نیا سال: خود احتسابی اور قومی تعمیر و ترقی کا عزمِ نو
سالِ نو محض تاریخ کا ایک نیا باب نہیں ہوتا بلکہ قومی شعور کی تجدید، اجتماعی بیداری اور قومی و ملی ترجیحات کے تعین کے لیے ایک فیصلہ کن موڑ کی حیثیت رکھتا ہے- کسی بھی قوم کی پائیدار ترقی کا دار و مدار اس امر پر ہوتا ہے کہ وہ اپنے ماضی سے بصیرت حاصل کرتے ہوئے اپنے حال کو جدوجہد اور ذمہ داری اور مستقبل کو عزمِ عمل سےوابستہ رکھے- آج دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی کامیابی و کامرانی کا بنیادی محرک یہی ہے کہ وہ قومی ترقی کے سفر میں مسلسل عملی جدوجہد، خود احتسابی اور انقلابی جذبۂ عمل کی روش اپنائے ہوئے ہیں - یہ قومیں اپنے روشن مستقبل، قومی نصب العین ، اجتماعی وقار اور قومی تشخص کی بقاء کے لیے نہ صرف ہمہ وقت سرگرمِ عمل ہیں بلکہ اِن کے افراد لمحہ بہ لمحہ اپنے کردار کا محاسبہ کرتے ہیں کہ آیا ان کا عمل قومی و ملی مفاد میں ہے یا نہیں اور بحیثیت فردِ قوم وہ اپنے ملک کے لیے کیا مثبت کردار اداکررہے ہیں یا کہیں وہ محض دھرتی پر بوجھ بن کر تو نہیں زندگی گزار رہے -اِسی خود احتسابی، ذمہ داری اور قومی خدمت میں خلوص و سنجیدگی کا نتیجہ ہے کہ یہ اقوام علوم و فنون، سائنس و ٹیکنالوجی، صنعت و حرفت اور تجارت و معیشت کے میدان میں نت نئی بلندیوں کو چھو رہی ہیں اور ترقی پذیر ممالک کی نسبت تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں- مزید برآں یہ قومیں طرزِ کہن پہ اڑنے کی بجائے خود کو بدلتے ہوئے جدید تقاضوں اور ورلڈ آرڈر کے مطابق ڈھال کر ایسی طویل المدتی اور دوررس پالیسیز کی تشکیل میں مصروف ہیں جو قومی ترقی، معاشی استحکام اور اجتماعی خوشحالی کی ضمانت فراہم کرتی ہیں-
بدقسمتی سے وطنِ عزیز پاکستان کا شمار دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے جو بہت سے شعبہ جات میں دیگر ممالک کا دستِ نگر ہے - دیکھا جائے تو اپنے معرضِ وجود میں آنے کے ابتدائی سالوں میں پاکستان ترقی کے سفر پہ گامزن تھا - 1950 اور 1960 کی دہائی تک پاکستان کی معاشی کارکردگی نہ صرف بہتر تھی بلکہ بعض اشاریوں میں جنوبی کوریا اور چین سے بھی آگے تھی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مختلف ادوار میں ترقی و خوشحالی وہ تسلسل برقرار نہ رہ سکا- یہ حقیقت ہے کہ دنیا کے متعدد ممالک نے پاکستان کی آزادی کے ساتھ ہی یا اس کے کچھ عرصہ بعد آزادی حاصل کی مگر آج وہ دنیا کی بڑی طاقتوں میں شمار ہوتے ہیں جس میں سب سے نمایاں مثال جاپان کی ہے جس کا شمار آج ترقی یافتہ ممالک کی صف میں ہوتا ہے- اس سلسلے میں دوسری اہم مثال جنوبی کوریا کی ہے جو 1960 کی دہائی تک ایک پسماندہ اور غریب ملک تھا اور جس کی فی کس آمدنی پاکستان سے بھی کم تھی- جنوبی کوریا نے ترقی کی جانب جب سفر کا آغاز کیا تو 1962 سے 1990 تک اس نے پانچ سالہ منصوبوں کے ذریعے بہترین صنعتی ترقی کی- ورلڈ بینک کے مطابق 1980 سے 2024 کے درمیان اس کی GDP اوسطاً سالانہ 5.6 فیصد بڑھی جبکہ فی کس مجموعی قومی آمدنی (GNI) 1950 کی دہائی کے اوائل میں 67 ڈالر سے بڑھ کر 2024 میں 36624 ڈالر ہو گئی - اس کے برعکس آج پاکستان کی فی کس آمدنی 2024 کے آخر یا 2025 کے آغاز تکGDP تقریباً 1485 سے 1644 ڈالر کے درمیان ہے- اقوامِ متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (UNDP) کی شائع کردہ تازہ ترین ہیومن ڈویلپمنٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان انسانی معیارِ زندگی کے لحاظ سے 193 ممالک میں سے 168ویں نمبر پر ہے-جنوبی ایشیائی ممالک میں سے پاکستان اور افغانستان وہ واحد دو ممالک ہیں جنہیں کم انسانی ترقی کے زمرے میں رکھا گیا ہے- پاکستان کا دیرینہ دوست اور ہمسایہ ملک چین کی معاشی ترقی جدید تاریخ کا سب سے بڑا معجزہ مانی جاتی ہے جو 1978ء میں ڈینگ شاؤ پنگ کی ’’Reform and Opening Up‘‘ پالیسی سے شروع ہوئی- چین نے پانچ سالہ منصوبہ بندی کو اپنی ترقی کی اساس بنایا، جس کے تحت صنعتی زونز، برآمداتی مراکز، ٹیکنالوجی پارکس اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبے تیار کیے گئے- 1978 سے 2018 تک چین کی اوسط معاشی شرحِ نمو 9 فیصد سالانہ رہی جو کسی بھی بڑے ملک کے لیے حیران کن تھی - اسی دوران 80 کروڑ سے زائد افراد غربت سے باہر نکلے اور چین دنیا کی دوسری بڑی معاشی طاقت بن کر ابھرا- چین کی ترقی کی بنیاد یہی تسلسل ہے کہ اس نے قیادت بدلنے کے باوجود ترقی کی سمت نہیں بدلی اور طویل المدت صنعتی، ٹیکنالوجی اور برآمداتی پالیسیوں کو مستقل طور پر جاری رکھا گیا ہے-
یہ تلخ حقیقت ہے کہ موجودہ صدی میں پاکستان کے ترقی کی دوڑ میں پیچھے رہ جانے کے پسِ پردہ کئی سماجی ،سیاسی اور معاشی عوامل اور وجوہات کا رفرماہیں - مثلاً جہاں ایک طرف مختلف ادوار میں داخلی عدم استحکام، انتظامی کمزوریاں ، بیوروکریسی کی مزاحمت ،غیر جمہوری طرزِ حکمرانی ،بے جا رکاوٹیں، عدل و انصاف کی غیر یقینی صورتحال ، بے لوث و دوراندیش قیادت کا فقدان ، معاشی بے یقینی، غیر مربوط و غیر منظم پالیسز اور سماجی و طبقاتی تقسیم جیسے عوامل پاکستان کی ترقی کے راستے میں بڑی رکاوٹ بنے وہیں دوسری طرف ہمارے بے حس قومی رویے ، ملّی شعور و یکجہتی کا فقدان اور قومی تعمیر و ترقی کے سفر میں دیانتداری،شفافیت اور خود احتسابی کے عمل سے گریز نے بھی قومی ترقی کی رفتار کو شدید متاثر کیا ہے -
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ قوموں کی زندگی میں نشیب و فراز آتے رہتے ہیں مگر اصل قوت کسی قوم کے اس عزم میں پوشیدہ ہوتی ہے کہ وہ ہر بار گِر کر دوبارہ اٹھ کھڑی ہو- غور کیا جائے تو پاکستان نے بھی گزشتہ دہائیوں میں متعدد چیلنجز کا سامنا کیا، لیکن اس کے باوجود قوم نے ہمیشہ استقامت، ثابت قدمی اور بلند ہمت و حوصلے کا مظاہر ہ کیا اور بطور فرزندانِ اسلام اجتماعی شعور میں ’’ مایوسی گناہ ہے‘‘ کے یقینِ راسخ نے مشکل ترین حالات میں بھی قوم کا شیرازہ بکھرنے نہیں دیا -
آج نیا سال پاکستان کےلیے قومی بیداری اور خود احتسابی کا پیغام لے کر آیا ہے کہ ہم نئے عزم کے ساتھ اپنی اجتماعی کارکردگی کا تنقیدی جائزہ لیں، ہر میدان میں خوبیوں اور خامیوں کی نشاندہی کریں اور آئندہ سال کےلیے ایسے اہداف و پالیسیز کا تعین کریں جو قومی ترقی اور ملکی استحکام وسلامتی کے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہوں - یہی واحد راستہ ہے جس سے ہم قومی ترقی کی رفتار تیز کرسکتے ہیں اور دنیا میں پاکستان کو نمایاں مقام دلواسکتے ہیں - یہ تب ممکن ہے جب قوم بحیثیت اجتماعی اپنے عمل و کردار کا کڑا محاسبہ کرے کیونکہ جو قوم اپنی جدوجہد اور عملی دائرہ کار میں خود احتسابی کو اپنا لیتی ہے اسے اپنی خامیوں اور خوبیوں کا صحیح اندازہ رہتا ہے اور ہر لمحہ وہ اپنی خامیوں اور کوتاہیوں کو دور کرنے اور بہتری کی سمت پر گامزن رہتی ہے-بقول حکیم الاُمت :
|
صُورت شمشیر ہے دستِ قضا میں وہ قوم |
|
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب |