ابتدائیہ:
کسی بھی معاشرے میں ایک مخصوص مذہبی یا نسلی گروہ کے خلاف پایا جانے والا تعصب اور مختلف مواقع پہ اس کا سر عام اظہار محض ایک سادہ سا واقعہ نہیں ہوتا بلکہ اس ذہنیت کی نشاندہی کرتا ہے جو دہائیوں سے وہاں پنپ رہی ہوتی ہے- تعصب، دراصل ایک ایسا نفسیاتی اور سماجی عمل ہے جو معاشروں میں منافرت کی بنیاد پہ تشدد کو ابھارتا ہے- انہی متشددانہ رویوں کا حتمی نتیجہ اس مخصوص گروہ کی نسل کشی پہ نکلتا ہے جس کی تاریخ گواہ ہے- جب اسی تعصب کو ریاستی سرپرستی، سیاسی مفادات یا سماجی قبولیت حاصل ہو جائے تو یہ مزید بھیانک اور خطرناک شکل اختیار کر لیتا ہے جس کی واضح مثال بھارت میں ہندتوا سوچ کے زیر اثر اقلیت کش خصوصاً مسلمانوں کے خلاف بڑھتے ہوئے واقعات ہیں-
دنیا بھر میں باحجاب مسلمان خواتین کے خلاف واقعات:
حجاب محض ایک ثقافتی پردے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک اسلامی شناخت کی نمائندگی ہے جو ایک خاتون کی عزت و آبرو کی محافظت کی علامت ہے- حجاب کا حکم قرآن مجید اور حدیث مبارکہ میں آیا ہے جسے عورت کے ایمان، حیا اور وقار سے جوڑا گیا ہے-بدقسمتی سے بھارت اور یورپ سمیت مغرب میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کے واقعات سے مسلمان خواتین کو حجاب پہننے پہ کئی مشکلات کا سامنا رہتا ہے- ڈریک انسٹی ٹیوٹ آف ویمنز پالیسی کی 2023ء کی تحقیق کے مطابق، امریکہ میں 69 فیصد مسلم خواتین کو حجاب کی وجہ سے ہراسانی اور مذہبی امتیاز کا سامنا کرنا پڑا- کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز CLAIM کے مطابق، 2024ء میں ہونے والے مسلم مخالف واقعات کا ایک اہم حصہ (71 فیصد) مسلم خواتین کو نشانہ بنانا تھا، خاص طور پر ایسی خواتین جو حجاب پہنتی ہیں- اسلاموفوبیا ریکارڈز کے مطابق، آسٹریلیا میں 75 فیصد سے زیادہ رپورٹ شدہ واقعات میں مسلمان خواتین کو نشانہ بنایا گیا- ان واقعات میں عوامی جگہوں پر حجاب اتارنے کی کوشش یا سرعام مسلم خواتین کی توہین کرنا شامل ہیں-
آسٹریا کی ایک تنظیم Dokustelle کی 2023ء میں شائع رپورٹ کے مطابق ایک ہزار سے زائد اسلاموفوبیا کے واقعات رپورٹ کیے گئے جن میں زیادہ تر متاثرین وہ خواتین تھیں جو حجاب پہنتی تھیں- فرانس کی حقوق کی محتسب کلیئر ہیدون کی جانب سے جاری رپورٹ میں 2024ء کے ایک سروے کے مطابق فرانس میں ہر تیسرا مسلمان تعصب اور امتیازی سلوک کا شکار ہے- جس کی رپورٹ کے مطابق حجاب پہننے والی 38فیصد سے زائد خواتین کو اکثر ملازمتوں میں رکاوٹوں، کیریئر میں تعطل اور بعض اوقات کھیلوں میں شرکت پر پابندی جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے- 2016ء میں یہ اعداد و شمار صرف 5 فیصد تھے- Pew Research Center کے مطابق 61 ممالک میں مسلمان خواتین کو اپنے لباس پر حکومتی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا- ان ممالک میں خاص طور پر ایسے قوانین نافذ کئے گئے ہیں جو حجاب پہننے کی ممانعت کرتے ہیں اور ان قوانین کو سختی سے نافذ کیا گیا-
آج حجاب صرف مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ تہذیبی، سیاسی اور شناختی علامت بن چکا ہے- اس لیے یورپ، امریکہ، بھارت اور بعض مغربی معاشروں میں حجاب پر پابندی کی کوششیں درحقیقت اسلامی موجودگی اور مسلم شناخت کو محدود کرنے کی کوششیں ہیں-
بھارت میں بڑھتی ہوئی اسلاموفوبیا کی لہر اور حجاب کی حالیہ بے حرمتی
آج بھارت میں بڑھتے ہوئے اسلامو فوبیا کے واقعات اسی تشویش کی طرف توجہ مبذول کرتی ہے کہ کیسے 200 ملین سے زائد آبادی کو ہندوتوا کے تعصب کا سامنا ہے-اسی تعصب کی بنیاد پر بھارت میں مسلمانوں کے تاریخی آثار اور شناخت کو مٹایا جا رہا ہے- آر ایس ایس اور بی جے پی کے حکومت میں آنے کے بعد ان واقعات میں تیزی آئی ہے- واشنگٹن میں قائم ایک ادارے India Hate Lab (IHL) کی رپورٹ کے مطابق 2023ء میں مسلمانوں کے خلاف نفرت پہ مبنی تقاریر کے 77 فیصد واقعات ان ریاستوں میں وقوع ہوئے جن میں بی جے پی کے وزیر اعظم نریندرا مودی کی سرپرستی میں حکومت قائم ہے- آج بھارت میں مسلمان خواتین کے حجاب اور مذہبی علامات کو نشانہ بنانا بھی اسی تعصب کا تسلسل ہے، جہاں مذہبی آزادی کو سیکولر ازم کے نام پہ کچلا جا رہا ہے- زیر نظر مضمون میں ہم بھارت سمیت دنیا بھر میں انہی بڑھتے ہوئے واقعات کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے-
آج سال 2025ء کے اختتام پہ اگر ہم تھوڑا سا پیچھے مڑ کر تاریخ کا جائزہ لیتے تو جن خدشات کا ذکر بانیان پاکستان نے کیا تھا آج وہ ایک ایک کر کے سچ ثابت ہو رہے ہیں- آج بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار اس کی شاہد ہے- سرکاری سر پرستی میں مسلمانوں کے تاریخی اور تہذیبی ورثے کو مٹایا جا رہا ہے- ان سے اپنی شناخت چھینی جا رہی ہے- مذہبی شعائر اور مقامات کی سرعام نہ صرف بےحرمتی بلکہ گرایا جا رہا ہے- مسلمانوں کی مذہبی، سماجی، سیاسی، معاشی، معاشرتی اور شہری شناخت کو مختلف سطحوں پر شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں- اگر تھوڑا سا اعداد و شمار کی طرف جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ 2024ء میں نفرت پہ مبنی واقعات میں 77 فیصد اضافہ ہوا جس میں سے 98 فیصد مسلمانوں کے خلاف تھے-
حال ہی میں مسلمانوں کے خلاف تنگ نظری، عداوت اور بہار میں سرکاری تقریب کے دوران تعصب کا یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب بھارتیہ جنتا پارٹی (BJP) کے اتحادی اور ریاست بہار کے تشدد پسند وزیرِ اعلیٰ نتیش کمار نے ایک باپردہ خاتون نصرت پروین کو تقرر نامہ دینے کے دوران حجاب کو دیکھ کر ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا کہ یہ کیا ہے اور ان کا نقاب کھینچ دیا- نتیش کمار کا یہ پہلا واقعہ نہیں تھا- اس سے پہلے وہ ماضی میں بھی ایسی غلیظ حرکتیں کرتے نظر آئے ہیں- نتیش کمار، بہار میں جنتا دل یونائیٹڈ کے صدر ہیں- وہ ماضی میں بی جے پی اور دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کرحکومت قائم کرتے رہے ہیں- کچھ مہینے قبل وہ دوبارہ وزیر اعلی بنے ہیں- انڈیا ٹوڈے کی خبر کے مطابق، اس صدمے کے بعد ڈاکٹر نصرت پروین نے ابھی تک اپنی ڈیوٹی جوائن نہیں کی ہے- اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نتیش کمار کایہ عمل مسلمانوں کی توہین تھی بلکہ ان کو نیچا دکھانے کی بھی کوشش تھی- یہ واقعہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں بلکہ بھارت میں بسنے والے کروڑوں مسلمانوں کی عزت، وقار اور آئین پر براہِ راست حملہ تھا- لکھنو میں سماج وادی پارٹی کی رہنما سمیہ رانا نے نتیش کمار کے خلاف مقدمہ بھی درج کروایا ہے-
جہاں ایک طرف ہمیں لوگ اس واقعہ کی مذمت کرتے نظر آئے ہیں- دوسری طرف یہ انتہائی افسوسناک بات ہے کہ بھارت میں حکومتی اور کچھ دیگر لوگ اس حرکت کا دفاع کر رہے ہیں-اس افسوسناک واقعہ کے دوران بہار کے وزیرِ صحت منگل پانڈے کے ساتھ وزیرِ اعلیٰ کے پرنسپل سیکریٹری دیپک کمار کو ہنستے ہوئے دیکھا گیا ہے- حکومتی وزیر سنجے نشاد نے واقعہ کی سنجیدگی کا احساس کرنے کی بجائے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’’بس برقعہ ہٹانے‘‘ کا معاملہ ہے- اس واقعے کے بعد ریاست اتر پردیش کے ایک وزیر کی جانب سے بھی اس عمل کا عوامی مذاق اڑایا گیا-بھارتی وزیر گری راج سنگھ نے بھی وزیر اعلیٰ کا دفاع کیا ہے-
اس واقعہ کی بھارت کی اپوزیشن جماعتوں اور مسلم تنظیموں نے شدید الفاظ میں مذمت کی اور نتیش کمار سے اس گھٹیا اقدام پہ معافی مانگنے کا مطالبہ کیا- پاکستان کی وزارت خارجہ نے کہا کہ اس اقدام سے بھارت میں مسلمان خواتین کی تذلیل کو معمول بنانے کا خطرہ لاحق ہو گیا ہے- اس طرزِ عمل سے بھارت کی مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلم شہریوں، کے لیے عوامی سطح پر بے احترامی کا اظہار بھی ہوتا ہے- اس قسم کا رویہ ہندوتوا سے متاثر سیاست سے جڑے ایک وسیع اور تشویشناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے-
پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس واقعہ پہ سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’ایک مسلمان خاتون کا حجاب زبردستی کھینچنا اور اس کے بعد اس کا تمسخر اڑایا جانا نہایت تشویشناک ہے اور اس کی سخت مذمت کی جانی چاہیے‘‘- انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کسی عوامی عہدے دار کی جانب سے کسی خاتون کا حجاب یا نقاب زبردستی ہٹانا عورت کی عزت، شناخت اور ذاتی آزادی پر سنگین حملہ ہے- ایسے اقدامات ناصرف خواتین کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ معاشرے میں خوف اور عدم تحفظ کے ماحول کو بھی فروغ دیتے ہیں-
اس سے قبل بھارت کی ریاست کرناٹکا میں حجاب کے معاملے پر مسئلہ اس وقت سامنے آیا جب سرکاری تعلیمی اداروں میں مسلم طالبات کو حجاب پہن کر کلاس میں داخل ہونے سے روکا گیا- ریاستی حکومت نے یونیفارم کے نام پر حجاب پر پابندی کی حمایت کی، جسے کرناٹکا ہائی کورٹ نے طرفداری کرتے ہوئے برقرار رکھا-یہ معاملہ بعد ازاں سپریم کورٹ تک گیا، جہاں ججوں پہ ہندو توا تنظیموں کے پریشر کی وجہ سے واضح اور متفقہ فیصلہ سامنے نہ آ سکا- اس تنازعے نے مسلم خواتین کے مذہبی حقوق، شناخت اور تعلیم تک رسائی پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے تھے-
حجاب اور انسانی حقوق کا تحفظ:
دنیا بھر کے متعدد ممالک میں ہر سال یکم فروری کو World Hijab Day منایا جاتا ہے جس کا بنیادی مقصد لوگوں کو حجاب کے بارے میں آگاہی دینا اور حجاب کی وجہ سے مسائل کا سامنا کرنے والی مسلم خواتین کے تجربات کو سمجھنے میں مدد فراہمی ہوتا ہے- کچھ ممالک نے اسے سرکاری طور پر بھی تسلیم کیا ہے، جیسے 2025 میں نیو یارک ریاست اور فلپائن کی قومی اسمبلی نے اس دن کو رسمی پہچان دی ہے- اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیمیں، جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور یو این ہیومن رائٹس ایکسپرٹ، نے بارہا حجاب پر پابندیوں کو امتیازی سلوک اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے- مثال کے طور پر، فرانس میں کھیلوں یا تعلیمی مواقع پر حجاب کی پابندی کو انسانی حقوق کے ماہرین نے مسلمانوں کی مذہبی آزادی اور اظہار کی آزادی کے خلاف قرار دیا- ان تنظیموں کا مؤقف تھا کہ کسی بھی شخص کو اس کے مذہبی لباس کی وجہ سے تعلیم، ملازمت یا عوامی زندگی میں حصہ لینے سے نہیں روکا جانا چاہیے- بین الاقوامی انسانی حقوق کے معاہدوں، جیسے Universal Declaration of Human Rights (UDHR) اور International Covenant on Civil and Political Rights (ICCPR)، میں بھی مذہبی عقائد کے اظہار اور لباس کے انتخاب کی آزادی کو بنیادی حق قرار دیا گیا ہے- اس تناظر میں حجاب نہ صرف ایک مذہبی فریضہ بلکہ مسلم خواتین کے لیے اپنی شناخت اور وقار کی علامت بھی ہے اور بین الاقوامی سطح پر اسے ایک قانونی اور سماجی طور پر محفوظ حق تسلیم کیا جاتا ہے-
اختتامیہ:
آج دنیا بھر میں حجاب کا مسئلہ صرف مذہبی لباس یا ظاہری اظہار تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ مسلمان خواتین کی شناخت، عزت و آبرو، وقار اور آزادی کا آئینہ ہے- بھارت میں حالیہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مذہبی لباس کے ذریعے مسلم شناخت پر حملے صرف سماجی سطح تک محدود نہیں بلکہ سرکاری اور سیاسی سطح پربھی سر عام جاری ہے بلکہ سرپرستی بھی حاصل ہے- اس واقعہ نے عالمی سطح پہ واضح کیا کہ حجاب پہننے والی خواتین پر امتیاز یا ہراساں کرنا نہ صرف مذہبی آزادی بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے- دنیا کے مختلف خطوں میں امتیاز اور ہراساں کرنے والے واقعات کے باوجود، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور عالمی ادارے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہر عورت کو اپنے مذہبی لباس اور ثقافتی شناخت کے حق کا تحفظ حاصل ہونا چاہیے- یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حجاب نہ صرف ایک مذہبی فریضہ بلکہ خواتین کے مساوی حقوق کی علامت کے طور پر عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے- ضرورت اس امر کی ہے کہ اس مسئلہ پہ مسلم دُنیا اجتماعی طور پہ آواز اٹھائے اور اسے اپنے مذہبی، ثقافتی اور شناخت کے حق کے طور پہ محفوظ بنائے-
٭٭٭