جمہوریہ کرغزستان

جمہوریہ کرغزستان

جمہوریہ کرغزستان

مصنف: احمد القادری اگست 2014

 خشکی میں محصور کرغزستان وسطی ایشیاء میں ،چین کے مغرب اور قازقستان کے جنوب میں واقع ہے-اِس کا رقبہ ایک لاکھ ننانوے ہزار نو سو اکیاون مربع کلومیٹر ہے جس کا تقریباً نوے فیصد علاقہ پہاڑوں پر مشتمل ہے-اِس کا دارالحکومت بشکیک ہے جِس کا سابقہ نام( آزادی سے پہلے)فرونز تھا،اس کی سرحدیںچین،ازبکستان،قازقستان اور تاجکستان سے ملتی ہیںجن کی کل لمبائی تین ہزار اکیاون کلومیٹر ہے-اِس کی آبادی چھپن لاکھ سے زائد نفوس پر مشتمل ہے جِس میں پچھترفیصد مسلمان ہیںاور شرح خواندگی ننانوے فیصد ہے -

اس علاقہ میں اِسلام کی آمد آٹھویں صدی عیسویں میں ہوئی جب عرب گورنرقتیبہ بن مسلم نے وسطی ایشیاء کو اپنی خلافت میں شامل کیا-نویں صدی عیسوی میں یہاں سمانی خاندان نے حکومت کی- اِس سر زمین پر نو سو بیالیس عیسوی میںپیدا ہونے والے رحمدل حکمران ابو منصور سبگتگین نے دسویں صدی عیسوی کے آخر میں غزنوی دورِ حکومت کی بنیاد رکھی جو مشرقِ وسطی سے لے کر وادیِ سندھ ،پنجاب،بلوچستان اور بحرِ ہند تک پھیلی ہوئی تھی- ابو منصور سبگتگین اپنی رعایا میںانصاف اور رحمدلی کی وجہ سے بہت مقبول تھا- خاندانِ سلجوق کی حکومت گیارہویں صدی سے لے کر تیرہویں صدی تک رہی جو کہ ہندو کش سے ترکی اور وسطی ایشیاء سے خلیج فارس تک پھیلی ہوئی تھی-خاندانِ سلجوق کی حکومت کو منگولوں کے ظالم حکمران چنگیز خان نے ختم کیا،منگولوں کے مظالم نے جہاں مسلمانوں کا جانی و مالی نقصان کیا وہیں بے پناہ علمی اور ادبی نقصان بھی ہوا اور ساتھ ساتھ بے تحاشا تاریخ بھی ضائع کر دی گئی-اس وجہ سے کئی عظیم مسلمان سائنسدانوں اور فلسفیوں کے افکار ہم تک نہیں پہنچ سکے - مسلمانوں پر سے یہ ظلمت کا سایہ اُس وقت ختم ہوا جب منگول حکمران اِسلام قبول کرنے لگے اور عظیم حکمران امیر تیمورنے چودہویں صدی عیسوی میں وسطی ایشیاء پر حکومت کی اس کی ریاست ہندوستان سے وولگا(روس ) اورشام سے چین تک پھیلی تھی جِس کا مرکز ہرات(افغانستان) تھا- پندرہویں صدی میں یہ ریاست کمزور ہوئی اور بالآخر مختلف چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ گئی -اٹھارہویں صدی عیسوی کے وسط میںکرغزستان پر چین نے قبضہ کر لیا- روسی فوجوں نے اٹھارہ سو چھہتر میں اِس پر قبضہ کر کے اِسے روسی ریاست میں شامل کر لیا -

روس کے مارکسی انقلاب کے دوران انیس سو سولہ میں وسطی ایشیاء میںسوویت یونین کے ناجائز قبضہ کے خلاف لوگ اٹھ کھڑے ہوئے- قابض فوج نے اِس آواز کو طاقت سے دبایا اور قتلِ عام کیااوریہاں کی آبادی کا چھٹا حصہ اِس کی بھینٹ چڑھ گیا-انیس سو سترہ سے انیس سو تئیس تک کے عرصے میںملک میں کمیونزم لاگو کر دیا گیا  جِس سے کرغیز لوگوں کا ثقافتی طریقہِ زندگی متأثر ہو ا-انیس سو چھتیس میںاسے کرغز سوویت ریپبلک کا نام دے دیا گیا-

 انیس سو نوے میں انتشار پھیلنے کی وجہ سے ملکی حالات کافی خراب ہو ئے اور قریباً ایک لاکھ لوگ ہلاک ہو ئے-انیس سو اکیانوے میں سوویت یونین کے ٹوٹتے ہی اکتیس اگست انیس سو اکیانوے کوکرغزستان آزاد ہو گیا اورکمیونسٹ پارٹی کے اسکر اکائیف پہلے صدر منتخب ہوئے جو تین مرتبہ (انیس سو اکیانوے،انیس سو پچانوے،دو ہزار) میں بھی منتخب ہو ئے-اِن کے دورِ حکومت میں ملک میں ترقی کے مطلوبہ اہداف حاصل نہ ہونے پر عوام حکومت کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئی-دو ہزار پانچ میں عوامی مطالبے کے بعد صدر اسکر اکائیف نے استعفیٰ دے دیا جِس کے بعد ہونے والے الیکشن میں کرمنبیک بکائیف بھرپور عوامی حمایت کے ساتھ صدر منتخب ہوئے اوردوہزار دس میں ہونے والے انتخابات میں المازبیک اتم بائیف صدر منتخب ہوئے-

یہاں کی زمین کا نوے فیصد سے زیادہ حصہ پہاڑوں پر مشتمل ہے جِن کے اوپر پڑی برف ،ان میں موجود سر سبز وادیاں،نیلے پانی کی جھیلیں، بَل کھاتے دریا،چوٹیوں سے گِرتا پانی سیاحت کے دلدادہ افراد کو دعوتِ نظارہ دیتے ہیں-اِس کے مشہورشہراور مقاما ت میں دارالحکومت بشکیک،Ala Archa National Park،نغمہِ کول جھیل،سلیمان پہاڑ،برج بورانا،اسیک کل جھیل وغیرہ شامل ہیں-یہاں کا ثقافتی طریقہ شکار دُنیا میں بہت مشہور ہے جِس میں تربیت یافتہ عقاب کے ذریعے خرگوش کا شکار کیا جاتا ہے- کرغیز وزیرِ سیاحت کے مطابق یہاں پر دو ہزار تیرہ میں تین ملین سے زیادہ سیاح آئے جِن سے ملک کو پانچ سو ساٹھ ملین ڈالر آمدنی ہوئی جو کہ جی ڈی پی کا چار اعشاریہ پانچ فیصد تھی- یہاں پر موجود مساجد بھی قابلِ دید ہیں جن میں دنگن مسجد،نیلی مسجد وغیرہ شامل ہیں- دو ہزار پانچ سے لے کر دو ہزار چودہ تک او آئی سی کی جانِب سے اِس کے دارالحکومت کو اِسلامی ثقافت کا دارالحکومت نامزد کیا گیا ہے جو اِس اَمر کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ اسلامی تہذیب و تمدن کاگہوارہ رہا ہے-

وسطیٰ ایشیاء میں اِسلام کی تبلیغ و اشاعت کے لئے صوفیا نے گراں قدر خدمات انجام دیں-کرغزستانی عوام آج بھی صوفیا سے کافی عقیدت رکھتے ہیں -گیارہ سو تہتر صدی عیسوی کو اوش (کرغستان) میں صوفی بزرگ حضرت خواجہ سید محمد قطب الدین بختیار کاکیؒ پیدا ہوئے جنہوں نے تصوف کے پرچار کے لئے کردار ادا کیا جِس کی تفصیل چشتیہ سلسلہ کی تصوف پر مبنی مشہور کتاب سیرالاولیاءؒ میں موجود ہے،آپؒ کا مزار مبارک دہلی میں ہے۔ 

کرغزستان کی معشیت کی بات کی جائے تو دو ہزار تیرہ کے مطابق اِس کی جی ڈی پی شرح تقریباً سات فیصد تھی-ملکی معشیت زیادہ تر سونے کے ذخائر ،پن بجلی، کپاس کی برآمد ، اور سیاحت پرانحصار کرتی ہے، کرغزستان میں پہاڑوں میں بہتے دریا ڈیموں کے لیے بہت موزوں ہیں جِس کی وجہ سے کرغزستان میں چھوٹے ، بڑ ے ڈیموں سے کل بجلی کا اَسی فیصد حصہ حاصل ہوتا ہے اِن ڈیموں میں ذخیرہ ہونے والے پانی سے ملکی زراعت کو بھی کافی فائدہ ہوتا ہے -روس کے ساتھ ملکر یہ ملک میں مزید ڈیموں کی تعمیر کر رہا ہے- دو ہزار تیرہ میں ملکی برآمدات تقریباً ڈیڑھ بلین ڈالر اور درآمدات تقریباً پانچ بلین ڈالر تھیں-ملک میں دو ہزار تیرہ کے مطابق گیس کے معلوم ذخائر تقریباً پانچ بلین کیوبک میٹر اور تیل کے معلوم ذخائر تقریباً چالیس ملین بیرل ہیں-سونے کے ذخائر کی اندازہً قیمت ساڑھے پانچ بلین ڈالر ہے -

اس علاقہ کو تاریخ میں اہم تجارتی شاہراہ پر واقع ہونے کی وجہ سے خاص اہمیت حاصل رہی ہے- ایک سو تیس قبل مسیح میں بحیرہِ روم سے شروع ہونے والا سِلک روٹ مشرق اور مغرب کے ممالک کو آپس میں مِلاتا تھا اوریہ روٹ کرغزستان کی سر زمین سے بھی گزرتا تھا جِس کی وجہ سے کرغزستان کو اِس روٹ کے ذریعے ہونے والی تجارت سے کافی فائدہ حاصل ہوتا تھا -

 کرغزستان نے آزادی کے بعد سے اِس خطہ کے اہم ممالک سے تعلقات مضبوط کیے ہیں اوراِس کے چین،روس،قازقستان،ازبکستان ،پاکستان اور خطے کے دوسرے ممالک سے اچھے سفارتی اورتجارتی تعلقات ہیں جن کی وجہ سے کرغزستان خطہ کے تمام ممالک سے ملکر ترقی کی نئی منزلیں طے کر رہا ہے- کرغزستان اورچین کے مابین، چین سے وسطیٰ ایشیاء کے درمیان ریل ٹریک بنانے کے منصوبے پر بات چیت چل رہی ہے جِس کی وجہ سے اِس کو خطہ کی بڑی منڈیوں تک جلد رسائی حاصل ہو سکے گی-کرغزستان چار ملکی (پاکستان،چین،قازقستان،کرغزستان )تجارتی معاہدےQuadrilateral Traffic in Transit Agreement )کا رکن بھی ہے جِس سے یہ اِس خطہ کے تمام ممالک سے وسیع پیمانے پر تجارت کر رہا ہے-کرغزستان ،اکنامک کو آپریشن آرگنائزیشن(Economic Cooperation Organization)،او آئی سی،اقوامِ متحدہ،ایس سی او،ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کا رکن ہے-

پاکستان اور کرغزستان کے درمیان باہمی تعلقات کا آغاز کرغزستان کی آزادی کے ساتھ ہی شروع ہو گئے اور وقت کے ساتھ ساتھ مضبوط ہوتے گئے - پاکستان اور کرغزستان کے باہمی تعلقات کی دسویں سالگرہ کے موقع پر پاکستان کی طرف سے یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی شائع کی گئی-دو سو سے زیادہ پاکستانی طالبعلم کرغزستان میں اپنی ڈاکٹریٹ کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں-پاکستان کی تقریباً تین سو سے زیادہ کمپنیاں کرغزستان میں رجسٹرڈ ہیں - بشکیک میں نیشنل بینک آف پاکستان کی برانچ بھی دو ہزار دو میں کھولی گئی- پاکستان کو کاشغر تا گوادر ریلوے ٹریک کو مزید وسعت دے کر اِس کو کرغزستان تک پھیلانا چاہیے اور چین کے وسطیٰ ایشیاء کے ممالک کے ساتھ ریل روڈ منصوبہ کو اِس کے ساتھ مِلانا چاہیے جِس سے نہ صِرف خشکی میں محصور وسطیٰ ایشیاء کے ممالک کو کاشغر تا گوارد ریل روڈکے ذریعے گہرے پانی کی بندرگاہ گوادرتک رسائی حاصل ہو گی بلکہ پاکستان کو بھی وسطیٰ ایشیاء کے ممالک تک جلد رسائی حاصل ہونے سے نئی تجارتی راہیں کھلیں گیں اور تجارتی حجم بڑھنے سے پاکستان سمیت تمام وسطیٰ ایشیائی ممالک ترقی کے نئے دور کا آغاز کریں گے اور اس کے ساتھ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات بھی پوری کر سکے گا-

****

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر