سوانح حیات : سیدنا امام جعفر بن محمد الصادق(رضی اللہ عنہ)

سوانح حیات : سیدنا امام جعفر بن محمد الصادق(رضی اللہ عنہ)

سوانح حیات : سیدنا امام جعفر بن محمد الصادق(رضی اللہ عنہ)

مصنف: سید ارشدسعید کاظمی اپریل 2024

وارث و قاسم فیضان مصطفوی
سر چشمۂ  فیوض و برکات  مرتضوی

گلشن اہل بیت کے گلِ سرسبد، شریعت و طریقت کے آفتاب و ماہتاب سیدنا امام جعفر صادق (رضی اللہ عنہ)سیدنا امام محمد باقر (رضی اللہ عنہ) کے صاحبزادےاور امام زین العابدین (رضی اللہ عنہ) کے پوتے ہیں-آپؓ کی ولادت باسعادت 80ھ یا 83ھ میں مدینۃ الرسول میں ہوئی-آپ(رضی اللہ عنہ) کے عظیم المرتبت صاحبزادے سیدنا امام موسیٰ کاظم (رضی اللہ عنہ) کی نسبت سے میرا خاندان کاظمی کہلاتا ہے-میری خوش قسمتی ہے کہ مجھے آپ کی علمی وروحانی عظمت و جلالت پر چند سطور قلم بند کرنے کا شرف حاصل ہورہاہے-

سیدنا امام جعفر صادق (رضی اللہ عنہ) کاپدری نسب نامہ جہاں قابل فخر ہےکہ آپ کا سلسلہ نسب چوتھے خلیفۂ راشد مولائے کائنات حضرت سیدنا علی المرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم سے چوتھے درجہ میں ملتا ہے وہاں آپ کا مادری نسب بھی باعث افتخار ہے اور یہ بھی چوتھی پشت میں یار غار و مزار خلیفۃ الرسول حضرت سیدنا ابو بکر صدیق (رضی اللہ عنہ) سے جاملتا ہے- قربان جائیے! حضرت سیدنا امام زین العابدین کی فراست و بصیرت پر کہ آپ نے اپنے جلیل القدر نورنظر، پیکر حسن و رعنائی مصطفےٰ(ﷺ) سیدنا امام باقر (رضی اللہ عنہ) کی رفیقۂ حیات کےلئے اس عظیم خاتون کا انتخاب فرمایا جو نجیب الطرفین صدیقی ہیں یعنی جن کے والد والدہ دونوں حضرت سیدنا ابو بکر صدیق  (رضی اللہ عنہ) کے پوتے ہیں- میری مراد حضرت اُم فروہ (رضی اللہ عنھا)ہیں-ان کے والد گرامی حضرت قاسم بن محمد بن ابوبکر ہیں اور والدہ محترمہ کا نام ہےاسماء بنت عبد الرحمٰن بن ابو بکر (رضی اللہ عنہ) - اس لئے آپ فخریہ فرمایا کرتے تھے کہ:

’’ولد نی الصدیق مرتین‘‘

’’خاندان صدیق اکبر (رضی اللہ عنہ) میں دو مرتبہ میری پیدائش ہوئی‘‘-

اس انتخاب رشتہ کا اگر دوسرے انداز میں جائزہ لیا جائے تو یہ پہلو بھی عیاں ہوتا ہے کہ در حقیقت امام زین العابدین (رضی اللہ عنہ) نے اپنے جد اعلیٰ حضور نبی کریم (ﷺ) کے اس معروف فرمان پر عمل کیاجس کا مفہوم یہ ہے کہ کسی عورت سے نکاح کرنے کے بارے میں چار چیزوں کو ملحوظ رکھا جاتاہے؛(1) اس کا مال دار ہونا،(2) اس کا حسب نسب والی ہونا(3) اس کا حسین و جمیل ہونا،(4) اس کا دین دار ہونا- پس اے مخاطب! تم دین دارکو اپنا مطلوب قرار دو-[1]

ظاہر ہے کہ جب آباء و اجداد تقویٰ و طہارت کاپیکر، علم و معرفت کا مخزن و مرکز اور شریعت و طریقت کے پیشواو مقتدا ہوں تو اس گھرانے میں بیٹا بھی سیدنا امام جعفر صادق (رضی اللہ عنہ) جیسا ہی پیدا ہوگا- مزید یہ کہ اس انتخاب سے کئی سوالات کا جواب بھی خودبخود واضح ہوجاتا ہے جس کے بیان کرنے کی یہاں ضرورت نہیں-

حلیہ مبارک :

آپ (رضی اللہ عنہ) انتہائی حسین و جمیل اور وجیہہ تھے، قدمبارک میانہ مائل بہ بلندی ،رنگت گندم گوں تھی-

تعلیم و تربیت:

آپ (رضی اللہ عنہ) کی پرورش و تربیت علم و حکمت کے گہوارہ میں ہوئی- آپ نے اپنے جد امجد امام سیدنا زین العابدین  عالی مرتبت والد گرامی حضرت سیدنا امام محمد باقر اور اپنے نانا حضرت قاسم بن محمد بن ابو بکر (رضی اللہ عنہ) کے علاوہ مدینہ طیبہ و حجاز مقدس کے جلیل القدر تابعین و تبع تابعین محدثین و فقہاء سے اکتساب فیض کیا- آپ کو ملت نبوی کا سلطان اور  دین مصطفوی کی برھان کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا -

فضائل و کمالات:

آپ (رضی اللہ عنہ) صدق مقال کی وجہ سے صادق کے لقب سے مشہور ہیں ،رب کائنات نےآپ کو فیاضی، حلم و بردباری، حق گوئی و بےباکی اور غریب پروری وغیرہ جیسی خوبیوں اور ان گنت ظاہری و باطنی کمالات سے نوازا تھا- آپ (رضی اللہ عنہ) علوم مصطفوی و مرتضوی کے جامع ، صاحبان عشق و محبت اور ارباب طریقت و معرفت کے امام و رہنما تھے-شریعت و طریقت کے تمام معروف و مسلم مقتدا و پیشوا آپ (رضی اللہ عنہ)کی علمی فقاہت و ثقاہت اور روحانی عظمت و جلالت کے سامنےسر تسلیم خم نظر آتے ہیں- خاص کر سلسلہ عالیہ قادریہ اور سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے اولین اکابر مشائخ میں آپ کو بنیادی حیثیت حاصل ہے-

آپ نے دنیاوی سیاست و قیادت سے کنارہ کش ہو کر اپنے والد گرامی حضرت امام باقر (رضی اللہ عنہ)کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے تعلیم وتعلم ، تبلیغ دین اور اشاعت ِ اسلام کی راہ اختیار کی پھرساری زندگی اپنے جدکریم حضور سید عالم(ﷺ)کے عظیم مشن یعنی کتاب و حکمت کی تعلیم و تدریس میں صرف کی-

آپؓ کاحلقہ درس اتنا وسیع تھا کہ سیرت نگاروں نے آپؓ کے چشمۂ فیض سے مستفیض و مستفید ہونے والے نامی گرامی افراد کی تعداد چار ہزار سے زائد بیان کی ہے-آپؓ کی علمی مجلس میں، اپنے دور کے عظیم مفسر و محدث، صوفی اور موجدان کیمیا و سائنس مثلاً آپ کے فرزند ارجمند ، امام موسیٰ کاظم،امام ابو حنیفہ، امام مالک، شعبہ بن حجاج، سفیان ابن عیینہ،  حضرت بایز بسطامی ، جابر بن حیان جیسی عبقری شخصیات اور اساطین علم، شرکت کو سرمایۂ حیات سمجھتے تھے-

آپؓ کے مقام و مرتبہ کا انداز ہ اس سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ امام ابو حنیفہؒ آپ کو سب سے بڑا عالم جانتے اور مانتے تھے کیونکہ امام جعفر صادق اختلاف علماء کے سب سے بڑے عالم تھے-آپ فرماتے ہیں کہ میری آنکھوں نے جعفر بن محمد الباقر سے بڑا فقیہ کوئی نہیں دیکھا-[2]چونکہ امام ابو حنیفہؒ نے آپ سے اکتساب فیض کیا تھا اس لئے آپ فرماتے تھے:

’’لو لا السنتان لھلک النعمان‘‘

’’اگر یہ دو سال نہ ہوتے تو نعمان ہلاک ہو جاتا‘‘-

اس لئے آپؒ  سے اگرکوئی سوال کرتا کہ آپؒ کی عمر کتنی ہے تو آپؒ فرماتے میری زندگی دو سال ہے جو میں نے سیدنا امام جعفر صادق (رضی اللہ عنہ)کی بارگاہ میں گزارے-

اسی طرح امام دار الہجرۃ حضرت امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ امام جعفر صادق جیسا عالم و فقیہ اور عابد و زاہد نہ کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا، آپ کی شخصیت تصورات سے بالا تر ہے-

روحانیت کے عظیم شہسوار و مقتدا حضرت بایز بسطامیؒ جیسی شخصیت آپ کی محفل میں سقائی یعنی پانی پلانے کی خدمت سرانجام دیتی تھی-چونکہ آپ کی علمی نشست میں اطراف و اکناف عالم سے متلاشیان علم حاضر ہوا کرتے تھے اس لئے آپ کے علمی و روحانی فیوضات بڑی کثرت سے چہا ردانگ عالم میں پھیلے-بلاشبہ آپ کے فیض سے منور ہونے والے ایسے ایسےعظیم افراد ہیں جو ہر ایک اپنی جگہ پر عالمگیر جماعت کی حیثیت رکھتا ہے -

آپ (رضی اللہ عنہ) کی مجلس علوم و معارف اورطریقت کے اسرار و رموز کے بے شمار فوائد و لطائف کاانمول خزینہ ہوتی تھی - حاضر جوابی کی جو خداداد صلاحیت آپ کو حاصل تھی وہ بے مثال تھی چند ایک واقعات درج ذیل ہیں:

دہریوں سے مناظرہ:

سیدنا امام جعفر صادق (رضی اللہ عنہ)  دہریت او رملحدین کی سرکوبی اوردین حق کے تحفظ کی خاطر ہمہ وقت مصروف عمل رہتے تھے -آپؓ نے دین مصطفوی (ﷺ) کی تبلیغ و اشاعت میں اپنے منفرد طرز استدلال سے بے شمار کارہائے نمایاں انجام دئیے، بطور مثال  ایک مکالمہ ملاحظہ فرمائیں:

’’ آپ (رضی اللہ عنہ) کی خدمت میں مصر کا رہنے والا ایک دہریہ حاضر ہوا اور آپ ان دنوں مکہ معظمہ میں تشریف فرما تھے- آپ نے اس سے نام اور کنیت دریافت فرمایا تو اس نے جواب دیامیرا نام عبد الملک اور کنیت ابوعبد اللہ ہے- یہ سن کر آپ نے فرمایا یہ’’ملک‘‘جس کا تو عبد اور بندہ ہے ،ملوک آسمان سے ہے یا ملوک زمین سے اور وہ خدا جس کا بندہ تیرا بیٹا ہے خدائے آسمان ہے یا خدائے زمین؟اس دہرئیےسے کچھ جواب نہ بن پڑا -تو آپ نے پھر فرمایا ،کیا تو کبھی زمین کے نیچے گیا؟ اس نے جواب دیا نہیں-آپؓ نے پھر پوچھا،جانتا ہے اس کے نیچے کیا ہے؟ اس نے جواب دیا، نہیں مگر گمان ہے کہ کچھ نہیں ہوگا- آپؓ نے فرمایا، گمان کا کام نہیں یہاں یقین درکار ہے-پھر سوال کیا ،کیا تو کبھی آسمان پر بھی چڑھا؟اس نے جواب دیا نہیں، آپ نے فرمایا،جانتا ہے وہاں کیا ہے؟اس نے جواب دیا، نہیں- آپ نے پھرفرمایا،کیا کبھی مشرق و مغرب کی بھی سیر کی ہے اور ان کی حد سے آگے کا کچھ حال بھی تجھے معلوم ہے؟ جواب دیا ،نہیں-اس کی ہر بات پریہی ایک جواب تھا-

آپ فرمانے لگے تعجب ہے تجھے زیر زمین اور بالائے آسمان کا حال تو معلوم ہے نہیں اور باوجود اس جہالت کے خداوند تعالیٰ کے وجود سے انکار کرتا ہے،اے مردِ جاہل! نادان کو دانا پر کوئی حجت نہیں ہے تو دیکھتا ہے کہ چاند، سورج، رات، دن ایک طریقے پر رواں دواں ہیں وہ یقیناً کسی ذات کے تابع فرمان ہیں، اس لئے تو سَرِمُو تجاوز نہیں کرسکتےاگر ان کے بس میں ہوتا تو ایک مرتبہ بھی جاکر واپس نہ آتے اور اگر وہ پابند اور مجبور نہ ہوتے تو کیوں نہ رات کی جگہ دن اور دن کی جگہ رات ہوجاتی، تو اس بلند آسمان اور پست زمین پر غور نہیں کرتا کہ کیوں آسمان زمین پر آنہیں جاتا اور کیوں زمین اس کے نیچے دب نہیں جاتی؟ آخر کس نے اسے تھام رکھا ہے اور جس نے اسے تھام رکھا ہے و ہی قادر مطلق ہے وہی ہمارا اور ان کا خدا ہے-آپ کے اس کلام حق نما میں نہ جانے کیسی غضب کی تاثیر تھی کہ وہ دہریہ قائل ہوکر خدا تعالیٰ پر ایمان لے آیا‘‘-[3]

احمد بن عمر بن مقدام رازی کہتے ہیں کہ:

’’ایک مرتبہ مکھی منصور کے چہرہ پربار بار بیٹھتی، منصور مکھی کواڑاتا مگر وہ پھرآبیٹھتی یہاں تک کہ وہ تنگ آگیا اوراس وقت سیدنا امام جعفر صادق (رضی اللہ عنہ) منصور کے پاس موجود تھے-منصور نے آپ سے دریافت کیا اے ابو عبد اللہ!اللہ تعالیٰ نے مکھی کو کیوں پیدا فرمایا؟ آپ نے ارشاد فرمایا اس لئے کہ ظالم وجابر کو ذلیل کرے، اس جواب کو سن کر منصور چپ ہوگیا‘‘-

چند اہم ارشادات:

آپ (رضی اللہ عنہ)نے فرمایا بغیر توبہ کے عباد ت اس لئے درست نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے توبہ کو عبادت پر مقدم رکھا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :

’’اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ‘‘[4]

’’توبہ کرنے والے عبادت کرنے والے‘‘-

چار چیزوں سےشریف آدمی کو عار نہیں کرنی چاہیے- (1) اپنے والدین کی تعظیم کیلئے کھڑے ہونا،(2)اپنے مہمان کی خدمت کرنا،(3) اپنے چوپایہ کی خبر لینا خواہ اس کے سو غلام ہوں،(4)اپنے استاد کی خدمت کرنا-

اگر نعمتوں پر دوام چاہتے ہو توشکر کرو کیونکہ فرمان الٰہی ہے :

’’لَىِٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ‘‘[5]

’’اگر تم شکر کرو گے(تو) یقیناً میں تمہیں اور زیادہ دوں گا‘‘-

جو شخص اپنے رزق میں تاخیر پائے تو اسے طلب مغفرت کرنی چاہیےکیونکہ ارشادربانی ہے:

’’اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْط اِنَّہٗ کَانَ غَفَّارًا؁ یُّرْسِلِ السَّمَآءَ عَلَیْكُمْ مِّدْرَارًا؁ وَيُمْدِدْكُمْ بِاَمْوَالٍ وَّبَنِيْنَ وَيَجْعَلْ لَّكُمْ جَنّٰتٍ وَّ يَجْعَلْ لَّكُمْ اَنْهٰرًا‘‘[6]

’’بخشش مانگو اپنے رب سے بے شک وہ بہت بخشنے والا ہے، وہ تم پر زور دار بارش بھیجے گا ،اور تمہاری مدد فرمائے گا مال اور بیٹوں سے اور (بارش سے)تمہارے لئے باغ اُگائے گا اور تمہارے لئے نہریں بنادے گا‘‘-

’’من عرف اللّٰه اعرض عما سواہ ‘‘

’’جس نے اللہ کو پہچانا اس نے  ماسوا اللہ سے منہ پھر لیا‘‘-

وصال مبارک:

 148ھ ،میں بہ عمر 68سال ،مدینہ منورہ میں آپ کا وصال ہوا اور جنت البقیع میں اپنے والد گرامی حضرت سیدنا امام باقر (رضی اللہ عنہ)کے پہلو میں آپؓ کا مزار پرانوارہے-

اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے عظیم اسلاف کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے علمی وروحانی فیوض وبرکات سے بہرہ مند فرمائے۔ آمین۔ بجاہ سید المرسلین (ﷺ)!

٭٭٭


[1](صحیح بخاری،رقم الحدیث 5090)

[2](تذکرۃ الحفاظ، ج:1، ص:166)

[3](ہدیٰ، دلی مارچ 1975)

[4](التوبہ:112)

[5](ابراہیم:7)

[6](نوح:10-12)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر