واقعی ناقابلِ تصور بن جائیں- ہم زندہ بچ جانے والوں کی عزت اس طرح کریں کہ سچائی، انصاف اور مصالحت کو اپنا فرض سمجھیں  اور ہم اپنی مشترکہ انسانیت کا احترام اس طرح کریں کہ ’’پھر کبھی نہیں‘‘ صرف ایک نعرہ نہیں بلکہ حقیقت بن جائے-

٭٭٭

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر