عین الفقر : قسط3

عین الفقر : قسط3

 بیت ِباھُو : ’’جب اسم و جسم یک جان ہو جاتے ہیں تو رازِ پنہانی ظاہر ہو جاتا ہے‘‘-

یہ وہ مقام ہے کہ جہاں اَللّٰہُ کے سوا ہر چیز کالعدم ہو جاتی ہے ، اسم جسم میں اور جسم اسم میں پیوست ہو جاتا ہے -

بیت: ’’اپنے جسم کو تصورِ اسم اَللّٰہُ میں غرق کر کے اِس طرح گم کر دے کہ جیسے بِسْمِ اللّٰہِ کے بسم میں الف گم ہے‘‘-

طالب اللہ جب اسم اَللّٰہُ کو اپنا لباس بنا لیتا ہے اور اسم اَللّٰہُ اُس کی جان بن جاتا ہے تو اُس کی زندگی ’’ھُوْ‘‘(ذات حق تعالیٰ)کا نشان بن جاتی ہے اور وہ ذات و صفات میں ’’ھُوْ‘‘کی نمائندگی کرتا ہے-حدیث: ’’جس نے اپنے نفس کو پہچان لیا، بے شک اُس نے اپنے رب کو پہچان لیا، یعنی جس نے اپنے نفس کو فنا سے پہچانا بے شک اُس نے اپنے رب کو بقا سے پہچانا‘‘- لہٰذا چاہیے کہ طالب اللہ کا دم قِدم(اسم اَللّٰہُ )سے پیوست ہو اور قدِ م (اسم اَللّٰہُ )دم سے پیوست ہو-بیت:

’’تیس سال کی تحقیق کے بعد خاقانی ؒکو یہ راز معلوم ہوا کہ تصور اسم اَللّٰہُ میں لیا گیا ایک دم سلیمان (علیہ السلام) کی بادشاہی سے بہتر ہے‘‘-

جوابِ باھُو:

’’ایک دم باخدا ہونا کیسا ؟ اِنسان کو چاہیے کہ غرق فنا فی اللہ ہو جائے کہ وہاں دم تو کیا صدیاں بھی شمار میں نہیں آتیں-سو خاقانی کا یہ قول درست نہیں ہے‘‘-

بعض فقیر ذکرِ اَللّٰہُ کا شغل اختیار کرتے ہیں تو اُن کے وجود میں ذکرِ اَللّٰہُ کی تاثیر جاری ہو جاتی ہے جس سے اُن کا دل روشن ہو جاتا ہے، اُن کی نظر فیض بخش ہو جاتی ہے اور وہ نفس پر غالب ہو کر طمعِ دنیا اور ہوائے نفس و شیطان سے فارغ و تارک ہو جاتے ہیں اور اپنے رازق کی طرف راغب ہو کر قربِ حق سے اپنا نصیب پاتے ہیں- ایسے ذاکر دونوں جہان کی زینت ہوتے ہیں- اِس کے برعکس بعض فقیر ذکر اَللّٰہُ کا شغل اختیار کر کے خَلقِ خدا میں شہرت کماتے ہیں اور ہوائے نفس کے اسیر ہو کر درمِ دنیا کے حصول کے لئے لوگوں کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں- اِن دونوں فقیروں کی پہچان ذکر ِدنیا سے ہو جاتی ہے کہ فقیرِ کامل دنیا کا ذکر حقارت سے کرتا ہے جس سے دل کو پاکیزگی و صفائی نصیب ہوتی ہے- اِس کے برعکس طالب ِ دنیا فقیر دنیا کا ذکر اخلاص سے کرتا ہے جس سے دل میں دنیا کی محبت پیدا ہوتی ہے-سن ! جاہل کا لباس جہالت ہے جو شیطان کا لباس ہے، عالم کا لباس علم ہے اور علم دانش ِکلام اللہ کا لباس ہے جو شیطانی جہالت سے محفوظ رکھتا ہے اور فقیر کا لباس معرفت ِسبحانی کا نور ہے جس سے دونوں جہان کا مشاہدہ اور تصرف نصیب ہوتا ہے- عالم و جاہل و فقیر میں فرق یہ ہے کہ جاہل کا مرتبہ عام ہے، عالم کا مرتبہ خاص ہے اور عارف باللہ فقیر کا مرتبہ خاص الخاص ہے- لباسِ جاہل سے شرک و کفر اور جہالت و بدعت کا ظہور ہوتا ہے، لباسِ عالم سے فرمانِ الٰہی، فرمانِ رسول اور نص و حدیث کا کلام ظاہر ہوتا ہے اور لباسِ فقیر سے ہر بات اسم اَللّٰہُ ، معرفت ِ ’’اِلَّااللّٰہُ ‘‘اور جمالِ الٰہی کی نکلتی ہے- حدیث : ’’ برتن سے وہی چیز برآمد ہوتی ہے جو اُس کے اند رموجود ہوتی ہے ‘‘- فرمانِ حق تعالیٰ ہے:’’ اور جب بھی آپ بھول جائیں تو اپنے رب کو یاد کرلیں‘‘(پارہ:15، الکہف: 24) - سن! جو مرشد غرق فنا فی اللہ اور صاحب ِحضور ہو اُسے بھلا طالب اللہ کو غرقِ وحدت کرنااور حضور علیہ الصلوٰاۃ والسلام کی مجلس کی حضوری سے مشرف و سرفراز کرنا کون سا مشکل و دشوار کام ہے؟ کہ طالب اللہ کو ذکر فکر اور زہد و تقویٰ کی مشقت میں ڈالنے سے یہ کام اُس کے لئے زیادہ آسان ہے - مست کا سودا دست بدست، پس وہ طالب اللہ کا ہاتھ پکڑتا ہے اور حضوری میں پہنچا کر سپردِ خدا کر دیتا ہے- جو مرشد اِس پر قادر نہیں اُسے مرشد نہیں کہا جا سکتا کہ وہ راہزن ہے اور راہزن عورت ہوتی ہے اور شیطان بھی عورت ہی ہے-فرمانِ حق تعالیٰ ہے: ’’اُن کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے‘‘-(پارہ:26، الفتح:10)

بیت: ’’کسی مرد کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دے تاکہ تُو بھی مرد ہو جائے کہ مردوں کے سوا رہبری کسی اور کے بس کی بات نہیں‘‘-

لیکن شرط یہ ہے کہ طالب عین(اسم اَللّٰہُ)سے دیکھے کہ نامِ اَللّٰہُ ہادی ہے اور ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد رسول اللہ (ﷺ) کو پیدا فرمایا ہے- شیطان اہل ِ ہدایت کی صورت ہرگز نہیں ہو سکتا-حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے: ’’بے شک شیطان میری صورت اختیار نہیں کر سکتا، جس نے مجھے دیکھا، بے شک اُس نے مجھے ہی دیکھا‘‘-فرمانِ حق تعالیٰ ہے: ’’بیشک میرے (سچے) بندوں پر تیرا کوئی غلبہ نہیں ہوگا‘‘(پارہ:15، الاسراء: 65)-پس مرشد ِ کامل مکمل حضرت محمد رسول اللہ (ﷺ) کی مثل (اہل ِہدایت)ہوتا ہے اور مرشد ِ ناقص شیطان کی مثل (اہل ِلعنت)ہوتا ہے-جب صاحب ِنظر مرشد طالب اللہ پر توجہ کرتا ہے تو طالب کا دل زندہ ہو جاتا ہے اور خود بخود ذکر اللہ میں محو ہو جاتا ہے جس سے اُس کا نفس سوزش و خواری میں مبتلا ہو جاتا ہے اور پڑوسی اُسے دیوانہ سمجھنے لگتے ہیں- وہ خَلق سے بیگانہ لیکن خدا سے یگانہ ہو جاتا ہے اور اُ س کی زبان پر شوق کا یہ ترانہ ہوتا ہے:

’’اے باھُو! جو بھی ہمیں دیکھتا ہے وہ ہم سے دُور بھاگتا ہے کہ ہم فقیر ہیں اور لوگ فقر سے دُور بھاگتے ہیں لیکن فقیر اُن سے کوئی غرض نہیں رکھتا کہ فقر لایحتاج ہے‘‘-

حدیث: ’’اہل اللہ فقیروں کو پل بھر کے لئے بھی کوئی شے ذکر اللہ سے غافل کر کے اپنی طرف متوجہ نہیں کر سکتی‘‘-

بیت:’’ اے باھُو ! اہل اللہ فقراء دونوں جہان کی یاد سے بے نیاز ہیں کہ وہ دونوں جہان کی آرزوؤں سے آزاد ہو چکے ہیں ‘‘-

فرمانِ حق تعالیٰ ہے: ’’( آپ کی) نظر نہ کج ہوئی نہ بہکی‘‘-(پارہ:27، النجم: 17) سالک دو قسم کے ہوتے ہیں، سالک ِمجذوب اور سالک ِمحبوب- فقیر اِن دونوں سے تعلق نہیں رکھتا کہ وہ صاحب ِ وہم و صاحب ِ تصرف مالک الملکی محبوب ہوتا ہے-طالب اللہ جب اِس مرتبے پر پہنچتا ہے تو اُسے غیر حق سے وحشت اور حق سے اُنس ہو جاتا ہے اور وہ اللہ کے سوا ہر چیز سے دُور بھاگتا ہے اور مشتاقِ اشتیاق ہو کر رات دن سوزش و فراق میں جلتا رہتا ہے جس سے اُس کا نفس ہلاک ہو جاتا ہے-

(جاری ہے)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر