غزہ پر اسرائیلی جارحیت : میڈیا کا کردار

غزہ پر اسرائیلی جارحیت : میڈیا کا کردار

اِنسانیت اور اُمت ِمسلمہ کے لئے انتہائی غمگین اَمر ہے کہ غزہ میں معصوم فلسطینیوں پربد ترین مظالم ڈھائے جا ر ہے ہیں- پوری دُنیا غزہ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کا مشاہدہ کر رہی ہے، جہاں شہید ہونے والوں میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے جو کہ باعثِ فکر اور افسوس ہے- اقوام متحدہ کے ساتھ عالمی میڈیا کی خاموشی اس ظلم و بر بریت کاساتھ دینے کے مترادف ہے- اقوام متحدہ کے قیام سے بھی قبل یہ مسئلۂ فلسطین موجود تھا لیکن بعدازاں اس کے حل کی طرف توجہ نہ دی گئی- ایک وقت تھا جب اسرائیل کی خواہش تھی کہ اُسے ہمسایہ ممالک کی جانب سے تسلیم کیا جائے، تو بہت سارے ممالک نے اِسے تسلیم کر لیا تو بھی اس کے رویے میں کوئی مثبت تبدیلی نہ آئی بلکہ فلسطینیوں پر زندگی مزید تنگ کر دی گئی-[1] اسرائیل اقوام متحدہ، یورپی یونین اور ہیومین رائٹس کونسل میں سے کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتا اور زبردستی فلسطین پر قابض ہونے کے در پے ہے- اسرائیل کی طرف سے غزہ پر یہ حملے روز کا معمول ہیں لیکن اس مرتبہ ان کا دائرہ انتہائی وسیع اور دردناک ہے- یہ امتِ مسلمہ اور ہر اَمن پسند کے نزدیک نا قابل برداشت اور قابِل مذمت عمل ہے-[2]

تاریخی اعتبار سے فلسطین دُنیا کےچند قدیم ترین ممالک میں سے ایک ہے-یہ اس علاقےکا نام ہے جو لبنان اور مصر کے درمیان تھا جس کے بیشتر حصے پر زَبردستی اسرائیلی ریاست قائم کی گئی ہے-اسرائیل کے قیام کے پیچھے برطانیہ کا سب سے زیادہ ہاتھ تھا کیونکہ جنگ عظیم اوّل میں جب یہودیوں نے دیکھا کہ اتحادی جنگ جیت رہے ہیں تو برطانیہ کو مختلف حِیلوں بہانوں سے فلسطین میں ایک یہودی ریاست کے قیام پر آمادہ کیا- انیسویں صدی میں فلسطین کثیر ثقافتی آبادی پر مشتمل تھا جس میں 86 فیصد مسلم، 10فیصد عیسائی اور 4 فیصد یہودی پُرامن رہ رہے تھے-انتہاء پسند صیہونیوں (Zionists) نے یہودیوں کیلئے علیحدہ ناجائز ریاست بنانے کا فیصلہ کیا جس پرانیسویں صدی کے اختتام  اور بیسویں صدی کے آغازپر یہودی طے شدہ منصوبہ کے تحت فلسطین میں منتقل ہونا شروع ہوگئے -کیونکہ برطانیہ کا اُس وقت فلسطین پر کنٹرول تھا تو اُس نے انہیں ہجرت کی اجازت دے دی-[3]در بدر خوار پھرنے والے یہودیوں کی فلسطین کی جانب نقل مکانی سترہویں صدی کے آخر میں شروع ہو ئی اور بیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں برطانوی یہودیوں نے پہلا صہیونی بینک قائم کیا- جس نے اپنے لوگوں کو رقم فراہم کرتے ہوئے فلسطین میں زرعی زمینیں خریدنے میں مدد فراہم کی- یہ وہ وقت تھا جب برطانیہ نے فوجی قوت کے بل بوتے پر فلسطین میں ایک ایسی ریاست کی بنیاد ڈالی جِس کا آغاز ہی ظلم و بربریت تھا-[4]

اکیسویں صدی جہاں ترقی کی بے شمار منازل طے کر چکی ہے وہیں آزادی اور آزادئِ اظہار رائے کو ہر ذی روح کا بنیادی حق تصور کیا جاتا ہے- میڈیا کی ترقی نے جہاں پوری دُنیا کو گلوبل ولیج بناتے ہوئے لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا وہیں کنٹرولڈ میڈیا نے لوگوں کو ایک خاص رُخ میں سوچنے پر بھی مجبور کیا ہے- پوری دُنیا کے بیشتر وسائل پر جہاں غیر مسلم قابض ہیں وہیں میڈیا کے بڑے گروپس (ایپل، والٹ ڈِزنی، کومکاسٹ، نیٹ فلیکس، وارنر بردر، سونی نیٹ ورک، رائیٹر، فوکس وغیرہ )بھی غیر مسلموں کی ملکیت میں ہیں- اِن تمام میڈیا ہاؤسز کا تیار کردہ مواد لوگوں کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو بھی جکڑے ہوئے ہے ۔ آج جب بڑے بڑے نام نہاد دانشور اسرائیلی جبرِ ناروا سے مفاہمت کے بھاشن دیتے ہیں تو اس کے پیچھے منطق یہی ہے کہ ان میڈیا ہاؤسز نے جھوٹے پروپیگنڈا کے ذریعے ان کے دماغوں کو جکڑ رکھا ہے - مغربی میڈیا کی اپنے حکومتی اداروں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے اور انہیں جوابدہ بنانے کی روایت پرانی ہے- گزشتہ دہائیوں میں امریکی اخبارات نے اپنی حکومت پر ایسا پریشر ڈالا کہ اُسے ویتنام جنگ سے نکلنا پڑا- امریکی میڈیا نے جوں جوں ویت نام جنگ کے حقائق رپورٹ کرنا شروع کئے تو عوام کا امریکی حکومت کے خلاف غصہ بڑھ گیا، حتیٰ کہ حکومت کو ماننا پڑا کہ ویت نام جنگ میں امریکہ کی براہِ راست شمولیت ایک غلطی تھی-

مغربی میڈیا حکومت اور سیاست دانوں کی جوابدہی کے لئے پیش پیش رہتا ہے، حتٰی کہ مذہبی حلقوں پر تنقید بھی اپنا فرض سمجھتا ہے- امریکہ، برطانیہ اور جرمنی کے میڈیا گروپ کھل کر چرچ کے پادریوں کی بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات کو رپورٹ کرتے ہیں- اگر مغربی میڈیا کے کریڈٹ پر اِتنا کچھ ہے تو آخر کیا بات ہے کہ فلسطین کے معاملے پر اتنا اسرائیل نواز کیوں ہے؟ غزہ پر اسرائیلی جارحیت کو رپورٹ کرنے میں بھی حقائق پہ آنکھیں بند کر کے اسرائیلی حکومت کے بیان کو من و عن شائع کر رہا ہے-عالمی میڈیا اسرائیل و فلسطین تنازعے پہ غیر جانبدار رپورٹنگ کرنے سے قاصر ہے اور اپنے اُس خاص ایجنڈے پر کاربند ہے جس میں فلسطینی دہشتگرد اور اسرائیلی معصوم دکھائے جاتے ہیں- عالمی میڈیا کایہ جانبدارانہ رویہ صرف فلسطین کے ایشو پر ہی محدود نہیں بلکہ یوکرائن اور روس تنازع کو بھی بڑھاوا دینے میں اہم کردار ادا کیا- مغربی میڈیا نے خاص طور سے یوکرائن کو مظلوم دکھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی-

عالمی میڈیا اسرائیلی ایجنڈے کو پروموٹ کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے اور ایک ہی طرح کی خبر کو امریکہ، یورپ اور برطانیہ کے بڑے صحافتی ادارے لفظوں کی ہیرا پھیری سے ایسے پیش کر رہے ہوتے ہیں کہ کسی طرح یہ ثابت ہو جائے کہ اسرائیل بے قصور ہے اور یہ جنگ اسرائیل پہ تھوپی گئی ہے- اِس جنگ کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ فلسطینیوں کو دہشت گرد جبکہ اسرائیلیوں کو پرامن دکھایا جائے- ایک طرف مغربی میڈیا سیاسی و معاشرتی حقائق اور تاریخی شواہد کو سامنے رکھ کر رپورٹنگ کرنے پہ زور دیتا ہے تو دوسری طرف اسرائیل کے فلسطین پر قبضے اور ظلم کی بات سرے سے کر ہی نہیں رہا-جہاں رپورٹنگ میں جنیوا کنونشن، اقوام متحدہ کی قرار دادیں اور انسانی حقوق کے قوانین کو یاد رکھنا چاہیے وہیں مغربی میڈیا کو اسرائیل کی فلسطین پر چڑھائی کے دوران حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے صحیح حقائق کو بیان کرنا چاہیے- بات یہیں نہیں رُکی بلکہ بعض امریکی نیوز چینلز کے مارننگ شوز میں فلسطین کی حمایت میں نکلنے والے مظاہرین کا مذاق اڑایا گیا- مغربی میڈیا کا یہ دوہرا معیار نا تو اُصولِ صحافت مانا جا سکتا ہے اور نہ ہی آزاد میڈیا تصور کیا جا سکتاہے-

اس جانبدار رپورٹنگ کے پیچھے جہاں مشرق اور مغرب کے درمیان حائل تفریق کی گہری لکیر ہے، وہیں ’ہم بمقابلہ وہ‘، ’اپنے بمقابلہ پرائے‘، ’سفید بمقابلہ کالا‘ ،’ مسلم بمقابلہ غیر مسلم‘ جیسے معاملات کی تفریق بھی کار فرما نظر آتی ہے- جس پر بہت سارے رائیٹرز اور فلسفیوں نے اپنی اپنی رائے بھی دی-جیسا کہ ایڈروڈ سعید نے اِس مذہبی، لسانی، جغرافیائی، سیاسی اور رنگ و نسل کی تقسیم پر سیر حاصل مواد لکھا کہ عالمی میڈیا کیسے ایک کارپوریٹ میڈیا کے طور پر کام کرتا ہے جِس کی ڈوریں سرمایہ داروں اور مفاد پرستوں کے ہاتھ میں ہیں- مغرب کے بڑے نامور بین الاقوامی چینلز اور ویب سائٹس (ایپل، والٹ ڈِزنی، کومکاسٹ، نیٹ فلیکس، وارنر بردر، سونی نیٹ ورک، رائیٹر، فوکس وغیرہ) پر حقیقت میں کئی بزنس ٹائیکونز کا سرمایہ لگا ہوا ہے جبکہ اِنہیں بعض ممالک سرکاری فنڈ بھی مہیا کرتے ہیں- اِن تمام میڈیا چینلز پر طاقتور ممالک کی ریاستی پالیسی پہ عمل پیرا ہونے کا دباؤ ہوتا ہے- ساتھ ہی یہ حقیقت بھی ملحوظ خاطر رکھیں کہ مغربی میڈیا میں کاروباری شیئرز رکھنے والے سرمایہ کاروں میں کئی اسرائیلی حکومت کے ہمدرد بھی ہیں، جو اپنی مرضی کا مواد شائع کرنے کی اجازت دیتے ہیں-

ان دوہرے معیارات سے جہاں عام آدمی شدید الجھن  کا شکار ہے وہیں صحافت سے منسلک لوگ بھی اپنی بساط میں حقائق کو سمجھنے سے قاصر ہیں-وہ قارئین اور ناظرین جو آنکھ بند کر کے بعض بین الاقوامی نشریاتی اداروں کی رپورٹنگ پہ یقین کر تے ہوئے جنگ اور امن کے زمانوں میں ان مغربی اداروں کی خبروں کو حتمی مانتے تھے اور اِن کے تجزیات کی مدد سے اپنے سیاسی نظریات کی سمت مقرر کیا کرتے تھے، اُنہیں چاہیے کہ اِس اندھے اعتماد کی جگہ درست و غلط، سچ اور جھوٹ، خبر اور پراپیگنڈہ کو سمجھنے کے لیے ذاتی کوشش کریں اور خبر کو مختلف نشریاتی ذرائع سے پرکھیں تاکہ سچ نکل کر سامنے آسکے اور حقائق کو سمجھا جائے- رائے عامہ بنانے میں جہاں میڈیا کردار ادا کرتا ہے وہیں اچھی اور مثبت سوچ کے حامل لوگ بھی عوام تک صحیح اور مستند خبر پہنچا کر اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں- سوشل میڈیا کی موجودگی نے فرد کو تقویت بخشی ہے اور اُسے اختیار دیا ہے کہ اپنی مرضی کا مواد پیدا کرے اور لوگوں کے ساتھ شیئر کرے- دورِ جدید میں اِس کا اِستعمال کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کو ہر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اُجاگر کرنا چاہیے تا کہ اسرائیل کے اِس غاصبانہ قبضے اور ظلم کو روکا جا سکے-

٭٭٭


[1]ظفر الحق، سینیٹر راجہ،(ستمبر،  2014ء)،’’فلسطین کاانسانی بُحران اور اسرائیلی رویہ‘‘ مشمولہ،’’مراۃالعارفین انٹرنیشنل‘‘ طارق اسماعیل ساگر ، لاہور،العا رفین پبلی کیشنز 

[2]احمد محمد ، الشافی ،( ستمبر،  2014ء)،’’غزہ کا حالیہ بحران اور عالمِ اسلام کی ذِمہ داری‘‘ مشمولہ،’’مراۃالعارفین انٹرنیشنل‘‘ مدیر طارق اسماعیل ساگر ، لاہور،العا رفین پبلی کیشنز

[3]ہارون راجہ،بریگیڈیئر (ر) آصف ،( ستمبر،  2014ء)، ’’اسرائیل کی مجرمانہ پالیسیاں اور فلسطین کا انسانی سانحہ‘‘ مشمولہ،’’مراۃالعارفین انٹرنیشنل‘‘مدیر طارق اسماعیل ساگر،لاہور،العا رفین پبلی کیشنز

[4]قادری، ایس ایچ، (ستمبر،  2014ء)، ’’مسئلہ فلسطین : قائداعظم کی نظر میں‘‘ مشمولہ،’’مراۃالعارفین انٹرنیشنل‘‘ مدیر طارق اسماعیل ساگر ،لاہور،العا رفین پبلی کیشنز

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر