مطالعہ بیدل (فکربرگساںکی روشنی میں)

مطالعہ بیدل (فکربرگساںکی روشنی میں)

مطالعہ بیدل (فکربرگساںکی روشنی میں)

مصنف: علامہ محمد اقبال نومبر 2016

جب تک اقبال کی نثر کو مکمل طور پہ نہ سمجھا جائے تب تک کما حقہٗ  اقبال کا شعری فکر نہیں سمجھا جا سکتا اِس لئے علامہ اقبال نے مختلف موضوعات پہ جو مقالات تحریر کئے ہیں اُن کو وقتاً فوقتاً ماہنامہ ’’مرأۃ العارفین ‘‘میں شائع کیا جاتا ہے  -زیرِ نظر مضمون انگریزی زبان میں علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے تحریر کیا جس کا اُردو ترجمہ جناب ڈاکٹر تحسین فراقی نے کیا ہے-  اِس مضمون کی خاص اہمیت یہ ہے کہ اقبال کے شعری فکر پہ جن مفکر شعراء کا رنگ غالب ہے اور جنہیں اقبال نے اپنے ہاں ’’مرشد ‘‘ کا درجہ دیا ہے اُن میں حضرت ابوالمعانی مرزا عبد القادر بیدل دہلوی(۱۶۴۲ء تا ۱۷۲۰ء)  ایک ہیں- اِس مضمون میں اقبال نے ابوالمعانی  بیدل  اور معاصر فرانسیسی فلسفی ہنری برگسان (۱۸۵۹ء تا ۱۹۴۱ء)  کا تقابلی جائزہ لیا ہے ، جسے پڑھ کر اقبال کے شعری فکر کے آہنگ کی تفہیم ہوتی ہے-جس طرح تفہیمِ اقبال کیلئے اس کا مطالعہ مفید ہے اُس سے کہیں بڑھ کر ’’بیدل شناسی‘‘ کیلئے اس کا مطالعہ مفید ہے، کیونکہ ہمارے علمی زوال اور فکری تساہل کی وجہ سے بیدل ایسے نادر و نایاب جواہر اہلِ دانش کی نظروں سے اوجھل ہوتے جا رہے ہیں- اقبال شناس تو ڈھونڈے سے کہیں مل جاتے ہیں مگر جس نے غالب و اقبال جیسے بُلند پایہ شعرا ءکو پرورش دی اُس کی تفہیم رکھنے والے یعنی ’’بیدل شناس‘‘ ڈھونڈےسے بھی نہیں ملتے  -

 

 

 

 

 

  مرزا عبد القادر بیدل اکبر آبادی اعلیٰ درجے کے مفکر تھے ---شاید شنکر اچاریہ (۱) کے زمانے کے بعدسے ہندوستان کے عظیم ترین مفکر شاعر-البتہ شنکراچاریہ زبردست منطقی تھا جو بڑی بے رحمی سے ہمارے ٹھوس حِسّی تجربے کی تحلیل کرتا ہے تاکہ اس میں موجود ذات بسیط (The Universal) کو بے نقاب کر سکے-اس کے بر عکس بیدل ---شاعرِ بیدل ---کے لیے تحلیل طبعاً ایک تکلیف دہ اور   غیر فنکارانہ عمل (inartistic deals) ہے اور وہ عالمِ محسوس کو زیادہ لطیف انداز سے دیکھتے ہیں اور اس میں موجود ذاتِ بسیط کی طرف محض ایسے نقطۂ نظر سے اشارہ کرتے ہیں جو اس کے شایانِ شان ہو :-

زِ مَوْج پَردہ بِرُوئے حُباب نَتَواں بَست
تُو چَشم بَستہ ای اے بے خبر نِقاب کُجا ست

’’ موج سمندر کے چہرے کو ڈھانپ نہیں سکتی-اے بے خبر تو نے اپنی آنکھیں بند کر رکھی ہیں (ورنہ) نقاب کہاں ہے؟‘‘

علاوہ ازیں شاعر ہمیں اپنے جیو آتما(The individual) کے تصور سے درج ذیل شعر کے حوالے سے آگاہ کرتا ہے :-

می کَشَم چوں صبح از اسباب ایں وَحْشَت سَرا
تُھمَتِ ربطے کہ نتواں بَست بَر اَجزائے مَن

صبح در اصل نور کے بکھرے ہوئے ذرات کے ایک غیر مرتب خلط ملط انبار کے علاوہ کچھ نہیں لیکن ہم اس کا ذکر ایک ٹھوس (concrete) شے کے طور پر کرتے ہیں---ایک منفرد وحدت اور مادے کے طور پر بیدل کہتے ہیں کہ :-

’’اس دنیا کے صحرا میں حالات و اسباب نے صبح کی مانند مجھ پر ایک ربطِ مادی کی ایسی تہمت دھری ہے جس کی متحمل میری فطرت نہیں ہو تی ‘‘-

لیکن بیدل کے سلسلے میں جو چیز زیادہ قابلِ اعتنا ہے وہ ہے ان کا اعلیٰ درجے کا کثیر الجہات(۲) ذہن جو دنیا کے تقریباً تمام مفکرو ں کے روحانی تجربات سے گزرتا ہوا محسوس ہوتا ہے-ان مفکرین میں برگساں بھی شامل ہے-چنانچہ بیدل کے افکارِ شعری میں جہاں جہاں برگسانی رنگ جھلکتا ہے، اس کی جانب میں مغربی فلسفے کے طالب علموں کی توجہ خاص طور پر منعطف کرتا ہوں-البتہ بیدل کی شاعری کا جائزہ لیتے ہوئے ہمیں اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے کہ کسی ایسے شاعر سے مابعد الطبیعات کے ایک مرتب اور منضبط نظام کی توقع نا انصافی پر مبنی ہے جس کے بے چین ذہن کو ترتیب و تہذیب کے تکلیف دہ عمل میں پڑے بغیر ایک گریز پا حقیقت (Reality)کے بے انتہا مختلف پہلوؤں سے صرفِ نظر کرنے کے سوا چارہ نہیں-بیدل کے یہاں ان کے دیگر خیالات و نظریات کے ساتھ ساتھ ایک تصور وہ بھی ہے جسے برگساں کا تصورِ حقیقت کہنا چاہیے اور جس کا تجربہ شاعر اپنی روحانی ترقی کے مرحلے میں کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے -

برگساں کے نزدیک حقیقت ایک مسلسل بہاؤ (Flow) کا نام ہے--ایک مسلسل اور دائمی تکون (Becoming) کا نام ---اور خارج میں موجود اشیاء جو ہمیں متعدد غیر متحرک اشیا کے روپ میں دکھائی دیتی ہیں وہ سوائے ہمارے ان خطوطِ شوق کے کچھ نہیں جو ہمارا ذہن اس بہاؤ کے اوپر کھینچ ڈالتا ہے-گویا کہا جا سکتا ہے کو یہ ایک ساکن مجموعۂ نجوم ہیں جو ہماری حرکت کی سمت متعین کرتے ہیں اور یوں گویا زندگی کے دریا سے پار اترنے میں ہماری مدد کرتے ہیں-گویا حرکت اصل حقیقت ہے اور اشیائے خارج کی شکل میں ہمیں جو سکون یا عدمِ تغیر نظر آتا ہے، ایک ریاضی مائل ذہن کی، جو زندگی کے عملی تقاضوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے سیلان و طغیان کو ساکن ظاہر کرتا ہے، لگائی ہوئی روک (movement retarded)ہے-اپنی فطرت کے حوالے سے یہ ریاضیاتی ذہن صرف اشیاء کی سطح ہی پر سفر کر سکتا ہے اور اس حقیقی تغیر کا ادراک نہیں کر سکتا جس کے بطن سے یہ اشیاء جنم لیتی ہیں-گویا انواعِ مکانی سے بحث کرتے ہوئے طبیعیاتی سائنس کا طریقِ کار حقیقت تک رسائی کے ضمن میں ہمیں دور تک نہ لے جاتا ہے نہ لے جا سکتا ہے-اگر ہمیں حقیقت کی ماہیتِ مطلق کی ایک جھلک دیکھنا ہے تو اس کے لئے ایک نئے طریقِ کار کی ضرورت ہے اور یہ طریقِ کار وجدان ہے جو برگساں کے نزدیک فکر ہی کی ایک عمیق صورت کا نام ہے جو ہمارے اس مقامِ امتیاز کی وجہ سے جو ہمیں اس کے حوالے سے حاصل ہے، ہم پر زندگی کی ماہیت کے دروا کرتا ہے-یہ طریقِ کار ہمیں بتاتا ہے کہ زمان کے عنصر ہی سے، جسے طبیعیاتی سائنس اشیائے خارجی کے مطالعے کے دوران نظر انداز کر دیتی ہے، زندہ اشیاء کا جوہرِ حقیقی تشکیل پاتا ہے اور یہی زندگی کا دوسرا نام ہے-پس زمان ہی حقیقتِ نہائی ہے جس سے تمام اشیاء متشکل ہوتی ہیں-چنانچہ تکون ، حرکت، زندگی اور زمان ایک ہی چیز کے مختلف نام ہیں-لیکن اس زمان کو جسے برگساں ’’مرورِ محض‘‘  (Pure Duration) سے تعبیر کرتا ہے، اس باطل تصور سے بڑی احتیاط سے جدا سمجھنا چاہیے جو ہمارا ریاضیاتی ذہن تشکیل دیتا ہے-ہمارا ذہن زمان کو ایک ایسی نا مختتم (نہ ختم ہونے والی) سیدھی لکیر سے تعبیر کرتا ہے جس کا ایک حصہ ہم طے کر آئے ہیں اور باقی ابھی طے کرنا ہے-اس کے مطابق زمان محض ایک جہت کا مکان بن کر رہ جائے گا اور آنات (moments) اس کے تشکیلی نقطوں کے علاوہ اور کچھ نہیں قرار پائیں گے-مکانی وقت باطل اور غیر حقیقی زمان کے علاوہ اور کچھ نہیں-زمانِ حقیقی یا ’’مرورِ محض‘‘ جامد انداز میں ادراک کردہ ’’امروز و دیروز ‘‘ (آج اور گزشتہ کل) کو قبول نہیں کرتا-یہ تو نام ہے حقیقی اور دائمی طور پر موجود ’’اب‘‘ (Now) کا ،جو ماضی کو اپنے پیچھے نہیں چھوڑتا بلکہ اسے اپنے سینے سے چمٹائے ساتھ لیے رہتا ہے اور اسی سے مستقبل کو جنم دیتا ہے-گویا برگساں حقیقت کا ادراک جس طرح کرتا ہے اس کے مطابق حقیقت نام ہے مسلسل پیش قدمی کرنے والی تخلیقی حرکت کا جس کی ماہیت میں اضداد مخفی ہیں اور یہ جوں جوں ترقی کرتی جاتی ہے زیادہ سے زیادہ بین اور واضح ہوتی جاتی ہے-یہ مکمل کردہ کُل (Completed Whole ) کانام نہیں جس سے ہم کسی مکمل نظام ِصداقت کا استخراج کر سکیں -

آئیے! اب ہم بیدل کی شاعری میں برگسانی فکر کے مختلف درجات کا کھوج لگائیں-البتہ یہاں یہ بتا دینا ضروری ہے کہ بیدل نے نثر اور نظم کا کافی سرمایہ چھوڑا ہے-زیرِ نظر مقالہ صرف ان کے دیوان پر مبنی ہے (جو تقریباً تیس ہزار اشعار پر مشتمل ہے) اور جس کا ایک خطی نسخہ خوش قسمتی سے راقم (اقبال) کے پاس ہے (۳)-

۱:-پہلا قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ ہماری عقل حقیقت کی محض سطح کو چھو سکتی ہے،اس کے عمق (گہرائی)میں داخل نہیں ہو سکتی-بیدل اس حقیقت پر زور دیتے ہوئے کبھی نہیں تھکتے :-

مَوج و کَف مشکل کہ گردَد مَحرَمِ قَعرِ مُحِیط
عالَمے بیتابِ تحقیق است و استعداد نیست

’’سمندر کی موج اور جھاگ سمندر کی گہرائیوں میں نہیں دیکھ سکتے-ایک عالم ہے جو حقیقت کی ماہیت جاننے کے لئے بے تاب ہے لیکن اس کی استعداد سے عاری ہے ‘‘-

علم طبیعی منطقی استدلال سے مسلح ہو کر ’’حق‘‘ (The real ) کی نظریہ سازی کر کے اس کا خاتمہ کر ڈالتا ہے-یہ حقیقت کے بعد از مرگ معائنے اور تحلیل کے سوا کچھ نہیں اور نتیجۃً اسے ایک زندہ ، پیش قدم متحرک کے طور پر گرفت میں نہیں لا سکتا :-

ایں جُملہ دلائل کہ ز تحقیقِ تُو گُل کَرد
در خانہ خُورشید چراغان نجوم است

’’یہ تما دلائل جو تمہاری تحقیق و تفتیش سے پھوٹ رہے ہیں ، چمکتے ہوئے سورج کے مقابلے میں ننھے ننھے ستاروں سے زیادہ کچھ حقیقت نہیں رکھتے ‘‘-

۲:-سوال یہ ہے کہ حق کے ا دراک کا صحیح راستہ کیا ہے ؟ شاعر اس کے جواب میں کیا کہتا ہے :-

بیدل نَشَوِی بے خبر از چاکِ گریباں
اینجا ست کہ عُنقا تَہ پا گشت مگَس را (۴)

’’اے بیدل اپنے باطن میں جھانک-یہی وہ جگہ ہے جہاں عنقا (اصطلاحاتِ صوفیاء میں یہ لفظ حقیقت کی علامت کے طور پر مستعمل ہے) مگس (مکھی) کا شکار ہو جاتا ہے ‘‘-

لیکن اس ’’وجدان‘‘ کا حصول کیسے ممکن ہے اور اس کے خدوخال کیا ہیں ؟ اس ذیل میں برگساں اور بیدل دونوں کیا جواب بالکل ایک ہے -یہ وجدان صوفیانہ مشاہدہ کی کوئی قسم نہیں ہے جو حالتِ جذب و سُکر میں ہمیں عطا ہو جائے-برگساں کے نزدیک یہ فکر کی ایک عمیق تر قسم کا نام ہے -

جب ایم -لی-را (M.Le Roy)(۵) نے برگساں (Bergson) کے سامنے یہ خیال ظاہر کیا کہ اصل تصادم تو خیالِ عقلی (Intellectual thought)  اور بسر کردہ خیال (Thought lived) کے مابین ہے تو برگساں نے جواباً کہا :-

’’میری رائے میں یہ اب بھی عقل پرستی (Intellectualism) ہے‘‘-

 برگساں کے خیال میں ’’عقل پرستی‘‘ کی دو قسمیں ہیں-ایک سچی عقلیت ہے جو اپنے خیالات کا زندہ تجربہ کرتی ہے اور دوسری جھوٹی عقل پرستی جو متحرک خیالات کو ساکن کر کے انہیں ٹھوس اور مُتحَجّر (Solidified) تصورات میں ڈھال دیتی ہے تاکہ جعلی سکوں کی طرح ان سے کھیلا جا سکے-برگساں کے خیال میں سچی عقلیت ’’مرورِ محض‘‘ کے ادراک کے دوران مکان کے عنصر کے خاتمے ہی کے ذریعے ممکن ہوتی ہے بالکل ایسے ہی جیسے طبیعیاتی سائنس خارجی حقیقت سے نپٹتے ہوئے زمان کے عنصر کا خاتمہ کر دیتی ہے-بیدل بھی ٹھیک ایسا ہی طریقِ کار تجویز کرتے ہیں جب وہ کہتے ہیں :-

اے نِکھَتِ گُل اَندُکے اَز رَنگ بَروں آ

’’اے پھول کی خوشبو! رنگ کی دنیا سے باہر آ‘‘-

لفظ ’’رنگ‘‘ صوفیانہ اصطلاح میں مکان کی علامت ہے -صوفیا خارج کی دنیا کو عالم رنگ و بو میں تقسیم کرتے ہیں -شاعر انسان کی نمائندگی موجۂ خوشبو کے طور پر کرتا ہے جو عالم ِشعور کی غیر مرئی لطیف حرکت کی جانب اشارہ کرتی ہے اور اسے مشورہ دیتا ہے کہ اگر وہ ماہیتِ اصلی کا ادراک چاہتا ہے تو اسے خود کو مکان کے حدود سے آزاد کرنا چاہیے-پس طریقِ وجدانی کا مطالبہ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ مکان سے نجات حاصل کی جائے جو ہماری عقل کے لئے خارجی طور پر خاصا مشکل کام ہے کیونکہ اس کی نہاد ریاضیاتی ہے-بیدل مندرجہ بالا خیال کی وضاحت کے لئے ایک اور واضح علامت استعمال کرتے ہیں-وہ زندگی کو ایک دریا کے روپ میں دیکھتے ہیں-جب تک اس دریا کی سطح خاموش اور پرسکون رہتی ہے ، لہریں بہتے ہوئے دھارے کے نیچے ڈھنپی ہوئی صورت میں رہتی ہیں بالکل اسی طرح جیسے لباس جسم کو ڈھانپ لیتا ہے-البتہ جب موج اس جمود سے سر باہر نکالتی ہے تو دھارے کے تسلسل سے الگ ہو جاتی ہے، اپنے آپ کو مکان کے سپرد کر دیتی ہے اور مقابلۃً غیر متحرک ہو جاتی ہے-گویا یہ اپنے لباسِ سیلانی سے خود کو آزاد کر کے اپنے آپ کو عریاں کر دیتی ہے-چشمِ آسا حباب کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے جو سیلان و طغیان سے باہر نکل کر اپنے لباسِ آبی کو اتار پھینکتا ہے اور دوبارہ اس دھارے میں ڈوب کر اپنے کھوئے ہوئے لباس کو بارِ دگر حاصل کر لیتا ہے-میرا خیال ہے کہ قاری اب درج ذیل شعر کو سمجھنے کے قابل ہو گیا ہو گا :-

دَرِیں دریا کہ عُرِیانِیست یَکسَر سازِ اَمواجش
حُبابِ ما بِہ پَیراھَن رسید از چشم پوشیدن(۶)

’’زندگی کے اس دریا میں ، جہاں لہریں باہر نکل کر خود کو عریاں کر ڈالتی ہیں-میری زندگی کا حبابِ حقیر اپنی آنکھیں بند کر کے اپنا کھویا ہو ا لباس حاصل کر لیتا ہے‘‘-

یا برگساں کی زبان میں ہر ظاہری جمود یا انفصال جس نے زندگی کے غیر منقسم تسلسل میں وجدان کے ذریعے اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر لیا ہو-

۳:-اگلا سوال یہ ہے کہ اس وجدان کا کشف کیا ہے ؟بیدل کے ذیل کے اشعار میں اس کا جواب مل جائے گا:-

(ا) در طلب گاہِ دل چوں موج و حُباب
منزل و جادہ ھَر دُو دَر سَفَر است

’’دل (زندگی) کی اقلیم میں رستہ اور منزل دونوں امواج اور بلبلوں کی طرح مسلسل متحرک ہیں‘‘-

(ب) ھستی رَوَشِ نازِ جنوں تاز کہ دارد
می آیَدَم از گردِ نفَس بوئے خَرامے

انگریزی میں اس شعر کا ترجمہ قریب قریب ناممکن ہے-میں اس میں مضمر افکار کی توضیح کی کوشش کرتا ہوں-(دراصل) شاعر نفسِ انسانی کو (جو علامتِ حیات ہے) گرد و غبار کے لطیف ذرات کے انتشار سے تعبیر کرتا ہے جس سے لگتا ہے گویا وجود کی وسیع اقلیم میں سے کوئی شئے نہایت تیزی سے گزر گئی ہے اور اپنے خطِ پیش اقدامی کے ساتھ گرد و غبار کا ایک ایسا ہی منتشر سلسلہ چھوڑ گئی ہے جیسے شہاب اپنے سلکِ آتشیں کے ساتھ ساتھ نور کی ایک لکیر چھوڑ جاتا ہے-گویا نفسِ انسانی زندگی کی نزاکت کے مقابلے میں ایک ٹھوس مادہ ہے اور اس کا مضطرب انتشار ، کائنات میں زندگی کی حرکیتِ  تیز رفتاری کا اشارہ !

(ج) سَراپَا وَحشَتَم اَمَّا بِنَامُوسِ سَبُک رُوحی
زِ چشمِ نقشِ پا چو ریگ می دارَم سَفر پِنھَاں

’’ میں سراپا وحشت ہوں لیکن باطنی زندگی کے ناموس کی خاطر صحرا کی ریت کی طرح نقوشِ پا کی نگاہوں سے بھی اسے پوشیدہ رکھتا ہوں - ‘‘

صحرا کی ریت کے بارے میں گمان کیا جاتا ہے کہ وہ ہمہ وقت محوِ سفر رہتی ہے اگرچہ نقش پا کی آنکھ بھی اس کی حرکت دیکھ نہیں پاتی حالانکہ وہ (آنکھ) اپنی ماہیت و اصلیت کے اعتبار سے ریت سے نہایت قریبی تعلق رکھتی ہے (فارسی شعرا نقوشِ پاکو آنکھ سے تعبیر کرتے ہیں) شاعر ہمیں بتاتا ہے کہ بالکل اسی طرح ہمارے اندر حرکتِ حیات کی نزاکت کا ادراک نہیں کیا جا سکتا-میں سراپا وحشت ہوں لیکن باطنی زندگی کے ناموس کی خاطر صحرا کی ریت کی طرح نقوشِ پا کی نگاہوں سے بھی اسے پوشیدہ رکھتا ہوں -

(د) بیدل از خَویش بَایَدَت رَفتَن
ورنہ نَتَواں بِآں خَرام رَسِید

’’اے بیدل ! اگر تم محبوب کے خرامِ ناز کا نظارہ کرنا چاہتے ہو تو اپنے آپ سے باہر قدم دھرو‘‘-

 گویا ہم اپنے وجدان کی قوت ہی کے ذریعے حق کی حرکت کا نظارہ کر سکتے ہیں -

(ر) جائے آرام بِوَحشَت کَدہ عالَم نیست
ذرہ نیست کہ سرگرمِ ھوائے رَم نیست
باعثِ وَحشتِ جِسم است نَفَسھا بیدل
خاک تا ھم نفَسِ باد بُود بے دَم نیست

’’ اس صحرا میں کہیں آرام نہیں-ایک ذرہ بھی ایسا نہیں جو رَم (ہلچل ،run away) کرنے کے لئے بے تاب نہ ہو -حتیٰ کہ ذراتِ جسم بھی نفَسِ زندگی سے تعلق کے باعث منتشر ہو جانے کا میلان رکھتے ہیں-انسان کیا ہے؟ ---غبار و باد کا مجموعہ‘‘-

(س) یک دو نفَس خیال باز رشتۂ شوق کن دراز
تا ابد از ازل بتاز ملکِ خُدات زندگی

’’ایک دو لمحوں کے لئے اپنے خیال کو بھول جاؤ (گم کردو) رشتہ شوق دراز کر دو اور پھر خدا کی وسیع اقلیم میں ازل سے ابد تک آزادی سے رم کرتے رہو‘‘-

 گویا وجدان کے لمحوں ہی میں ہم زندگی کی دائمی تیز رفتاری کے ساتھ خود کو مشخّص(identified) کرتے ہیں-

اُوپر درج کردہ اور شرح کرد ہ اشعار سے یہ امر واضح ہو جاتا ہے کہ شاعر کے خیال میں حرکت ہی ہرطرح زندگی کا جوہر ہے-البتہ قاری کو بیدل کے استعمال کردہ استعارات اور زبان کی فطری نارسائیوں سے جنم لینے والی کسی غلط فہمی کے ضمن میں خبردار رہنا ہوگا-بیدل کے اسلوبِ اظہار سے اشارہ ملتا ہے کہ وہ حرکت کو مطلق نہیں سمجھتے بلکہ ہمیشہ اس طرح اظہار کرتے ہیں گویا یہ کسی شے کی صفت ہے-

مَیں سمجھتا ہوں کہ اس طرح بیدل کے مطمحِ نظر کا صحیح اندازہ نہیں لگایا جاسکتا-اگر حرکت حیات کا جوہر ہے تو یہ واضح ہے کہ اسے اصلی اور مطلق قرار دینا چاہیے بصورتِ دیگر زمان بحیثیت ایک حقیقت کے باقی نہیں رہے گا-حرکت کا یہ مفہوم قرار دینا اسے زمان کے ہم معنی بنانے کے مترادف ہے-ٹھیک یہی خیال ہمیں ان متعدد اشعار میں ملتا ہے، جہاں شاعر ہمیں غیر حقیقی زمان کے تصور سے متنبہ کرتا ہے جسے ہماری ریاضیاتی سوچ برگسانی اصطلاح میں ’’غبار لمحات‘‘ کی شکل دے دیتی ہے-بیدل نے ذیل کے دو اشعار میں زمانِ حقیقی اور زمانِ غیر حقیقی کا فرق بہت خوبی سے واضح کیا ہے:-

بنظم عُمر کہ سر تا سرش روانی بود
خیالِ مدتِ موہوم سکتہ خوانی بود

’’ شعرِ حیات کی بحر میں ، جو سر تا سر روانی ہے ، زمانِ غیر حقیقی کا تصور ایک سکتے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا‘‘-

ھرچہ از مدّتِ ھست و بود است
دیر ھا پیشِ خرام زود است

 (۲) ’’(زندگی کے) تیز تحرّک کے مقابلے میں خارجی عالم کا زمان سوائے توقّعات کے اور کچھ نہیں‘‘-

مندرجہ بالا اشعار سے ظاہر ہے کہ پہلے اور دوسرے شعر میں بالترتیب مستعمل ’’روانی‘‘ ، ’’مدّتِ موہوم‘‘ ، ’’مدّتِ ہست و بود‘‘ اور ’’خرام زود‘‘ کے الفاظ و تراکیب کا مقصود برگساں کے ’’ مرورِ محض‘‘ اور مکانی زمان کے فرق کو واضح کرنا ہے-ہمارے شاعر کے نزدیک زمانِ حقیقی ایک مسلسل بہاؤ کا نام ہے اور مادے کے ساتھ اس کا انسلاک کسی صورت میں بھی اس کی حرکت کی تیزی تک نہیں پہنچ پاتا-

نشد مانعِ عمرِ قیدِ تعلق
تو رفتارِ ایں پائے در گل ندیدی

’’ جسم کے ساتھ انسلاک کے نتیجے میں ہم پر عائد ہونے والی پابندیاں زندگی کے بہاؤکو روک نہیں سکتیں-معاملہ صرف اس قدر ہے کہ تم اس پابہ گل کی رفتار دیکھنے سے قاصر ہو‘‘-

شاعر زمان کے ناقابلِ تقسیم اور مسلسل ہونے پر ذیل کے شعروں میں مزید زور دیتا ہے:-

غُبارِ ماضی و مستقبل از جانِ تو می جُوشَد
دَر اِمروز اَست گم ، گَر وَاشگافی دِی و فَردا رَا

’’دیروز و فردا (گزشتہ کل اور آنے والا کل) کا غبارتیرے حال سے اُٹھتا ہے-اپنے دیروز و فردا کا تجزیہ کرو تو تم انہیں اپنے حال میں گم پاو ٔ گے‘‘-

ز خُود غافل گُزَشتِی فالِ استقبال زَد حَالَت
نِگَہ اَز جَلوَہ پیش اُفتاد اِمرُوزِ تو فَردا شُد

’’ تمہارا حال مستقبل کی پیش قیاسی محض اس لیے کرتا ہے کہ تم اپنے آپ سے آگاہ نہیں (اپنی ماہیتِ اصلی سے واقف نہیں)-(مستقبل کا تصور) سوائے اس آرزو کے کچھ نہیں کہ جلوہ و منظر سے نظر آگے بڑھ جائے‘‘-

فِطرتِ سُست پے از پَیرَوِی وَھمِ اَمَل
لَغزشے خُورْد کہ اِمرُوزِ مَرا فَردَا شُد

’’ موہوم اُمیدوں کی پیروی کرتے ہوئے میری فطرتِ سست نے ایسی لغزش کھائی کہ میرا ’’امروز‘‘ (آج) ’’فردا‘‘ (کل) میں تبدیل ہو گیا‘‘-

