اکیسویں صدی کا سال 2025ء مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اہم تبدیلیوں اور واقعات کا سال ثابت ہوا- اس دوران جہاں عالمی سطح پر سیاست، معیشت ، سماج ، سائنس و ٹیکنالوجی اور دفاعی منظر نامے پہ نمایاں واقعات رونما ہوئے وہیں علاقائی اور قومی سطح پر بھی کئی تاریخی موڑ آئے- ذیل میں گزشتہ سال قومی و بین الاقوامی سطح پہ رونماہونے والی اہم تبدیلیوں اور واقعات کا طائرانہ جائزہ پیش کیا جارہا ہے -
آپریشن’’بنیان المرصوص‘‘ میں پاکستان کی تاریخی فتح:
ہندوتوا پالیسی پہ عمل پیرا بھارت نے 6 اور 7 مئی 2025ء کی شب آزاد پاکستانی علاقوں میں مساجد پر حملے کئے جن میں 31 نہتے شہری شہید اور 57 افراد زخمی ہو گئے- بھارت کی طرف سے اس نام نہاد بزدلانہ کارروائی کو آپریشن سندور کا نام دیا گیا- اس دوران افواجِ پاکستان نے بروقت جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور بھارتی فضائیہ کے 6 طیارے مار گرائے جن میں جدید رافیل طیارے بھی شامل تھے- 9 اور 10 مئی کی درمیانی شب بھارت نے دوبارہ میزائل حملوں کے ذریعے پاکستان کی ایئر بیسز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تاہم ان حملوں کے نتیجے میں فضائیہ کے تمام اثاثے محفوظ رہے- بالآخر ناگزیر ردِ عمل کے طورپہ افواجِ پاکستان نے 10 مئی کی صبح بھارت کے خلاف جوابی کارروائی کا آغاز کر دیا اور اس آپریشن کو ’’بنیان المرصوص‘‘ کا نام دیا گیاجو قرآن مجید کی سورۃ الصف (آیت: 4 )سے ماخوذ ہے،جس کا مطلب ہے سیسہ پلائی ہوئی دیوار- آپریشن ’’بنیان مرصوص‘‘ کا آغاز پاکستان نے پہلی مرتبہ مقامی طور پہ تیار کردہ فتح ون میزائل چلا کر بھارت کو منہ توڑ جواب دیا-
عسکری ذرائع کے مطابق دوران آپریشن زمین، فضا، سمندر اور سائبر محاذ پر ہم آہنگی سے کارروائیاں کی گئیں اور پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے بھارت کے 26 اہم فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا -اس کے علاوہ بھارت کی جنگی بالادستی سمجھے جانے والے جدید ترین فضائی دفاعی نظام ایس 400 کو بھی پاک فضائیہ نے نشانہ بنا کر دشمن کو شدید نقصان پہنچایا- ان حملوں کے بعد امریکی ثالثی میں جنگ بندی کا اعلان کیا گیا- افواجِ پاکستان کی بھارتی جارحیت کے خلاف زبردست کامیابی کے موقعہ پر تحقیقی ادارے مسلم انسٹیٹیوٹ کی جانب سے 14 مئی 2025ء کو دربار حضرت سلطان باھُو ؒپہ پاک فضائیہ کے آپریشن میں زیر استعمال طیارے J-10C کی شکل پر انسانی ماڈل بناکر پاک فضائیہ کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے- اس تاریخ ساز فتح نے جہاں دفاعِ وطن کو ناقابلِ تسخیر بنایا وہیں اقوامِ عالم کی نظر میں افواجِ پاکستان کی دھاک بٹھادی-
پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریاں :
قدرتی آفات جیسے زلزلے،سیلاب، طوفان، لینڈ سلائیڈنگ، قحط اور خشک سالی آج سنگین عالمی مسائل ہیں جو سالانہ کثیر جانی و مالی،معاشی اور ماحولیاتی نقصانات کا سبب بنتے ہیں- اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق دنیا کو قدرتی آفات کی وجہ سے سالانہ تقریبا ً 2.3 ٹریلین ڈالر کا مالی نقصان ہورہا ہے - پاکستان میں گزشتہ سال( 2025ء) میں سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی -اسے پاکستان کی تاریخ کا تیسرا بد ترین سیلاب قراردیا گیا جس کے نتیجے میں بالخصوص صوبہ پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے دیہی و شہری علاقے شدید متاثر ہوئے -اس دوران متعدد افراد جاں بحق، لاکھوں افراد متاثر ، لاکھوں نقل مکانی پہ مجبور، کئی لاکھ ایکڑ زرعی رقبہ تباہی کا شکار جبکہ 4500 سے زائد گاؤں شدید متاثر یا مکمل تباہ ہو گئے- پاکستان کی وزارتِ منصبوبہ بندی و ترقی کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کو 2.9 بلین ڈالر کا مالی نقصان اٹھانا پڑا- لہٰذا! 2025 کے سیلاب کے پیشِ نظر حکومتِ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کیلئے مستقل و دیرپا اقدامات کی ضرورت ہے ورنہ مستقبل میں اس سے بھی بڑے ماحولیاتی خطرات جنم لے سکتے ہیں-
پاکستان میں پہلی بار بین الاقوامی پارلیمانی اسپیکرز کانفرنس کا انعقاد:
پارلیمانی سفارت کاری ایک ایسا تصور ہے جس نے حالیہ برسوں میں بین الاقوامی تعلقات میں نئی جہت کو فروغ دیا ہے-10سے 12 نومبر 2025 تک پاکستان میں پہلی دفعہ بین الپارلیمانی اسپیکرز کانفرنس (Inter-Parliamentary Speakers’ Conference – ISC) کا انعقاد کیا گیا- چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی قیادت میں دار الحکومت اسلام آباد میں’’بین الپارلیمانی سپیکرز کانفرنس‘‘ بین الاقوامی پارلیمانی تعاون کا تاریخی سنگِ میل اور پاکستان کیلئے ایک غیر معموملی لمحہ تھا- اس تاریخی کانفرنس کا موضوع امن، سلامتی اور ترقی (Peace, Security and Development) رکھا گیا -اس تین روزہ کانفرنس میں دنیا کے 40 سے زائد ممالک کے پارلیمانی اسپیکرز نے شرکت کی - کانفرنس کا مقصد موجودہ دور میں دنیا کو درپیش چیلنجز اور مسائل سے نبرد آزما ہونے کیلئے مختلف قوموں کے کثیر الجہتی نظریات سے آگاہی، مکالمے اور پارلیمانی سفارت کاری کی نئی راہیں کھولنا تھا -
پاکستان اور سعودیہ عرب کے مابین اہم دفاعی معاہدہ :
برادر اسلامی ممالک پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ سے علاقائی و عالمی سیاست میں ایک خاص اہمیت کے حامل رہے ہیں- سعودی عرب نے شروع دن سے ہی پاکستان کے ساتھ نہ صرف مضبوط سفارتی تعلقات استوار کیے بلکہ نظریاتی، معاشی، دفاعی اور مذہبی و ثقافتی سطح پر بھی گہرے روابط قائم کیے جبکہ پاکستان نے بھی سعودی عرب کو اُمت مسلمہ کے مرکز کے طور پر نہایت احترام و قدر سے دیکھا ہے - اسی سلسلے کی ایک کڑی 17 ستمبر 2025ء کو دونوں برادر ممالک کے درمیان ہونے والا اہم دفاعی معاہدہ ہے- معاہدہ قطر پر اسرائیلی حملوں اور دوحہ میں ہونے والی غیر معمولی عرب اسلامی سربراہی کانفرنس کے بعد سامنے آیا- معاہدے کے مطابق کسی ایک ملک کے خلاف جارحیت کو دونوں ممالک کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا - مزید اس معاہدے سے پاکستان اب حرمین شریفین کے تحفظ میں سعودی عرب کا شراکت دار بن گیا ہے- اس معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے دیرینہ دفاعی تعاون کو باقاعدہ شکل دینا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے بدلتے جغرافیائی و تزویراتی حالات کے تناظر میں باہمی سلامتی اور مشاورتی دفاع کو مستحکم کیا جائے-
غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی:
فلسطین میں گزشتہ کئی دہائیوں سے اسرائیلی ظلم و بربریت کا سلسلہ جاری ہے جس پہ انسانی حقوق و انصاف کے عالمی ادارے بے حس و خاموش ہیں - سال 2025ء میں بھی غزہ (فلسطین ) کے مسلمانوں کو اسرائیلی سفاکیت کا سامنا رہا - تقریبا گزشتہ ڈیڑھ برس کے کم عرصے میں قابض اور جابر اسرائیل نے غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں بلا امتیاز فضائی بمباری سے ایسی تباہی مچائی ہے کہ نہ صرف پورا غزہ بلکہ دیگر فلسطینی علاقے کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں- گزشتہ سال رمضان المبارک کے آغاز پر ایک درد ناک منظر اُس وقت دیکھنے کو ملا جب سوا سال تک مسلسل بمباری کا نشانہ بننے والے تباہ حال شہر غزہ میں مظلوم فلسطینیوں نے ملبے کے درمیان اپنا پہلا اجتماعی روزہ افطار کیا-
مزید برآں نومبر 2025ء تک کے اعداد و شمار کے مطابق قابض اسرائیلی فوج نے 47 دنوں میں جنگ بندی کے بعد بھی دہشت گردی کی کارروائیوں کے دوران 350 فلسطینی شہریوں کو شہید کیا جن میں 198 بچے، خواتین اور بزرگ شامل ہیں، جو شہداء کا 56.6 فیصد ہیں-اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق قابض اسرائیلی افواج 70 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید کر چکی ہیں- اب وقت کا ناگزیر تقاضا ہے کہ حقیقی اور پائیدار حل کی جانب قدم بڑھایا جائے تاکہ فلسطین میں صیہونی مظالم کا خاتمہ اور انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنے-
اسرائیل کی ایران پر جارحیت:
13 جون 2025ء کو ایران اور اسرائیل کے مابین جنگ اُ س وقت شروع ہوئی جب اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کو وسعت دینے سے روکنے کا خودساختہ دعوی کرتے ہوئے ایران کی متعدد تنصیبات پر اچانک حملے کردئیے اور ان حملوں کو ”آپریشن شیرِ برخاستہ“ کا نام دیا- اِس دوران اسرائیل نے ایران کے جوہری مراکز ، عسکری تنصیبات اور شہری علاقوں کو شدید نقصان پہنچایا- اسی شب ایران نے بھی ”آپریشن وعدۂ صادق سوم“کے تحت اسرائیل کے خلاف بھر پور جوابی کارروائی کی جس میں اسرائیل کے فوجی اور انٹیلی جنس مراکز کے ساتھ ساتھ بعض رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا- جب یہ جنگ شدت اختیار کر گئی تو امریکہ بھی اس جنگ میں کود پڑا جس نے ایران کے جوہری پروگرام کو شدید نقصان پہنچایا -
بالآخر 24 جون کو جنگ بندی کا اعلان ہوا اور یوں یہ 12 روزہ جنگ اپنے اختتام کو پہنچی- اس دوران پاکستان نے ایران کا خوب ساتھ دیا اور ایرانی پارلیمنٹ میں پاکستان کے حق میں نعرے لگائے گئے- 15 جولائی 2025 ء کو شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے تحت وزرائے خارجہ کے اجلاس میں پاکستانی وزیزِ خارجہ نے ایران پہ اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کو غیر منصفانہ اور عالمی قوانین کے سنگین خلاف وزری قرار دیا اور اس بات پہ زور دیا کہ SCO رکن ممالک کے خلاف ایسی جارحانہ کاروائیاں علاقائی امن و استحکام کےلیے سنگین خطرہ ہیں-
آرمینیا -آذربائیجا ن امن معاہدہ:
آرمینیا اور آذربائیجان 1980 کی دہائی سے ہی تنازعہ میں رہے ہیں جب آذربائیجان کا علاقہ کارا باخ (Karabakh) جس میں زیادہ تر آرمینیائی نسل کے لوگ رہتے ہیں پر آرمینیا نے قبضہ کر لیا تھا- 1991ء میں باضابطہ طور پر آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان جنگ چھڑ گئی جس کے نتیجے میں تقریباً 30,000 ہلاکتیں ہوئیں اور لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے- یوں گزشتہ 3دہائیوں سے آرمینیا آذربائیجان کے علاقوں پر بلا اشتعال جھڑپوں کا سلسلہ جاری تھا- 2016 ء میں آرمینیا نے ان جھڑپوں میں تیزی کردی جس سے کافی جانی و مالی نقصان ہوا- آذربائیجان نے 2023 میں اس علاقے پر پورا کنٹرول واپس لے لیا جس سے اس علاقے کے تقریباً سبھی آرمینیائی نسل کے لوگ آرمینیا بھاگ گئے - یاد رہے کہ کاراباخ بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی کی قراردادوں کے مطابق آذربائیجان کا تسلیم شدہ علاقہ ہے جس پر آرمینیا کی فورسز نے ناجائز قبضہ کیا ہوا تھا- اسلامی تعاون تنظیم (OIC) بھی کاراباخ کو آذربائیجان کا حصہ تسلیم کرتی ہے- 8اگست 2025ء کو آذربائیجان نے عالمی قوانین کی پاسداری اور خطے میں امن کیلئے آرمینیا کو امن معاہدے کی پیشکش کی اور یوں دونوں ملکوں کی قیادت کے درمیان وائٹ ہاؤس تاریخی امن معاہد طے پایا-اس معاہدے کے مطابق دونوں ممالک نے نہ صرف جنگ و لڑائی ہمیشہ کے لیے بند کرنے کا وعدہ کیا بلکہ سفر، تجارت اور سفارتی تعلقات کی بحالی پر بھی اتفاق کیا-
ڈونلڈ ٹرمپ کا بطور امریکی صدر بارِ دگر اقتدار میں آنا :
امریکہ میں حکومت کی تبدیلی ہمیشہ سے عالمی سیاسی منظر نامے میں انتہائی اہمیت کی حامل رہی ہے- ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری 2025ء کو دوسری بار امریکہ کے 47 ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھایا، اِس سے قبل ٹرمپ 45ویں امریکی صدر کی حیثیت سے اپنی مدتِ صدارت مکمل کر چکے ہیں اور اُن کے دوبارہ صدر منتخب ہونے میں محض ایک صدارتی مدت کا وقفہ آیا ہے - اس بار ان کو امریکی کانگریس کے دونوں ایوانوں میں واضح اکثریت حاصل ہوئی - حلف اٹھاتے ہی انہوں نے کئی اہم نوعیت کے ایگزیکٹو آرڈرز پہ دستخط کیے -ان کی پالیسیاں اور فیصلے صرف امریکی اندرونی معاملات تک محدود نہیں رہے بلکہ ان کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے گئے ہیں - انہوں نےایک بار پھر ’’امریکہ سب سے پہلے‘‘ کا نعرہ لگا کر بین الاقوامی تجارت کی سمت بدلنے کی کوشش کی ہے جیسا کہ مختلف ممالک پہ ٹیرف عائد کرنا -
دیگر ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان بھی اس ٹیرف کی زد میں آیا جس پر 29 فی صد ٹیرف لگایا گیا-بعد ازاں تجارتی مذاکرت کے نتیجے میں یہ ٹیرف 29 فی صد سے کم ہوکر 19 فی صد کردیا گیا- دنیا نے ٹرمپ کے اس اقدام پہ شدید ردِ عمل دیا-لہٰذا 2025 میں ٹرمپ کی معاشی حکمتِ عملی نے عالمی معیشت کو ایک بڑے دباؤ میں ڈال دیا ہے- 14 جون 2025 ء کو امریکہ میں ایک بڑا احتجاج ہوا جسے No Kings protests کانام دیا گیا-
کوانٹم سائنس و ٹیکنالوجی کا سال:
اقوامِ متحدہ نے 2025ء کو ’’ کوانٹم سائنس و ٹیکنالوجی کا سال ‘‘ قرار دے کر کوانٹم میکینکس کی ایک صدی مکمل ہونے کا اعتراف کیا ہے- کوانٹم سائنس اور ٹیکنالوجی نے جدید دو ر میں خاص طور پر quantum computing, quantum communication, quantum sensing کے میدان میں خاطر خواہ ترقی کی ہے- اس حیرت انگیز سائنسی انقلاب کے اثرات سے دنیا اجتماعی ترقی کے ایک نئے باب میں داخل ہورہی ہے- 2025 ء کو کوانٹم سال کے طور پر منتخب کرنے کا مقصد اس شعبے کی اہمیت اجاگر کرنا اور اسے بین الاقوامی فورم پرفروغ دینا ہے-
صحتِ عامہ کے میدان میں پیش رفت:
اِس وقت دنیا طبی تحقیق اور علاج کے جدید طریقوں میں حیرت انگیز طور پہ آگے بڑھ رہی ہے - سال 2025 میں طبی میدان میں کئی ایسی ایجادات سامنے آ ئی ہیں جو صحت کے شعبےکو نہایت موثر انداز میں تبدیل کر رہی ہیں- مثلاً ٹیلی میڈیسن، AI تشخیص، ویئرایبل ہیلتھ ڈیوائسز، پرسنلائزڈ میڈیسن، روبوٹکس اور دماغی صحت کے شعبے میں ترقی کے ساتھ ہم صحت کی دیکھ بھال کے ایک نئے دور میں داخل ہو چکے ہیں جو پہلے سے کہیں زیادہ قابل ِرسائی، درست اور مؤثر ہے- چنانچہ آئندہ سالوں میں علاج تک رسائی اورمریض کی طبی حالت کے نتائج میں نمایاں بہتری آنے کی توقع ہے-
مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اے آئی گورننس (AI Governance) کی بڑھتی عالمی مقبولیت :
اے آئی گورننس 2025 میں ایک ابھرتا ہوا شعبہ ہے جو مصنوعی ذہانت کے ہوش ربا فروغ کے ساتھ عالمی سطح پہ انتہائی اہمیت اختیار کرچکا ہے جس کی مقبولیت میں آئے دن اضافہ ہورہا ہے- اے آئی گورننس سے مراد ایسے اصول و قوانین، پالیسی ڈھانچے اور اخلاقی ضوابط ہیں جو اے آئی کے استعمال، ترقی اور اثرات کو منظم کرتے ہیں تاکہ یہ ٹیکنالوجی انسانی فلاح و بہبود کے لیے کارآمد ثابت ہوسکیں -اے آئی گورننس کی ضرورت اس لیے محسوس ہوئی کیونکہ مصنوعی ذہانت نہ صرف سہل امور بلکہ پیچیدہ فیصلہ سازی کے عمل میں بھی استعمال ہو رہی ہے- آج صحت، مالیات، تعلیم اور حکومتی پالیسی سازی جیسے شعبے میں اے آئی سسٹمز استعمال کیے جا رہے ہیں- عالمی سطح پر کئی ممالک اور ادارے اے آئی گورننس کیلئے فریم ورک تشکیل دے رہے ہیں- مثلاً یورپی یونین نے EU AI Act متعارف کرایا ہے جو دنیا کا پہلا جامع اے آئی قانونی فریم ورک ہے- اسی طرح OECDاور UNESCO جیسے ادارے بھی اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں جس سب کا مقصد یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال محفوظ، قابل اعتماد اور منصفانہ ہو- تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ان سسٹمز کے غیر منظم یا بے جااستعمال سے سنگین خطرات جنم لےسکتے ہیں جن سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مؤثر گورننس ڈھانچے کی ضرورت ہے-
پاکستان اور دیگر ترقی پذیر ممالک کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ منظم اے آئی پالیسی تشکیل دیں - ایسے اقدامات سے نہ صرف جدت فروغ پائے گی بلکہ عوامی اعتمادبھی بڑھے گا -
٭٭٭