بنی نوع انسان کی ترقی میں توانائی نے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیا ہے- یہ ترقی جو آگ کی دریافت سے شروع ہوتی ہے پھر بھاپ کے انجن، بجلی اور جدید ڈیجیٹل دنیا کے سفر تک ہر دور میں توانائی نے انسان کی زندگی کو آسان بنایا ہے- بڑے پیمانے پر نامیاتی ایندھن سے حاصل شدہ توانائی انسانی ترقی میں تو کردار ادا کر رہی ہے مگر اس ترقی کی قیمت کرۂ ارض گلوبل وارمنگ اور فضائی آلودگی کی صورت چکا رہا ہے- اگر ترقی کا یہ سفر اسی طرح جاری رہا تو یہ ترقی خود انسان کے لیے ایک بڑا خطرہ بن جائے گی- دوسری جانب عالمی سطح پر، تقریباً 759 ملین افراد اب بھی بجلی کی سہولت سے محروم ہیں، جبکہ 2.6 بلین افراد کھانا پکانے کے لیے ایندھن کے صاف ذرائع تک رسائی نہیں رکھتے- دنیا اس وقت جن سنگین مسائل سے دو چار ہے، ان میں توانائی کا بحران اور موسمیاتی تبدیلی سرفہرست ہیں- بڑھتی ہوئی آبادی، صنعتی ترقی اور فوسل فیول پر انحصار نے کرۂ ارض کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے- انہی خطرات کے پیشِ نظر ہر سال 26 جنوری کو صاف توانائی کا عالمی دن منایا جاتا ہے تاکہ یہ شعورعام کیا جاسکے کہ توانائی کے موجودہ ذرائع نہ صرف محدود ہیں بلکہ ماحول، صحت اور مستقبل کی نسلوں کیلئے بھی تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں-یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ صاف، قابلِ تجدید اور پائیدار توانائی کی طرف منتقلی اب ایک انتخاب نہیں بلکہ ناگزیر ضرورت بن چکی ہے جس کے لیے نا صرف حکومتی سطح بلکہ فرد کی سطح پر بھی اقدامات کی ضرورت ہے - صاف توانائی سے مراد وہ توانائی ہے جو قدرتی طور پر دوبارہ پیدا ہو سکتی ہو اور جس کے استعمال سے ماحول کو نقصان نہ پہنچے- صاف توانائی کی فراہمی دوہرے چیلنجز کے ساتھ درپیش آتی ہے ایک طرف دنیا میں ہر انسان تک توانائی کی رسائی کو ممکن بنانا اور دوسری جانب توانائی کے ایسے ذرائع کا استعمال کرنا جو کر ۂ ارض کے ماحول کے لیے نقصان دہ نہ ہو-
ایک عام آدمی یہ ہی سوچتا ہے کہ یہ حکومت کا کام ہے لیکن بحیثیت ذمہ دار شہری ہمیں اپنے رویے میں تبدیلی کی ضرورت ہے-آپ چاہے گھر میں ہیں، نوکری پیشہ ہیں یا کاروبار کرتے ہیں توانائی کے استعمال سے متعلق آپ کی ترجیحات بڑی تبدیلی لا سکتی ہیں -
موسمیاتی تبدیلی اور توانائی کا تعامل :
موسمیاتی تبدیلی کی بنیادی وجہ انسانی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں ہیں، جن کا سب سے بڑا ذریعہ نامیاتی ایندھن مثلاًکوئلہ، تیل اور گیس کا استعمال ہے-سالانہ 38 ارب ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج صنعتوں اور نامیاتی ایندھن کو جلانے سے ہو رہا ہے- IPCC کی رپورٹ کے مطابق نامیاتی ایندھن کا استعمال کرۂ ارض کے درجہ حرارت میں اضافے کی بنیادی وجہ ہے- تقریباً 89فیصد کاربن ڈائی آکسائید کا اخراج نامیاتی ایندھن کو جلانے سے ہوتا ہے- گرین ہاوس گیس فضا میں حرارت کو جذب کر لیتی ہیں جس کی وجہ سے کرۂ ارض کا اوسط درجہ حرارت بتدریج بڑھ رہا ہے- بجلی گھروں، ٹرانسپورٹ، صنعتوں اور گھریلو سطح پر توانائی کے غیر ذمہ دارانہ استعمال نے فضا میں گرین ہاوس گیسوں کی مقدار کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے- اس کے نتیجے میں گلیشیئرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، سمندری سطح بلند ہو رہی ہے اور موسم کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے اور فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے- World Health Organization (WHO) کے مطابق 99 فیصد لوگ آلودہ ہوا میں سانس لے رہے ہیں جو ان کی صحت کے لیے مضر ہے- فضائی آلودگی سے سالانہ 7 ملین اموات ہو رہی ہیں- فضا میں معلق ذرات اور نائٹروجن ڈائی آکسائیڈ نامیاتی ایندھن کو جلانے سے پیدا ہوتے ہیں- فضائی آلودگی سے سالانہ 8.1 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہوتا ہے- صاف توانائی کی طرف قدم بڑھانے سے نہ صرف موسمیاتی تبدیلی کو روکا جا سکتا ہے بلکہ فضائی آلودگی کی روک تھام بھی ممکن ہے- 1850ء سے لے کر اب تک زمین کے درجہ حرارت میں 2 ڈگری فارن ہائٹ اضافہ ہو چکا ہے- اگر یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو یہ زمین ہمار ے رہنے کے قابل نہیں رہے گی- توانائی کے استعمال و دیگر ذرائع سے گرین ہاوس گیس خارج کرنے والے ممالک میں چین، امریکہ اور بھارت سرفہرست ہیں- جس میں چین کا حصہ 29.2 فیصد، امریکہ 11.1 فیصد اور بھارت 8.2 فیصد ہے- فی کس کاربن اخراج کی شرح میں امریکہ سر فہرست ہے- علاوہ ازیں کچھ ایسے مالدار ممالک بھی ہیں جو کم آبادی کی وجہ سے عالمی اخراج کے حجم میں نیچے ہیں مگر فی کس شرح اخراج کے اعتبار سے سر فہرست ہیں جیساکہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب - پاکستان کی عالمی اخراج میں حصہ صرف 1.19فیصد ہے مگر ماحولیاتی خطرہ کی درجہ بندی (Climate Risk index)میں آٹھواں متاثرہ ترین ملک ہے- نامیاتی توانائی موسمیاتی تبدیلی کی جڑ ہے اور صاف توانائی اس کے حل کی کنجی -
صاف توانائی کا مفہوم اور اقسام:
صاف توانائی سے مراد ایسی توانائی ہےجو ماحول کو آلودہ نہ کرے ، قدرتی طور پر دوبارہ پیدا ہو سکتی ہو، زہریلی گیسوں کا اخراج نہ کرے یا بہت کم کرے اور آئندہ آنے والی نسلوں کیلئے محفوظ ہو- صاف توانائی میں شمسی توانائی، ہوائی توانائی، آبی توانائی اور بائیو گیس شامل ہیں- یہ ذرائع نہ صرف کاربن فری ہیں بلکہ مقامی سطح پر دستیاب ہونے کی وجہ سے توانائی کے مسائل کا دیرپا حل بھی پیش کرتے ہیں- صاف توانائی کے ذرائع نہ ختم ہونے والے ہیں اور ہر ملک میں وافر مقدار میں موجود ہوتے ہیں اس لیے صاف توانائی کو پائیدار ترقی کی ضمانت سمجھا جا تا ہے- دنیا کی 80فیصد آبادی ایسے ممالک میں رہتی ہے جن کا انحصار مکمل طور پہ درآمد شدہ نامیاتی ایندھن پہ ہے- International Renewable Energy Agency (IRENA) کے مطابق 2050ء تک 90 فیصد توانائی کا ذریعہ قابل تجدید ہونا چاہیے جو ممکن بنایا جا سکتا ہے- قابل تجدید توانائی کے ذرائع کی طرف منتقلی میں جو ممالک سرفہرست ہیں ان میں سویڈن، ڈنمارک، ناروے اور سوئٹزرلینڈ شامل ہیں -
صاف توانائی میں سرمایہ کاری سے آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کی مد میں جو منافع ہونا ہے اس کا تخمینہ 4.2 ٹریلین ڈالر لگایا گیا ہے- مزید برآں مستعد قابل بھروسہ قابل تجدید توانائی عالمی منڈی کے دباؤ اور توانائی کی سلامتی میں بھی مثبت کردار ادا کرے گی- حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ صاف توانائی کی کنجی انسانوں ہی کے ہاتھ میں ہے -
عام آدمی کا طرزِ زندگی توانائی کے مجموعی استعمال پر گہرا اثر ڈالتا ہے- ایک گھر میں بجلی کا غیر ضروری استعمال، ایک فردکا روزمرہ کا سفر عادات اور خرید و فروخت کے فیصلے مجموعی طور پر ماحول پر اثر انداز ہوتے ہیں- اگر مستعدطریقے سے توانائی کا استعمال کیا جائے اور توانائی کی بچت کی جائے تو یہ صاف توانائی کی جانب مؤثر قدم ہو گا جو موسمیاتی تبدیلی کو روکنے میں بھی اہم کردار ادا کر سکتا ہے - آپ سوچ رہے ہوں گے کہ توانائی کا مستعد طریقہ استعمال کونسا ہے جس سے توانائی کی بچت یا تحفظ توانائی ممکن ہو - تحفظ توانائی سے مراد ایسے طور طریقے اور عادات کو اپنانا ہے جس سے توانائی کی کھپت میں کمی ہو اور مستعد توانائی سے مراد ایسی ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جائے جس سے توانائی کے استعمال میں خاطر خواہ کمی لائی جا سکتی ہو-
توانائی کی بچت: مؤثر اقدامات
v دفاتر میں بجلی کے استعمال کا طریقہ غیر ذمہ دارانہ ہوتا ہے- بیشتر آلات غیر ضروری طور پہ چلتے یا اسٹینڈ بائی چھوڑ دئیے جاتے- صرف ایک کمپیوٹر اسکرین کو ساری رات کیلیے چلتا چھوڑنے سے 500 ورق پرنٹ کرنے کے برابر بجلی ضائع ہوتی ہے- غیر ضروری بلب اور برقی آلات بند رکھنے سے توانائی کے استعمال میں خاطر خواہ کمی لا ئی جاسکتی ہے -
v انریجی سیور بلب بجلی کا کم استعمال کرتے ہیں، عام بلب کے مقابلے میں انرجی سیور بلب کے استعمال سے 25 سے 35 فیصد توانائی بچائی جا سکتی ہے - عالمی سطح پہ روایتی بلبوں سے ایل ای ڈی بلبوں پہ منتقلی سے سالانہ 1400 ملین ٹن کاربن کے اخراج میں کمی لائی جا سکتی ہے جس سے 1250 بجلی گھروں کو بند کیا جا سکتا ہے جو موسمیاتی تبدیلی اور فضائی آلودگی کی بڑی وجہ ہیں-
v برقی آلات کے خریداری میں احتیاط سے بھی ہم توانائی کا تحفظ یقینی بنا سکتے ہیں- ایسے آلات کی خریداری کی جائے جو کسی مستند ادارے سے توانائی بچانے کےلیے تصدیق شدہ ہوں - جیسا کے ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی (EPA) کی اسٹار ریٹڈ برقی آلات ہیں-
v دن کے وقت برقی روشنیوں کو بند کر کے قدرتی روشنی سے فائدہ اٹھانا چاہیے -
v ایئر کنڈیشنر کو معتدل درجۂ حرارت پر چلانے سے بھی توانائی کی خاطر خواہ بچت ممکن ہے-
v غیر استعمال شدہ آلات کو پلگ سے نکال دینے سے بھی توانائی کی بچت ممکن ہے-
ان اقدامات سے نہ صرف بجلی کے بل کم ہوں گے بلکہ کاربن کے اخراج میں بھی نمایاں کمی آسکتی ہے- اس کے علاوہ غیر ضروری خریداری سے اجتناب اشیاء کا دوبارہ استعمال ری سائیکلنگ کی عادت ، پانی کے استعمال میں احتیاط اور پلاسٹک کے استعمال میں کمی توانائی کی بچت اور ماحول کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں -
گھروں کی چھتوں پہ سولر پینلز کی تنصیب:
گھروں پہ سولر پینلز کی تنصیب صاف توانائی کے حصول کی جانب ایک اہم قدم ہے- جس سےآپ نہ صرف مفت توانائی کے حصول کو یقینی بنا سکتے ہیں بلکہ کاربن کے اخراج میں بھی کمی لا سکتے ہیں- اگر کمیونٹی کی سطح پہ 1000 گھروں کی چھتوں پہ سولر پینل لگائے جائیں تو اس سے ایک لاکھ 80ہزار ٹن کاربن کے اخراج میں کمی لائی جا سکتی ہے- توانائی کہ اس ذریعے کو مکمل طور پہ صاف اور پائیدار بنانے کیلئے سائنسدان سولر پینلز کی ری سائیکلنگ کی تجویز بھی دیتے ہیں -اس کے ساتھ ساتھ سولر واٹر ہیٹر کا استعمال بھی صاف توانائی کے عزم کو پورا کرنے میں کارگر ثابت ہو سکتا ہے-
ٹرانسپورٹ اور صاف توانائی:
ٹرانسپورٹ کا شعبہ فضائی آلودگی اور گرین ہاوس گیس کے اخراج میں خاطر خواہ اضافہ کرتا ہے-پاکستان میں کاربن کے اخراج کے مجموعی حجم میں ٹرانسپور ٹ کا 30 فیصد حصہ ہے اور پاکستان میں گاڑیوں کی تعداد میں سالانہ 10 فیصد اضافہ ہو رہا ہے-نامیاتی ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کی شرح میں اس قدر اضافہ خطرے کی گھنٹی ہے- آپ کے لیے اس کا حل الیکٹرک گاڑیوں کی صورت میں موجود ہے- ایک عام گاڑی ایک میل کے سفر کے دوران 411 گرام کاربن کا اخراج کرتی ہے- اگر الیکٹرک گاڑی کو نیشنل گرڈ پہ چارج کیا جائے تو مجموعی طور پر کاربن اخراج میں کمی واقع ہو جاتی- اسی گاڑی کو اگر صاف توانائی کے ذرائع مثلاً گھر میں لگے سولر سسٹم سے چارج کیا جائے تو کاربن کے اخراج کی مجموئی مقدار زیرو ہو جاتی ہے-یعنی عام گاڑی کو الیکٹرک گاڑی میں بدلنے کا آپ کا ایک دانش مندانہ فیصلہ کرۂ ارض پہ 4.6 میٹرک ٹن کاربن کے اخراج میں کمی لا سکتا ہے- علاوہ ازیں قریبی فاصلوں کے لیے پیدل چلنا یا سائیکل استعمال کرنا پبلک ٹرانسپورٹ اور کار پولنگ کرنا گاڑیوں کی مناسب دیکھ بھال غیر ضروری سفر سے پرہیز بھی فضائی آلودگی کی روک تھام میں مددگار ہے-
دیہی علاقوں میں لکڑی اور کوئلہ جلانا نہ صرف ماحول بلکہ انسانی صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے جس کا بہترین نعم البدل بایو گیس ہے- اس کے علاوہ فصلیں، کچرا اور پلاسٹک جلانے سےبھی اجتناب کرنا چاہیے-
اسلام میں اسراف کی ممانعت اور زمین کی حفاظت کا تصور واضح طور پہ موجود ہے- انسان کو زمین کا خلیفہ قرار دے کر قدرتی وسائل کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے- صاف توانائی کا فروغ نہ صرف قومی بلکہ اخلاقی اور دینی فریضہ بھی ہے- موسمیاتی تبدیلی کے خلاف جنگ میں ہرایک شہری سپاہی کی حیثیت رکھتا ہے- اگر عام آدمی اپنے طرزِ زندگی میں سادگی، ذمہ داری اور صاف توانائی کو اپنائے تو ایک محفوظ، صحت مند اور پائیدار مستقبل ممکن ہے- آج کی چھوٹی کوششیں کل کی بڑی کامیابیوں کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہیں- آپ ایک عام گھریلو شخص ہیں کاروبار سے وابستہ ہیں یا نوکری پیشہ آدمی ہیں توانائی سے متعلقہ آپ کے فیصلوں میں دانشمندی پوری انسانیت کو تباہی کے دہانے سے بچا سکتی ہے- اگر ہم نے دیر کر دی یا اپنے طرز زندگی کو نہ بدلا تو یہ کرۂ ارض آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے جہنم بن جائے گا-
٭٭٭