عقیدہ توحید اور اخلاق نبویﷺ سے کچھ اسباق ، کچھ نصیحتیں

عقیدہ توحید اور اخلاق نبویﷺ سے کچھ اسباق ، کچھ نصیحتیں

عقیدہ توحید اور اخلاق نبویﷺ سے کچھ اسباق ، کچھ نصیحتیں

مصنف: صاحبزادہ سلطان احمد علی جنوری 2026

 انسان عام طور پہ ان نعمتوں پہ شکر بجا لاتا ہے جن سے راحت ملے لیکن بعض دفعہ کچھ ایسی نعمتیں بھی ہوتی ہیں جن سے راحت نہیں ملتی لیکن ان کا بھی شکر ادا کرنا لازم ہوتا ہے-مثلاً ایک مرد مجاہد کو جہاد کے دوران میدان میں گولی لگتی ہے- گولی لگنا راحت تو نہیں ہے بلکہ تکلیف اور رنج کا باعث ہے- چونکہ وہ اللہ کی راہ میں کھڑا ہے اور قیامت کے دن وہ اس زخم کو اللہ کے دربار میں اپنے جہاد میں جانے کی گواہی کے طور پہ پیش کرے گا-اس لئے وہ رنج بھی نعمت ہے اور اس نعمت پہ بھی شکر ہوگا- لہذاہم عام طور پہ صرف راحت والی نعمتوں پہ شکر کرتے ہیں بعض دفعہ وہ چیزیں بھی نعمت ہوتی ہیں جو بظاہر راحت نہیں دے رہی ہوتی اس لئے ہمیں ان کا بھی شکر ادا کرنا چاہیے -

یہ اللہ تعالیٰ کا اپنی قدرت کو ظاہر کرنے کا اپنا ایک نظام ہے اور یہی چیزیں ہیں جو بندے کو خداکی قدرت اور اس کی صفات کے معنی کا یقین دلاتی ہیں- یعنی، یہ چیزیں اس کی رحمت کا، اس کی طرف سے دیے گئے رزق اور اجر کا بندے کو یقین دلاتی ہیں- بعض دفعہ انسان کو یہ معلوم نہیں ہو رہا ہوتا کہ میرا معاون و مددگار کون ہے؟ مثلاًجب وہ ڈوبنے لگے تو کشتی کے تختوں کو اپنا مددگار سمجھتا ہے، اسی طرح سفر میں کہیں اس کو سایہ چاہیے تو کسی گھنے درخت کو، کسی سائبان کو، کسی مسافر خانے کو، کسی ہوٹل یا ریسٹورنٹ کو وہ اپنے لیے راحت کا سبب سمجھتا ہے-حالانکہ فی الحقیقت اس کو راحت پہنچانے والا اللہ تعالیٰ ہے -اس لئے امید اوریقین اسباب سے بالا تر کر کے مسبب الاسباب کی طرف رکھنی چاہیے-

 امام فخردین رازیؒ چونکہ فلسفہ، منطق اور کلام پہ بہت عظیم دسترس رکھتے تھے، انہوں نے ’’تفسیر کبیر‘‘ میں ایک واقعہ بیان کیا ہے کہ:

’’سیدنا امام جعفر صادقؒ سے ایک ملحد (atheist) ملا،اس نے آپ کے سامنے وجود صانع (کائنات کو بنانے والے)کا انکار کیا- امام جعفر صادقؒ نے اس سے فرمایا کہ کیا تم نے کبھی سمندر کا سفر کیا ہے- اس نے کہا جی ہاں میں نے کیا ہے- آپ نے فرمایا اگر کوئی واقعہ تمہیں یاد ہو تو بیان کرو-اس بندے نے اپنا ایک واقعہ بیان کیا کہ میں ایک دن سمندر کے سفر میں طوفان میں گر گیا، وہ اتنا شدید سمندری طوفان تھا کہ کشتیاں ٹوٹ گئیں، ملاح ڈوب گئے، لوگ سازو سامان ہر چیز تباہ ہو گئی- تو جو کشتی کے ٹوٹے ہوئے کچھ تختے تھے مَیں ان میں سے کسی ایک ٹوٹے ہوئے تختے پہ سوار ہو گیا، لیکن طوفان اتنا شدید تھا کہ میرے نیچے سے وہ تختہ بھی پھسل گیا اور میں اسی کشمکش میں تھا کہ بڑی طلاطم کی موج آئی اور اس نے مجھے سمندر سے نکال کے ساحل پہ ڈال دیا- امام جعفر صادقؒ نے اس سے سوال فرمایا کہ جب طوفان آیا تو تیرا اعتمادکس پہ تھا؟ اس نے کہا کہ کشتی پہ- آپ نے فرمایا کشتی تو پھر لرزنے لگی- اس نے کہا پھر میری امید ملاح پہ تھی، آپ نے فرمایا کشتی ٹوٹ گئی، ملاح ڈوب گئے، اب تیری امید کس پہ تھی؟ اس نے کہا: اس تختے پہ جس پہ میں سوار ہوا تھا- آپ نے فرمایا پھر جب تیرے ہاتھ سے وہ تختہ بھی چھوٹ گیاتو کیا تُو نا امید ہو گیا کہ تو نے اپنےآپ کو ہلاکت کے سپرد کر دیا؟- اس نے کہا ہاں جب مجھ سے تختہ بھی چھوٹ گیا تو میں نے امید نہیں ہاری- امام جعفر صادقؒ نے فرمایا تو پھر مجھے بتا کہ اس وقت تیری امید کس سے تھی؟کیونکہ ہم جو موحدین ہیں اللہ کی توحید پہ یقین رکھنے والے ہیں ایسی صورتحال میں جب کچھ بھی باقی نہیں رہتا، ہم لہروں کے سپرد ہو جاتے ہیں اس وقت جو امید قائم رہتی ہے ُاس امید کو ہم اللہ پہ یقین کہتے ہیں- امام رازی فرماتے ہیں کہ اس سوال کا اس ملحد کے پاس کوئی جواب نہ تھا ‘‘-

اللہ تعالیٰ اپنی راہیں ایسے انداز سے دکھاتا ہے جو انسان کی عقل سے ماورا مگر دل کی یقین سے قریب ہوتے ہیں- بندہ جب اپنی توجہ، رغبت اور شعور کو رب کی طرف مرکوز رکھتا ہے، تو اسے ہر نعمت، ہر راحت، ہر کامیابی میں کسی سبب کی نہیں بلکہ اللہ کی رحمت کی جھلک نظر آتی ہے- ڈاکٹر، کاریگر، استاد سب اسباب ہیں، لیکن عطا صرف اسی کی ہے- ہر امتحان سے کامیابی، ہر قدم پر بہتری اور ہر موقع پر درست رہنمائی، یہ سب اس کی قدرت کا حصہ ہیں جو ہر چیز کو اس کے موزوں مقام پر رکھتی ہے- اصل فہم یہ ہے کہ اسباب سے اوپر اٹھ کر مسبّب کو پہچانا جائے، کیونکہ حقیقت میں سب کچھ اسی کی طرف سے ہے اور وہی سب سے بہتر تدبیر کرنے والا ہے-

بندہ کبھی کبھی غور کرتا ہے کہ ایک ہی چیز سے کتنے مختلف پہلو نکلتے ہیں- ہر شخص اپنی اپنی استطاعت کے مطابق اس سے مختلف فوائد حاصل کرتا ہے- اس نکتے کی وضاحت سیدنا امام شافعیؒ کے اس واقعہ سے ہوتی ہے کہ :

’’ایک دفعہ امام شافعیؒ سے پوچھا گیا:خدا کے وجود پر آپ کے پاس کیا دلیل ہے؟امام شافعیؒ نے کوئی پیچیدہ منطقی دلائل یا سائنسی بیانات پیش نہیں کیے، بلکہ انتہائی سادہ اور حکیمانہ جواب دیا- انہوں نے فرمایا: پیدا کرنے والے اور اس کی قدرت پر میری سب سے بڑی دلیل شہتوت کا پتا ہے-سننے والے حیران رہ گئے کہ شہتوت کا پتا اس بات کی کیسے دلیل بن سکتا ہے- امام صاحب نے فرمایا:کیا تم تسلیم کرتے ہو کہ شہتوت کے پتے کا رنگ، خوشبو، ذائقہ اور ساخت ہمیشہ یکساں رہتی ہے؟ سب نے اقرار کیا- پھر انہوں نے سمجھایا: غور کرو! جب ریشم کا کیڑا یہی پتا کھاتا ہے تو ریشم تیار کرتا ہے- شہد کی مکھی اسی پتے کا رس چوستی ہے تو شہد بناتی ہے- بکری جب یہی پتا کھاتی ہے تو دودھ دیتی ہے- ہرن جب یہی پتا کھاتی ہے تو اس کے ناف میں سے خوشبودار کستوری پیدا ہوتی ہے- اب پتا وہی ہے، لیکن ہر جاندار کی استطاعت اور اللہ کی قدرت کے تحت اس کی تاثیر بدل جاتی ہے‘‘-

یہ ہر چیز کو اس کے صحیح مقام پر رکھنے کا نظام، یہ نظم و ضبط، خالق کی عظیم قدرت کی زندہ دلیل ہے- اگر یہی چیزیں بے ترتیب ہو کر اکٹھی ہونے لگیں تو یہ وجود کے لیے تباہی کا باعث بن جائے-یہ سب اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے، اور اس کی قدرت کی نشانیاں ہمیں ہر طرف، چھوٹی چھوٹی چیزوں میں اور مظاہرِ فطرت میں نظر آتی ہیں- انسان اگر غور کرے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے آثار کو کائنات کے ذرے ذرے میں پھیلا رکھا ہے-

علم کا سب سے پہلا ذریعہ ہمارے حواس ہیں- انہی حواس کے ذریعے ہم مظاہرِ فطرت سے رابطہ کرتے ہیں، ان سے سیکھتے ہیں، ان سے اثر قبول کرتے ہیں- یہی تعامل (interaction) شعور کو بلند کرتا ہے اور جب شعور بلند ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں بندے پر ایک ایک کر کے ظاہر ہوتی چلی جاتی ہیں-

لیکن بات یہ ہے کہ ان نشانیوں کو دیکھنے، سمجھنے اور ان سے معرفت حاصل کرنے کے لیے دل کی سمت درست ہونی چاہیے-اگر انسان کی سمت، اس کی توجہ اور اس کا مقصد اللہ کی طرف ہے تو پھر وہ عام واقعات اور معمولی چیزوں میں بھی خدا کی قدرت کا جلوہ دیکھ لیتا ہے-اگر سمت بگڑ جائے، تو پھر بڑے سے بڑا واقعہ بھی اس کے لیے بے معنی رہ جاتا ہے-یہی بات اولیاء کرام نے اپنے انداز میں سمجھائی ہے جیسا کہ میاں محمد بخشؒ نے فرمایا:

دودھ وجود تیرے وچ شیریں روغن دار سمانی
مرشد لاوے جاگ پرم دی تاں جمے دودھ پانی
گل وچ پھاہ غماں دا گھتّ کے ذکروں چھک مدھانی
ہمت نال محمد بخشا مکھن آیا جانی

یعنی تیرے اندر دو چیزیں ہیں ایک تیل کی طرح بھاری اور ایک دودھ کی طرح لطیف-مرشد کی راہنمائی، اخلاص اور ہمت سے جب تو اپنے باطن کو درست سمت دیتا ہے تو دودھ سے مکھن الگ ہو جاتا ہے، یعنی حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے-

اسی طرح حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں:

قَط قلم نوں مَار نَاں جانیں تے کاتِب نام دھرایا ھو

یعنی جو اپنے نفس پر قابو نہیں پاتا، وہ اگرچہ ایمان کا دعویٰ کرے تو بھی حقیقت سے خالی ہے-یہ دراصل سمت (Direction) کی بات ہے-اگر انسان کی توجہ، نیت، اور دل کا رُخ درست ہو، تو پھر اللہ خود راستے کھول دیتا ہے، معرفت عطا کرتا ہے اور مشکلات کے گرہ خود بخود کھلنے لگتی ہے-

یہاں ایک دلچسپ اور ایمان افروز واقعہ بیان کرنا چاہوں گا کہ:

’’ایک بڑھیا چرخہ کات رہی تھی- ایک دن ایک ملحد (خدا کا منکر) اس کے پاس سے گزرا- شیطان کی عادت ہے کہ جہاں موقع پائے، وہاں وسوسہ ڈال دے- اس نے بڑھیا کو چرخہ کاتتے دیکھا تو رک کر طنزیہ انداز میں پوچھا: اماں! کیا تجھے بھی یقین ہے کہ اس دنیا کا کوئی چلانے والا ہے؟ تیرا کیا عقیدہ ہے ؟ کیا کوئی خدا ہے جو اس نظام کو چلا رہا ہے؟

بڑھیا نے سادگی سے جواب دیا:ہاں بیٹا! میں پورے یقین سے کہتی ہوں کہ اس دنیا کا ایک چلانے والا ہے- اگر کوئی چلانے والا نہ ہو تو دنیا کا نظام یوں منظم نہیں رہ سکتا-

ملحد نے کہا: یہ تو بات کہنے کی ہوئی، مگر اس کی دلیل کیا ہے؟وہ جانتا تھا کہ بڑھیا ان پڑھ ہے، منطق یا فلسفہ نہیں جانتی- شاید اسے خاموش کر دے گا-

بڑھیا نے مسکرا کر کہا:میرے پاس علمِ فلسفہ تو نہیں، مگر میں نے یہ بات اپنے چرخے سے سیکھی ہے-

وہ بولا:چرخے سے؟ وہ کیسے؟

بڑھیا نے کہا:بیٹا! جب تک میں اسے چلاتی ہوں، یہ چھوٹا سا چرخہ چلتا رہتا ہے-اگر میں رک جاؤں یا میری طرح کوئی چلانے والا نہ ہو تو یہ چرخہ ٹھہر جاتا ہے-

جب یہ چھوٹا سا چرخہ بغیر چلانے والے کے نہیں چل سکتا تو یہ زمین، یہ آسمان، یہ سورج، یہ چاند، یہ ہوائیں، یہ سمندر ،یہ سب کچھ بغیر چلانے والے کے کیسے چل سکتے ہیں؟

ملحد خاموش ہو گیا، مگر پھر ایک اور سوال کیا:اچھا، مان لیا کہ کوئی چلانے والا ہے، مگر کیا وہ ایک ہے؟ کیا دو یا تین نہیں ہو سکتے؟

بڑھیا نے کہا:نہیں، وہ ایک ہی ہے-

اس نے کہا:اس کی کیا دلیل ہے؟

بڑھیا نے اپنے چرخے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

’’میرا بیٹا، دیکھ! یہ چرخہ جب میں اکیلی چلاتی ہوں تو ٹھیک چلتا ہے-اگر اس میں کوئی دوسرا بھی ہاتھ ڈال دے، تو یہ اپنے دھاگے توڑ دیتا ہے، اس کے پہیے الجھ جاتے ہیں اور سارا نظام بگڑ جاتا ہے-اسی طرح اگر اس دنیا کو ایک سے زیادہ چلانے والے ہوتے، تو یہ نظام بگڑ جاتا-کبھی دن رات کے ساتھ ٹکراتا، کبھی زمین آسمان سے الجھتی-مگر چونکہ سب کچھ ایک ترتیب میں ہے، ایک توازن کے ساتھ چل رہا ہے، اس لیے یقیناً چلانے والا ایک ہی ہے‘‘-

سبحان اللہ!یہ سادہ بات ایک ان پڑھ بڑھیا کی زبان سے نکلی، مگر اس میں وہ حکمت چھپی تھی جو بڑے بڑے فلسفیوں کی عقل سے ماورا ہے-یہی اصل نکتہ ہے کہ جب دل کی سمت درست ہو جاتی ہے تو وہ معمولی چیزوں سے بھی حقیقت کے دروازے تک پہنچ جاتا ہے-علم، فلسفہ، منطق یہ سب اپنی جگہ اہم ہیں، مگر اصل بنیاد دل کی اخلاص بھری سمت ہے-جب نیت صاف ہو، ارادہ سچا ہو، اور فکر کا رُخ خدا کی طرف ہوتو بندہ چھوٹی چھوٹی چیزوں سے بھی بڑی حقیقتیں اخذ کر لیتا ہے اور اس کیلئے معرفت، قربِ الٰہی اور رضا کا راستہ آسان ہو جاتا ہے-

قرآنِ کریم خود اپنے بارے میں فرماتا ہے کہ:

’’یُضِلُّ بِہٖ کَثِیْرًا لا وَّیَہْدِیْ بِہٖ کَثِیْرًا ط وَمَا یُضِلُّ بِہٖٓ اِلَّا الْفٰسِقِیْنَ ‘‘[1]

’’وہ اس (قرآن مجید) سے بہت لوگوں کو گمراہی میں مبتلا کردیتا ہے اور بہت لوگوں کو اس سے ہدایت دیتا ہے ، اور وہ صرف فاسقوں کو ہی اس سے گمراہی میں مبتلا کرتا ہے‘‘-

یعنی قرآن کریم ایک ہی ہے، مگر اس کے اثرات مختلف ہیں-فرق صرف ایک سمتِ فکر کاہے- جس کا دل درست سمت میں ہے، نیت سچی ہے، وہ قرآن کریم سے ہدایت پاتا ہےاور جس کا دل ٹیڑھا ہے، نیت میں کھوٹ ہے، وہ اسی قرآن کریم کو پڑھ کر گمراہ ہو جاتا ہے-گویاجب دل اور فکر کا قبلہ درست ہو جائے تو بندہ درست نتیجے تک پہنچتا ہے-

اسی لیے بعض اوقات ان پڑھ، سادہ دل لوگ بھی، اگر ان کی نیت پاک ہو، تو وہ ایسی معرفت تک پہنچ جاتے ہیں جہاں بڑے بڑے فلسفی اور مناظر حیران رہ جاتے ہیں-یہی وجہ ہے کہ بزرگانِ دین میں ایک طبقہ ’’ا ُمِّی صوفیاء‘‘کا معروف ہے-’’ا ُمِّی‘‘ سے مراد وہ لوگ جو باضابطہ مدارس یا مکتبوں میں علومِ ظاہری حاصل نہیں کرتے، مگر علمِ باطنی میں راسخ ہوتے ہیں-ان کے دل کی روشنی، ان کی سمت کی درستی اور ان کا تقویٰ انہیں براہِ راست حقیقت تک پہنچا دیتا ہے-

خود امام شافعیؒ فقہ و حدیث میں عظیم تردرجہ کے عالم تھے- وہ جب بھی کسی مشکل اور گہرے مسئلہ میں پھنس جاتے تو حضرت شیبان الرّاعیؒ کی خدمت میں حاضر ہو کر ان سے فیض پاتے تھے- حضرت شیبان الرّاعیؒ بظاہر ’’ا ُمِّی‘‘ تھے-

’’ایک مرتبہ امام احمد بن حنبلؒ جو ابتدا میں صوفیاء کے بارے میں قدرے محتاط رائے رکھتے تھے، امام شافعیؒ سے عرض کرنے لگے:مَیں آج ان اُمِّی بزرگ (حضرت شیبان الرّاعیؒ) کی اصلاح کرنا چاہتا ہوں، تاکہ ان کے نظریے کو سمجھا جائے-

امام شافعیؒ نے فرمایا:احمد! ایسا مت کرو، وہ لوگ دل کے ذوق والے ہیں، ان کا علم وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں ہمارا ختم ہوتا ہے-

لیکن امام احمدؒ بضد ہوئے-چنانچہ وہ حضرت شیبان الرّاعیؒ کے پاس گئے اور سوال کیا:اگر کسی شخص کی ایک نماز قضا ہو گئی اور بعد میں اسے یاد نہیں رہا کہ وہ ظہر تھی یا عصر یا مغرب تو اب وہ کیا کرے؟ کس نماز کی قضا لوٹائے؟

حضرت شیبانؒ نے تبسم فرمایا اور کہا:احمد! اُس بندے نے اپنے خالق کو بھلا دیا، اپنے معبود سے غفلت برتی-اب اسے یہی سزا دی جائے کہ اپنے پروردگار کی یاد سے کبھی غافل نہ ہو-

یہ سن کر امام احمد بن حنبلؒ بے ہوش ہو گئےجب ہوش میں آئے تو امام شافعیؒ نے فرمایا:میں نے کہا تھا احمد، شیبان کو مت آزماؤ- وہ تقویٰ کو وہاں سے جانتا ہے جہاں ہماری دلیلیں ختم ہو جاتی ہیں ‘‘-

یہی وہ حقیقت ہے جو ’’اُمِّی صوفیاء‘‘ کے طبقے کو ممتاز کرتی ہے کہ بظاہر یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے منطق نہیں پڑھی، علمِ کلام نہیں پڑھا، مگر سمت درست تھی، دل بیدار تھا اسی لیے وہ ہمیشہ درست نتیجے تک پہنچتے تھے-

یہ چند باتیں دراصل سمت (Direction) کے اعتبار سے ایک تمہید تھیں-اب میں دو بنیادی پہلوؤں پر گفتگو کرنا چاہوں گا،ایک کا تعلق عقیدہ سے ہے اور دوسرا اخلاق سے-یہ دونوں ایسے عناصر ہیں کہ اگر ان میں بگاڑ پیدا ہو جائے، تو چاہے علم کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو، انسان راہِ راست سے ہٹ جاتا ہے-علم کا زیادہ ہونا ہمیشہ ہدایت کی علامت نہیں ہوتا-اگر ایسا ہوتا، تو واصل بن عطا اور اس کے ماننے والے معتزلہ گمراہ نہ ہوتے کیونکہ وہ تو منطق کے امام کہلاتے تھے، مگر اسی علم کی زیادتی اور عقل پرستی نے ان کو درست نتائج سے محروم کر دیا-

اس کے برعکس، جن کے عقیدہ و اخلاق کی سمت درست تھی، جیسے امام ابو الحسن اشعریؒ، امام ابو منصور ماتریدیؒ، امام احمد بن حنبلؒ، امام ابو جعفر الطحاویؒ نہ صرف ہدایت یافتہ بنے بلکہ دوسروں کے رہنما بھی بن گئے-

ہمارے ہاں آج کل کچھ ایسے مباحث جنم لے رہی ہیں جن پر لوگ غور نہیں کرتے-کچھ خطیبانہ اور دلکش جملے انسان کے ذہن کو اس طرح الجھا دیتے ہیں کہ وہ حق و باطل میں فرق نہیں کر پاتا-حالانکہ اگر کتاب و سنت کی روشنی میں چشمے لگا کر بات کو دیکھا جائے، تو ہر ابہام دور ہو جاتا ہے -

اصل مسئلہ صرف سمت (Direction) کا ہے-یہی سمت کا بگاڑ عقیدہ میں بھی ظاہر ہوتا ہے اور اخلاق میں بھی- آج کے دور میں ان دونوں میں بگاڑ اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے- عقیدے میں الجھن اور اخلاق میں گراوٹ کا جو حال ہمارا ہو چکا ہے، ایسا زوال، ایسی پستی اور ایسی ذلت شاید دنیا کی کسی قوم کی تاریخ میں بھی نہیں ملتی-

اگر ہم اخلاق پر نظر ڈالیں تو دیکھیں گے کہ اخلاق کی بنیاد دل ہے-انسان کا دل، وہ مقام ہے جہاں اس کے سارے علوم، نیتیں اور ارادے جمع ہوتے ہیں اور انہی سے اس کی سمت طے ہوتی ہے-لیکن اس دل کا اظہار زبان سے ہوتا ہے-اسی لیے مولانا جلال الدین رومیؒ فرماتے ہیں:

آدمی مخفیست در زیر زبان
این زبان پردست بر در گاه جان

’’آدمی (کا اصل باطن) زبان کے نیچے چھپا ہوتا ہے- زبان دراصل دل (یا جان) کے دروازے پر ایک پردہ ہے‘‘-

رومیؒ اس کی مثال دیتے ہیں کہ گھر کے اندر کچن، صحن، کمرے، سب کچھ موجود ہوتا ہے،لیکن باہر سے آنے والا کچھ نہیں جانتا ،جب تک کہ دروازے یا ڈیوڑی کا پردہ نہ ہٹے-جیسے ہی پردہ ہٹتا ہے، پورا گھر سامنے آ جاتا ہے-اسی طرح انسان بھی اپنی زبان کے پردے کے پیچھے چھپا ہوتا ہے؛جب تک زبان بند ہے، کسی کو معلوم نہیں کہ اس کے دل میں کیا ہے،مگر جب زبان کھلتی ہے، تو انسان کا باطن ظاہر ہو جاتا ہے-

حضرت عُبادہ بن صامت (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ)نے ارشاد فرمایا:

’’اَضْمِنُوْا لِيْ سِتًّا مِّنْ أَنْفُسِكُمْ أُضْمِنُ لَكُمُ الْجَنَّةَ‘‘

’’تم مجھے اپنی طرف سےچھ چیزوں کی ضمانت دےدو میں تمہیں جنت کی ضمانت دیتا ہوں‘‘-

1-’’اَصْدِقُوْا إِذَا حَدَّثْتُمْ ‘‘ جب بولو تو سچ بولو‘‘

2-’’وَأَوْفُوْا إِذَا وَعَدْتُّمْ‘‘وعدہ کرو تو پورا کرو

3-’’وَأَدُّوْا إِذَا اؤْتُمِنْتُمْ‘‘

’’تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو وہ صاحبِ امانت کو ادا کرو‘‘

4-’’ وَاحْفَظُوْا فُرُوْجَكُمْ‘‘

’’اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرو ‘‘

5- ’’وَغُضُّوْا أَبْصَارَكُمْ‘‘

’’اپنی نگاہوں کو جھکاکر رکھو‘‘-

6-’’ وَكُفُّوْا أَيْدِيَكُمْ ‘‘[2]

’’اپنے ہاتھوں کو (ظلم سے) روک کر رکھو‘‘

ان صفات کی تائید قرآنِ مجید نے سورۃ المؤمنون کے آغاز میں فرمائی-ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’قَدْ اَفْلَحَ الْمُؤْمِنُوْنَ‘‘

’’ بیشک مراد کو پہنچے ایمان والے ‘‘-

’’الَّذِیْنَ ہُمْ فِیْ صَلَاتِہِمْ خٰشِعُوْنَ ‘‘

’’جو اپنی نماز میں گڑگڑاتے ہیں ‘‘

’’ وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُوْنَ ‘‘

’’اور وہ جو کسی بیہودہ بات کی طرف التفات نہیں کرتے‘‘

’’ وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِلزَّکٰوۃِ فٰعِلُوْنَ

’’اور وہ کہ زکوٰۃ دینے کا کام کرتے ہیں‘‘ -

’’ وَالَّذِیْنَ ہُمْ لِفُرُوْجِہِمْ حٰفِظُوْنَ ‘‘ [3]

’’اور وہ جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں‘‘-

یہاں اللہ تعالیٰ نے مومنین کی علامتیں واضح کیں کہ وہ اپنی زبان کو بیہودگی اور لغویات سے محفوظ رکھتے ہیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں-گویا ایمان کی ابتدا زبان کی پاکیزگی سے اور اس کی تکمیل عفت و عصمت سے ہوتی ہے-

یہی مفہوم سورۃ النور میں مزید کھولا گیا، جہاں فرمایا گیا کہ نگاہوں کی حفاظت ہی دراصل شرمگاہ کی حفاظت کا ذریعہ ہے- ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ وَیَحْفَظُوْا فُرُوْجَھُمْط ذٰلِکَ اَزْکٰی لَھُمْط اِنَّ اللہَ خَبِیْرٌم بِمَا یَصْنَعُوْنَo‘‘[4]

’’آپ مومن مردوں سے فرما دیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں، یہ ان کیلئے بڑی پاکیزہ بات ہے- بے شک اللہ ان کاموں سے خوب آگاہ ہے جو یہ انجام دے رہے ہیں‘‘-

یہی بات اللہ تعالی نے ایمان والی خواتین کیلئے فرمائی:

’’وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَ يَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ ‘‘[5]

’’اور آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں‘‘-

کئی مفسرین نے اس جانب توجہ دلائی کہ اس مقام پہ آنکھوں کو جھکانے کا شرمگاہ کی حفاظت سے پہلے آنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اگر نظروں میں حیا پیدا ہو جائے پورے جسم میں حیا پیدا ہو جاتا ہے-یوں قرآن کریم ہمیں یہ شعور دیتا ہے کہ گناہ کا پہلا دروازہ آنکھ ہے-جب نگاہ قابو میں رہے، تو دل پاک رہتا ہے،اور جب دل پاک ہو تو عمل محفوظ رہتا ہے- لیکن اگر آنکھ بے لگام ہو جائے، تو دل میں خواہشات کا ہجوم پیدا ہوتا ہے، جو انسان کو عمل کے فساد تک لے جاتا ہے-

آج کا دور اسی خطرے سے بھرا ہوا ہے-گزشتہ دو صدیوں میں جو ادب، فن، اور ذرائع ابلاغ پیدا ہوئے، انہوں نے انسانی فطرت کے اندر جنسی اشتعال و اشتغال اور لذت پرستی کو بڑھاوا دیا-سیگمنڈ فرائڈ کے نظریات کے بعد مغربی دنیا نے جنسی تسکین کو انسانی اظہار کا محور بنا لیا-فنونِ لطیفہ سے لے کر اشتہارات، ڈراموں، فلموں، تصاویر اور اب سوشل میڈیا تک ،ہر چیز نے انسان کے لاشعور میں اشتہا کے بیج بو دیے ہیں-یہی وہ راستہ ہے جس سے انسانی نگاہیں بھٹکنے لگیں، دل پراگندہ ہوئے، اور شرم و حیا کی حفاظت کمزور پڑ گئی-قرآن ہمیں اسی زوال سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے کہ اگر انسان اپنی نگاہ اور اپنی زبان پر قابو پا لے، تو وہ اپنے باطن کو پاک رکھ سکتا ہے-کیونکہ زبان کی لغزش ایمان کو کمزور کر دیتی ہے اور نگاہ کی لغزش عفت کو برباد کر دیتی ہے-پس جو شخص اپنی زبان کو فحش، غیبت، بہتان اور لغو سے محفوظ رکھےاور اپنی نگاہ کو حرام مناظر سے جھکائے رکھے، وہی حقیقت میں ایمان کے درجے پر فائز ہوتا ہےاور اسی کیلئے رسولِ اکرم (ﷺ) نے جنت کی ضمانت عطا فرمائی-یہ تعلیم صرف فرد کی اصلاح نہیں بلکہ پورے معاشرے کی تطہیر کا منشور ہے-جب زبانیں پاک، نگاہیں باحیا اور قلوب خدا سے منسلک ہوں تو پھر معاشرہ بھی پاکیزگی، امانت اور سکون کا گہوارہ بن جاتا ہے-

یہ ہماری بدقسمتی، محرومی اور شقاوت ہے کہ آج شرم و حیا ، جو اسلام کی روح اور قرآن کی تہذیب ہے، اگر کوئی اس کا ذکر کرے، اس کی تعلیم دے، یا اس کے احیاء کی بات کرے، تو اسی کے معاشرے میں اسے پرانے زمانے کا انسان کہا جاتا ہے-یہی وہ فکری زوال ہے جو ہمیں اس حد تک لے آیا ہے کہ حیا، غیرت اور پاکیزگی کا تذکرہ اجنبی بن گیا ہے- ہمارے ذرائع ابلاغ، نصاب اور معاشرتی سانچے تک اس زہر سے بھر گئے ہیں جو بیرونی فنڈنگ اور نظریاتی یلغار کے ذریعے ہم پر مسلط کیا گیا-

ہمیں کسی کا نام لینے کی ضرورت نہیں، صرف ذرا ان لٹریچرز کو پڑھ لیجیے جو آج ’’جدید فکر‘‘ کے نام پر ہمارے نصاب اور میڈیا میں رائج ہیں، ان میں سوائے فحاشی، بےحسی، اور جنسی اشتعال کے کیا ہے؟

یہی ادب، فلمیں، ڈرامے، اشتہارات، تصاویر، انسان کی نگاہ کو آلودہ اور دل کو بےحس کر چکے ہیں اور اس کے اثرات کیا نکلے؟ وہی جو آج ہمارے معاشرے میں پھیلے ہوئے ہیں، بچوں کے ساتھ ظلم، نوجوانوں میں اشتہائے نفس کا عروج، خواتین کی عزتوں پر حملے اور گھروں کے اندر سے حیا کا اٹھ جانا-یہ سب اس وقت تک نہیں سنبھلے گا جب تک قرآن کریم کو ہماری تربیت اور رہبری کا مرکز نہیں بنایا جاتا-

رسولِ اکرم (ﷺ) نے فرمایا کہ’’ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہوگی کہ لوگ آخرت پر دنیا کو ترجیح دیں گے‘‘-[6] یہی حالت آج ہمارے معاشرے کی سب سے بڑی علامت ہے-

اگر آج کوئی اس قرآنی تہذیب کا علم اٹھاتا ہے، اس کے احیاء کی صدا بلند کرتا ہے،تو وہ دراصل اپنی آخرت کی حفاظت کرتا ہے-ورنہ وہ اپنی آخرت کو خود اپنے ہاتھوں گنوا رہا ہے-

قرآن کریم وہ کتاب ہے جو ہمیں  رستہ دکھاتی ہے، ہمارے زخموں کی تشخیص بھی کرتی ہے اور ان کا علاج بھی بتاتی ہے-کیونکہ آنکھوں کی حیا، زبان کی پاکیزگی، دل کی نرمی  یہی وہ عناصر ہیں جو اخلاق کو جنم دیتے ہیں-

اخلاقِ نبوی (ﷺ) وہ معجزہ  ہیں جس نے دلوں کو فتح کیا-قرآن مجید حضور نبی کریم (ﷺ) کے خلق عظیم پر یوں گواہی دیتا ہے :

’’وَإِنَّكَ لَعَلٰى خُلُقٍ عَظِيْمٍ ‘‘[7]

’’اور بے شک آپ عظیم الشان خلق پر قائم ہیں‘‘-

یعنی آدابِ قرآنی سے مزّین اور اَخلاقِ اِلٰہیہ سے متّصف ہیں-علماء نے فرمایا کہ اخلاقِ نبوی (ﷺ) بھی معجزہ ہیں کیونکہ معجزہ وہ چیز ہے جو دوسروں کو عاجز کر دے-آپ (ﷺ) کے اخلاق نے دشمنوں کو عاجز کر دیا،آپ نے دلوں کو تلوار سے نہیں، اخلاق سے فتح کیا-

تاریخ میں تین فتوحات ایسی ہیں جو اخلاق کی طاقت سے ہوئیں:فتحِ مدینہ، فتحِ حبشہ، اور فتحِ مکہ-مدینہ میں نہ کوئی تلوار چلی، نہ محاصرہ ہوا ،ایک شخص، جو آپ (ﷺ) کی طرف سے مقرر ہوا،اپنے اخلاق، کردار، اور حسنِ بیان سے یثرب کو مدینہ منورہ بنا گیا-

حبشہ میں جب کفارِ مکہ رسولِ اکرم (ﷺ) کے صحابہ کو واپس لانے گئے،تو وہاں بھی جنگ نہیں ہوئی بلکہ قرآن کی تعلیمات اور اخلاقِ محمدی (ﷺ) نے نجاشی کا دل بدل دیا،اور اس کے ساتھ پوری سلطنتِ حبشہ کے نصیب بدل گئے-پھر فتحِ مکہ  کا دن جب لوگ کہہ رہے تھے کہ آج انتقام کا دن ہے!تو آپ (ﷺ) نے فرمایا:نہیں، آج انتقام کا دن نہیں  بلکہ آج عفو و درگزر کا دن ہے-

یہ اخلاقِ محمدی (ﷺ) حضور رحمت للعالمین (ﷺ)  کا سب سے عظیم شیوہ ہے-حضرت عمار بن یاسر (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’حُسْنُ الْخُلُقِ خُلُقُ اللهِ الْأَعْظَمُ‘‘

’’حسن خلق اللہ تعالیٰ کا عظیم خلق ہے ‘‘-

اسی لیے فرمایا گیا کہ اللہ کے اخلاق سے متخلّق ہو جاؤ-

اللہ پاک ہے اور پاکی اسی کے اخلاق میں سے ہے-اسی لیے بندے کو حکم دیا گیا کہ وہ تزکیہ اختیار کرے یعنی اپنے ظاہر و باطن کو پاک کرے،کیونکہ ربّ کی صفت ’’سبحان‘‘ ہے اور سبحان کا مطلب ’’ہر قسم کی ناپاکی سے پاک ہونا‘‘-

پاکی صرف جسمانی نجاست سے بچنے کا نام نہیں، بلکہ یہ نظر، دل اور نیت کی صفائی بھی ہے یہی تزکیہ ہے جس کی بنیاد پر انسان اللہ کے قریب ہوتا ہے-صوفیا کرام اسی تزکیے کے لیے ریاضت کرتے تھے-حضور مرشد کریم ، حضرت سلطان محمد عبدالعزیز رحمہ اللہ اپنے شیخ حضرت پیر بہادر شاہؒ کی نگرانی میں سوائے ایام ممنوعہ کے، ایک سال کا طویل روزہ رکھتے رہے-جب وہ واپس تشریف لائے تو جسمِ اقدس اتنا نحیف تھا کہ روئی میں لپیٹ کر لایا گیا-

یہ ریاضتیں اور مشقتیں کیوں؟اس لیے کہ نفس کی زبان ہاتھ میں آجائے -اگر انسان اپنے نفس پر قابو نہیں رکھتا تو پھر سمجھ لو کہ نفس نے انسان کو قابو میں لے لیا-نفس کو سواری بنانا انسان کی عظمت ہے،لیکن اگر انسان خود نفس کا غلام بن جائے تو یہی ذلت کی انتہا ہے-جو اپنے نفس پر سوار ہو جائے، محنت، مجاہدے اور ریاضت سے گزرے،وہ اپنے وجود کو ایسی پاکی عطا کرتا ہے جو اسے قربِ الٰہی کیلئے تیار کر دیتی ہے-

یہی اخلاق ہیں جن کی آج ہمیں سب سے زیادہ ضرورت ہے-جب اخلاق وجود میں آتا ہے تو اس کے ساتھ رحمت، برکت، سکون اور نورانیت بھی اترتی ہے-امام غزالیؒ نے فرمایا کہ ’’فنا فی اللہ‘‘ کا مطلب ہے:’’جس طرح اللہ رحمن ہے، تم بھی اپنے وجود میں رحمت پیدا کرو-وہ معاف کرتا ہے، چاہے خطا ہو یا نہ ہو، تم بھی معاف کرو-وہ عطا کرتا ہے، چاہے کوئی مستحق ہو یا نہ ہو تم بھی اللہ کے دیے ہوئے میں سے اس کی مخلوق میں بانٹو-وہ اپنی مخلوق پر رحم کرتا ہے ،تم بھی کرو-وہ بلا امتیاز محبت کرتا ہے ، تم بھی سب سے محبت کرو-جو اس در پر آ جائے، اللہ اسے خالی نہیں لوٹاتا تو اگر کوئی تمہارے در پر آئے، تم بھی اسے خالی مت لوٹاؤ-

یہی وہ اخلاق ہے جو بندے کو اس مقام تک لے جاتا ہےجہاں اس کے دل پر انوارِ الٰہی کی تجلیات منکشف ہوتی ہیں-جب بندے کے وجود میں یہ نورانیت پیدا ہوتی ہے،تو وہ اس حقیقت کو سمجھنے لگتا ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) جن کے کلمے سے یہ نور ملتا ہے ،وہ خود نور کا سرچشمہ ہیں-

یہاں ایک لطیف نکتہ ہے جس پر اکثر لوگ الجھ جاتے ہیں:کچھ کہتے ہیں نبی (ﷺ) نور ہیں،کچھ کہتے ہیں بشر ہیں-حالانکہ بنیادی طور پر یہ سوال ہی غلط ہے گویا نور اور بشر ہونا ایک دوسرے کی ضد ہیں-حالانکہ ایسا نہیں حضور (ﷺ) کی بشریت سے انکار ممکن نہیں اور آپ (ﷺ) کی نورانیت سے انکار گمراہی  ہے-دونوں حقیقتیں ایک ہی ذات میں جمع ہیں-جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’فَاَرْسَلْنَاۤ  اِلَیْہَا رُوْحَنَا فَتَمَثَّلَ لَہَا بَشَرًا سَوِیًّا‘‘[8]

’’تو اس کی طرف ہم نے اپنا روحانی بھیجا وہ اس کے سامنے ایک تندرست آدمی کے روپ میں ظاہر ہوا‘‘-

جبرائیلؑ ملک ہیں، نورانی مخلوق لیکن وہ نور ہو کر بشری صورت میں آئے-تو اگر جبرائیل، جو فرشتہ ہیں  وہ نور ہو کر بشر کی شکل میں آ سکتے ہیں،تو پھر محمد مصطفی (ﷺ) جو وجہِ تخلیقِ کائنات ہیں وہ نور ہو کر بشری صورت میں کیوں نہیں آ سکتے؟

جبرائیلؑ نور ہیں مگر بشر کی صورت میں آئےتو حضور (ﷺ) جو تمام انوار کا مرکز ہیں  اللہ کے حکم سے نور و بشر دونوں حیثیتوں میں جلوہ گر ہوئے-یہی لطافتِ مصطفوی ہے کہ بشر کی تخلیق مٹی سے ہوئی مگر حضور (ﷺ) کی حقیقت نور سے ہے اور اللہ نے چاہا تو اسی نور کو بشری قالب عطا فرمایا تاکہ انسانوں کے درمیان رہ کر وہ انسانیت کو کمال کی راہ دکھا سکیں-یہی وہ فہمِ نبوت، تزکیہ اوراخلاق ہےجو انسان کو مٹی سے اٹھا کر نور کی معراج تک پہنچا دیتا ہے-اور یہی راستہ ہے جو ہمیں رحمت للعالمین (ﷺ) کے در تک لے جاتا ہے-

’’مِنْہَا خَلَقْنٰکُمْ وَ فِیْہَا نُعِیْدُکُمْ وَ مِنْہَا نُخْرِجُکُمْ تَارَۃً  اُخْرٰی ‘‘[9]

’’ ہم نے زمین ہی سے تمہیں بنایا اور اسی میں تمہیں پھر لے جائیں گے اور اسی سے تمہیں دوبارہ نکالیں گے ‘‘-

محی السنہ امام بغوی ،امام قرطبی،ملا علی قاری اور حافظ بدر الدین عینی (رحمتہ اللہ علیھم)نے اس آیت کریمہ کی تفسیر میں بیان فرمایا ہے کہ :

’’جب کوئی انسان پیدا ہونے والا ہوتا ہے تو اللہ کا ایک فرشتہ اس مٹی کو اٹھاتا ہے جہاں وہ انسان مرنے کے بعد دفن کیا جائے گا-پھر وہ فرشتہ اس مٹی کو نطفے کے ساتھ ملا دیتا ہے یوں انسان کی تخلیق مٹی اور نطفے کے امتزاج سے ہوتی ہے‘‘-

حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ:

ایک دن حضور پاک (ﷺ) ایک ایسی قبر کے پاس گزرے   جو کھودی جا رہی تھی  -

’’فَقَالَ لِمَنْ هٰذَا؟قِيْلَ لِرَجُلٍ مِّنَ الْحَبَشَةِ فَقَالَ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ سِيْقَ مِنْ أَرْضِهٖ وَسَمَائِهٖ حَتّٰى دُفِنَ فِي التُّرْبَةِ الَّتِيْ مِنْهَا خُلِقَ‘‘[10]

’’آپ (ﷺ)نے فرمایا :یہ کس کی  قبر ہے ؟عرض کی گئی ،ایک حبشہ کے رہنے والے شخص کی ہے،توآپ (ﷺ) نے ارشادفرمایا، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللهُ اپنی زمین و آسمان سے چلا یہاں تک کہ اِس مٹی میں  دفن کیا گیا جس (مٹی ) سے اس کی تخلیق ہوئی ‘‘-

یعنی ہر انسان کی پیدائش میں اسی زمین کا ذرہ شامل ہوتا ہے جس میں اسے آخرکار دفن ہونا ہے-

ایک اورروایت میں بیان کیا گیاہے کہ :

’’اِنَّ الْأَرْضَ عَجَّتْ إِلٰى رَبِّهَا تَعَالٰى لَمَّا أُخِذَتْ تُرْبَةُ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَام مِنْهَا‘‘

’’جب  آدم (علیہ  السلام ) کی مٹی زمین سے لی گئی تو زمین نے اللہ پاک کی بارگاہ اقدس میں آہ و زاری کی-

تو اللہ پاک نے اس کو ارشادفرمایا:

إِنِّيْ سَأَرُّدَهُ إِلَيْكَ فَإِذَا مَاتَ دُفِنَ فِي الْبُقْعَةِ الَّتِي مِنْهَا تُرْبَتُهٗ

’’بے شک میں عنقریب اس (آدم علیہ السلام)کوتیری طرف لو ٹاؤں گا پس جب انسان مر جاتا ہے تو اُس شخص کی اُس جگہ پر تدفین کی جاتی ہے جس سے اس کی مٹی ہوتی ہے‘‘-

جب یہ اصول ہے کہ جس جگہ سے مٹی اُٹھائی جاتی ہے  اسی جگہ پر انسان کو دفن کیا جاتا ہے تو آپ دیکھیے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) کے جسدِ اقدس کی مٹی مبارک قبر انور کی جگہ سے لی گئی ہے -

قبر انور کی جگہ مبارک کیا ہے؟

حضرت عبد اللہ بن زید المَازِنِيِّ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے اشاد فرمایا:

’’مَا بَيْنَ بَيْتِيْ وَمِنْبَرِيْ رَوْضَةٌ مِّنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ[11]

میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جوجگہ ہے وہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے‘‘-

ملا علی قاری ’’مرقاۃ شرح مشکاۃ‘‘ میں  اسی حدیث پاک کی شرح میں لکھتے ہیں:

حضرت مالک (رضی اللہ عنہ) فرماتے ہیں کہ:

’’اَلْحَدِيْثُ بَاقٍ عَلٰى ظَاهِرِهٖ وَالرَّوْضَةُ قِطْعَةٌ نُقِلَتْ مِنَ الْجَنَّةِ  وَ سَتَعُوْدُ إِلَيْهَا وَ لَيْسَتْ كَسَائِرِ الْأَرْضِ تَفْنٰىْ وَتَذْهَبُ

حدیث اپنے ظاہر پر باقی ہے -اورروضہ اقدس کا حصہ جنت سے نقل کیا گیا ہے اورعنقریب اسی (جنت) کی طرف لوٹایا جاے گااوریہ باقی زمینوں کی طرح نہیں ہے جو فنا ہو تی ہے اورختم ہوجا تی ہے-

امام ابن ِحجرؒ فرماتےہیں:

’’وَ هٰذَا عَلَيْهِ الْأَكْثَرُ وَ هِيَ مِنَ الْجَنَّةِ الْآنَ حَقِيْقَةً‘‘

’’اوریہ اکثر کا نظریہ ہے اوریہ اب  بھی حقیقی طورپر جنت کا حصہ ہے‘‘-

شیخ انورشاہ کشمیری’’فیض الباری شرح صحیح بخاری ‘‘ میں اسی حدیث  پاک کی شرح  میں لکھتے ہیں :

’’وأَصَحُّ الشُّرُوْحِ عِنْدِيْ أَنَّ تِلْكَ الْقِطْعَةَ مِنَ الْجَنَّةِ، ثُمَّ تُرْفَعُ إِلَى الْجَنَّةِ كَذٰلِكَ. فَهِيَ رَوْضَةٌ مِّنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ حَقِيْقَةً بِلَا تَأوِيْلٍ‘‘

’’اور میرے نزدیک سب سے صحیح شرح یہ ہے کہ یہ جنت کا حصہ ہے ،پھر اسی طرح جنت کی طرف اٹھایا جائے گا-پس یہ حقیقی طور پر بغیر تاویل کے جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے‘‘-

جب یہ بات واضح ہے کہ انسان کی تخلیق اس مٹی سے ہوتی ہے جہاں اسے دفن ہونا ہوتا ہے-فرشتہ وہی مٹی اٹھا کر نطفے کے ساتھ ملاتا ہے، اسی سے انسان کا خمیر بنتا ہے-مگر رسول اللہ (ﷺ) کا وجود اس زمین کی مٹی سے نہیں، جنت کی لطیف مٹی سے بنایا گیا-یہی وجہ ہے کہ آپ (ﷺ) کے جسمِ اقدس میں نورانیت تھی اور اسی نور کی برکت سے آپ (ﷺ) کا سایہ مبارک نہیں تھا-

آپ (ﷺ) کا وجود انوارِ الٰہیہ کا سرچشمہ ہے اور آپ (ﷺ)کے نور سے ہی ہمارے دل، عقل، ظاہر و باطن منور ہوتے ہیں-جب بندہ حضور (ﷺ) کی محبت و ادب میں ڈوب جاتا ہے تو اس کے اندر نورانیت اور تقویٰ پیدا ہوتا ہے-جسم کا ہر عضو اپنے درجے کے مطابق تقویٰ اختیار کرتا ہے جیسے کہ آنکھ کا تقویٰ حیاء سے،زبان کا ذکرِ الٰہی سے،کانوں کا قرآن و ذکر سننے سے،ہاتھوں کا خدمت و سخا سے،قدموں کا مسجد و بیت اللہ کی سمت چلنے سے اور دل کا تقویٰ حضور (ﷺ) کے ادب و تعظیم سے پیدا ہوتا ہے-

حضور نبی کریم (ﷺ) کا ادب قرآن مجیدنے سکھایا ہے-یعنی الحمد سے و الناس تک قرآن کریم مسلمان کو تلقین کرتا ہے کہ آقا کریم (ﷺ)کے سامنے کیسے بیٹھو، کیسے مخاطب کرو، کیسے کلام کرو-

اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں انبیاء کرام (علیھم السلام)کو ان کے اسم گرامی سے پکارا ہے یعنی یا آدم، یاموسٰی ، یا عیسٰی وغیرہ جبکہ فقط چار مقام پر آقا کریم (ﷺ) کا اسم مبارک ’’محمدؐ‘‘ اور ایک مقام پر ’’احمدؐ‘‘ذکر فرمایا -لیکن جہاں بھی اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم (ﷺ) کو پکارا حضور کے شرف رسالت، شرف نبوت یا دیگر صفات سے پکارا- یعنی ’’یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ ‘‘، ’’یٰٓاَیُّہَا الرَّسُوْلُ‘‘،’’یٰٓاَیُّہَا الْمُزَّمِّلُ‘‘-خالق کائنات تو بے نیاز ہے جیسے چاہے پکارے، کلام کرے-لیکن وہ ہمیں ہر لمحہ اپنے محبوب کریم (ﷺ) کا ادب سکھا رہا ہے-

سورۃ الحجرات کی پہلی6 آیات کے متعلق قاضی عیاضؒ نے ’’شفا شریف‘‘ میں لکھا ہے کہ امام مالک بن انس (رضی اللہ عنہ)کا قول ہے کہ اس میں تین طبقات کا بیان ہوا:

  1. اللہ تعالیٰ نے جن کو تلقین وتنبیہ فرمائی ہے -
  2. اللہ تعالیٰ نے جن کی تحسین فرمائی ہے-
  3. اللہ تعالیٰ نے جن کی مذمت فرمائی ہے -

جن کو تنبیہ کی اُن کے متعلق فرمایا کہ: میرے حبیب مکرم (ﷺ)کے دربار میں اپنی آوازوں کو نیچا رکھو اور آپ (ﷺ) کو ایسے مخاطب نہ کرو جیسے عام لوگوں کو مخاطب کرتے ہو -

جن کی تحسین کی ان کے متعلق فرمایاکہ:یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے میرے حبیب(ﷺ) کے دربار میں اپنی آوازوں کو پست کر دیا تو ہم نے ان کے دلوں کو تقوٰی کے لیے خالص کر دیا-یعنی فقط ادب و تعظیمِ مصطفےٰ (ﷺ) کی بدولت اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو تقوٰی کے لئے خالص کر دیا-

جن کی مذمت کی ان کے متعلق فرمایا کہ : یہ لوگ میرے حبیب مکرم(ﷺ)کے دَر پر آکر اونچی آواز میں بات کرتے ہیں- اکثر کو یہ عقل و شعور ہی نہیں ہے کہ یہ کس بارگاہ کے دربار میں کھڑے ہیں-اس لئے ان کے تمام اعمال غارت ہو جائیں گے اور ان کو خبر بھی نہیں ہوگی-

الغرض! جب بندے کے دل میں ادب و تعظیم مصطفےٰ  (ﷺ) راسخ ہو جاتی ہےتو اس کے دل، روح اور اعمال سب نورِ ایمان اور تقویٰ سے روشن ہو جاتے ہیں-

سرپرستِ اعلیٰ اصلاحی جماعت حضرت سلطان محمد علی صاحب(دامت برکاتہم العالیہ) کا یہی پیغام اور دعوت ہے کہ آؤ! عشقِ مصطفےٰ(ﷺ) سے اپنے دل فروزاں کر لو-اپنے دلوں میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی محبت و تعظیم کو وہ مقام دو کہ تمہارا مقام بھی اللہ تعالیٰ کے دربار میں بلند ہو جائے-کیونکہ حضور نبی کریم (ﷺ) کا ادب سببِ تقویٰ ہے- آئیں اور اس تحریک کے شانہ بشانہ عشقِ مصطفےٰ (ﷺ) کے پیغام کو عام کریں-اُس تربیت کو حاصل کریں جو انسان کے ظاہر و باطن کی پاکیزگی عطا کرتی ہے -

٭٭٭


[1](البقرۃ:26)

[2](مسند إمام أحمد بن حنبل / مكارم الأخلاق / صحيح ابن حبان/ مستدرك على الصحيحين)

[3](المومنون:1-5)

[4](النور:30)

[5](النور:31)

[6](المعجم الکبیر/ المعم الاوسط)

[7](القلم :4)

[8](مریم:16)

[9](طٰہ:55)

[10](نوادر الأصول في أحاديث الرسول (ﷺ)

[11](صحیح بخاری، بَابُ مَا بَيْنَ الْقَبْرِ وَالْمِنْبَرِ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر