ابیات باھو: لوہا ہوویں پِیا کُٹیویں تاں تلوار سَڈیویں ھو

ابیات باھو: لوہا ہوویں پِیا کُٹیویں تاں تلوار سَڈیویں ھو

ابیات باھو: لوہا ہوویں پِیا کُٹیویں تاں تلوار سَڈیویں ھو

مصنف: Translated By M.A Khan جنوری 2026

ل:لوہا ہوویں پِیا کُٹیویں تاں تلوار سَڈیویں ھو
کنگھی وَانگوں پِیا چِریویں تاں زُلف مَحبوب بھَریویں ھو
مِہندی وَانگوں پِیا گھُوٹیویں تاں تَلّی مَحبوب رنگینویں ھو
وَانگ کَپاہ پِیا پنجیویں تاں دَستار سَڈیویں ھو
عَاشق صَادِق ہوویں باھوؒ تاں رَس پریم دی پِیویں ھو

If you were steel you would be beaten and then form into sword Hoo

Like comb you get sawn then you shall be filled with beloved’s tresses Hoo

Like henna you are beaten then you shall colour beloved’s palms Hoo

Like cotton buds you are thrashed then will become turban Hoo

If you are true aashiq Bahoo then you shell drink the goblet of love Hoo

Loha howai’N piya Ku’Tiwai’N ta’N talwar sa’Dewai’N Hoo

Kanghi wango’N piya chariwai’N ta’N zulf mehbob bhariwai’N Hoo

Mehndi wango’N piya ghu’Tiwai’N ta’N tali Mehboob rangiwai’N Hoo

Wang kapah piya panjewai’N ta’N dastar sa’Dewai’N Hoo

Aashiq sadiq howai’N Bahoo ta’N ras pareem di pewai’N Hoo

تشریح:

تا نگردی از خود فنا

 

کجا رسی با لِیْ مَعَ اللّٰہِ سر ہوا

’’جب تک تُو اپنی ہستی کو فنا نہیں کر دیتا سراسر ہوائے نفس کا قیدی بنا رہے گا، ایسے میں تُو لِیْ مَعَ اللّٰہِ کے مرتبے تک کہاں پہنچ سکتا ہے؟‘‘ -(عین الفقر)

سیّدی رسول اللہ ( ﷺ )نےارشاد فرمایا:’’آدمی کی اس کی دین کے لحاظ سے آزمائش ہوتی ہے، اگر وہ دین میں سخت ہوتا ہے تو اس کی آزمائش سخت اور اگر وہ دین میں نرم ہوتو تو اس کی آزمائش بھی ہلکی ہوتی ہے ،پس آدمی پر مصائب کاسلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے کہ وہ روئے زمین پر بغیر گناہ کے چلتا ہے‘‘-(سنن ترمذی)

اس بیت مبارک کےپہلے  چار مصرعوں میں حضرت سخی سُلطان باھو ؒ نے طالب وسالک کو مجاہدۂ نفس کی تلقین فرمائی ہے کہ اگر تم اللہ عزوجل کا قرب یا طریقت میں کوئی مقام حاصل کرنا چاہتے ہو تو سخت مجاہدے کو اپنا شعار اوراوڑھنابچھونا بنالو- اور آخری مصرعہ میں اس مجاہد ے کا نتیجہ بھی بتایا ہے –جیسا کہ آپؒ ارشادفرماتے ہیں:

’’راہِ خدائے تعالیٰ بال سے بھی زیادہ باریک ہے کہ اِس میں فنا فی اللہ ذات ہونا پڑتا ہے جو فرمانِ حق تعالیٰ کے مطابق ایسے ہے کہ جیسے سُوئی کے ناکے سے اونٹ کا گزرنا-فقیری ایک پُردرد کشالہ ہے نہ کہ اماں و خالہ کے گھر کا حلوہ و چرب نوالہ، بلکہ رات دن سوزِ عشق میں جلنا ہے‘‘-(عین الفقر)

آپؒ نے اولیاء اللہ کی شان یوں بیان فرمائی: ’’ اُنہیں(اولیاء اللہ کو) آتش ِدیدار اِس طرح جلاتی ہے جس طرح کہ آگ خشک لکڑی کو جلاتی ہے، اولیاء اللہ کو یہ ریاضت خدائے تعالیٰ کی بارگاہ سے نصیب ہوتی ہے، یہ وہ مقامِ اولیاءہے جہاں نفس و شیطان کا گزر ہے نہ بھونڈی دنیا کا دخل ہے، نہ وہاں ازل و ابد ہے اور نہ وہاں حورو بہشت ہے‘‘- (امیرالکونین)

ایک مقام پہ آپؒ نے طالب اللہ کی شان یوں بیان فرمائی:’’ (طالب)ذکر ِخفیہ میں مشغول ہو کر اپنی جان کا گوشت کھاتا ہے اور خوفِ خدا میں رو رو کر اِتنی آہ و زاری کرتا ہے کہ ہڈیوں سے مغز نکل آتا ہے- اِس پوشیدہ و بے ریا ریاضت سے خونِ جگر پیتا ہے اور لاغر ہو کر ہوا (نفسانی خواہشات)سے فارغ ہو جاتا ہے اور نیست و نابود ہو کر غرق فنا فی اللہ ہو جاتا ہے‘‘(کلیدالتوحیدکلاں)- مزید ارشادفرمایا : ’’ اسم اللہ ذات کی تپش اُسے دن رات جلائے رکھتی ہے جس طرح کہ آگ خشک لکڑیوں کو جلاتی ہے اور یہ آگ سرد نہیں ہوتی جب تک کہ وہ بہشت میں داخل ہو کر دیدارِ اِلٰہی سے سیراب نہ ہو جائے‘‘-(کلیدالتوحیدکلاں)

ایک مقام پہ آپؒ نے مرشد کامل کی شان یوں بیان فرمائی:’’جس طرح قصاب بکری کو ذبح کر کے اُس کی کھال اُتارتا ہے، اُس کی ہر رگ و بوٹی کو الگ الگ کرتا ہے اور گوشت سے ہر آلائش کو نکال کر دُور پھینک دیتا ہے- اِسی طرح مرشد کو بھی ایسا ہی کامل و مکمل ہونا چاہیے‘‘-(عین الفقر)

آپؒ نے  اپنی والدہ ماجدہ سیّدہ بی بی راستیؒ کی کیفیت یوں بیان فرمائی:’’ اِس فقیر کی والدہ محترمہ اِسی طرح کا ذکر ِخفیہ کیا کرتی تھیں اور اُن کی آنکھوں سے خون جاری رہا کرتا تھا ‘‘(محک الفقرکلاں)-

آخر میں آپؒ  فرماتے ہیں کہ جب تو مجاہدے کے عمل سے گزر جائےگا تو تجھے  ایک دل فریب اور قرب والی حیات جادداں عطا کی جائے گی- جیسا کہ آپؒ فرماتے ہیں :’’ صاحب ِ روح کو رنج و زحمت و بلا بھی خوشگوار لگتی ہے اور وہ اِس سے خوش ہوتا ہے جس طرح بچے اور لڑکے مٹھائی و حلوا کھا کر خوش ہوتے ہیں - ایسے ذاکر کے دل کو مضبوط دل کہتے ہیں‘‘-(محک الفقرکلاں)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر