الیکشن اور انسانی حقوق کی پامالی: مسئلہ کشمیر کا جائزہ

الیکشن اور انسانی حقوق کی پامالی: مسئلہ کشمیر کا جائزہ

الیکشن اور انسانی حقوق کی پامالی: مسئلہ کشمیر کا جائزہ

مصنف: مسلم انسٹیٹیوٹ دسمبر 2014

معروف تھنک ٹینک مسلم انسٹیٹیو ٹ کے زیر اہتمام ’’الیکشن اورانسانی حقوق کی پامالی: مسئلہ کشمیر کا جائزہ‘‘ کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد سترہ نومبر ۲۰۱۴ء کو نیشنل لائبریری اسلام آباد میں ہوا۔

 اس موقع پر چیئرمین مسلم انسٹیٹیوٹ صاحبزادہ سلطان احمد علی، سابق ایڈیشنل سیکرٹری برائے امورِ خارجہ، ایمبیسیڈر (ر)منور سعید بھٹی، ہالینڈ کی ماہرِ مسئلہ کشمیرڈاکٹر مرجان لوکس ، شُعبہ بین الاقوامی تعلقات نیشنل ڈیفینس یونیورسٹی اسلام آباد کے سربراہ ڈاکٹر محمد خان ، تحریک حریت جموں کشمیر کے کنوینئر غلام محمد صفی، ایمبیسیڈر اسلم رضوی اور سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عطیہ عنایت اللہ نے شرکت کی - مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ

 پاکستان اور کشمیریوں کے صدیوں پر محیط دیرینہ روابط ہیں جِن کی بُنیاد اِسلام ہے اِس لئے انڈین انڈیپنڈنس ایکٹ کے تحت کشمیری 1947میں پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے تھے مگر بھارت نے جارحیت کرکے لاکھوں کشمیریوں کو طاقت کے زور پہ تاریخی اذیت سے دوچار کردیا - بھارت کا رویّہ شروع سے ہی ظالمانہ اور اس کا مؤقف بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے جب سے کشمیری آزادی مانگ رہے ہیں ایک دِن بھی ایسا نہیں گزرا جس دِن کسی ماں کی گود نہ اجڑی ہو یا کوئی بیٹی یتیم نہ ہوئی ہو یا کسی سہاگن کا سہاگ نہ چھینا گیا ہو - مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں قابل مذمت ہیں ۔بھارت کشمیریوں کے حق خودارادیت کی تحریک کو کچلنے کے لیے ’’بُلٹ اور بیلٹ‘‘ ( گولی اور انتخابات) دونوں کا بہیمانہ استعمال کر رہا ہے ۔بھارت غیر مسلح معصوم کشمیریوں کے خلاف طاقت کا بھرپور استعمال کر رہا ہے بے شمار کشمیریوں کی ہلاکت ، اجتماعی قبریں اور معصوم شہریوں کی خون ریزی قابل قبول نہیں۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل سمیت سینکڑوں اداروں نے ان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔کشمیر میں کالے قوانین بھارتی فوج کو سر عام لوگوں کو گرفتار کرنے تشدد اور طویل عرصے کے لیے حراست میں رکھنے کا اختیار دیتے ہیں۔

مسئلہ کشمیربہت پرانا ہے لیکن اس کے حل کے لیے کوئی ٹھوس کاوش نہیں کی گئی اور عالمی منظر نامہ پر اس طرح اجاگر نہیں کیا جا رہا جس کا کہ یہ حقدار ہے ۔ کیوں کہ بھارت غیر جانب دار میڈیا اور اداروں کو کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔کشمیری عوام اس برائے نام جمہوریت کا کھلم کھلا انکار کرتے ہیںاور ان کا مودی حکومت کے لیے پیغام بالکل واضح ہے کہ وہ حق خود ارادیت سے کم کوئی حل قبول نہیں کریں گے۔ وہ جمہوریت جو شُھدأ کے خُون کی قیمت پہ قائم کی جاے کشمیری اُسے اپنے جوتے کی نوک پہ رکھتے ہیں -

بھارت عالمی برادری کے سامنے اپنی نام نہاد جمہوریت کا بھرم رکھنے کیلئے انتخابات کا ڈرامہ رچاتا ہے انتخابات تین مراحل میں کروائے جاتے ہیں تاکہ مقبوضہ کشمیرمیں (ناجائز طور پہ) موجود بھارتی فوج کچھ اضلاع میں انتخابی دھاندلی کروا کر دوسرے اضلاع میں آرام سے پہنچ سکے اور وہاں پہ اپنی مرضی کے لوگوں کو جتوائے اور اکثریت عوام کو پولنگ اسٹیشنوں کے قریب بھی نہ پھٹکنے دے اِسی لئے عالمی مبصرین کو کشمیر کے انتخابات دیکھنے کی سختی سے ممانعت کی جاتی ہے - اگر بھارت واقعتاً جمہوریت کے اصولوں کے مطابق انتخابات کروانا چاہتا ہے تو سب سے پہلے سات لاکھ فوج وادی سے نکالے عالمی مبصرین کو آنے اور کھل کر الیکشن کا جائزہ لینے کی اجازت دے اور لوگوں کو آزادی سے انتخابات میں حِصَّہ لینے دے اور جو بھی نتائج آئیں انہیں قبول کرے بھارت کو دِن میں تارے نظر آجائیں گے کہ کیا نتائج آتے ہیں - مگر ایسا وہ اِس لئے نہیں کرتا کیونکہ اُسے معلوم ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمان کیا فیصلہ کریں گے - ہر الیکشن سے قبل ہر ضلع میں سینکڑوں لوگوں کو لاپتہ اور درجنوں لوگوں کو شھید کرکے خوف کی فضا طاری کی جاتی ہے اور فوج کو ریاستی قوانین کی آڑ میں دہشت گردی کی کھلی اجازت ہوتی ہے تو ایسے میں الیکشن کا ڈرامہ کسی بھی طور کسی بھی مہذّب انسان کو قابلِ قبُول نہیں ہو سکتا -

 کشمیر میں انتخابات ہزاروں لاکھوں بھارتی فوجیوں کی موجودگی میں منعقد کیئے جا رہے ہیں کشمیر میں انتخابات دھاندلی کا شکارہوتے ہیں اور نتائج کا اعلان ووٹوں کی گنتی سے قبل ہی کر دیا جاتا ہے ۔ کشمیری عوام اس بات کا تہیہ کر چکے ہیں کہ وہ اپنی منزل اور مستقبل کا خود تعین کریں گے۔ بھارت انتخابات کو استصوابِ رائے کے متبادل کے طور پہ پیش کر رہا ہے لیکن اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قراردادوں کے مطابق انتخابات حق خودارادیت کا نعم البدل نہیں ہو سکتے اور ریفرینڈم کا انعقاد بھارتی قابض افواج کے انخلا ء کے بعد ہی ممکن ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی نے آزاد جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کابھارتی آئین سے خاتمے کا وعدہ کیا تھا تاکہ کشمیری اپنے حق کی آواز نہ اٹھا سکیں اور اس امر کا اظہار نہ کر سکیںکہ وہ بھارتی نہیں ہیں۔ بھارت کی آنے والی نسلیں اس بات کا یقینا احسا س کریں گی کہ ان کے آباء اجداد نے جو کچھ کشمیر میں کیا وہ مناسب نہیں تھااور یہ نسلیں زمینی حقائق کا صحیح ادراک رکھتے ہوئے مسئلہ کشمیر کا حل نکالیں گی۔نریندرمودی خود معاشی طاقت کا استعارہ بننا چاہتا ہے ۔ اس کا منصوبہ ہے کہ معیشت بذات خود تمام مسائل کا حل پیش کرتی ہے لیکن معیشت اکیلے اس مسئلے کا حل نہیں ہو سکتی ۔اگر ہم مسئلہ کشمیر کو نظر انداز کر دیں تو خطہ میں دیر پا امن قائم نہیں ہو سکتا جبکہ پاکستان بھارت اس مسئلہ پر تین جنگیں لڑ چکے ہیں اور اگر مسئلہ کشمیر ، کشمیری عام کی امنگوں کے مطابق حل نہ ہوا تو آئندہ بھی جنگوں کے اِمکانات معدوم ہوتے نظر نہیں آتے -

سیمینار میں زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی جن میںتحقیقاتی اداروں، سفارت خانوں، سِول سوسائٹی اور یونیورسٹیوں کے مندوبین اور ممبران پارلیمنٹ بھی شامل تھے۔

٭٭٭٭

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر