مسلمان آبادیاں: جینوسائیڈاور قتلِ عام کا شکار

مسلمان آبادیاں: جینوسائیڈاور قتلِ عام کا شکار

مسلمان آبادیاں: جینوسائیڈاور قتلِ عام کا شکار

مصنف: سینیٹر راجہ ظفر الحق جنوری 2026

یہ تاریخی دن انسانیت کو باورکرواتا  ہے کہ جینوسائیڈ  سے صرف کوئی قوم جسمانی طور پہ تباہ نہیں ہوتی بلکہ یہ عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کے مترادف اور اخلاقیات سے کھلی بغاوت ہے- یاددہانی کا یہ لمحہ یقیناً غمگین ہے، مگر ناگزیر بھی ہے، کیونکہ یاددہانی انصاف کی طرف پہلا قدم ہےاور انصاف ہی وہ واحد ذریعہ ہے جو انسانی عظمت کو اجاگر کرتا ہے-

جب ہم انسانی تاریخ کے سیاہ ترین  ابواب کا  بغور مطالعہ کرتے ہیں تو مسلم اُمہ پر ڈھائے جانے والے ان مظالم کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو آج بھی دنیا کے کئی حصوں میں نہایت شدت کے ساتھ جاری ہیں-

بوسنیا میں ہونے والا جینوسائیڈ ناقابلِ فراموش ہے بالخصوص  جولائی 1995ء میں سریبرینیتسا کا قتلِ عام (Massacre at Srebrenica) تمام انسانیت کے دامن پر ایک مستقل داغ ہے- سفاکیت کی انتہا یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کے زیرسایہ محفوظ شدہ علاقوں (Safe zones)  میں 8372 سے زائد بوسنیائی مسلمان مردوں اور بچوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا- ایسا جرم جسے عالمی عدالتوں نے باضابطہ طور پر جینوسائیڈ تسلیم کیا- ایک خاص منصوبہ بندی کے تحت اس  جینوسایڈ کی مہم کی گئی  جس نے دنیا کو دہلا کے رکھ دیا- بوسنیا کے مسلمانوں سے ملاقات میں مجھےیہ احساس  ہوا کہ وہ اپنی الگ شناخت سے پوری طرح واقف نہیں، مگر جب انہیں وحشیانہ قتل اور جبر کا سامنا کرنا پڑا تو انہیں اپنی مسلم شناخت کا شدت سے احساس ہوا-

میانمار میں روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والا ظلم آج بھی دنیا کے ضمیر پہ ایک طمانچہ ہے- پورے پورے گاؤں جلا دیے گئے، خاندان برباد ہوئے اور 10 لاکھ سے زائد افراد کو زبردستی ہجرت پر مجبور کیا گیا- یہ مقدمہ اس وقت بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں زیرِ سماعت ہے، جہاں منظم تشدد اور نسل کُشی کے ٹھوس شواہد دنیا کے سامنے رکھے جا رہے ہیں-

ہم قبرص کے ترک مسلمانوں کو بھی نہیں بھلا سکتے، جنہیں قتلِ عام، محاصروں اور جبری بے دخلی کا سامنا کرنا پڑا-اس سانحے کو عمومی طور پہ نظرانداز کیا جاتا ہے- مجھے شمالی قبرص جانے کا موقع ملا جہاں مجھے بتایا گیا کہ ترک حکومت نے بروقت مداخلت کر کے دلیری سے مسلمانوں کے قتلِ عام کو روکا- مجھے یہ جان کر نہایت دکھ ہوا کہ 7 سالہ بچوں سے لے کر 70 سالہ بزرگوں کو صرف اس لیے قتل کر دیا گیا کہ وہ مسلمان ہیں-لمحۂ فکریہ ہے کہ یورپی یونین نے جنوبی قبرص کوتسلیم کر لیا جبکہ شمالی قبرص، اس کی کوئی اہمیت نہیں-

آج ہماری نظروں کے سامنے فلسطین میں ایک عظیم انسانی المیہ جاری ہے- فلسطینی عوام کئی عشروں سے قبضے، بمباری، زبردستی بے دخلی، گھروں کی مسماری اور بستیوں کی مکمل تباہی کا سامنا کر رہے ہیں- بین الاقوامی فوجداری عدالت    نے اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو سمیت اعلیٰ اسرائیلی قیادت کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں- عالمی عدالت نے واضح کیا ہے کہ اگرکسی سبب گرفتاری ممکن نہ ہو تو عدم موجودگی میں کارروائی کی جا سکتی ہے تاکہ انصاف کو روکا نہ جا سکے- یہ تاریخ میں پہلی بار ہے کہ اسرائیلی قیادت کو عالمی عدالت  میں قانونی جواب دہی کا سامنا ہے-

کشمیر میں بھی کئی عشروں سے فوجی قبضہ، جبری گمشدگیاں، مذہبی و ثقافتی شناخت کی پامالی اور بنیادی انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں- اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں،جو استصواب رائے  کا مطالبہ کرتی ہیں، آج تک نظر انداز کی جا رہی ہیں- مجھے پاکستان کے وفد کی قیادت کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ جانے کا موقع ملا جہاں بھارتی وزیرِ اعظم نے واضح طور پر کہا:

’’ہم اب بھی اسی مؤقف پر قائم ہیں اور ہم نے اسے ترک نہیں کیا ‘‘-

اسی طرح چیچنیا میں 1990ء کی دہائی اور  2000 کے شروع میں ہونے والی جنگ کے دوران ہزاروں بے گناہ شہری جان سے گئے،تشدد، ماورائے عدالت قتل اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے دل دہلا دینے والے واقعات سامنے آئے-

یہ تمام سانحات ایک خطرناک اور پریشان کن حقیقت کو عیاں کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں مسلم معاشرےمنظم جبر، سیاسی بے دخلی اور جینو سائڈ جیسی آفات کو جھیل رہے ہیں-  خاموشی ظالم کو طاقت دیتی ہے- یہ  ناانصافیاں ہمیں یہ سوال سوچنے پہ مجبورکرتی ہیں کہ یہ جرائم کیوں جاری ہیں؟ اور اس ظلم کے سفرمیں ہماری اخلاقی، روحانی اور انسانی ذمہ داری کیا ہے؟

آج کا  دن ہم سے مطالبہ کرتا ہے کہ ہم متاثرین کو نہ صرف تعداد میں  سمجھیں بلکہ انہیں خوابوں، امیدوں اور انسانی وقار کے حامل جیتے جاگتےانسانوں کے طور پر یاد رکھیں- ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہوں، بے خوف ہو کر آواز بلند کریں، احتساب کا مطالبہ کریں اور حقیقی انصاف کو یقینی بنائیں-

اس موقع پر مسلم انسٹیٹیوٹ کی علمی، فکری اور اخلاقی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں- یہ ادارہ فکری وضاحت، اخلاقی جرأت اور روحانی بلندی کا روشن مینار بن چکا ہے اور اس کی تحقیقی و اخلاقی کاوشیں قابلِ ستائش ہیں-

آخر میں، میں قرآنِ حکیم کی اس ابدی ہدایت کے ساتھ اپنی بات ختم کرتا ہوں:

’’عدل کرو، یہی سچ  کا رستہ ہے‘‘-

آئیے!اس یادگاری دن پر ہم سب انسانی وقار کے تحفظ کے لیے اپنے عزم کی تجدید کریں-

٭٭٭

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر