بطور انسان ہم کسی بھی بے گناہ انسانی جان کے ضیاع پر دُکھ محسوس کرتے ہیں اور تمام مظلوم افراد اور گروہوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں- رنگ، نسل، مذہب، قومیت یا جغرافیہ کے کسی امتیاز کے بغیر انسانی جان بے حد قیمتی ہے- کسی بھی بے گناہ انسان کا قتل قابلِ مذمت اور ناقابلِ قبول ہے- مُسلم انسٹیٹیوٹ میں ہم عموماً اُن مسائل پر خصوصی توجہ دیتے ہیں جو بالخصوص مسلم دنیا سے متعلق ہیں- اسی لیے آج کے سیمینار میں ہم نے مسلمانوں کے جینوسائیڈ اور ان کے خلاف ہونے والے قتلِ عام پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے- دنیا بھر میں ہر وقت بے شمار واقعات رونما ہو رہے ہوتے ہیں- نتیجتاً کئی اہم مسائل نظرانداز ہو جاتے ہیں یا انہیں وہ توجہ نہیں ملتی جس کے وہ مستحق ہیں- یہی وجہ ہے کہ ہم نے حالیہ تاریخ میں جینوسائیڈ اور قتلِ عام کے باعث اپنی جانیں گنوانے والے لاکھوں مسلمانوں کی یاد تازہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے-
جب ہم جینوسائیڈ کی بات کرتے ہیں تو عموماً اسے ماضی کا ایک المناک باب سمجھتے ہیں- لیکن دنیا بھر کی مسلم آبادی کے لیے جینوسائیڈ صرف تاریخ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے- دنیا کی کل آبادی کا ایک چوتھائی، یعنی دو ارب سے زائد مسلمان، تقریباً 195 ممالک میں آباد ہیں جن میں سے لگ بھگ 50 مسلمان اکثریتی ریاستیں ہیں-دنیا میں اس قدر آبادی کے باوجود، مسلم آبادی آج بھی بڑے پیمانے پر تشدد اور مظالم کا شکار ہونے والے سب سے زیادہ کمزور اور خطرے سے دوچار طبقات میں شمار ہوتی ہے-
اقوامِ متحدہ کے کنونشن ’’Convention on the Prevention and Punishment of the Crime of Genocide‘‘ کا آرٹیکل جینوسائڈ کی تعریف یوں بیان کرتا ہے کہ کسی قومی، نسلی یا مذہبی گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کی غرض سے کیے جانے والے درج ذیل افعال میں سے کوئی بھی عمل جینوسائیڈ کہلاتا ہے:
1. اُس گروہ کے افراد کا قتل کرنا-
2. گروہ کے افراد کو شدید جسمانی یا ذہنی نقصان پہنچانا-
3. جان بوجھ کر ایسا طرزِ زندگی مسلط کرنا جس کا مقصد گروہ کی مکمل یا جزوی جسمانی تباہی ہو-
4. گروہ کے اندر پیدائشوں کو روکنے کے لیے اقدامات کرنا
5. ایک گروہ کے بچوں کو زبردستی کسی دوسرے گروہ میں منتقل کرنا-
موجودہ تاریخ اس دردناک حقیقت کی گواہ ہے کہ مسلم آبادیوں کے خلاف منظم، منصوبہ بند، حتیٰ کہ ریاستی سرپرستی میں جینوسائیڈ اور بڑے پیمانے پر قتلِ عام کے واقعات رونما ہوئے- ان کی ثقافتی شناخت، تاریخی وراثت اور حتیٰ کہ جسمانی بقا تک کو نشانہ بنایا گیا- یہ سلسلہ کسی ایک خطّے تک محدود نہیں بلکہ شمالی افریقہ سے مشرقی یورپ تک، وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا سے ہوتے ہوئے جنوب مشرقی ایشیا تک پھیلا ہوا ہے-
افسوس ناک بات یہ ہے کہ تقریباً 1 کروڑ 30 لاکھ (13 ملین) سے زائد مسلمانوں کو 26 سے زائد المناک واقعات میں جینوسائیڈ اور قتلِ عام کا نشانہ بنایا گیا-جن میں سے بہت سے واقعات براہِ راست نوآبادیاتی طاقتوں کے تحت یا ریاستی شراکت و چشم پوشی کے ساتھ پیش آئے- ان کی تفصیل مُسلم انسٹیٹیوٹ کی ٹیم کی تیار کردہ دستاویزی فلم اور رپورٹ میں دیکھی جا سکتی ہے- (دستاویزی فلم مسلم انسٹیٹیوت کے یوٹیوب چینل پہ دیکھی جا سکتی ہے )
افسوسناک امر یہ ہےکہ، یہ قتل عام وسیع پیمانے پر آج بھی جاری ہیں- اگرچہ ان میں سے بے شمار واقعات جینوسائیڈ کی تعریف پر پورا اُترتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے انہیں عالمی سطح پہ ابھی تک تسلیم نہیں کیا گیا کیونکہ مسلمانوں کی قیادت نے انہیں تسلیم کروانے کی سنجیدہ کوششیں نہیں کیں - فلسطین ہو یا مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کا خوفناک ترین قتلِ عام ایسی بے شمار داستانوں میں سے صرف چند مثالیں ہیں-
یہ المیہ آج بھارت کے اندر بھی جاری ہے، جہاں مسلمانوں کو درپیش خطرات تیزی سے بڑھ رہے ہیں- بہت سی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور جینوسائڈ سے متعلق وارننگ جاری کرنے والے ادارے اس تناظرمیں پہلے ہی خطرے کی گھنٹی بجا چکے ہیں-
’’Genocide Watch: Alliance Against Genocide‘‘ نے غزہ کے حوالے سے تجاویزدی کہ:
’’اسرائیلی رہنماؤں کے جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم اور جینوسائیڈ کے مقدمات کا بین الاقوامی فوجداری عدالت (International Criminal Court) میں احتساب ہونا چاہیے- تمام ریاستوں کو چاہیے کہ وہ ICC کی ان جرائم کی تحقیقات اور مقدمات میں مکمل معاونت کریں‘‘-
اسی طرح، جینوسائیڈ واچ واضح کرتا ہے کہ:
’’تقریباً 6 لاکھ 30 ہزار روہنگیا مسلمان اب بھی میانمار میں ریاستی سرپرستی میں جاری امتیازی سلوک اور نسلی تفریق کے نظام کے تحت زندگی گزار رہے ہیں‘‘-
اقوامِ متحدہ کے میانمار پر قائم آزاد بین الاقوامی فیکٹ فائنڈنگ مشن نے نتیجہ اخذ کیا کہ روہنگیا مسلمان جاری ’’جینو سائیڈ‘‘ کی کیفیت کا سامنا کر رہے ہیں اور اس ادارے نے 2017ء کی میانمار کی کارروائیوں کو ’’نسل کشی کے ارادے‘‘ (genocidal intent)کا حامل قرار دیا-اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندہ برائے اقلیتی امور متعدد بار یہ واضح کر چکے ہیں کہ مختلف خطّوں میں مسلم اقلیتیں بڑے پیمانے پر مظالم کے فوری خطرے سے دوچار ہیں اور ابتدائی انتباہی علامات، جیسے امتیازی قوانین، نفرت پر مبنی سیاسی و سماجی مہمات اور مسلم برادریوں کی سکیورٹائزیشن کو برسوں سے نظرانداز کیا جا رہا ہے-
اسی طرح، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق (OHCHR) نے مختلف علاقوں میں مسلم آبادیوں کے خلاف منظم جبر، ماورائے عدالت قتل، آبادی کے تناسب میں انجینئرنگ، بڑے پیمانے پر نظربندیاں اور ان کی ثقافتی و مذہبی شناخت کی دانستہ تباہی کو تفصیل کے ساتھ دستاویزی شکل دی ہے- بالخصوص بھارت میں، ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی عینی شواہد سے تصدیق شدہ رپورٹس میں ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمان گھروں اور املاک کی غیر قانونی مسماری، ماورائے عدالت قتل، شہریت کی تصدیقی اسکیموں کے تحت بے وطنی کے خطرے، گاؤ رکھشا کے نام پر ہجومی تشدد اور نفرت انگیز تقریروں میں تیزی سے اضافے کا سامنا کر رہے ہیں، خاص طور پر انتخابی ادوار میں- صرف سال 2024ء میں ایسے 1165 واقعات ریکارڈ کیے گئے- مزید برآں، بھارت میں شہروں اور عوامی مقامات کے نام بدلنا، مثال کے طور پر الٰہ آباد کو پریاگ راج، فیض آباد کو ایودھیااور تاریخی طور پر مسلم شناخت رکھنے والی سڑکوں یا ریلوے اسٹیشنوں کے ناموں کی تبدیلی، مسلم کمیونٹی کی تاریخی اور ثقافتی شناخت کو مٹانے کے خطرے کو جنم دیتا ہے-
تلخ حقیقت یہ ہے کہ ان واضح اور تشویشناک علامات کے باوجود، مسلم آبادیوں کی نسل کشی پہ مسلم دنیا نے مجموعی طور پر آواز نہیں اٹھائی، نہ اسے بین الاقوامی فورمز پر مربوط، تحقیقی اور ادارہ جاتی انداز میں پیش کیا گیا-
جب اسلاموفوبیا کے مسئلے کو اجتماعی طور پر اٹھایا گیا اور اقوامِ متحدہ میں پیش کیا گیا، تو اس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تسلیم شدہ دن اور ایک بین الاقوامی پالیسی مباحثہ وجود میں آیا- مسلمانوں کی نسل کشی بھی کم از کم اسی سنجیدگی، اسی ہم آہنگی، اور اسی عزم کی مستحق ہے -
اپنی گفتگو کے اختتام پر، میں ایک بار پھر اس بات پر زور دیتا ہوں کہ ہر معصوم انسان کی جان بنا تفریق یکساں طور پر قیمتی ہے اور اس کے تحفظ کے لیے توجہ ضروری ہے- مسلم آبادیوں پر ہونے والی نسل کشی اور قتلِ عام کو اجاگر کرنا مُسلم انسٹیٹیوٹ کے ان مقاصد کے عین مطابق ہے جن کے تحت ہم مسلم دنیا سے متعلق مسائل کی تشخیص، ان پہ تحقیق، تجزیہ اور مکالمے کو فروغ دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں-
وقفہ سوال و جواب
سوال: مسلمانوں کے خلاف جینوسائڈ کی وجوہات کیا ہیں اور مستقبل میں اسے کس طرح روکا جا سکتا ہے؟
جواب: علامہ اقبال نے ارمغانِ حجاز میں عالمِ برزخ کے عنوان سے ایک نظم لکھی ہے- اس نظم میں ایک سو سالہ مردہ انسان زمین سے پوچھتا ہے:
’’قیامت کیا ہے؟‘‘
زمین جواب دیتی ہے:
’’قیامت کا مطلب دوبارہ اٹھ کھڑا ہونا ہے‘‘-
مردہ جواب دیتا ہے کہ اگر قیامت دوبارہ اٹھنے کا نام ہے تومیں دوبارہ اٹھنا نہیں چاہتا-
زمین کو یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ کیا دنیا میں کوئی ایسا بھی ہے جو دوبارہ زندہ نہیں ہونا چاہتا؟
غیب سے ایک آواز آتی ہے:
|
نے نصیبِ مار و کژدُم، نے نصیبِ دام و دَد |
یعنی ہمیشہ کی موت کمزور قوموں کا مقدر ہوتی ہے- دوبارہ اٹھ کھڑا ہونا صرف آزاد انسانوں کا کام ہے-
اقبال کے شارحین بانگِ اسرافیل سے مراد وہ عظیم واقعات اور آزمائشیں لیتے ہیں جو قوموں پر آتی ہیں- بوسنیا میں جو دلخراش واقعات پیش آئے جیسا کہ مسلمانوں کی ھیڈ ہنٹنگ (head hunting) کرنا یہ زیادہ پرانے واقعات نہیں ہیں- رسول اللہ (ﷺ) کی امت کے ہونے والے جینوسائیڈ یاد کرتے ہوئے ہمیں رسول اللہ (ﷺ) کے خاندان کا کربلا میں ہونے والا جینو سائیڈ نہیں بھولنا چاہئے، حضور نبی کریم (ﷺ) کے گھرانے کے غم سے بڑا غم نہیں-حالیہ تاریخ میں بوسنیا، کشمیر، روہنگیا اور فلسطین میں جو کچھ ہوا،ان میں سے کوئی ایک واقعہ بھی کسی قوم کو جگانے کے لیے کافی ہونا چاہیے تھا- مگر چونکہ ’’بانگِ اسرافیل‘‘ سے صرف زندہ قومیں ہی جاگتی ہیں اس لئے ہر کوئی اپنے معمولی ذاتی مفادات کے ٹکڑوں میں بٹ کر رہنے کو تیار ہے-
اصل ضرورت ایک اجتماعی احساس کی ہےکہ ہم واقعی اس کو روکنا چاہتے ہیں یا نہیں- مسلمان قوم اپنے بنیادی اقدار کے مطابق ایک دوسرے سے الگ تھلگ ہو کر نہیں رہ سکتی لیکن اس کے باوجود یہ ایسے رہنے کو تیار ہے-
٭٭٭