آخری دو اشعار میں پایا جانے والا مفہوم تقریباً ایک ہی ہے-شاعر ایک نفسیاتی مسئلے کا، یعنی یہ کہ ہم زمان کو کس طرح مبدل بہ مکان (spatialise) کرتے ہیں، شاعرانہ حل پیش کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ ’’ہنوز‘‘ () (not yet ۷) کا تصور یا تو فطرتِ سست کی آرزو ئے موہوم کی پیروی کا نام ہے یا امید کا نظر آنے والا سرابِ محض، جو نتیجہ ہے متحرک اور تخلیقی شے کو ساکن اور جامد بنا دینے کا-مسلمان مفکرین کے یہاں دائمی حقیقتِ خالقہ کا تصور نیا نہیں-مسلمان علمائے کلام کے نزدیک، جو معبود کو ایک لامتناہی قوّتِ ذاتی تصور کرتے تھے ، خدا کی تخلیقی قوت کائنات میں کھپ کر ختم نہیں ہوگئی-کائنات کسی شے کلّی کا نام نہیں جو محض ایک دفعہ پیدا کر دی گئی،یہ کسی اتمام کا نہیں بلکہ مسلسل عمل کا نام ہے-پس کائنات کے باب میں ہمارا علم ہمیشہ صداقت کا ایک بے معنی کارنامہ ٹھرے گا کیونکہ اپنی اصل میں ایک کامل نظام اور ضابطہ (کی تشکیل) انسان کے بس میں ہے ہی نہیں اور کائنات کے تمام تر امکانات کا علم اللہ ہی کو ہے-حقیقی حال سے آگے کچھ نہیں-بیدل کے خیال میں ’’وہاں ‘‘ دراصل ’’یہاں‘‘ کی نقاب اوڑھے ہوئے ہے:-

ھرچہ آنجا ست چوں آنجارَسِی اینجا گَردَد
چہ خیال ست کہ امروزِ تو فَردَا گَردَد (۸)

’’ جو بظاہر ’’وہاں‘‘ ہے-جب تم اس تک رسائی حاصل کرتے ہو تو ’’یہاں‘‘ بن جاتا ہے-اسی طرح تمہارے امروز (آج) نے فردا (کل) کی نقاب اوڑھ رکھی ہے‘‘-

۴:-اب ہم فلسفۂ بیدل کے ایک اور اہم جزیے کی طرف توجہ دیتے ہیں، اگر اشیاء کا جوہر حرکت مطلق ہے تو سوال یہ ہے کہ ہمیں اپنے اردگرد غیر متحرک ٹھوس چیزیں کیوں دکھائی دیتی ہیں؟ برگساں نے اس سوال کا جو جواب دیا ہے وہ تاریخِ فکرِ انسانی کا نادر ترین جواب ہے-وہ ہمیں بتاتا ہے جو ششِ حیات کی فطرت میں، جیسا کہ ہر جگہ مشہور ہے، دو رُحجانات ملتے ہیں جو بیک وقت ایک دوسرے کی تکمیل اور مخالفت کرتے نظر آتے ہیں---ایک تو حرکتِ پیشِ قدم اور دوسری حرکتِ رجعی-ان دونوں رُجحانات کی نمائندگی تمام زندہ اشیاء کے یہاں جبلّت اور ذہانت کے ذریعے ہوتی ہے-حرکتِ رجعی کا مقصد آگے بڑھتے ہوئے نفسی ریلے (Psychic Rush) کو جامد کرنا یعنی بریک کی طرح اسے پیچھے سے کھینچنا اور عملی تقاضوں کی روشنی میں اسے ایک جامد صورت میں متشکل کر دینا ہے-ہم جس شے کو مادہ یا امتداد (Extension) کہتے ہیں وہ روحانی حقیقت سے کوئی الگ شے نہیں ہے-دونوں قابلِ امتیاز متخالف حرکات ہیں لیکن حرکتِ اصلی میں ناقابلِ انفصال ہیں-زندگی کے عملی تقاضے، اس کے بہاؤ کو چھپانے اور اسے ایک شئے جامد دیکھنے پر مجبور ہیں- اس مقصد کے لیے زندگی اپنے ارتقاء کے دوران انتخاب کار ذہانت(selective intelligence) کا حربہ وضع کرتی ہے جو اسے نقاب پہنانے اور بہ تقاضائے عملی نیا رُوپ دینے کے لئے نہایت موزوں ہے-گویا وہی شے جو بہ ظاہر زندگی کے ارتقاء میں حارج ہوتی ہے، اس کی حرکت کا رخ متعین کرتی اور اس کی رہنمائی کرتی ہے-پس برگساں کے نزدیک مادہ آئینہ عمل میں زندگی کے خود کو مشاہدہ کرنے سے عبارت ہے-دلچسپ بات یہ ہے کہ اس باب میں بیدل کا نقطۂ نظر بھی ٹھیک ایسا ہی ہے-اگرچہ انہیں اس خیال کی معنویت اور قوت کا کامل شعور نہیں-درج ذیل اشعار میرے مفروضے  کی تصدیق کریں گے:-

(۱) تنزیہ ز آگاہیٔ ما گشت کدورت
جاں بود کہ در فکرِ خُود افتاد و بدن شد

’’ ہماری آگہی نے صفائے مطلق کو گردو غبار بنا ڈالا ہے-ہماری جان--جوششِ حیات---اپنے تقاضوں کی خاطر کثیف ہو کر جسم و مادہ میں تبدیل ہوگئی‘‘-

(۲) جلوہ از شوخی نقابِ حیرتے افگندہ است
رنگِ صہبا در نظر ہا کارِ مینا می کند

’’(شراب کی) اُڑتی ہوئی چمک دمک نے خود کو نقابِ حیرت میں چھپا لیا ہے اور شراب کا رنگ نگاہوں کے لیے صراحی بن گیا ہے‘‘-

شعر کے پہلے نصف میں ’’حیرت‘‘ کا لفظی مطلب ’’استعجاب‘‘ ہے لیکن بیدل جذبۂ حیرت کی نفسیاتی ماہیئت کے پیش نظر اسے ہمیشہ عدم حرکت یا ’’سکون‘‘ کے معنوں میں استعمال کرتے ہیں-ان کا مطلب محض اس قدر ہے کہ بظاہر جامد اور غیر متحرک مادہ جو ہمیں اپنے اردگرد نظر آتا ہے ، حقیقت سے باہر نہیں-یہ تو شراب کی اُڑتی ہوئی تجلی کا دوسرا نام ہے جس کی رفتار کو روک دیا گیا ہو اور جو ہمیں اس ٹھوس صراحی کی شکل میں نظر آرہی ہو جس نے اس کے بہاؤ کو روک رکھا ہو-

(۳) حائلے نیست بہ جولانگہِ معنی ہُشدار
خوابِ پا در رہِ ما سنگِ نشاں می باشد

’’حقیقت کی جولانگہ میں کوئی چیز حائل نہیں حتیٰ کہ سو جانے والا پاؤں (حرکتِ مقیدہ) بھی اس راہ میں سنگِ نشاں کا کام دیتا ہے‘‘-

اس شعر میں بیدل وہی استعارہ (سنگ میل) استعمال کرتے ہیں جو برگساں کے بعض شارحین نے اپنے مطلب کی وضاحت کے لیے استعمال کیا ہے-شاعر کا مقصود یہ ہے کہ حقیقت کا جوہر حرکتِ دائمی ہے جو شے بظاہر اس حرکت کو روکتی نظر آتی ہے، اصل میں مزید پیش قدمی کے لیے سنگِ نشاں کا سا کام دیتی ہے-

(۴) گہ تَغَافُل می تَرَاشَد گاہ نَیرَنگِ نِگاہ
جَلوہ را آئینہ ما سخت رُسوَا کَردَہ اَست

’’ہمارا آئینہ (ہماری عقل) حقیقت کی ماہیت کے باب میں رسوا کن ’’انکشافات‘‘ کرتا ہے-کبھی تو وہ حقیقت کو تغافل قرار دیتا ہے اور کبھی نیرنگ نگاہ‘‘-

شعر کے پہلے نصف میں ’’تغافل ‘‘ اور ’’نگاہ‘‘ کے الفاظ در اصل مادہ اور شعور، جسم اور نفس اور فکر اور امتداد کی علامتیں ہیں-با لخصوص اوّل الذکر کا شعر میں استعمال بہت بر محل ہے کیونکہ یہ مادے کی نفسی جہت کو ظاہر کرتا ہے-بیدل کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت کی وحدت میں بظاہر پائی جانے والی ثنویت(دوئی) صرف ہمارے زاویہ نگاہ کی وجہ سے ہے-ہم اسے اپنی عقل کی عینک سے دیکھتے ہیں جو ہمارے ادراک کے عمل کا ستیاناس کر دیتی ہے اور اس شدید ثنویت کو ظاہر کرتی ہے جو حق کی فطرت میں سرے سے وجود ہی نہیں رکھتی-

(۵) اب اس سوال کے جواب میں کہ عقل ہمارے ادراکِ حقیقت  کو تلف کیوں کر دیتی ہے -ہمارے شاعر کا موقف یہ ہے کہ ہمارا عقلی طریقِ کار زندگی کے عملی مطالبات میں کاملاً رنگا ہوا ہوتا ہے-

زِ مَوج خیز فنا کوہ و دشت یک دریا ست
خیال تشنہ لبِ ما سراب می ریزد

شعر میں مستعمل لفظ ’’فنا‘‘ کا لغوی مطلب کلیتہً مٹ جانا ہے-البتہ صوفیانہ اصطلاح میں اس لفظ کا مطلب نفی ٔذات یا ذاتِ الٰہ میں کلیتہً جذب ہو جانا ہے-گویا لفظ ِ فنا کا مطلب صرف انائے انفرادی کے حوالے سے نفی ہے جبکہ ذاتِ مطلق کے حوالے سے یہ کلیتہً اثبات ہی اثبات ہے-شاعر کہتا ہے کہ:-

 ترجمہ:’’ذاتِ مطلق کے سمندر میں کوہ و دشت ایک ہی مسلسل بہاؤ کی تشکیل کرتے ہیں-یہ تو ہمارا پیاسا ادراک ہے جو اس میں سراب آرائی کرتا ہے‘‘-

 صرف پیاسے ہی سراب سے دھوکا کھاتے ہیں کیونکہ ایک زبردست عملی طلب ( یعنی پیاس کی تسکین کی خواہش) ان کے ادراک کی نوعیت کا تعین کرتی ہے اور صحرا کی خشک ریت کو چادرِ آب کی شکل میں دیکھتی ہے-البتہ میرا خیال ہے کہ بیدل اس خیال کے ابلاغ میں کہ ہمارے علم کی ہیئت اور معیار کا تعین زندگی کے عملی مطالبات کے ذریعے ہوتا ہے، ناکام رہا ہے-عُرفی نے بھی ذیل کے شعر میں اس مضمون کو یوں باندھا ہے:-

زِ نَقصِ تِشنہ لَبِی داں بِعَقلِ خَویش مَنَاز
دِلَت فریب گَر اَز جلوۂ سَراب نَخُورَد (۹)

’’اگر تم نے سراب سے دھوکا نہیں کھایا تو اپنی عقل پر مغرور ہونے کی ضرورت نہیں-اصل میں تو تم اپنی تشنہ لبی میں کمی کے باعث سراب کا دھوکا کھانے سے بچ گئے ‘‘-

گویا عرفی کے نزدیک ہمارے حسی ادر اک کے علم کی نوعیت مکمل طور پر عملی مطالبات کے عدم یا وجود کی چھوٹ لیے ہوئے ہوتی ہے-البتہ بیدل عرفی کی نسبت زیادہ عمیق خیال کی ترسیل کرنا چاہتے ہیں-بیدل کے اعتراض کا ہدف ہمارا نظری علم ہے-چوتھے پیرے میں درج شعر آئینہ کا جو حوالہ آیا ہے وہ حیات کی واحد مسلسل حرکت میں موجود جامدات کی پریشان کن کثرت کو ظاہر کرتا ہے-

(۶) ایک دوسرے شعر میں نظری علم (conceptual knowledge)پر بیدل کا حملہ زیادہ تیز ہے-وہ اپنے خیال کو بہت حد تک پروفیسر ولیم جیمز کی طرح کا رخ عطا کرتے ہیں-ولیم جیمز اسے ہماری جانب سے ’’حقیقت کی لفظی تعبیر (Verbalisation of Reality)‘‘ قرار دیتا ہے-’’تعبیر لفظی‘‘ کی ترکیب سے سوجھنے والے استعارے کو اپناتے ہوئے بیدل ہمیں بتاتے ہیں کہ یہ ہماری گفتار ہی ہے جو حرکی (dynamic)  کو جامد(static) میں تبدیل کر دیتی ہے اور ایک نظری منہاج (conseptual handling) پر کَس کر ، اس کو مکان کا اسیر کر دیتی ہے-وہ کہتے ہیں:

تا خموشی داشتیم آفاق بے تشویش بود
موجِ ایں بحر از زبانِ ما تلاطم کردہ است

’’ جب تک خاموشی کی حکمرانی تھی ( یعنی جب تک حقیقت کی لفظی تعبیر نہیں کی گئی تھی) سب کچھ خاموش اور بے تشویش تھا-ہماری گفتگو نے سمندر کی موج میں ہل چل پیدا کر دی ہے‘‘-

حقیقت کی کُنہ تک کامل بصیرت اور رسائی یعنی اس کو اصل شکل میں دیکھنے کے لیے ہمیں لفظ کا سہارا لینا ترک کر دینا چاہیے-بحیثیت علم کے ایک منبع کے ، تمام تر نظریہ سازی (conceptualization)پروفیسر جیمز (Prof. Jamas) کے الفاظ میں:-

’’ کسی شخص کو ،جو اپنے کا م میں جُتا (absorbed)ہو، ایک اجنبی زبان میں چیلنج کرنے کے مترادف ہے‘‘-

ہمارے سامنے ایک ہی رستہ کھلا ہے اور وہ ہے حقیقی زندگی کے ساتھ خود کو مشخص کرنا-فی الواقع اس پیش قدم حرکت سے قدم ملانے کے لیے اور اس سے مناسبت کی بنا پر عقل حقیقت کے صرف اُوپر ی چھلکے کو مس کرتی ہے-اس کی مثال ماہی گیری کے اس جال کی سی ہے جو پانی میں ڈوبتا تو ہے لیکن اس کے بہاؤ کو گرفت میں نہیں لاسکتا-چنانچہ زندگی کے تضادات سے نجات حاصل کرنے کے لیے بیدل خاموشی یا حقیقت کے سکوت کا نسخہ تجویز کرتے ہیں:-

تا خموشی نگزینی حق و باطل باقی است
رشتہ را کہ گرہ جمع نسازد دوسر است

’’تم جب تک خاموشی اختیار نہیں کرتے، صورت و معنی کا امتیاز باقی رہے گا-وہ دھاگہ جس کو گرہ نہ لگائی گئی ہو ہمیشہ دوسرا رہتا ہے‘‘-

۵:-اب ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ کیا بیدل کا تصور ِحقیقت ’’حیات بعد الممات‘‘ کا کوئی ایسا یقین دلاتا ہے جیسا کہ اسلام میں مفہوم ہے-ولڈن کار (۱۱) یہ سوال فلسفے کے حوالے سے اُٹھاتا ہے اور کہتا ہے کہ:-

’’یہ یقینا ناممکن ہے کہ کسی کی روح بحیثیت اس کی روح کے جسم سے الگ ہو کر موجود رہ سکے کیونکہ یہ جسمیت ہی تو ہے جس سے انفرادیت کا  خمیر اُٹھتا ہے-لیکن یہ تصور کرنا عین ممکن ہے ( اگر ہمیں اس بات کا اور کوئی شبہ ہو تو) کہ جسم کی حیات بعد الممات کا معجزہ حقیقت ہو سکتا ہے-بدیہی طور پر فلسفے میں کسی ایسے عقیدے کی توثیق ڈھونڈنا کارِ عبث ہوگا لیکن اس کی نفی کرنا بھی فلسفے کے حدود سے باہر ہونے کے مترادف ہے---لیکن یہ صرف فلسفۂ تغیر ہی ہے جو ہمیں اپنی بقا کے امکان کی واضح بنیاد فراہم کرتا ہے-ہم دیکھ چکے ہیں کہ ’’مرورِمحض‘‘ کی حقیقت میں ماضی اپنی تمام تر کلیت میں محفوظ و موجود ہوتا ہے-سو اگر ماضی کو محفوظ رکھنا ’’مرورِمحض‘‘ کا لازمی خاصہ ہے تو کیا ایسا ممکن نہیں کہ کوئی ایسا ذریعہ موجود ہو یا بعض کے نزدیک یقینا موجود ہونا چاہیے جس کے ذریعے حیات اس انفرادی سرگزشت کو محفوظ کر لے جو بوقت ِ مرگ بظاہر اپنا تسلسل توڑ لیتی ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو کائنات میں ہونے والا ضیاع ناقابلِ بیان ہے کیونکہ کم و بیش ہر زندہ وجود جرثومے سے نمو پاکر تکمیل کو پہنچے اور اگلی نسل میں منتقل ہونے سے ماورأ ایک اور فعلیت بھی رکھتا ہے-اگر اس امر کا ثبوت مہیا ہو جائے تو یہ ہمارے علم کے عین مطابق ہوگا لیکن اس کا جاننا شاید ہمارے لیے کبھی ممکن نہ ہو(۱۲)‘‘-

یہ بات البتہ یاد رکھنی چاہیے کہ اگر زندگی ایک نفسی بہاؤ ہے جو ماضی کو اپنے ساتھ لے کر رواں دواں ہے اور اس طرح اپنی تاریخ کو محفوظ رکھے ہوئے ہے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حیات کاہر آگے بڑھنے والا تخلیقی قدم یقینا ایک نئی صورت حال کے مترادف ہوگا اور اسے تکرارِ محض قرار نہیں دیا جاسکتا-سو میرا خیال ہے کہ بیدل اور برگساں دونوں کے فلسفے جسم کی حیات بعد الممات کی نفی کرتے ہیں-بیدل کا مؤقف تو اس مسئلے پر مکمل طور پر واضح ہے اور وہ کسی ایسے استخراج سے خوف زدہ نظر نہیں آتے ہیں جو ان کے تصور ِحیات سے لازماً صدور کرتا ہے گویہ تصور اسلام کی تعلیمات سے متصادم ہی کیوں نہ ہو! وہ کہتے ہیں :

گُل یادِ غنچہ می کُنَد و سینہ مے دَرَد
رَفت آنکہ جَمع می شُدَم اکنوں نمی شَوَد

’’ پھول اپنی حالتِ غنچگی کو یاد کر کے اپنا سینہ چاک کر دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اے کاش میں اس حالت کی طرف رجعت کرسکتا حالانکہ اب یہ ناممکن ہے‘‘-

بیدل کی فکر یات کے تمام نمایاں پہلوؤں کی طرف قاری کی توجہ مبذول کراچکنے کے بعد اب مجھے ان کے تصورات کا تنقیدی جائزہ لینا چاہیے-مَیں سمجھتا ہوں کہ قاری اس امر میں مجھ سے متفق ہوگا جب مَیں یہ کہتا ہوں کہ کسی ایسے شخص سے جس کا میدان فلسفہ کی بجائے شاعری ہو اپنی تمام تر تفصیلات کے ساتھ کسی منضبط نظام مابعد الطبیعیات کی توقع نہیں رکھنی چاہیے-لیکن جب ہم بیدل کی شاعری کا توجہ سے مطالعہ کرتے ہیں تو ہم یہ تسلیم کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اگرچہ تخیلی اظہار سے ان کا عشق ان کو منطقی تحلیل و تجزیہ کی مہلت نہیں دیتا تا ہم وہ اپنے فلسفیانہ فریضے کی اہمیت کا کامل شعور رکھتے ہیں-اگر ہم ان کے تصور ِ عقل اور نظریہ ٔ کشفِ و جدان کا جائزہ لیں تو واضح ہوتا ہے کہ حقیقت کی ماہیت اصلی و نہائی کے باب میں ان کی شاعری میں فلسفیانہ حقائق کا ایک خزینہ موجود ہے جس کی تفصیلات وہ ایک فلسفی کی بجائے ایک شاعر کے اسلوب میں متعین کرتے ہیں-ان حقائق کی شاعر ی میں کافی وضاحت موجود ہے کہ ہماری زندگی تو آگے بڑھ رہی ہوتی ہے اور ہم تفکر بہ حوالہ ماضی کرتے ہیں اور یہ کہ فکر اور امتداد کی دو متعارض حرکات اصلی تکون میں ایک دوسرے سے جدانہیں کی جا سکتیں-لیکن اس میں واضح تفصیلات کی وہ دولت اور تجزیہ زمان کے با ب میں وہ عملی رویہ موجود نہیں جو برگساں کے فلسفے کی خصوصیت ہے-جہاں تک مقدمہ اوّل کا تعلق ہے، انصاف کاتقاضا یہ ہے کہ ہم بیدل سے اس کا مطالبہ نہیں کرسکتے کیونکہ وہ بنیادی طور پر شاعر ہیں لیکن ہم ان سے دوسری شق کا مطالبہ ضرور کر سکتے ہیں-لیکن بیدل کی شاعری ہماری توقع کی نفی کرتی ہے-ان کے نزدیک حقیقت کی ہر نظری تعمیر (conseptual handling)بے ثمر ہے-وہ ہمیں نصیحت کرتے ہیں کہ ہمیں مقرون (concrete) کے دھوکے میں نہیں آنا چاہیے کیونکہ آئینے کا حسن اس کے انعکاس میں نہیں-

دل را نفریبی بہ فسونہائے تعین
آرائشِ ایں آئینہ تمثال نباشد

’’دل کو تعیّنات کے دھوکے میں نہ رکھو، اس آئینہ کی زیب و زینت منقش صورت نہیں ہوتی‘‘-

کیا برگساں کا اپنا نظام اس کی دانست میں حقیقت کو ایک طرح سے نظریے میں ڈھالنے کے مترادف نہیں؟ کیا حقیقت کے ضمن میں اس نظریہ ساز عقل سے کام لیتے ہوئے جو اپنی نہاد میں اشیاء کے اصلی بہاؤ کو مکان کے حدود میں محدود کر کے اس کو فنا کر ڈالتی ہے، ہمارا رویہ عملی نہیں ہوتا؟ کیا برگساں کا عملی رویہ زیادہ نفع بخش ہونے اور مختصر طریقہ ہائے کار ، ہنر کاریوں اور تدبیروں کے حصول کے امکان کے علاوہ کچھ ہے؟ کیا تجربی سائنس ہمیں اس سے زیادہ کچھ دے سکتی ہے؟ اگر نفسی بہاؤ اور زندگی کے پیش قدم سیلان کی ماہیت میں پیش قدم اور رجعتِ آثار دونوں قسم کے رجحانات مضمر ہیں تو ہمیں اس کی منصوبہ جاتی اور ریاضیاتی نمائندگی کو مکمل طور پر ترک کر کے اپنی تمام امیدوں کو صرف وجدان پر مرتکز کیوں نہ کر دینا چاہیے؟ کیا ہمیں اس کائنات میں جو جیسی ہے ، رہنا ہے یا اس کائنات میں جسے عقل نے تعمیر کیا ہے اور تعمیر کے عمل میں اس کا حلیہ بگاڑ دیا ہے؟ برگساں کا عملی نقطئہ نظر اگرچہ مکانیاتی مراکزِ حیات کے حوالے سے ہمارے لیے زیادہ نفع بخش ہو سکتا ہے لیکن یہ پرانے دانشوروں کے خالصتہً عقلی نقط ہائے نظرکے مقابلے میں اتنا عقلی نہیں-زندگی کے باب میں عملی اور عقلی دونوں نقطہ ہائے نظر چونکہ حقیقت کی خارجی سطح ہی سے استفادہ کرتے ہیں جبکہ حقیقت اور صداقت کوبحیثیت ایک طغیانِ مسلسل کے ہمیشہ ان کی نگاہ سے اوجھل رہنا ہے-اس لیے یہ دونوں زندگی کی غایتِ اصلی تک کامل رہنمائی کرنے میں یکساں طور پر ناکام ہیں-ان کے درمیان جو فرق ہے ، وہ درجے کا ہے ، نوع  کا نہیں-ہمارے تجربے کا یہی زاویہ ، ہمیں حقیقت تک لے جانے کے بر عکس ، مسلمہ طور پر حقیقت کے چہرے کا حجاب بن جاتا ہے-پھر ہم آخر اس زاویے کی تقلید کیوں کریں اور اس کے بارے میں کسی قسم کی امید کیوں رکھیں؟ جب یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ ہمارے تجربہ ٔ  منفصل (Distributive experience) کا ایک پہلو اور بھی ہے---تسلسلِ مطلق کا پہلو ---جو خود حقیقت کو منکشف کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اعلیٰ ترین علم وجدان کی کارکردگی ہے نہ کہ وقتِ مُشاہدہ کا نتیجہ -خواہ یہ نفع بخش اور سود مند ہی کیوں نہ ہو؟ عقلیت پرستی اور تجربیت بھی گویا یکساں طور پر بیکار ٹھہرے گو موخرالذکر نئے طریقہ ہائے کار کی نشاندہی کر کے اشیاء پر ہماری گرفت کے حدود کو وسیع کر سکتی ہے اور ہمیں (ایک درجے میں) ایسا اطمینان اور سکون مہیا کر سکتی ہے جو حقیقت کی ماہیت کے باب میں حتمی علم کی ہماری آرزو کا جواز نہیں بن سکتا-گویا ہم کہہ  سکتے ہیں کہ انسان کا اعلیٰ ترین نصب العین حقیقت کے ٹھوس مظاہر میں سے ہو کر گزر جانا نہیں بلکہ ان قوتوں کو تسخیر کر کے جو ہمیں اس سے جدا رکھتی ہیں ، اس کے بسیط اور وسیع بہاؤ میں خود کو گم کر دینا ہے -

’’صرف اپنے جمود سے نجات حاصل کر کے ہی موتی سمندر سے ---جس سے اس نے جنم لیا اور پھر خود کو جدا کر لیا---ہم آغوش ہوکر بقا حاصل کرسکتا ہے‘‘-

’’آسودگی از بَحر جُدا کَرد گُھَر را‘‘

’’آرام طلبی نے موتی کو سمندر سے جدا کر دیا ہے‘‘-

مذکورہ بالا استدلال اگرچہ بظاہر بہت قوی نظر آتا ہے لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ یہ اس قسم کے وجدان کا جو از مہیا نہیں کرتا جس قسم کے وجدان کی بیدل کے خیال میں ایسے استدلال کے لیے ضرورت ہوتی ہے-جن مختلف مقدمات (Premises) پر بیدل کا استخراجِ نتیجہ(Inference) مبنی ہے ، ان کا تفصیلی جائزہ دراصل برگساں کے فلسفے کی تنقید کے مترادف ہوگا اور اس قسم کے کام کے لیے انیسوی صدی میں جرمنی میں رومانوی تحریک کے ارتقاء اور خصوصاً رَے وِسان (Ravaisson) کے حوالے سے،جس نے ، قیاس ہےکہ شیلنگ (Schelling)کے اثرات برگساں تک منتقل کیے ، برگساں تک رسائی حاصل کر لی ہوگی اور اگر ہم برگساں کے فلسفے کی بیخ کنی کرنے میں کامیاب ہو بھی جائیں تو ہماری اس کامیابی کا مطلب لازمی طور پر اس قسم کے وجدان کی بیخ کنی کی مترادف نہیں ہوگا جس کے علمبردار بیدل ہیں کیونکہ وجدانی نوع کے علم کی ضرورت کی بنیاد میرے خیال میں کامیابی کے ساتھ تمام علمِ انسانی کی محدودیت کے عمومی تصور پر رکھی جاسکتی ہے جسے کسی شخص نے بھی جھٹلایا نہیں-یہاں یہ نکتہ اُٹھایا جاسکتا ہے کہ برگساں کا تصور عقلِ انسانی ان کارناموں کو جو اس نے مذہب، فن اور اخلاق کے میدان میں انجام دیے ہیں، خاطر میں نہیں لاتا-روح کی مکانیت کاری کی تائید میں اس استدلال میں ، جیسا کہ اسے حیاتیاتی سوچ کے ذریعے ?

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر