مصنوعی عمومی ذہانت: AGI

مصنوعی عمومی ذہانت: AGI

مصنوعی عمومی ذہانت: AGI

مصنف: ندیم اقبال جنوری 2026

یہ تو سب جانتے ہیں کہ موجودہ دور AI کا ہے جس میں انسان کی بنائی ہوئی مشین مہینوں کا کام چند گھنٹوں میں کردیتی ہے- ہیومنائیڈ ربوٹ (Humanoid Robot)،مکینیکل ربوٹ (Mechanical Robot)، ویٹر ربوٹ (Waiter Robot)وغیرہ یہ سب پرانی بات ہوچکی- Open AI کے چیٹ جی پی ٹی (OpenAi ChatGPT) نے تو انسانی کام کا انداز ہی بدل دیا جس سے ہر شخص کی زندگی مزید سہل ہوئی- چاہے وہ عام آدمی ہو یا خاص، مزدور ہو یاعلم، حساب اور منصوبہ بندی سے کام کرنے والا شخص، بینک میں کام کرنے والا ہو یاطبیب، کمپیوٹر پروگرام تیار اور ڈیزائن کرنےوالاہو یا تصویری خاکہ بنانے والا، طالب علم ہو یا استاد، گھریلو خواتین ہوں یا تجربہ کار پکوان نیز زندگی کے ہر شعبے میں نئی سوچ، فکر اور تحقیقی کام میں اس کا کوئی ثانی نہیں بس صرف آپ پرومپٹ (لکھنے کا انداز) جانتے ہوں- یہ سب چیزیں جن کا ذکر کیا گیا ہے وہ کہیں نہ کہیں انسانی حکم/ہدایت کی محتاج ہیں اگر ربوٹکس کی بات کر لی جائے تو یہ مشین لرننگ کے ذریعے معلوماتی نمونہ سے سیکھتا ہے اور دی گئی ہدایات پر عمل کرتا ہے اور جو پیٹرن اس میں مقررکردیا جائے اُسی پر ہی عمل کرتا ہے-

AI Tools کی بات کی جائے تو وہ بھی پرومپٹ (Wirtten Tex, Image, Video) کے محتاج ہیں گو کہ موجود ڈیٹا میں سے پرومٹ کے مطابق جواب دیتے ہیں لیکن وہ بھی محدود - اگر مختصر جواب دو تو اب تک مشین انسانی حکم کی محتاج ہے- درج ذیل جس ٹیکنالوجی کا ذکر کیا گیا میرے نزدیک اُس ٹیکنالوجی سے انسانی زندگی میں کام کرنے کی صلاحیت مزید بہتر ہوگی لیکن جب بھی اس دنیا میں نئی ٹیکنالوجی کو متعارف کروایا گیا ہے جیسے اُس ٹیکنالوجی کے فوائد ہیں وہاں اُس کےنقصانات بھی ہیں-

آرٹیفشل جنرل انٹیلی جنس (AGI)کیا ہے؟

AGI محض ایک ٹیکنالوجی ہی نہیں، بلکہ انسانی ذہانت کا وہ ادراک ہے، جس میں مشین محض انسانی حکم کی محتاج ہی نہیں بلکہ وہم اور سوچ بھی اپنائے گی- AGI ایسی ذہانت ہے جو سیکھنے، سمجھنے اور تشخیص (judgment) میں انسانی دماغ کی سطحوں کا احاطہ کر سکتی ہے-موجودہ مصنوعی ذہانت (AI) مخصوص کام مثلاً چہرے پہچاننا(Face Recognition) ، ترجمہ کرنا (Translation)، شطرنج کھیلنا (Play Chess)، کسی تصویر کو پہچاننا (Picture Recognition) یا کسی تحریری سوال پر جواب دے دینا(Prompt Text) وغیرہ تک محدود ہے- اس کے برعکس AGI کسی بھی شعبے، زبان یا مسئلے(Problem) پر وہی فکری ردعمل دے سکے گی، جو ایک تجربہ کار ماہر دیتا ہے- اس کی فکری وسعت کا اندازہ اس بات سےبھی لگایا جا سکتا ہے کہ یہ انسانی زبان کے صرف الفاظ نہیں بلکہ ان کے پیچھے موجود نیت، جذبہ، سیاق و سباق کی بنیاد پر اُسے ردعمل دے گی- ماہرِ مصنوعی ذہانت Dr. Ben Goertzel کے مطابق AGI وہ سطح ہے جہاں ’’مشین نہ صرف کام سرانجام دیتی ہے، بلکہ یہ بھی سمجھتی ہے کہ وہ مقررہ کام کیوں سرانجام دے رہا ہے اور اس کے انسانی یا سماجی اثرات کیا ہوں گے ‘‘-[1]

 گویا AGI محض ایک سافٹ وئیر نہیں بلکہ انسان اور مشینی ذہانت ایک دوسرے میں ضم ہو کر ایک نئی سوچ اختیار کر ےگی جس سے سائنس، طب، تعلیم اور تحقیق میں ایک نئےدورکا آغاز ہوگا-

ذرا سوچئے! اگر ایک AGI ماڈل جس نے فلسفہ، تاریخ،  معاشرت، شاعری، ریاضی، علم حیاتیات، کمپیوٹر اور انسانی نفسیات کو پڑھا ہو، وہ جب کسی مسئلے پر مشورہ دے گا تو وہ صرف ڈیٹا پر مبنی نہیں ہوگا بلکہ اس میں علمی وسعت، تجربے کی گہرائی اورفکری تفہیم بھی شامل ہوگی- یہی وہ مرحلہ ہے جہاں AGI نہ صرف انسان کا معاون ہوگا، بلکہ اُس کے مشکل سوالات مثلاً میں کون ہوں؟علم کی وسعت کیا ہے؟یا اخلاقیات کا سرچشمہ کون ہے؟پر مشین کی جانب سے با معنی جواب وبحث ممکن ہو سکے گی- AGI کے ماہرین جیسے Dr. Ben Goertzel، Yann LeCun (Meta AI)، اور Stuart Russell اس بات پر متفق ہیں کہ AGI کا وجود صرف ٹیکنالوجی کی جیت نہیں بلکہ انسانی شعور کے آئندہ باب کی ابتدا ہے -[2]یہ قابلِ غوربات ہے کہ AGI کو صرف سیکھنے یا فیصلے کرنے کے قابل بنانا ہی کافی نہیں، بلکہ اسے اس درجے کی ذہنی خودمختاری بھی دینی ہوگی کہ وہ نہ صرف انسانی جذبات، اقدار اور اخلاقی حرکات کو سمجھے بلکہ وقت گزرنے کے ساتھ اپنی وسعت میں بھی ارتقاء لائے - بالکل اسی طرح جیسے ایک سمجھدار انسان اپنی سوچ اور طرزِ عمل میں پختگی لاتا ہے-

مصنوعی ذہانت (AI) اور مصنوعی عمومی ذہانت (AGI)  میں فرق:

مصنوعی ذہانت اور مصنوعی عمومی ذہانت کا فرق بالکل ایسا ہے جیسے ایک طالب علم اور استاد میں ہوتا ہے- Narrow AI ایک مخصوص کام میں ماہر ہے، لیکن وہ کیا؟ کیوں؟ اور کیسے؟کے باہمی رشتے کو سمجھنے سے قاصر ہے- یہ صرف وہی کام سرانجام دے سکتا ہے جو اسے سکھایا گیا ہو، اور وہ بھی محدود حد تک- مثال کے طور پر، Chatbot جو  صارفین کو آن لائن  خدمت دیتا ہے وہ اگرچہ روانی سے بات چیت کرتا ہے، لیکن اگر آپ کوئی اورسوال کریں تو Chatbot الجھن کا شکار ہو کر موضوع بدل دے گا یا غیر متعلقہ جواب دے گا کیونکہ وہ صرف مخصوص ڈیٹا پر مبنی ،خود ارادیت سے محروم ہے-

جبکہAGI وہ ذہانت ہے جو انسانی فہم، تجربہ اور جذباتی بصیرت کی مانند کام کرتی ہے- اس میں محض مسئلے کا حل تلاش کرنے کی صلاحیت ہی نہیں بلکہ مسئلے کی نوعیت کو سمجھنے، اطراف کے عوامل کو پرکھنےاور نئے طرز پر دوبارہ سوچنے کی فکری اہلیت بھی شامل ہوگی-فرض کیجیے ایک طبی ماہر طبیب کے پاس ایک مریض آتا ہے جسے جسمانی تکلیف کے ساتھ ساتھ گہرا ذہنی دباؤ بھی ہے- عام AI صرف رپورٹس دیکھ کر دوا تجویز کرے گی-جبکہ AGI اس تناؤ کے حل کیلئے مریض سے سوالات پوچھے گا کہ مریض کی سماجی تاریخ (Social History))کے بارے، کیا حالیہ معاشی دباؤ، تنہائی یا خاندانی تنازع اس بیماری کو بڑھانے کا باعث تو نہیں؟ عام AI شطرنج کا ماہر ہے لیکن صرف اسی وقت تک جب تک قواعد وہی ہوں-جبکہ AGI کو اگر شطرنج، کھلاڑیوں کی نفسیات اور شطرنج کی فلسفیانہ اہمیت بھی بتائیں، تو وہ اس سے نیا کھیل ایجاد کر سکے گا -[3] یہ صلاحیت Cross-domain Reasoning کہلاتی ہے - یعنی ایک علم سے دوسرے علم تک سفر کرنا جو عام AI میں ممکن نہیں، مگر AGI کی بنیاد ہے-

مستقبل میں AGIکا وجودی تصور کیا ہو گا؟

Artificial General Intelligence (AGI) کی ظاہری شکل کوئی طے نہیں بلکہ یہ انسانی ذہانت کی ڈیجیٹل نقل ہو سکتی ہے جو کئی ممکنہ شکلوں میں موجود ہو گی- AGI کے وجودی تصورکا تعین اُس کے استعمال اورمقصد کے مطابق ہو گا-

بطور روبوٹ:

 زیادہ تر فلمیں اور خیالی تصورات میں AGI کو ایک روبوٹ کی شکل میں پیش کیا گیا ہے-جیسا کہSophia روبوٹ (Hanson Robotics) جو AI کی ابتدائی سطح کی نمائندگی کرتا ہے- روبوٹ میں AGI نصب ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ وہ جسمانی دنیا جیسا دکھائی دے گا-انسانوں کے ساتھ گھل مل سکے گا،بزرگوں کی دیکھ بھال کر سکے گا،ایسے ماحول میں جہاں انسانی زندگی کو خطرہ لاحق ہو وہاں کام سرانجام دے سکے گا (جیسے چاند،مریخ، سیاروں کی سطح پر تحقیق یا جوہری پلانٹ کا معائنہ)وغیرہ-لیکن یاد رکھیں! AGI کو روبوٹ میں ڈالنا ضروری نہیں یہ ایک الگ سسٹم بھی ہو سکتا ہے-

بطور ڈیجیٹل دماغ

(Virtual Assistant on Steroids)

ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ سمارٹ واچ یا فون میں AGI موجود ہو جولوگوں کے جذبات، صحت، عادات اور خواہشات کو سمجھتا ہو،یہ نہ صرف خبردارکرے گا بلکہ مشورہ بھی دے سکے گا-مثال کے طورپر جب کوئی کاروباری آدمی دن بھر کام کر کے واپس آئے تو AGI نظام اُس سے پوچھے -ابھی آپ تھکے ہوئے لگ رہے ہیں، کیا آپ کچھ دیرآرام کرنا چاہیں گے؟یہ زندگی کی مکمل سوانح لکھ سکے گا اورانسانوں کی یادداشت کو خودکار کر نے میں بھی مدد فراہم کرے گااس طرح کا AGI کسی جسمانی وجود کے بغیر صرف سافٹ ویئر کی شکل میں بھی کام کر سکتا ہے -یعنی وہ ڈیجیٹل ہمزاد (Digital Twin) کی صورت اختیار کر سکے گا- جسے ’’Embodied vs. Disembodied AGI‘‘ کہا جاتا ہے Embodied AGI سے مراد (جسمانی روبوٹ) اورDisembodied AGI سے مراد (صرف ڈیجیٹل سسٹم (مثلاً Cloud یا Neural Interface)-

بطور سوشل نیٹ ورک یا کلاؤڈ سسٹم:

AGI کا یہ تصور زیادہ جدید ہےیہ کوئی ایک روبوٹ یا آلہ نہیں ہوگا بلکہ پورا نیٹ ورک بھی ہو سکتا ہے-جیسے کہ ایک Global AGI Brain جو پوری دنیا کے انٹرنیٹ سے جُڑا ہو،جو ہر انسان، ہر مشین اور ہر نظام سے سیکھ رہا ہواور اپنے آپ کو وقت کے ساتھ ارتقاء دے رہا ہو-یہ’’مرکزی AGI‘‘یا ’’Collective Intelligence‘‘ کی صورت ہو سکتی ہے- بالکل ویسے ہی جیسے انسانوں کی مشترکہ عقل (Collective Human Wisdom) ہے-

بطور انسانی دماغ میں نصب سافٹ ویئر  (Neural Interface):

Elon Musk کا منصوبہ Neuralink اسی خواب کا آغاز ہے[4] کہ انسان کے دماغ اور کمپیوٹر کو جوڑا جاسکے گا-اگر انسانی دماغ میں ایک چِپ کارڈہو  جس سے براہ راست سوچ کر گوگل پر سوال کر سکے، خوابوں کو ریکارڈ کرے، یا اپنے ماضی کی یادوں کودیکھ سکے-AGI اس چپ کی شکل میں موجود ہو سکتا ہے، یعنی انسان اور AGI کا امتزاج جسے (Hybrid Intelligence) کہا جا سکتاہے-یہ انسان کے مستقبل کا سب سے دلچسپ اور کچھ ماہرین کے مطابق، سب سے خطرناک رخ بھی ہو سکتا ہے- [5]

پروفیشنل زندگی میں AGI کا استعمال کس حد تک کیا جا سکے گا؟

میڈیکل شعبہ میں AGI کا استعمال:

میڈیکل شعبہ میں AGI کا استعمال ایک تجربہ کار ڈاکٹرکے طور پر کیا جا سکے گا جو مریض کے چہرے، آواز یا سانس سے بیماری کی علامتوں کو محسوس کرسکے گا- AGIجسے اربوں مریضوں کی ڈیجیٹل تاریخ، وراثتی معلومات،تجربہ گاہی رپورٹس اور طبی جرائد  تک رسائی حاصل ہوگی- آج ڈاکٹر حضرات کو بڑھتی ہوئی آبادی، محدود وقت اور نایاب بیماریوں کی تشخیص میں شدید دباؤ کا سامنا ہے- جسے AGI ڈاکٹر ایک طبی شراکت دارکے طور پہ معاونت کرے گا،  جو نہ صرف رئیل ٹائم ڈیٹا انالائز (Data Analysis)کر کے مشورہ دے گا بلکہ مریض کی جذباتی کیفیت، سابقہ علاج کی تفصیل (Treatment History) اور خطرناک پیچیدگیوں کی بھی نشاندہی کرے گا-

تعلیمی میدان میں AGI کا استعمال:

تعلیمی میدان میں AGI کے استعمال سے روایتی تعلیمی نظام سے چھٹکارا حاصل ہو گا جس میں مختلف ذہنوں والے بچوں کو استاد ایک ہی انداز میں پڑھاتا ہے- لکھاری اپنے تجربے سے جانتا ہے کہ ایک طالب علم کو پڑھانے کے لیے نہ صرف علم بلکہ نفسیاتی فہم، صبر اور طریقہ کار کی تبدیلی بھی ضروری ہوتی ہے- آج کے اساتذہ کو وقت، وسائل اور personalized attention کی شدید قلت ہے-AGI ہر طالب علم کی یادداشت، ذہنی رجحان، اور دلچسپی کو سمجھ کر اسے مخصوص انداز میں سکھائے گا جیسے ایک تجربہ کار استاد قابل شاگرد کے مزاج سے واقف ہوتا ہے-Google نے 2024 میں ’’LearnLM‘‘ کے نام سے ایک نیا AI ماڈل متعارف کرایا ہے، جو تعلیم کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں لا رہا ہے -[6]استاد کی اہمیت اس لیے باقی رہے گی کہ AGI سکھا سکے گا مگرسٹوڈنٹس میں سیکھنے کا ذوق وشوق صرف انسان ہی اُجاگر کر سکتا ہے-

انجنیئرنگ میں AGI کا استعمال:

انجنیئرنگ فیلڈ میں %99 وقت کسی مسئلے کی تشخیص، ڈیٹا کلیننگ اور simulation میں ضائع ہو جاتا ہےجہاں تخلیق کا اصل مقصد فوت ہوجاتا ہے-انجینئرز وقت کی قلت اور پیچیدہ عمل کے باعث تخلیقی توانائی کھو بیٹھتے ہیں-جس کیلئے AGI بڑی مقدار میں ڈیٹا، بجٹ، ماحولیاتی اثرات،مسئلے کی تشخیص اور ساختی خطرہ(Structural Risk) کا تجزیہ کر کے انجینئر کو تخلیق کا وقت دے سکے گا- یہ بات قابل ذکر ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) اور مشین لرننگ (ML) کے میدان میں مختلف ادارے اور کمپنیاں انجینئرنگ ڈیزائن اور سمیولیشن کے عمل کو بہتر بنانے کے لیے کام کر رہی ہیں- مثال کے طور پر، Autodesk اور Bentley Systems جیسی کمپنیاں اپنے سافٹ ویئر میں AI اور ML کی خصوصیات شامل کر رہی ہیں تاکہ ڈیزائن کے عمل کو مزیدمؤثر بنایا جا سکے- ان سافٹ ویئرز میں پلوں، عمارتوں اور دیگر ساختی ڈھانچوں کی منصوبہ بندی کیلئےمختلف سافٹ وئیر(موبائل میں جس طرح ایپس) اور سمیولیشن ماڈیولز شامل ہیں-

AGI پر مختلف ممالک کی سرمایہ کاری:

امریکہ اور چین کی قیادت میں کئی ممالک مصنوعی عمومی ذہانت (AGI) اور مصنوعی ذہانت (AI) میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں جن میں یوکے، کینیڈا، جرمنی، فرانس، جاپان، اسرائیل، سویڈن، آسٹریلیا، بھارت، جنوبی کوریا اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں-لیکن کوئی بھی ملک ابھی تک AGI حاصل نہیں کرسکاجس کی وجہ یہ ہے کہ AGI کی کامیابی کا انحصار موجودہ AI کی ترقی پر منحصر ہے، جس میں سرمایہ کاری، تحقیقی پیداواری صلاحیت کا حصول اور بڑے پیمانے پر طاقتور نمونوں کی ترقی بھی شامل ہے-2024 میں، امریکی محکمہ دفاع سمیت نجی شعبے نے AI میں 109 بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی-امریکی ٹیک کمپنیاں، بشمول Google (DeepMind)، OpenAI، Microsoft، اور Meta، AGI تحقیق میں سب سے آگے ہیں- ان کمپنیوں نے GPT-4 اور جیمنی جیسے بڑے زبان کے نمایاں ماڈل جاری کیے ہیں-چین میںAGI اور AI پر سرمایہ کاری 2025ء میں 98 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جس کا ایک بڑا حصہ حکومتی مالی امداد ، AI اسٹارٹ اپس (Zhipu AI)، (DeepSeek)اور چینی ٹیک کمپنیاں، علی بابا (Alibaba)،  ٹینسنٹ(Tencent) اور بیدو (Baidu)کا سرمایہ کاری شامل ہونا ہے-

 امریکہ اور چین سب سے زیادہ سرمایہ کاری کر رہے ہیں اور زیادہ تر AI ڈیولپمنٹ میٹرکس میں سرفہرست ہیں- تاہم، حقیقی AGI کے ہدف کی طرف کامیابی ایک مسلسل کوشش ہے،جو AI کے عروج اور AGI کی ابتداء کہلائے گی جس میں ابھی تک کوئی بھی ملک حتمی مقصد حاصل نہیں کر سکا-

AGI کے نقصانات:

بہت سے ماہرین اس بات کا خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ مصنوعی عمومی ذہانت (AGI) کی ترقی جہاں انسانیت کے لیے بے شمار ترقی کے مواقع فراہم کرتی ہیں، وہیں اس کے ساتھ کئی سنگین خطرات بھی جڑے ہوئے ہیں- اُن کا کہنا ہے کہ اگر AGI کو انسانی اقدار اور اخلاقیات کے مطابق ڈھالا نہ گیا، تو یہ انسانیت کے لیے وجودی خطرہ بن سکتی ہے-AGI کا مسئلہ اس بات پربھی مرکوز ہے کہ کس طرح AGI نظام کو انسانی مقاصد، ترجیحات، یا اخلاقی اصولوں کے مطابق قابلِ اعتماد بنایا جائے- اگر AGI کے مقاصد انسانی اقدار سے ہم آہنگ نہ ہوں، تو یہ انسانیت کو نقصان پہنچا سکتی ہے- AGI کی خود کو بہتر بنانے کی صلاحیت اسے انسانی ذہانت سے کہیں زیادہ طاقتور بنا سکتی ہے اوریہ غیر معمولی اشتعال کا باعث بھی بن سکتی ہے -جہاں یہ نظام تیزی سے اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرتے ہیں اور انسانی کنٹرول سے باہر ہو جائیں گے- ایک امریکی مصنوعی ذہانت محقق اور لکھاریEliezer S. Yudkowsky اس خطرے کی نشاندہی کرتےہوئے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ اگر AGI کو مناسب طریقے سے قابو نہ کیا گیا، تو یہ انسانیت کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے-[7]

 AGI کی ترقی چند بڑی کمپنیوں یا حکومتوں کے ہاتھ میں مرکوز ہو سکتی ہے، جس سے معاشرتی عدم مساوات میں اضافہ ہو سکتا ہے- یہ طاقت کا ارتکاز جمہوریت، معاشی مساوات اور انسانی حقوق کے لیے خطرہ بن سکتا ہے- AGI کی صلاحیتوں کا استعمال خودکار ہتھیاروں میں کیا جا سکتا ہے، جو بغیر انسانی مداخلت کے فیصلے کر سکتے ہیں- یہ بین الاقوامی امن و امان کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں- AGI کا استعمال معلوماتی جنگ میں کیا جا سکتا ہے، جہاں یہ جعلی خبریں، پروپیگنڈا اور سوشل میڈیا مہمات کے ذریعے عوامی رائے کو متاثر کر سکتی ہے- یہ جمہوریت، انتخابات اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیےبھی خطرہ بن سکتا ہے-

٭٭٭


[4]https://www.axios.com/2022/12/01/elon-musk-neuralink-brain-chip-event

(اگر اس بارے میں آپ آرٹیکل پڑھنا چاہتے ہیں تو لکھاری نے جنوری2022 میں “Brain Chip” پر تفصیلی آرٹیکل لکھا ہے جو کہ ادارہ مراۃ العارفین انٹرنیشنل نے اپنی آفیشل ویب سائٹ پر پبلش بھی کیا ہے ) https://www.mirrat.com/article/11/1121

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر