مسلمانوں پر مظالم کی تاریخ ہمارے حضور نبی کریم (ﷺ) سے شروع ہوتی ہے- آپ (ﷺ) کو ستایا گیا، اتنا کہ آپ کی صاحبزادی حضرت فاطمہ الزہراء(رضی اللہ عنہا) اشک بار ہو جاتیں، جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں- آپ (ﷺ) کے صحابہ کرام اور پیروکاروں کو شعبِ ابی طالب کی گھاٹی میں محصور کر دیا گیا، جہاں وہ انتہائی تکالیف برداشت کرتے رہے- پھر ہجرتیں ہوئیں: پہلے حبشہ (دو مرتبہ) اور پھر مدینہ کی طرف- مسلمان آقا کریم (ﷺ) سے اجازت مانگتے کہ وہ ظلم کا بدلہ لیں، لیکن رحمت دو عالم حضرت محمد مصطفےٰ (ﷺ) نے اجازت نہ دی- آخرکار قرآن کریم کی آیت مبارکہ نازل ہوئی:
’’ فَمَنِ اعْتَدٰی عَلَیْکُمْ فَاعْتَدُوْا عَلَیْہِ بِمِثْلِ مَا اعْتَدٰی عَلَیْکُمْص وَاتَّقُوا اللہَ وَ اعْلَمُوْٓا اَنَّ اللہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ‘‘[1]
’’پس اگر تم پر کوئی زیادتی کرے تم بھی اس پر زیادتی کرو مگر اسی قدر جتنی اس نے تم پر کی، اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ ڈرنے والوں کے ساتھ ہے‘‘-
ہمارے لئے اسلای تاریخ کے اوراق پر بھی نظر ڈالنا ضروری ہے- صلیبی جنگیں 150 برس تک جاری رہیں جن میں ہزاروں لوگ مارے گئے اور قتل و غارت ہوئی- پھر بغداد کا سقوط ہوا، جس کے بارے میں دنیا جانتی ہے کہ دریا کا پانی سرخ ہو گیا تھا- منگولوں نے چین میں مسلمانوں پر ظلم ڈھائے- ہم ڈریکولا کی فلم دیکھتے ہیں، ہمارے بچے بھی دیکھتے ہیں- جب میں لارنس کالج گھوڑا گلی میں کلاس 5 یا 6 میں تھا تو یہ فلم دیکھ کر ہمیں بہت دلچسپی ہوتی تھی- لیکن کسی نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ ڈریکولا حقیقت میں ولاد دی سوم (Vlad the Impaler)رومانیہ کا حکمران تھا- اس نے 22000 عثمانی ترکوں کو نیزوں پر چڑھا کر قتل کیا تھا- اس کے بھائی راڈو نے اسلام قبول کیا اور حافظِ قرآن بن گیا-
جب ہم بین الاقوامی میڈیا دیکھتے ہیں تو ہمیں بتایا جاتا ہے کہ کرسٹوفر کولمبس نئی زمینیں دریافت کرنا چاہتا تھا اور امریکہ، کیوبا اور دیگر علاقوں تک پہنچا- لیکن اگر آپ انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا پڑھیں، تو اس میں لکھا ہے کہ کولمبس نے سپین کے بادشاہ فرڈینڈ اور ملکہ ازابیلا کے نام اپنے مراسلے میں ان سے اظہارِ عقیدت کیا، انہیں اسپین میں مورز (مسلمان) کو زیر کرنے پر مبارک باد دی اور پھر درخواست کی کہ اسے ہندوستان جانے کی اجازت دی جائے تاکہ وہاں بھی مورز (مسلمان) کو زیر کروایا جا سکے-
اسٹالن کے دور میں، جب چیچن-انگوش علاقے میں بد امنی ہوئی، تو اس نے ہزاروں چیچن باشندوں کو سائبیریا جلاوطن کر دیا اور اس نے ایک ایسا کام بھی کیا جس کا بہت کم ذکر ملتا ہے-
جان گنتھر کی کتاب کے مطابق روس کے اندر، اسٹالن نے سوویت یونین کی تمام انسائیکلوپیڈیاز اور لغات واپس منگوا کر ان میں سے Ingushetia کا نام نکال دیا، تاکہ مستقبل میں کوئی چیچنیا کو یاد نہ رکھ سکے-
1707ء عظیم مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کی وفات کا سال ہے- ان کے بعد سکھوں کا دور آتا ہے - انہوں نے لاہور کی بادشاہی مسجد، ملتان کی مرکزی عیدگاہ اور راوالپنڈی، پشاور اور کابل کی مساجد کو اصطبل بنا دیا- کسی مسلمان کو اذان دینے کی اجازت نہیں تھی- کسی مسلمان کو قرآن کریم کی تلاوت یا اشاعت کی اجازت نہیں تھی- یہ سکھ دور کی حقیقت ہے-
حیدرآباد، 1947–48: جواہر لعل نہرو، جو ہندوستان کے پہلے وزیرِ اعظم تھے، عظیم انسان دوست اور بین الاقوامی مدبر سمجھے جاتے ہیں، انہوں نے حیدرآباد کے خلاف فوجی کارروائی کا آغاز کیا- دو لاکھ سے زائد مسلمان قتل کیے گئے- ہندوستانی حکومت نے اسے صرف ’’پولیس ایکشن‘‘ کہا، لیکن یہ ہندوستانی فوج کی کارستانی تھی- نہرو نے اسے اقوامِ متحدہ میں بھی ’’پولیس ایکشن‘‘ ہی کہا، حالانکہ 200,000–250,000 مسلمان قتل کیے گئے تھے-
ہمارے ہاں کے دانشور اکثر کہتے ہیں کہ 1947–48 میں پٹھانوں نے کشمیر پر حملہ کیا اور اس سے پاکستان-بھارت جنگ شروع ہوئی- لیکن وہ سمجھتے نہیں-
آئین اسٹیفنز جو The Statesman اخبار کے ممتاز صحافی تھے، لکھتے ہیں کہ 200,000 سے زائد مسلمان، ڈوگروں اور آر ایس ایس کے ہاتھوں قتل اور زیادتی کا شکار ہوئے- مسلمان عورتوں کی بے حرمتی کی گئی، مظالم کیے گئے، اور یہی وہ واقعات تھے جنہوں نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کو جنم دیا- پاکستان نے 1947–48 کی جنگ شروع نہیں کی تھی-یہ مسلمانوں پر ہونے والی زیادتیوں کا ردعمل تھا جو ڈوگرہ حکمرانوں نے، آر ایس ایس کی شمولیت کے ساتھ کی تھیں-
جب گجرات کا سانحہ پیش آیا، میں اس وقت نئی دہلی میں پاکستان کا نائب سفیر (ڈپٹی ہائی کمشنر) تھا- بھارتی صحافیوں نے مجھے نجی طور پر بتایا کہ نریندر مودی کی حکومت میں 10000 سے زیادہ مسلمان قتل کیے گئے اور ان کی عورتوں اور بچوں تک کی بے حرمتی کی گئی -یعنی اصل تعداد 10000 کے قریب یا اس سے زیادہ تھی-
جو کچھ فلسطین میں ہو رہا ہے یہ مسلمانوں کی معاصر تاریخ کا سب سے بڑا المیہ ہے ، فلسطین کے معزز سفیر ڈاکٹر زھیر موجود ہیں ، ان کی موجودگی میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ پاکستان کے پہلے وزیرِ خارجہ سر ظفر اللہ خان، فلسطین کے بھی پہلے de facto وزیرِ خارجہ تھے-انہوں نے اس وقت فلسطینی عوام کی مدد اور حمایت کیلئے زبردست جدوجہد کی-
حضرت عمر فاروق (رضی اللہ عنہ)کے دور کو،جسے مائیکل ہارٹ نے اپنی کتاب ’’The 100 ‘‘میں 52ویں نمبر پر رکھا، اگرچہ ہم جانتے ہیں کہ وہ ہمارے آقا کریم (ﷺ ) کے بعد عظیم شخصیت ہیں،انہیں یروشلم کے مسیحی پیشوا نے دعوت دی- آپ نے ایک چرچ کا دورہ کیا- کچھ وقت گزارنے کے بعد آپ نے پادری سے فرمایا کہ نماز کا وقت ہے- کیا میں باہر جا کر نماز پڑھ لوں؟پادری نے کہا کہ آپ یہاں چرچ کے اندر نماز پڑھ سکتے ہیں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں-لیکن حضرت عمر (رضی اللہ عنہ) نے فرمایا کہ میں یہاں نماز نہیں پڑھوں گا، کیونکہ مجھے خوف ہے کہ کل کچھ مسلمان یہ نہ کہہ بیٹھیں کہ چونکہ عمر نے چرچ میں نماز پڑھی تھی، اس لیے ہمیں چرچوں پر قبضہ کرنے کا حق ہے- اسلام انتہائی رواداری کا مذہب ہے-
٭٭٭
[1](البقرۃ: 194)