امتِ مسلمہ کے استحکام و بقاء کے لئے اسلامی اصولِ مواخات کے عملی نفاذ کی ضرورت

امتِ مسلمہ کے استحکام و بقاء کے لئے اسلامی اصولِ مواخات کے عملی نفاذ کی ضرورت

امتِ مسلمہ کے استحکام و بقاء کے لئے اسلامی اصولِ مواخات کے عملی نفاذ کی ضرورت

مصنف: ڈاکٹرحافظ فیض رسول جولائی 2020

اسلام کا اجتماعی نظام اخوت (بھائی چارہ) کی بنیاد پر قائم ہے جس کے تحت دنیا میں رہنے بسنے والے مسلمانوں کی تمام نسبتوں کو ایک جسم کی مانند متحد و یکجا کر دیا گیا ہے-اس رشتہ اخوت میں انسانی حسب ونسب، رنگ ونسل، برادری وقومیت اور ملک و وطن اور اس جیسی کوئی بھی تفریق حائل نہیں ہے-ذات پات، رنگ و نسل، زبان، قومیت، صوبائیت اور ملکی تفریق کی بنا پر آپس میں اختلاف اور تعصب پیدا کر لینا، اسلام کے ’’تصورِ مواخات‘‘ کے سراسر خلاف ہے- اخوت ایک ایسی ایمانی قوت ہے جو آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ رحم و کرم، الفت ومحبت، ایثارو تعاون ، عزت و احترام اور عفو و درگزر کے مثبت جذبات پیدا کرتی ہے-

اخوت کا لغوی مفہوم:

’’الاخ‘‘یہ لفظ ’’الاخیۃ و الآخِیۃ‘‘سے مشتق ہے-یعنی ایسی رسی جس کے دونوں سرے زمین میں گاڑھ دیتے ہیں اور اوپر کو جو حلقہ سا نکلا ہوا ہوتا ہے جس میں جانوروں کو باندھتے ہیں، وہ ’’الاخیۃ والآخیۃ‘‘ کہلاتا ہے- لہذا ’’الاخ‘‘ کے معنی ہوئے ’’ایک حلقے میں بندھے ہوئے یا ایک رسی کے ساتھ بندھےہوئے‘‘-[1]

اسی طرح لفظ ’’اَلاَخُ و الاَخُّ‘‘ بھائی ، دوست، ساتھی اور ہر اس شخص کیلئے بولا جاتا ہے جو دوسرے کسی فرد سے خاندان، قبیلہ، قومیت، دین یا محبت میں مشترک ہو- ’’الاخ‘‘ کی جمع ’’الاخوان‘‘ دوستی کے لحاظ سے بھائی کے معنی میں اور ’’الاخوۃ‘‘ نسبی بھائی کےمعنی میں ہے-[2]

قرآن حکیم میں لفظ ِ’’اخوۃ‘‘متذکرہ بالا تمام مفاہیم میں مختلف مقامات پر وارد ہواہے، جن میں سے کچھ حسب ذیل ہیں:

ہم قبیلہ افرادکے لئے:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَ لَقَدْ أَرْسَلْنَا إِلَى ثَمُودَ أَخَاهُمْ صَالِحًا‘‘[3]

’’اور ہم نے قومِ ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا‘‘-

وطنی وقومی بھائیوں کے لئے :

اللہ تعالیٰ کا ارشادہے:

’’قَدْ يَعْلَمُ اللهُ الْمُعَوِّقِينَ مِنْكُمْ وَالْقَائِلِينَ لِإِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ إِلَيْنَا وَلَا يَأْتُونَ الْبَأْسَ إِلَّا قَلِيلًا‘‘[4]

’’اللہ تعالیٰ خوب جانتاہے جہاد سے روکنے والوں کو تم میں سے اور انہیں جو اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں (اسلامی کیمپ چھوڑکر) ہماری طرف آجاو اور خود بھی جنگ میں شرکت نہیں کرتے مگر برائے نام‘‘-

محبت و یگانگت اور ہمدردی کے لئے:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْيَتَامَى قُلْ إِصْلَاحٌ لَهُمْ خَيْرٌ وَإِنْ تُخَالِطُوهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ وَاللهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ وَلَوْ شَاءَ اللهُ لَأَعْنَتَكُمْ إِنَّ اللهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ‘‘[5]

’’اور پوچھتے ہیں آپ سے یتیموں کے بارے میں فرمائیے (ان سے الگ تھلگ رہنے سے) ان کی بھلائی کرنا بہتر ہے اور اگر (کاروبار میں) تم انہیں ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور اللہ خوب جانتا ہے بگاڑنے والے کو سنوارنے والے سے اور اگر چاہتاا للہ تو مشکل میں ڈال دیتا تمہیں بے شک اللہ تعالیٰ بڑی قوت والا حکمت والا ہے‘‘-

ہرقسم کے اشتراک و مشابہت کے لئے :

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَاطِينِ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا‘‘

’’بے شک فضول خرچی کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکر گزار ہے‘‘-

انسان کی مذمت کی انتہا اس سے بڑھ کر اور کیا ہوسکتی ہے کہ اسے شیطان سے تشبیہ دے دی جائے جو تمام برائیوں، خرابیوں اور فسادات کا سر چشمہ ہے اور جو لوگ اپنی گمراہیوں، فتنہ پردازیوں سے باز نہیں آتے، نہ اس کا ارادہ کرتے ہیں اور نہ ہی وہ شیطان کے شر سے پناہ مانگتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ شیطان انہیں گمراہی میں کھینچے رکھتے ہیں- ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَإِخْوَانُهُمْ يَمُدُّونَهُمْ فِي الْغَيِّ ثُمَّ لَا يُقْصِرُونَ ‘‘[6]

’’اور جو شیطان کے بھائی ہیں، شیطان انہیں گمراہی میں کھنچتے رہتے ہیں سو وہ باز نہیں آتے‘‘-

ہم رنگ، ہم خیال اور ہم مشرب اقوام کے لئے:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’قَالَ ادْخُلُوا فِي أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ مِنَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ فِي النَّارِ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَهَا حَتَّى إِذَا ادَّارَكُوا فِيهَا جَمِيعًا قَالَتْ أُخْرَاهُمْ لِأُولَاهُمْ رَبَّنَا هَؤُلَاءِ أَضَلُّونَا فَآتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِنَ النَّارِ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَكِنْ لَا تَعْلَمُونَ‘‘[7]

’’اللہ تعالیٰ فرمائے گا اس دوزخ میں داخل ہوجاؤجس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے جن اور انس داخل ہو چکے ہیں جب بھی کوئی جماعت (دوزخ میں) داخل ہوگی تو وہ اپنی جیسی جماعت پر لعنت کرے گی، حتیٰ کہ جب اس میں سب جمع ہوجائیں گے تو بعد والے پہلوں کے متعلق کہیں گے-اے ہمارے رب! ہم کو انہوں نے گمراہ کیا تھا سو تو ان کو دگنا آگ کا عذاب دے، اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہرایک کے لئے دگنا عذاب ہے لیکن تم نہیں جانتے‘‘-

امام عبدالرحمٰن جوزی کا بھی یہی مؤقف ہے کہ متذکرہ بالا آیہ کریمہ میں لفظ ’’أُخْتَهَا‘‘ سے دین و ملت میں ہم رنگ و ہم خیال اقوام مرادہیں- لکھتے ہیں:

’’كُلَّما دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَعَنَتْ أُخْتَها وهذه أُخُوَّةُ الدِّين والملَّة لا أُخُوَّةُ النسب‘‘[8]

اخوان بمقابلہ اعداء (دشمن)کے لئے:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا‘‘[9]

’’اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت (جو اس نے) تم پر فرمائی جب کہ تم تھے(آپس میں)دشمن، پس ان نے الفت پیدا کردی تمہارے دلوں میں توبن گئے تم اس کے احسان سے بھائی بھائی‘‘-

لہذا اخوان وہ ہونگے جن کے مابین کسی بھی طرح کی مخاصمت اور عداوت جیسا کوئی بھی امر حائل نہ ہو- اس اعتبار سے مومن وہ ہیں جن کے قلوب ایک دوسرے کے ساتھ اس طرح مل چکے ہوں جس طرح بادل کا ایک ٹکڑا دوسرے ٹکڑے کے ساتھ گھل مل جاتاہے-

دینی و ملی بھائی چارہ کے لئے:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ‘‘[10]

’’بے شک مومنین آپس میں بھائی بھائی ہیں‘‘-

اہلِ جنت کے باہمی تعلق کے لئے:

ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’وَ نَزَعْنَا مَا فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍّ إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ‘‘[11]

’’اور ہم نکال دیں گے جو کچھ ان کے دلوں میں کینہ تھا وہ بھائی بھائی بن جائیں گے اور تختوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے‘‘-

متذکرہ نصوصِ قرآنیہ سے یہ بات بھی واضح ہے کہ مسلم قومیت کی بنیاد لسانی، نسلی، علاقائی یا وطنی نہیں ہے بلکہ صرف اعتقادی ہےاور جس کا حقیقی مظہر ’’رشتہ اخوت‘‘ میں پنہاں ہے- جب اسلام کا تصورِ اخوت مسلمانوں میں مرتبہ کمال کو پہنچتا ہے تو امتِ مسلمہ میں وہ ایک وحدت کی سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جو مسلم معاشرت کے حقیقی استحکام اور حقیقی کامیابیوں کی ضامن ہے-

قرآن حکیم نے اخوت کے دو نظریات پیش کئے ہیں- ایک ’’اخوتِ ایمانی‘‘اور دوسرا ’’اخوتِ انسانی‘‘- رسول ِ کریم (ﷺ) پر ایمان لانے والے ایک امت ہیں جسے ’’امت مسلمہ‘‘کہتے ہیں جو عقل و شعور کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بندگی کرتی ہے اور اس کی حاکمیت کو بھی تسلیم کرتی ہے- اسی اعتبار سے دنیا کے سارے مسلمان اخوت کے رشتے میں پروئے ہوئے ہیں- لفظ اخوت میں یہ مفہوم بھی مضمر ہے کہ وہ خاندانی طور پر ایک ہی کنبہ کے افراد ہیں اور وہ وحدت جو خون کے رشتے سے پیدا ہوئی ہے وہی وحدت بلکہ اس سے بڑھ کر اور اس سے افضل وحدت ایمان کے رشتے سے بیدار ہوتی ہے-حضرت عبد اللہ ابن عمر (رضی اللہ عنہ)سے مروی رسولِ کریم (ﷺ) کا فرمان مبارک ہے:

’’المُسْلِمُ أَخُو المُسْلِمِ لاَ يَظْلِمُهُ وَلاَ يُسْلِمُهُ‘‘[12]

’’مسلمان دوسرے مسلمان کابھائی ہے- نہ خود اس پر ظلم کرتا ہے نہ اسے بے یارومددگار کسی ظالم کے حوالے کرتا ہے‘‘-

اس کا مطلب یہ تھا کہ جس طرح ایک گھر کے تمام افراد خونی تعلق کی وجہ سے ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور ان کو اپنا سمجھتے ہیں-اسی طرح دنیا کا ہر مسلمان تمام مسلمانوں کو اپنا ولی، اپنا دوست، اپنا ساتھی، اپنا بھائی ، اپنا ہمدرد اور اپنا خیر خواہ سمجھے اورخود بھی ان سے خیر خواہی کرے- دوسرے الفاظ میں اسلام نے امت مسلمہ کو ایک خاندان اور ایک کنبے اور ایک دیوار کی مانند قرار دیا- حضرت ابو موسیٰ (رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ رسولِ کریم (ﷺ) نے ارشا د فرمایا:

’’الْمُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِ كَالْبُنْيَانِ يَشُدُّ بَعْضُهُ بَعْضًا‘‘[13]

’’ایک مومن دوسرے مومن کیلئے دیوار کی مانند ہے جس کی ہراینٹ دوسری اینٹ کو سہارا دیتی ہے‘‘-

اسی طرح حضرت نعمان بن بشیر(رضی اللہ عنہ)سے مروی ایک حدیث مبارکہ میں بھی آپ (ﷺ) نے مومنین کو ایک جسم کی مانند قرار دیاہے- آپ (ﷺ) کا ارشادہے:

’’تَرَى المُؤْمِنِينَ فِي تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِّهِمْ وَ تَعَاطُفِهِمْ، كَمَثَلِ الجَسَدِ‘‘[14]

’’مومنین کی مثال ان کی باہمی محبت و الفت اور ایک دوسرے کے ساتھ رحم دلی اور آپس میں مہربانی کے معاملے میں ایک جسم کی مانندہے‘‘-

یہ بہت بڑی تعلیم ہے کہ دنیا کے کروڑوں انسان جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول (ﷺ) پر ایمان رکھتے ہوں ایک دوسرے کو بھائی بھائی اور جسم و دیوار کی مانند سمجھیں، بلکہ اپنے سگے بھائیوں سے بھی زیادہ بہتر ایک دوسرے کو جانیں- اس تعلیم کا مقصد ہرگزیہ نہیں تھا کہ خدا کے بنائے ہوئے فطری رشتے توڑ دیئے جائیں یا ان کی قیمت گرا دی جائے بلکہ یہ تھا کہ اس فطری رشتے سے بڑھ کر بھی ایک رشتہ ہے جو بہت زیادہ قیمتی، بے پناہ محبت کا مظہر اور انسانیت کی تعمیر و تشکیل اور استحکام میں نہایت اہم کردار ادا کرسکتا ہے- اس حیرت انگیز تعلیم و تصور کا اندازہ عہدِ نبوی (ﷺ) میں آپ (ﷺ) کے زیرِ تربیت رہنے والےمختلف اقوام اور نسلوں سے تعلق رکھنے والے افراد سے ہوتا ہے جنہیں دربارِ نبوی (ﷺ) میں نہ صرف اونچا مقام و مرتبہ عطا ہوا بلکہ تاحیات پذیرائی بھی حاصل رہی، جن میں حضرت بلال حبشی، حضرت صہیب رومی، حضرت سلمان فارسی، حضرت عمار و یاسر اور حضرت زید بن حارثہ (رضی اللہ عنہ) سر فہرست ہیں- اس تعلیم کے عملی مظاہر خلفائے راشدین کے ادوار میں بھی نظرآتے ہیں جس میں مختلف رنگ و نسل کے لوگوں کو معاشرہ اور امور سلطنت میں بہت اونچے اور بلند درجات عطا ہوئے-

یہی بات تاریخ کے دوسرے ادوار میں بھی نمایاں نظر آتی ہے، اسلام کے اکثر فاتحین، مفکرین اور علمائے دین، غیر عربی نسلوں سے تعلق رکھتے تھے ان میں گورے اور کالے ہر رنگ اور نسل کے لوگ موجود تھے- لیکن ان کے درمیان رنگ و نسل کے امتیاز کا غرور یا مظاہرہ تاریخ کے کسی دور میں دیکھنے میں نہیں آیا- اس کے برعکس آج دنیا کے ترقی پذیر ممالک میں سیاہ و سفید فام نسل سے تعلق رکھنے کے امتیاز نے تعصب کی بدترین شکل اختیار کرلی ہے، خصوصاً کالے اور رنگین نسل کے لوگوں کے خلاف- اس کی حالیہ مثال امریکہ کے مختلف شہروں سمیت دنیا کے دیگر ترقی پذیر ممالک میں ہونے والے احتجاجی مظاہرے ہیں- جس کا سبب امریکہ میں ایک سیاہ فام جارج فلوئیڈ نامی شہری کا پولیس کی حراست میں ہلاکت کا اندوہناک واقعہ رونما ہونا ہے- اس کے برعکس آج بھی برّ اعظم افریقہ سمیت دنیا کےوہ تمام ممالک جہاں سیاہ فام نسل کے لوگوں کی کثیر آبادی موجود ہے، اسلام اسی شان و شوکت اور رواداری کے ساتھ موجود ہے- جس طرح ان ممالک میں ہے، جہاں سفید نسل کے لوگ رہتے ہیں، جیسے ترکی، شام، مصر، فلسطین اور شمالی افریقہ وغیرہ- دنیا میں آج بھی عالمی کانفرنسیں اور مجلسیں ہوتی ہیں جہاں سیاہ فام نسل کے مسلمان دوسرے رنگ کے مسلمانوں سے ملتے جلتے ہیں اور ان کے ساتھ کھاتے پیتے ہیں- لیکن ان کے درمیان رنگ و نسل کاکبھی کوئی امتیاز نہیں دیکھا گیا- صرف یہی نہیں کہ وہ ایک دوسرے کو اچھا سمجھتے اور ایک دوسرے کی عزت کرتے ہیں بلکہ آپس میں کھلے طور پر شادی بیاہ بھی کرتے ہیں- سیاہ فام نسل کے لوگوں کو ان کی قابلیت اور صلاحیت کے اعتبار سے دوسرے مسلم ممالک میں سرکاری اور غیرسرکاری مناصب بھی ملتے ہیں- اسلام کی دینی زندگی میں ان کو وہی درجہ ملتا ہے جو دوسرے مسلمانوں کو ملتا ہے اور ایسی مثالیں بھی بہت ہیں کہ سیاہ فام نسل کے روحانی پیشواؤں کو دوسری نسل کے مسلمان علماء، فقہاء اور صوفیاء پر ترجیح دی گئی-

آج افریقہ کی اکثر سیاہ فام اقوام اور باقی دنیائے اسلام کے درمیان جو محبت، ثقافت، تعلیم و تربیت کے گہرے اور قریبی تعلقات قائم ہیں، دنیا میں ان کی کوئی نظیر نہیں مل سکتی اگرچہ افریقہ میں کثیر تعداد عیسائیوں کی بھی ہے- لیکن سفید نسل کے عیسائی ان کو نفرت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور کم درجے کا انسان سمجھتے ہیں-اس لئے اکثر جگہ ان کو شہری حقوق سے محروم کر دیا گیاہے، جیسے جنوبی افریقہ کی ریاست میں یا ریاست ہائے متحدہ میں، یہی نہیں بلکہ پاپائے روم کی مجلسِ مشاورت جو 120سے زیادہ ارکان پر مشتمل ہے جن کی اکثریت سفید فام لوگوں پہ مشتمل ہے- اس میں بس تھوڑے سے برائے نام رنگین نسل کے لوگ بھی شامل ہیں- لیکن ان کو اس مجلس میں کوئی وقعت حاصل نہیں ہے اور آج تک کوئی سیاہ فام انسان پوپ نہیں ہوا-اس کی وجہ کیا ہے ؟ یقیناً تعلیماتِ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام تو رنگ و نسل کا امتیاز مٹاتی ہیں، پھر بھی ایسا کیوں؟ اِس کی وجہ بہت واضح ہے کہ مقتدر کلیساؤں پہ سفید فام لوگوں کا قبضہ ہے اور ان میں نسلی برتری کا تعصب شدید پایا جاتا ہے اِس لئے وہ کلیسا کے اندر سیاہ فام یا دیگر رنگوں کے لوگوں کو برداشت نہیں کرتے- دنیائے مغرب میں رنگین نسل کے لوگوں کے خلاف جو نفرت اور حقارت کے جذبات شدت سے پائے جاتے ہیں وہ اس امر کی دلیل ہیں کہ ان کے وہ تمام افکار و خیالات، تصورات اور فلسفہ جو وہ سیاست، علوم ِعمران، اخلاق اور مذہب کے باب میں دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں وہ مصنوعی اور فریب ہیں- اس کے برعکس مسلم معاشرے کے استحکام کے لئے اسلام نے جو اخوت کی تعلیم دی ہے اور عملاً امتِ مسلمہ نے جس کا ابتدائے اسلام ہی سے خوبصورت مظاہرہ کیا ہے، وہ نہ صرف انسانیت کی بہترین دلیل ہے بلکہ مسلم سماج کو مستحکم اورمنظم و مربوط بنانےمیں معاون و مددگار بھی ہے-حضرت ابوہریرہ (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ رسول ِ کریم (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُؤْمِنٍ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ الدُّنْيَا، نَفَّسَ اللهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَمَنْ يَسَّرَ عَلَى مُعْسِرٍ، يَسَّرَ اللهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا، سَتَرَهُ اللهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، وَاللهُ فِي عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِي عَوْنِ أَخِيهِ‘‘[15]

’’جس نے کسی مسلمان کی دنیا کی بے چینیوں میں کوئی بے چینی دور کی، تو اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن کی بے چینیوں میں سے کوئی بڑی بے چینی دور فرمائے گا اور جو شخص دنیا میں کسی تنگ دست پر آسانی کرے گا، اللہ تعالیٰ اس پر دنیا و آخرت میں آسانی فرمائے گا اور جو دنیا میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں اس کی پردہ پوشی فرمائے گا اور اللہ تعالیٰ اس بندے کی مدد میں ہوتا ہے  جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں ہوتاہے‘‘-

اخوت کا اتنا اچھا تصور تو ان خاندانی رشتوں میں بھی نہیں ملے گا جس پر لوگ اکثر جان دیتے ہیں- ڈاکٹرخالد علوی لکھتے ہیں:

’’تخریبی قوتیں مسلمانوں کی یک جہتی اور رشتہ اخوت کو تباہ کرنا چاہتی ہیں- لہٰذا اسلامی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ جذبہ اخوت کی آبیاری کیلئے اقدامات کرے اور ان عوامل کا قلع قمع کرے جو رشتہ اخوت کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتے ہیں‘‘-[16]

اخوت کی دوسری قسم اخوتِ انسانی ہے- قرآن حکیم میں اس اصطلاح سے متعلق مفاہیم کو بار بار اور مختلف انداز سے پیش کیا گیا ہے اور یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ تم لوگ تباہی کے کنارے پر پہنچے ہوئے تھے، جب ہم نے تم کو بچالیا اور تمہارے دلوں کو آپس میں جوڑ کر محبت کے رشتہ میں منسلک کر دیا-ارشاد باری تعالیٰ ہے:

’’وَاذْكُرُوا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنْتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَ كُنْتُمْ عَلَى شَفَا حُفْرَةٍ مِنَ النَّارِ فَأَنْقَذَكُمْ مِنْهَا كَذَلِكَ يُبَيِّنُ اللهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ‘‘[17]

’’اور یاد رکھو اللہ تعالیٰ کی وہ نعمت (جو اس نے) تم پر فرمائی جب کہ تم تھے(آپس میں) دشمن، پس اس نے الفت پیدا کر دی تمہارے دلوں میں تو بن گئے تم اس کے احسان سے بھائی بھائی اور تم (کھڑے) تھے دوزخ کے گھڑے کے کنارے پرتواس نے بچالیا تمہیں اس (میں گرنے) سے یونہی بیان کرتاہے اللہ تعالیٰ تمہارے لئے اپنی آیتیں تاکہ تم ہدایت پرثابت رہو‘‘-

متذکرہ بالا آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے ’’اخوت‘‘ کو اپنی نعمتوں میں شمار فرمایا ہے- درحقیقت اسلام کا یہ ’’تصورِ اخوت‘‘ تمام اسلامی تعلیمات کا طرۂ امتیاز ہے- اسی تعلیم پر سب سے پہلے حضور رسالت مآب (ﷺ)نے ہجرت کے بعد مدینہ میں عمل کیا اور انصار و مہاجرین کے درمیان محبت کے رشتے پیدا کئے- یعنی ہر مہاجر کے ساتھ ایک انصاری کو وابستہ کرکے دونوں کو آپس میں بھائی بھائی بنادیا- رسول اللہ (ﷺ) نے اس اخوت کو ایک حقیقی ذمہ داری کے طور پر پیش کیا جو انصار اور مہاجرین کے درمیان قائم تمام تعلقات پر حاوی تھی- یہ قبائلی عصبیت اور قابل نفرت انانیت سے سچی اور پُرخلوص محبت کی طرف عملی کوشش تھی-حضرت ابو ہریرہ(رضی اللہ عنہ) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’لَا تَحَاسَدُوا، وَلَا تَنَاجَشُوا، وَلَا تَبَاغَضُوا، وَلَا تَدَابَرُوا، وَلَا يَبِعْ بَعْضُكُمْ عَلَى بَيْعِ بَعْضٍ، وَكُونُوا عِبَادَ اللهِ إِخْوَانًا الْمُسْلِمُ أَخُو الْمُسْلِمِ، لَا يَظْلِمُهُ وَلَا يَخْذُلُهُ، وَلَا يَحْقِرُهُ‘‘[18]

’’ایک دوسرے سے حسد نہ کرو، تناجش نہ کرو، ایک دوسرے سے بغض نہ رکھو، ایک دوسرے سے رو گردانی نہ کرو، کسی کی بیع پر بیع نہ کرو، اللہ کے بندے بھائی بھائی بن جاؤ، مسلمان مسلمان کابھائی ہے، اس پر نہ ظلم کرے نہ اس کو رسوا کرے، نہ حقیر جانے‘‘-

اس عملی سبق کا مقصد یہ تھا کہ جب یہ دین سارے عالم میں پھیل جائے تو جہاں جہاں بھی مسلمان جائیں اور جن نئی اقوام و ملل کو اسلام کے دائرے میں داخل کریں، ان کے ساتھ اسی طرح پیش آئیں جس طرح مدینے میں اللہ کے رسول (ﷺ) مہاجرین اور انصار کے ساتھ پیش آئے تھے- جس قدر دینِ اسلام دنیا میں پھیلتا اور بڑھتا جائے، اسلامی برادری کو وسعت ملتی جائے، دنیا کو بھی یہ سبق ملتا رہے کہ یہ ساری خدائی، یہ سارے انسان، ایک ہی خدا کی مخلوق اور ایک ہی کنبے میں بندھے ہوئے ہیں- اس لئے ان کو چاہیے کہ اپنے اندر باہمی محبت اور ہمدردی کے وہی جذبات پیدا کریں جو ایک گھر کے افراد میں ہوتے ہیں-

آپ(ﷺ)کی اس سنت ِ مبارکہ پر مسلمانوں نے ہمیشہ عمل کیا- جن نئے ممالک میں مسلمان فاتحین اور مبلغین پہنچے، وہاں مقامی لوگوں کے ساتھ وہی سلوک کیا جس کی تعلیم و تربیت آپ (ﷺ) نے انہیں دی تھی- یعنی ان کے ساتھ برابری اور بھائی چارے کے تعلقات پیدا کئے، ان سے شادی بیاہ کیا، ان کو زندگی کے کاروبار میں شریک کیا، جہاں کہیں سیاسی اقتدار ملا ان کو اقتدار میں بھی شریک کیا- بلکہ اکثر جگہ یہ مقامی لوگ پورے اقتدار کے مالک بن گئے لیکن کسی نے یہ شکایت نہیں کی کہ یہ تو مقامی مسلمان ہیں ان کا درجہ کم ہے- آپ (ﷺ) کی اسی سنت ِ مبارکہ اور تاریخ اسلام کی اسی روایت پر آج تک عمل جاری ہے-

چنانچہ دنیا میں یہی ایک امت مسلمہ ہی ہے جو آج فخر کے ساتھ یہ کَہ سکتی ہے کہ جس نے بھی خدا اور اس کے رسول (ﷺ)کا حکم پڑھا، وہ نہ صرف امت مسلمہ میں داخل ہوا بلکہ ایک عالمگیر اسلامی کنبے (رشتہ مواخات) میں داخل ہو گیا- درحقیقت یہ ایک بہت بڑی نعمت ہے جس کا تصور کرنا آسان نہیں اور جس کی تعریف میں جتنا کچھ بھی کہا جائے کم ہے- آپ (ﷺ) اور مسلمانوں کو جب مدینہ منورہ میں استحکام حاصل ہو گیا اور مکۃ المکرمہ بھی فتح ہوگیا، اسلام دین و مذہب کے علاوہ ایک صالح معاشرے، تمدن اور ریاست کا مالک بھی بن گیا تو آپ (ﷺ) نے امراء و رؤسائے عرب سمیت ہمسایہ سلطنتوں کے بادشاہوں اور شہنشاہوں کو اسلام کے دعوت نامے بھیجےاور ان خطوط میں واضح کردیا کہ اس دین میں شریک ہونے والے سب ایک امت ہیں خواہ وہ کسی نسل و قوم سے تعلق رکھتے ہوں، خطوط کی عبارت سے ایک طرف تو اسلامی مساوات کی تعلیم ملتی ہے اور دوسری طرف اخوت کی- یہ ایک عظیم اعلان تھا جسے آپ (ﷺ) نے اتنی شان و شوکت اور بلندی سے کیا کہ اطراف عالم کی تمام سمتوں میں اس کی آواز گونج اٹھے اور تمام انسانوں کو معلوم ہو جائے کہ یہ دین جو عرب سے اٹھا ہے جس کی طرف اللہ کے رسول (ﷺ)نے دعوت دی ہے، یہ صرف ایک عالمی دین ہی نہیں بلکہ ایک عالمی برادری بھی ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا کے علاوہ دنیاوی فائدے اور مصلحتوں کی نعمت بھی مل سکتی ہے-

قرآن حکیم کی واضح اور روشن آیات انسانوں کی عالمی برادری اور ان کی انسانی وحدت کا نہ صرف پتہ دیتی ہیں بلکہ اس کا اعلان کرتی ہیں اور انسان کو یاد دلاتی ہیں کہ اگر وہ اپنی اخلاقی ذمہ داریوں کو ایک بار قبول کرلے تو وہ آسانی سے ایک اور قدم بڑھاکر خدا کے اس دین میں داخل ہوسکتا ہے جسے رسول اللہ (ﷺ) دنیا میں لے کر آئے ہیں- پھر وہ اخوت انسانی سے اخوت ایمانی میں داخل ہوسکتا ہے، لیکن اگر وہ نہ بھی داخل ہو تو بحیثیت انسان کے اسلام اس کا احترام کرتا ہے-یہ ہے مختصراً اخوت کا وہ تصور جو اسلام نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے- بقول علامہ اقبالؒ:

یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی
اخوت کی جہاں گیری، محبت کی فراوانی

اسلامی ملت کی اساس اعلیٰ انسانی اقدار، وحدتِ آدم، جذبۂ ایثار وقربانی اور محبت و اخوت پر استوار ہے-اسلام نے اخوت کا جو تصور پیش کیا ہے اس کا ایک مختصر سا خاکہ ہم نے یہاں پیش کیا ہے، یہ واضح رہے کہ یہ تصور کوئی آج کل کی ایجاد نہیں ہے، بلکہ 1400 برس پہلے پیغمبرِ اسلام جناب محمد رسول اللہ (ﷺ) نے دنیا کے سامنے پیش کیا تھا- جب وہ اس تصور سے بالکل ناآشنا تھی اور اس کے سمجھنے کی بھی زیادہ صلاحیت نہیں رکھتی تھی، اس کے تقریباً 1200 برس بعد انقلاب فرانس کا واقعہ پیش آیا، جس میں آزادی ، مساوات اور اخوت کے نعرے بلند کئے گئے، جن کی بازگشت ہم سارے عالم میں اب تک سن رہے ہیں- جہاں تک معاملہ اخوت کا ہے تو اس انقلاب کا حال یہ ہے کہ فرانسیسیوں نے افریقہ کے بہت سے ملکوں میں اپنی نو آبادیاں قائم کر کے وہاں کے باشندوں کو غلام بنانا شروع کردیا اور دیکھتے ہی دیکھتے افریقہ کے تقریباً آدھے حصے کو اپنا غلام بنا لیا- دوسری عالمی جنگ کے بعد تک اس خطے پر نہایت ظالمانہ طریقے سے حکومت کرتے رہے اور وہاں کبھی آزادی، مساوات اور اخوت کا نعرہ بلند نہیں ہونے دیا- یہاں سب سے قابل ِ توجہ بات یہ ہے کہ ان نوآبادیوں میں بہت بڑی تعداد ان کے اپنے ہم مذہب عیسائیوں ہی کی تھی- اپنے ہم مذہب سیاہ فام افراد کے ساتھ بھی بدسلوکیاں کیں، ان کی عبادت گاہیں الگ رکھیں ان کی درس گاہیں، معاشرتی مجلسیں اور تمدنی ادارے سب الگ رکھے گئے -یہ سلوک محض اس لئے کیا گیا کیونکہ ان کا قصور سیاہ فام اور رنگین نسل سے ہونا تھا- اس کے برعکس حکومت کے تمام اونچے ادارے اور مناصب صرف سفید رنگ کے لوگوں کے لئے وقف کر دئیے گئے تھے- جو کچھ فرانسیسیوں نے افریقہ میں کیا وہی کچھ برطانیہ، جرمنی، بلجیم، ہالینڈ، روس، اٹلی اور امریکہ نے ایشیاء اور افریقہ کے مختلف حصوں میں کیا- مغرب کا تمدن انقلابِ فرانس کو تمدن جدید کی نہایت خوش آئند بہترین اساس سمجھتا ہے، لیکن اس انقلاب کی ساری برکات سفید رنگ و سفید نسل کے لوگوں کے لئے تھیں اور یہ امتیاز آج تک جاری ہے-

دنیا بھر میں آج بھی عیسائیوں کی تعداد اگرچہ مسلمانوں سے زیادہ ہے لیکن اس عظیم عیسائی امت کے اندر رنگ اور نسل کا تعصب اس قدر شدید ہے کہ اس سے آج دنیا کے بیشتر رنگ دار ملک نہ صرف ذلیل و خوار ہو رہے ہیں بلکہ مغرب کی سیاسی اور اقتصادی استعمار تلے دبے ہوئے ہیں- یہ ہے وہ نعمت جو مغرب کی اخوت سے تیسری دنیا کے رنگ دار غریب لوگوں کو ملی-جس کی حالیہ مثال امریکہ میں سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں سیاہ فام شہری کا قتل ہے جس پر امریکہ کے متعدد شہروں سمیت دنیا کے دیگرممالک بھی سراپا احتجاج ہیں اور اپنے ہی ملک کی املاک کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ ملکی قوانین کی سرے عام دھجیاں اڑارہے ہیں-

الغرض! روز بروز بدلتے ہوئے معاشرے کی تشکیل میں اسلامی اخوت کے متعدد عملی مظاہر ہیں- عملی اعتبار سے اسلامی اخوت میں تین چیزیں (1- تعاون وہمدردی، 2- محبت وغم خواری، 3- ایک دوسرے سے مخاصمت اور زیادتی سے اجتناب کرنا) شامل ہیں- جن سے افرادِ معاشرہ کے اخلاق واطوار، طرز عمل اور ذمہ داریوں کی تعیین بھی ہوتی ہے- بقول علامہ اقبال:

تو رازِ کُن فکاں ہے اپنی آنکھوں پر عیاں ہو جا
خودی کا راز دار ہو جا خدا کا ترجماں ہو جا
ہوس نے کردیا ہے ٹکڑے ٹکڑے نوعِ انساں کو
اخوت کا بیاں ہو جا محبت کی زباں ہو جا

٭٭٭


[1](مصباح اللغات، ص: 5)

[2](ایضاً-ص:5)

[3](النمل :45)

[4](الاحزاب:18)

[5](البقرۃ:220)

[6](الاعراف:202)

[7](الاعراف:38)

[8](زادالمیسر فی علم التفسیر، ج:2، ص:118)

[9](اٰل عمران:102)

[10](الحجرات:10)

[11](الحجر:47)

[12](صحيح البخاری، ج:9، ص:22)

[13](صحیح مسلم، ج:4،  ص:1999)

[14](صحيح البخاری، ج:8، ص:10)

[15](صحیح مسلم، ج:4، ص:2074)

[16](اسلام کا معاشرتی نظام، ص:421)

[17](ال عمران:103)

[18](صحیح مسلم،ج:4، ص:1986)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر