ابیاتِ باھُوؒ

ابیاتِ باھُوؒ

ک:کُن فَیَکُونْ جَدوں فرمایا اساں بھی کولوں ہاسے ھو
ہِکے ذات صِفات ربیدی آہی ہِکے جگ وچ ڈُھنڈیاسے ھو
ہِکے لامکان مَکان اساڈا ہِکے آن بُتاں وِچ پھَاسے ھو
نَفس پلیت پلیتی کیتی باھوؒ کوئی اصل پَلیت تاں ناسے ھو

 

When “Kun fa ya kun” (happen so it happens) Commanded, nearby we were Hoo

Was within essence and attribute of Rabb and yet we search Him here Hoo

We are struck in our bodies in fact la makan was our dwelling Hoo

Impure nafs has defiled us Bahoo we were not actually defiling Hoo 

Kun fayakun jadoo’N farmaya assa’N bhi kolho’N haasay Hoo

Hikay zaat siffat rabydi aahi hikay jag wich ‘Dhon’Dyasay Hoo

Hikay la makan makan assaday aan butaa’N wich phassay Hoo

Nafs paleet paleeti kiti Bahoo koi asal paleet ta’N nasay Hoo

 

نہ بودی کس نہ بودی ہیچ کس

 

من کہ بودم با خدا بود یم بس

1-’’کچھ نہ تھا ، کوئی بھی نہ تھا، مَیں تھا، مَیں بس خدا کے ساتھ تھا‘‘-(امیرالکونین)

ایک اورمقام پہ سُلطان العارفین حضرت سخی سُلطان باھو(رح) اپنے بارے میں ارشادفرماتے ہیں :’’ مَیں ازل سے ابد تک نورِ اِلٰہی میں غرق ہوں اِس لیے مجھے ازل سے ابد تک دائم حضوری حاصل ہے (اور) مَیں ازل سے اَبد تک مست ِحال ہوں کہ مجھے ازل سے اَبد تک کا دائمی وصال نصیب ہے‘‘-(کلیدالتوحیدکلاں)

2-جان لے کہ بعض فقراء ایسے ہیں جو کہیں بھی مستقل قیام نہیں رکھتے ، وہ ہمیشہ سیر و سفر میں رہتے ہیں اور کہیں بھی آرام و جمعیت اور سکون و قرار سے نہیں رہتے خواہ کوئی اُن کی ہزار دلداری و غم خواری کرے یا نذر و نیاز سے اُن کی خدمت کرے- وہ ہر جگہ مسافروں کی طرح پریشان حال رہتے ہیں اور اِس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اللہ عزوجل سے اُنس رکھتے ہیں اور غیر اللہ سے وحشت کھاتے ہیں ،اُن کے کانوں میں ’’ فَفِرُّوْااِلَی اللّٰہِ ‘‘(پس دوڑو ’’اَللّٰہُ‘‘کی طرف ) کی آواز گونجتی رہتی ہے اور اُن کی نظر معرفت ِ اِلَّااللّٰہُ پر لگی رہتی ہے-جس طرح ذرّہ آفتاب کے مدّ ِنظر ہو کر بے قرار رہتا ہے اُسی طرح عارفانِ اِلٰہی بھی ’’اَللّٰہُ‘‘ کے مدّ ِ نظر ہو کر خَلق سے فرار اختیار کرتے ہیں-(محک الفقرکلاں)

من مرغِ لا مکانم جز لا مکان نمانم

 

فقرش ازاں نشانم فی اللہ فنا ازانم

3- ’’ مَیں لامکان کا پرندہ ہوں، لامکان کے علاوہ میرا کہیں اور بسیرانہیں ، اِس لیے کہ مَیں فنا فی اللہ فقیر ہوں‘‘-(کلیدالتوحیدکلاں)

دراصل انسان کی تخلیق عالم لاھوت میں ہوئی جس میں ہرانسان کی روح نے چار ہزار سال تک اپنے مالک و خالق کے انواروتجلیات کا مشاہدہ کیا اور وہاں ’’اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ‘‘ اور ’’قَالُوْا بَلیٰ‘‘کے عہدو پیمان ہوئے اس کےبعد اللہ رب العزت نے آزمائش کی خاطر انسان کو ’’اَسْفَلَ السّٰفِلِیْنَ‘‘یعنی عالم ِ ناسوت میں بھیجا،جس کے بارے میں حضرت سُلطان باہو (رح)ارشادفرماتے ہیں:’’ناسوت اور لاھوت لامکان کے درمیان ستر کروڑ تیس لاکھ اَن دیکھے اور اَن سنے مقامات ِ حجابات ہیں جو راہزنی کرتے ہیں(امیرالکونین )‘‘-عالم ِ ناسوت میں انسان کو اپنے مرتبہ انسانیت سے گرانے اور عالم ِ لاھوت سے دور رکھنے کے لیے اللہ عزوجل کی طرف سے کئی بت ہیں،جن میں سب سے بڑے بت نفس،شیطان اوردنیا ہیں،جن کا کام صرف اور صرف انسان کو اللہ رب العزت کی بارگاہِ اقدس سے دورکر کے مقام ِانسانیت سے محروم کرنا ہے،جس کی وضاحت آپ (رح) یوں فرماتے ہیں:

’’یاد رکھ کہ جب اللہ تعالیٰ نے ابلیس کو مرتبۂ رحمت سے معزول کر کے ’’اَسْفَلَ السّٰفِلِیْنَ‘‘کے مرتبۂ لعنت پر بھیجا، مقامِ علیین سے بے دخل کر کے مقامِ سجین پر پہنچایا تو ابلیس و نفس و دنیا نے آپس میں اولادِ آدم کو مرتبۂ ذلت و ہلاکت پر پہنچانے کے لئے معاہدہ کیا اور ایک دوسرے سے دست بیعت کی - ابلیس نے کہا: ’’مَیں اولادِ آدم کو طاعت و عبادت سے روک کر معصیت و گناہ کی طرف راغب کروں گا‘‘-دنیا نے کہا: ’’مَیں خود کو اُن کی نظروں میں آراستہ کر کے اُنہیں اپنی طرف مائل کروں گی اور اُنہیں حرص و بلا میں مبتلا کر کے ہلاک کروں گی اور اللہ عزّ و جل سے دور کروں گی‘‘-نفس نے کہا: ’’مَیں اُنہیں ہوا و شہوت میں دیوانہ کر کے نظر بازی سے گمراہ وخراب کروں گا‘‘-طالب ِاللہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ اِن تینوں کو اِن کے افعال سے پہچانے اور خود کو ناشائستہ افعال سے باز رکھے(عین الفقر )-ایک مقام پہ اہل ِلاھوت کی شان بیان کرتے ہوئے آپؒ ارشادفرماتے ہیں:’’اہل ِلاھُوت لامکان کو جب موت آتی ہے تو قبر میں اُس کے جسم کے ساتوں اندام صحیح سلامت رہتے ہیں کیونکہ تصورِ اسم اللہ ذات کی وجہ سے اُس کا جسم نور بن جاتاہے،قلب زندہ ہوجاتاہے،روح مقد س ہوجاتی ہے اور وہ ہمیشہ انبیا ء و اؤلیاء اللہ کی مجالس میں حاضر رہتا ہے‘‘-(نورالھدٰی)

4- حضور نبی کریم(ﷺ) کا فرمان مبارک ہے: ’’تیرے وجود میں تیرا نفس ہی تیرا دشمن ہے‘‘(محک الفقرکلاں)-عالم فاضل عاقل دانشمند وہ ہے جو اپنے نفس کو درست اور سیدھا رکھے اور ہر بلا سے اُس کا امتحان لے -حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کا فرمان ہے: ’’اللہ تعالیٰ مومنین کو مصیبت اور بلا سے آزماتا ہے جس طرح کہ سونے کو آگ میں ڈال کر آزمایا جاتا ہے‘‘- فرمانبردار و تابع کرنے کیلئے نفس سے بڑھ کر سخت اور بُری بلا اور کوئی نہیں ہے - بیماریٔ نفس کے علاج کیلئے دلوں کے طبیب کی ضرورت ہے‘‘-(مجالسۃ النبی خورد (ﷺ)


سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر