قرآن پاک سے محبت کے عملی تقاضے
اسلام کے ماننے والوں کی دنیا میں تعداد تقریباً دو ارب ہے، جو عالمی آبادی کا تقریباً 26 فیصد بنتی ہے- مسلمانوں کے لیے قرآنِ مجید بنیادی مذہبی کتاب ہے اور انفرادی عقیدے اور اجتماعی مذہبی زندگی دونوں میں ایک نہایت مقدس اور مرکزی حیثیت رکھتا ہے- دنیا بھر میں افریقہ، ایشیا، یورپ اور امریکا سمیت مختلف خطّوں اور سماجی طبقات سے تعلق رکھنے والے 2 ارب سے زائد مرد، خواتین اور بچے قرآنِ مجید کو انتہائی عقیدت کے ساتھ مانتے اور اس کی تعظیم کرتے ہیں- [1]
قرآنِ مجید کی آفاقی حفاظت کا ذمہ تو بھیجنے والے نے خود اٹھایا ہے ، مگر اسباب کے ناطے دیکھا جائے تو اس کا انحصار تاریخی طور پر حفظ اور زبانی ترسیل کی مضبوط روایت پر رہا ہے- حضور نبی کریم (ﷺ) کے بعد جن اولین افراد نے قرآنِ مجید کو مکمل طور پر حفظ کیا، ان میں آپ (ﷺ)کے قریبی صحابہ نمایاں ہیں- ان کے بعد اُمت کے دیگر نیک و صالح ہستیوں نے قرآنِ مجید کو باقاعدہ حفظ اور مسلسل تلاوت کے ذریعے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا- یہ زبانی روایت چودہ صدیوں سے زیادہ عرصے سے بلا تعطل جاری ہے اور اسلامی مذہبی عمل کی ایک بنیادی خصوصیت سمجھی جاتی ہے- [2]
عصرِ حاضر میں دنیا بھر میں لاکھوں مسلمان قرآنِ مجید کو مکمل یا جزوی طور پر حفظ کر چکے ہیں- صرف پاکستان میں ہی اندازوں کے مطابق 10لاکھ سے زائد حفاظ موجود ہیں اور ہر سال ہزاروں طلبہ حفظِ قرآن مکمل کرتے ہیں- مصر بھی اپنے مضبوط دینی تعلیمی اداروں کے ذریعے ہر سال ہزاروں حفاظ تیار کرنے کے لیے مشہور ہے- اسی طرح انڈونیشیا، جہاں دنیا کی سب سے بڑی مسلم آبادی آباد ہے، وہاں لاکھوں افراد قرآنِ مجید کے حفظ میں مصروف ہیں- [3]
تعلیمی اور ادارہ جاتی مطالعات کے مطابق دنیا بھر میں قرآنِ مجید کو حفظ کرنے والوں کی تعداد 1.5 سے 2 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جو مسلم معاشرے میں اس روایت کی غیر معمولی وسعت کو ظاہر کرتی ہے-قرآنِ مجید کو غیر عربی زبان بولنے والوں تک پہنچانے کے لیے اس کے تراجم بھی بڑے پیمانے پر کیے گئے ہیں- 2026 تک قرآنِ مجید کا ترجمہ دنیا کی 114 سے زائد زبانوں میں ہو چکا ہے- [4]
عصر حاضر میں اتنے تراجم ہونے کے باوجود، ایک ایک تفسیر کی کئی کئی جلدیں دستیاب ہونے کے باوجود قرآن کریم کے ساتھ مسلمانوں کا سلوک افسوسناک ہے- دو ارب مسلمانوں میں سے کتنے ہیں جنہیں قرآن مجید کا فہم ہے، جو قرآن کریم کو سمجھ کر پڑھتے ہیں، کتنے ہیں جو ناظرہ کے علاوہ ترجمہ تفسیر سے استفادہ حاصل کرتے ہیں- ہمار ی زندگیاں علامہ محمد اقبالؒ کے اس شعر کی مصداق بن گئیں ہیں کہ :
|
خود بدلتے نہیں، قُرآں کو بدل دیتے ہیں |
|
ہُوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق! |
یوں تو ہر محفل اور ہر جلسہ کی کارروائی کا آغاز قرآن پاک سے ہوتاہے ،مگر عمل سراسر اس کے مخالف ہوتاہے-قرآن ِکریم کے صرف ناظرہ پڑھنے والے انگلیوں پر گنے جاتے ہیں، پوری عمر کالجوں اور یونیورسٹیوں میں گزارنے والے لوگ قرآن کریم کو پڑھنے اور اس کا ترجمہ وتفسیر سیکھنے کی زحمت ہی گوارا نہیں کرتے-ان کے ذہن میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کہ عربی زبان بہت مشکل ہے-اس لیے قرآن کریم سمجھنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں- ضرورت اس امر کی ہے کہ جگہ جگہ درسِ قرآن کے حلقے قائم کیے جائیں-نصاب تعلیم میں اس کو بنیادی اہمیت دی جائے- مختصر یہ کہ قرآنِ پاک سے سچی محبت کا ثبوت یہ ہے کہ ہر موقع پر ہم انفرادی و اجتماعی سطح پر قرآن کریم کو پڑھیں، سمجھیں اس سے رہنمائی لیں اور اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں- کیونکہ قرآن کریم سے وفاداری اور ایمان کی تکمیل اور دنیا و آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے-
سیّدی رسول اللہ (ﷺ) نے مسلمانوں کو قرآن کریم پر عمل کرنے کی خوشخبری اور ترک عمل پہ وعید سناتے ہوئے ارشاد فرمایا:
|
’’إِنَّ اللہَ یَرْفَعُ بِہٰذَا الْکِتَابِ أَقْوَامًا وَّ یَضَعُ بِہٖ آخَرِیْنَ‘‘[5] |
|
’’بےشک اللہ تعالیٰ اس قرآن ِکریم کے ذریعے کچھ اقوام کو سربلند فرماتاہے-(یعنی ماننے والوں کو) اور(نہ ماننے والوں) کو ذلیل وخوار کرکے رکھ دیتاہے‘‘- |
نیز آپ (ﷺ)نے ارشاد فرمایا:
|
’’الْقُرْآنُ حُجَّةٌ لَکَ أَوْ عَلَیْکَ‘‘[6] |
|
’’قرآن تیرے حق میں حجت ہے(اگر تو اس پر عمل کرے) اور تیرے خلاف بھی حجت ہے(جب تو اس پر عمل نہ کرے)‘‘- |
[1]“Quran Institute,” Al-Azhar Quran Teaching, accessed January 12, 2026,
[2]“How Many People Have Memorized the Quran?” Shaikh Saleh Academy, accessed January 12, 2026,
https://shaikhsalehacademy.com/how-many-people-have-memorized-the-quran/.
[3]“Which Country Has the Most Hafiz Quran?” Riwaq Al Quran, accessed January 12, 2026,
[4]“How Many People Have Memorized the Quran?” Shaikh Saleh Academy. Accessed January 12, 2026.
https://shaikhsalehacademy.com/how-many-people-have-memorized-the-quran/.
[5](صحیح مسلم، باب فضل من یقوم بالقرآن ویعلمہ)
[6](صحیح مسلم، باب فضل الوضوء)