میری ٹائم سیکورٹی : پاکستان کے مستقبل کی اہم ضرورت

میری ٹائم سیکورٹی : پاکستان کے مستقبل کی اہم ضرورت

میری ٹائم سیکورٹی : پاکستان کے مستقبل کی اہم ضرورت

مصنف: اُسامہ بن اشرف اپریل 2017

اکتّر(۷۱)فیصد پانی پر مشتمل کرۂ ارض سات براعظموں اور پانچ سمندروں میں بٹا ہوا ہے-جن میں   بحر الکاہل(Pacific Ocean )، بحر اوقیانوس (Atlantic Ocean)اور بحر ہند(Indian Ocean)  چندمشہور سمندر ہیں- میری ٹائم سکیورٹی سے مراد سمندری طرز عمل (Maritime Practices) ، اثاثہ جات (Resources)، علاقائی سالمیت اور ساحلی امن و امان کی صورتحال کو بہتر اور محفوظ بنانا ہے- میری ٹام سکیورٹی آپریشنز کے مقاصد میں سمندری تجارت کے بہاؤ کی حفاظت،آزادانہ جہاز رانی  کا حق،سمندری اثاثوں کی حفاظت اور دیگر خطرات و جرائم مثلاً دہشت گردی،منشیات اسمگلنگ،قزاقی (Piracy) اور ماحولیاتی تباہی وغیرہ سے بچاؤ شامل ہیں-

سمندروں کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے امریکی ایڈمرل آف دا فلیٹ (Admiral of the Fleet) لارڈ فیشر نے کہا تھا ،

Five keys lock up the world; Dover, Gibraltar, Suez, Singapore and the cape of Good Hope

’’پانچ چابیاں دنیا کو قید کرسکتی ہیں ـــ ڈوور،جبرالٹر، سویز ، سنگاپور ا ور کیپ آف گڈ ہوپ‘‘-

ان پانچ میں سے تین بحر ہند کے کنارے واقع ہیں جس سے اس سمندر کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے-موجودہ عالمی اور تزویراتی  منصوبوں (Global and Strategic Settings)   میں سمندر ہمیشہ موجودہ اوراُبھرتی ہوئی عالمی طاقتوں کی سنجیدگی کا مرکز رہا ہے-امریکی بحری افیسر اورسٹریٹیجسٹ جس نے پہلی مرتبہ سمندری طول و عرض میں سکیورٹی اور طاقت کے متعلق وضاحت سے لکھا  ’’اے -ٹی -ماہان ‘‘ (A.T.Mahan)   نے کہا تھا کہ:

Whoever controls the Indian Ocean will dominate Asia …the destiny of the word would be decided on its waters

’’جو کوئی  بھی بحر ہندکو کنٹرول کرے گا وہ ایشیا پرغلبہ حاصل کر لے گا-- - اور دنیا کی تقدیر کا فیصلہ اس کے پانی پر ہوگا‘‘-

ماہان کے یہ الفاظ اپنے آپ میں پیغمبرانہ پیشن گوئی کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ بحر ہند موجودہ طاقت اور سیاست کا مرکز ہے -

بحر ہند دنیا کے بیس (۲۰)فیصد پانی پر مشتمل تیسرا بڑا سمندر ہے-یہ افریقہ کے جنوبی سرے سے آسٹریلیا کے مغربی ساحل تک دس ہزار (۱۰،۰۰۰)کلو میٹرپر پھیلا ہوا ہے-یہ جنوب مغرب میں بحر اوقیانوس جبکہ مشرق میں بحر الکاہل سے ملتا ہے-باب المنداب (Bab Al-Mandab)، آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz)،آبنائے لومبوک(Lombok Strait)،آبنائے پالک (Strait of Palk)اورآبنائے ملاکہ(Strait of Malacca) بحر ہند کے چوک پوائنٹس(Chock Points)/سانس کی نالیوں کی حیثیت رکھتے ہیں-بحر ہند کے مشہور سمندروں میں خلیج عدن(Gulf of Aden)،بحیرہ عرب (Arabian Sea)،خلیج بنگال (Bay of Bengal)،خلیج منار(Gulf of Mannar)،خلیج فارس (Persian Gulf)اور بحیرہ احمر (Red Sea) وغیرہ شامل ہیں-یہ خلیج عدن،باب المنداب،نہر سویز (Suez Canal)اور بحیرہ احمر کے ذریعہ بحیرہ روم(Mediterranean Sea) سے جبکہ آبنائے ملاکہ کے ذریعے بحر الکاہل سے ملتا ہےاور دنیا کی ایک تہائی (۳/۱)آبادی بحر ہند کے متعلقہ علاقوں میں مقیم ہے-

بحر ہند کے اہم تجارتی راستے یورپ اور امریکہ کو مشرق وسطیٰ،افریقہ اور مشرقی ایشیاء سے منسلک کرتے ہیں-یہ خلیج فارس اور انڈونیشیاء کی پیٹرولیم مصنوعات کے لیے اہم تجارتی راستہ ہے-مختصر یہ کہ بحر ہند ہمیشہ تجارت ، سکیورٹی اور سمندری وسائل وغیرہ کے لیے ساحلی ممالک اور عالمی طاقتوں کا مرکز رہا ہے مثلاً ساؤتھ ایشیاء اور ساؤتھ ایسٹ ایشیاء میں نو آبادیاتی حکومتی نظام(Colonialism) کے وقت بحر ہند یورپی ممالک کی سلطنت کو قائم کرنے اور قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کر چکا ہے-

اے -ٹی - ماہان نے اپنی کتاب’’The Influence of Sea Power Upon History:1660-1783‘‘میں لکھا ہے کہ زیادہ بحری طاقت والے ممالک کا دنیا بھر میں اثر دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ ہوگا اور وہ زیادہ رقبے پر حکومت کر سکیں گے۱۴۹۸ءکے واسکوڈےگاما (Vasco Da Gama)کے سفر سے لےکر دوسری جنگ عظیم  کے اختتام تک برطانوی رائل نیوی(British Royal Navy) بحر ہند میں با اثر طاقت  رہی ہے- جنگ کے بعد بحر ہند میں بر طانوی بحریہ کی موجودگی میں کافی کمی آئی اور ۱۹۵۶ءکے سویز کرائسز (Suez Crisis)کے بعد برطانیہ نے سویز کے مشرق میں بھی اپنی بحری ذمہ داریاں چھوڑ دی جس سے اقتدار کا ایک خلاء پیدا ہوگیا اور امریکی بحریہ بحر ہند میں اپنے بحر ی اڈے ڈیاگو گارسیا (Diego Garcia)کے ذریعے اسےپُر کرنے میں کامیاب رہا-امریکی بحریہ کو ان کے بحرین میں موجود فیفتھ فلیٹ(Fifth Fleet)اور جاپان کے مشرق میں موجود سکستھ فلیٹ(Sixth Fleet)  نے مدد پہنچائی اور یوں دوسری عالمی جنگ عظیم کے بعد امریکہ بحرہند اور بحر الکاہل میں واحدغالب سمندری طاقت کے طور پر اُبھرا -سرد جنگ (Cold War)میں بھی امریکہ اپنی سمندری طاقت کو اپنے تزویراتی مفادات(Strategic Interests) کے حصول  کی خاطر استعمال کرتا رہا ہے-اپنی بحری موجودگی کی وجہ سے امریکہ نے بحر ہند کے خطے میں سویت یونین کے اثرکو دبا کر رکھا اور ابھی بھی امریکہ اپنا مقام اور (Status-quo)قائم رکھنا چاہتا ہے-

پاکستان تزویراتی طور پر وسطیٰ اور جنوبی ایشا کے سنگم پر واقع ہے جو خشکی سے محصور (Landlocked)سنٹرل ایشین ری پبلکس (Central Asian Republics)اور توانائی کے بھوکے جنوبی ایشائی ممالک کو جوڑتا ہے اور بحیرہ عرب کے گرم پانی تک پہنچاتا ہے-اسی طرح اس کی توانائی میں امیر اور خود کفیل ایران کے ساتھ بھی ایک طویل سرحد ملتی ہے- قدرت نے پاکستان کو نوسو(۹۰۰) کلومیٹرطویل ساحلی پٹی سے نوازا ہے-۱۹۸۲ءکےیونائیٹڈ نیشن کنوینشن آن لاء آف سیز (United Nation Convention of Law of Seas 1982)کے مطابق پاکستان کو خصوصی اقتصادی زون (Exclusive Economic Zone) میں دو سو (۲۰۰) ناٹیکل میل ایکسپلوریشن حقوق (Exploration Rights) حاصل ہیں جبکہ تین سوپچاس(۳۵۰) ناٹیکل میل کانٹیننٹل شیلف (Continental Shelf) کا حق ہے-پاکستان کی تقریباً نوے (۹۰)فیصد تجارت اور سو (۱۰۰) فیصد تیل کی درآمدات سمندر کے ذریعے ہوتی ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ میری ٹائم سیکٹر پاکستانی معیشت کی بنیاد ہے-تزویراتی اہمیت کی حامل اور دنیا کی توانائی کی ضروریات کی روح رواں ’’آبنائے ہرمز‘‘کے قریب ہونے کی وجہ سے پاکستان کو اور بھی زیادہ اہمیت حاصل ہے-چونکہ دنیا کی بہترین اور اُبھرتی ہوئی معاشی طاقتوں کے لیے توانائی بہت اہمیت کی حامل  ہے لہٰذا آبنائے ہرمز پر تیل کی کھیپ میں خلل امریکہ،یورپی یونین اور جاپان جیسے ممالک کے لیے بہت مسائل پیدا کرسکتا ہے-ماورائے ساحل ہائیڈرو کاربنز(Offshore Hydrocarbons) اور قابل استعمال معدنی ذخائر بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جن میں تیل،لوہا،مینگا نیز گیس اور ہائیڈریٹس وغیر ہ شامل ہیں جو تمام توانائی کے حصول میں استعمال ہوتے ہیں-ابھی تک ابتدائی تحقیقات کے مطابق بلوچستان کے ساحلی علاقے میں گیس ہائیڈریٹس کے بڑے ذخائر موجود ہیں  جن پر مزید کام کی ضرورت ہے-البتہ تا  حال کراچی اہم بندرگاہ اور پاکستانی صنعت کا مرکز ہونے کی وجہ سے پاکستان کے اقتصادی انجن کی حیثیت رکھتا ہے-

۲۰۰۲ءمیں پاکستان اور چائنہ کے درمیان گوادر بندرگاہ کی تعمیر کا معاہدہ طے پایا تھا-گوادر بلوچستان میں بحیرہ عرب کےساحل پر واقع ہے یہ بندرگاہ ایران سے بہتّر (۷۲)کلو میٹر اور آبنائے ہرمز سے چارسو(۴۰۰) کلو میٹرپر واقع  نہایت اہمیت کی حامل ہے-پاک چائنہ اقتصادی راہداری (China Pakistan Economic Corridor/CPEC)کی تعمیر کے مراحل کو دیکھتے ہوئےاس بندرگاہ کی اہمیت کا اندازہ باآسانی لگایا جاسکتا ہے-اب تک چائنہ کا اسی(۸۰) فیصد خام تیل آبنائے ملاکہ اور آبنائے ہر مز (جن پر بھارتی اور امریکی اثر بہت  زیادہ ہے) کے ذریعے خلیجی ریاستوں سے درآمد ہوتا ہے-لیکن پاک- چائنہ راہ داری اور گوادر کے قابل عمل ہونے کے بعد چائنہ کی توانائی اور خام تیل وغیرہ کی درآمدات محضوظ طریقہ سے ہونگی اور اُس کے ساتھ ساتھ انڈیا سے چار سو ساٹھ (۴۶۰)کلو میٹر دوری کی وجہ سے پاکستان کی سٹریٹیجک ڈیپتھ(Strategic Depth) میں بھی اضافہ ہو گا-اس بندرگاہ کی وجہ سے پاکستان خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے ہونے والی تعلقات کی سمندری لائنوں (Sea Lines of Communication/SLOC’s )کی بھی نگرانی کرسکتاہے اور پاکستان چینی بحریہ کی مدد سے بھارتی حرکات و سکنات پر بھی کڑی نظر رکھ سکتا ہے -

مستقبل قریب میں پاکستان کو ممکنہ مسائل یا خطرات کو دو (۲)حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے-روایتی اور غیر روایتی خطرات (Traditional and Non-Traditional Challenges/Threats)-اگرروایتی خطرات کی بات کی جائے تو بھارت سر فہرست ہے-پاک بھارت نا خوشگوار تعلقات،مسئلہ کشمیر اور دہشت گردی وغیرہ سے جنگ کے خطرات منڈلاتے رہتے ہیں البتہ سر کریک (Sir Creek)کی وجہ سے سمندری جنگ بھی ہو سکتی ہے-بھارت قریب ہونے کی وجہ سے اپنی فضائیہ اور بحریہ کا بیک وقت استعمال کر کے ہمارے بنیادی اساس اوراثاثہ جات کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے جو کہ اُس کے عزائم اور اِرادوں سے عیاں ہے کہ وہ ایسا کرے گا -مزید یہ کہ ہماری جنوب مشرقی  تعلقات کی سمندری لائنوں (SLOC’s) سے علیحدگی کے امکانات بھی موجود ہیں-بلیو واٹر نیوی سٹیٹس (Blue Water Navy Status)حاصل کرنے اور عالمی طاقت بننے کے جنون میں بھارت نے روس سے ایٹمی / جوہری آبدوز (Nuclear Submarine) بھی لی ہے اور اپنی ذاتی جوہری آبدوز بھی بنا رہا ہے-اس کے ساتھ ساتھ طاقت کے اظہار(Power Projection) کے لیے فریگیٹ اور ڈسٹرائیر(Frigates and Destroyer)جیسےجنگی جہاز اور طیارہ بردار بحری جہاز (Aircraft Carrier)بھی حاصل کیے ہیں-مزید یہ کہ بھارت سمندرسے جوہری ہتھیار چلانے کی صلاحیت پر بھی کام کر رہا ہے جس سے دونوں جو ہری ممالک کے درمیان موجود تزویراتی استحکام متاثر ہو گا جو کسی بھی ناگزیر المیہ کا سبب بن سکتا ہے  لہٰذا پاکستان کو  بھارت کی بڑھتی ہوئی جنگی صلاحیتوں کا بروقت ادراک کرتے  ہوئے اپنے دفاع کے لیے عالمی طاقتوں (چائنہ اور روس)کے ساتھ مل کر اپنی جوہری صلاحیت پر کام کرنا ہوگا اور پاکستان کے لیے  ضروری ہے کہ وہ اپنی سمندری ذمہ داریاں اور مسائل کا ازسر نو بغور جائزہ لے اور مناسب  دفاعی اور معاشی حکمتِ عملی اختیار کرے-

غیر روایتی مسائل اور خطرات میں قزاقی، منشیات،اسلحہ اور انسانی سمگلنگ وغیر ہ شامل ہیں بحری جہاز اور سمندری بنیادی اثاثی ڈھانچے کے لیے ایک خوفناک  خطرہ سمندری دہشت گردی بھی ہے فرانسیسی سپر ٹینکر لیمبرگ (LIMBURG)اور جاپانی ٹینکرز ایم سٹار اور یو ایس ایس کول (M Star and USS COLE)پر حملے دہشت گردی کی واضع مثالیں ہیں-منشیات سمگلنگ کی بات کی جائے تو ہم جانتے ہیں کہ افغانستان میں دنیا کی نو(۹) فیصدافیون(Opium) کاشت کی جاتی ہے جسے زمینی تجارتی راستوں کے ساتھ ساتھ منشیات کی تجارت کے مشہورراستےہیش ہائی وے(Hash Highway) (جو شمالی بحیرہ عرب سے یورپ اور شمالی امریکہ کو ملاتا ہے) سے  اسمگل کیا جاتاہے  الغرض اس طرح کے دیگر کئی مسائل ہیں جن پر پاکستان کو علاقائی اور عالمی مدد سے قابو پانا ہوگا-

بد قسمتی سے نہایت اہم بحری قوت کا مالک  ہونے کے باوجود پاکستان میں ابتداء ہی سے وہ خاص توجہ نہیں دی گئی جو کہ خطے کے اندر طاقت کے توازن کے لئےضروری تھی ،ہمارے ہمسایہ علاقائی ممالک میر ی ٹائم سیکٹر میں ترقی پذیر ہیں جبکہ ہم ابھی اپنی شپنگ انڈسٹری ہی مستحکم کر پائے-قومی سطح پر سمندری سمجھ بوجھ نہ ہونے اور قلیل بحری فوج ہونے کی وجہ سے بحری مسائل کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی حالانکہ پاکستان سمندری علاقے میں ایک اہم مقام پر ہونے کی وجہ سے بہت سیاسی اثر و رسوخ رکھتا ہے-البتہ گزشتہ چند سالوں میں خصوصاً پاک چائنہ راہ داری اورگوارد پرتعمیراتی کام کےآغاز کے  بعد اس سیکٹر پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے-پاک بحریہ۲۰۰۷ءسے ۲۰۱۷ء تک  ’’امن‘‘کے نام سے پانچ (۵)کامیاب بین الاقوامی بحری مشقیں کروا چکی ہےجس سے نہ صرف پاکستان کی بین الاقوامی عزت اور حیثیت کو فروغ ملا بلکہ پاک بحریہ کا وقار بھی بلند ہوا ہے-فروری۲۰۱۷ءمیں’’امن‘‘نامی بحری مشق میں پینتیس (۳۵)سے زائد ممالک نے اپنے بحری جنگی سازو سامان سمیت شمولیت کی جس کا مقصد بحر ہند میں دہشت گردی اور قزاقی وغیرہ جیسے دیگر خطرات سے مل کر نپٹنے کے عزم کو اُجاگر کرنا تھا-اس عظیم  عمل میں پاک بحریہ مبارک باد کی مستحق ہے -

بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں اور سمندری راستوں میں بڑھتی ہوئی پاکستانی تجارت کو دشمنوں کے ناپاک عزائم سے محفوظ رکھنے کےلئے ہمیں میری ٹائم سیکورٹی سیکٹر میں شدید محنت کی ضرورت ہے ، جس طرح ہماری بری افواج نے سر زمینِ پاکستان کا دفاع کیا ہے اُسی طرح اب وہ مرحلہ شروع ہونے کو ہے جس میں ہم نے بطور ایک زندہ قوم کے اپنے پانیوں کی حفاظت بھی کرنی ہے اور ان آبی گزر گاہوں کو بھی محفوظ بنانا ہے جن سے اس مملکتِ خُداداد کا معاشی مستقبل وابستہ ہے -(اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو- آمین---!)

 

٭٭٭

اکتّر(۷۱)فیصد پانی پر مشتمل کرۂ ارض سات براعظموں اور پانچ سمندروں میں بٹا ہوا ہے-جن میں   بحر الکاہل(Pacific Ocean)، بحر اوقیانوس (Atlantic Ocean)اور بحر ہند(Indian Ocean)  چندمشہور سمندر ہیں- میری ٹائم سکیورٹی سے مراد سمندری طرز عمل (Maritime Practices) ، اثاثہ جات (Resources)، علاقائی سالمیت اور ساحلی امن و امان کی صورتحال کو بہتر اور محفوظ بنانا ہے- میری ٹام سکیورٹی آپریشنز کے مقاصد میں سمندری تجارت کے بہاؤ کی حفاظت،آزادانہ جہاز رانی  کا حق،سمندری اثاثوں کی حفاظت اور دیگر خطرات و جرائم مثلاً دہشت گردی،منشیات اسمگلنگ،قزاقی (Piracy) اور ماحولیاتی تباہی وغیرہ سے بچاؤ شامل ہیں-

سمندروں کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے امریکی ایڈمرل آف دا فلیٹ (Admiral of the Fleet) لارڈ فیشر نے کہا تھا ،

Five keys lock up the world; Dover, Gibraltar, Suez, Singapore and the cape of Good Hope

’’پانچ چابیاں دنیا کو قید کرسکتی ہیں ـــ ڈوور،جبرالٹر، سویز ، سنگاپور ا ور کیپ آف گڈ ہوپ‘‘-

ان پانچ میں سے تین بحر ہند کے کنارے واقع ہیں جس سے اس سمندر کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے-موجودہ عالمی اور تزویراتی  منصوبوں (Global and Strategic Settings)   میں سمندر ہمیشہ موجودہ اوراُبھرتی ہوئی عالمی طاقتوں کی سنجیدگی کا مرکز رہا ہے-امریکی بحری افیسر اورسٹریٹیجسٹ جس نے پہلی مرتبہ سمندری طول و عرض میں سکیورٹی اور طاقت کے متعلق وضاحت سے لکھا  ’’اے -ٹی -ماہان ‘‘ (A.T.Mahan)   نے کہا تھا کہ:

Whoever controls the Indian Ocean will dominate Asia …the destiny of the word would be decided on its waters

’’جو کوئی  بھی بحر ہندکو کنٹرول کرے گا وہ ایشیا پرغلبہ حاصل کر لے گا-- - اور دنیا کی تقدیر کا فیصلہ اس کے پانی پر ہوگا‘‘-

ماہان کے یہ الفاظ اپنے آپ میں پیغمبرانہ پیشن گوئی کی حیثیت رکھتے ہیں کیونکہ بحر ہند موجودہ طاقت اور سیاست کا مرکز ہے -

بحر ہند دنیا کے بیس (۲۰)فیصد پانی پر مشتمل تیسرا بڑا سمندر ہے-یہ افریقہ کے جنوبی سرے سے آسٹریلیا کے مغربی ساحل تک دس ہزار (۱۰،۰۰۰)کلو میٹرپر پھیلا ہوا ہے-یہ جنوب مغرب میں بحر اوقیانوس جبکہ مشرق میں بحر الکاہل سے ملتا ہے-باب المنداب (Bab Al-Mandab)، آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz)،آبنائے لومبوک(Lombok Strait)،آبنائے پالک (Strait of Palk)اورآبنائے ملاکہ(Strait of Malacca) بحر ہند کے چوک پوائنٹس(Chock Points)/سانس کی نالیوں کی حیثیت رکھتے ہیں-بحر ہند کے مشہور سمندروں میں خلیج عدن(Gulf of Aden)،بحیرہ عرب (Arabian Sea)،خلیج بنگال (Bay of Bengal)،خلیج منار(Gulf of Mannar)،خلیج فارس (Persian Gulf)اور بحیرہ احمر (Red Sea) وغیرہ شامل ہیں-یہ خلیج عدن،باب المنداب،نہر سویز (Suez Canal)اور بحیرہ احمر کے ذریعہ بحیرہ روم(Mediterranean Sea) سے جبکہ آبنائے ملاکہ کے ذریعے بحر الکاہل سے ملتا ہےاور دنیا کی ایک تہائی (۳/۱)آبادی بحر ہند کے متعلقہ علاقوں میں مقیم ہے-

بحر ہند کے اہم تجارتی راستے یورپ اور امریکہ کو مشرق وسطیٰ،افریقہ اور مشرقی ایشیاء سے منسلک کرتے ہیں-یہ خلیج فارس اور انڈونیشیاء کی پیٹرولیم مصنوعات کے لیے اہم تجارتی راستہ ہے-مختصر یہ کہ بحر ہند ہمیشہ تجارت ، سکیورٹی اور سمندری وسائل وغیرہ کے لیے ساحلی ممالک اور عالمی طاقتوں کا مرکز رہا ہے مثلاً ساؤتھ ایشیاء اور ساؤتھ ایسٹ ایشیاء میں نو آبادیاتی حکومتی نظام(Colonialism) کے وقت بحر ہند یورپی ممالک کی سلطنت کو قائم کرنے اور قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کر چکا ہے-

اے -ٹی - ماہان نے اپنی کتاب’’The Influence of Sea Power Upon History:1660-1783‘‘میں لکھا ہے کہ زیادہ بحری طاقت والے ممالک کا دنیا بھر میں اثر دوسرے ممالک کی نسبت زیادہ ہوگا اور وہ زیادہ رقبے پر حکومت کر سکیں گے۱۴۹۸ءکے واسکوڈےگاما (Vasco Da Gama)کے سفر سے لےکر دوسری جنگ عظیم  کے اختتام تک برطانوی رائل نیوی(British Royal Navy) بحر ہند میں با اثر طاقت  رہی ہے- جنگ کے بعد بحر ہند میں بر طانوی بحریہ کی موجودگی میں کافی کمی آئی اور ۱۹۵۶ءکے سویز کرائسز (Suez Crisis)کے بعد برطانیہ نے سویز کے مشرق میں بھی اپنی بحری ذمہ داریاں چھوڑ دی جس سے اقتدار کا ایک خلاء پیدا ہوگیا اور امریکی بحریہ بحر ہند میں اپنے بحر ی اڈے ڈیاگو گارسیا (Diego Garcia)کے ذریعے اسےپُر کرنے میں کامیاب رہا-امریکی بحریہ کو ان کے بحرین میں موجود فیفتھ فلیٹ(Fifth Fleet)اور جاپان کے مشرق میں موجود سکستھ فلیٹ(Sixth Fleet)  نے مدد پہنچائی اور یوں دوسری عالمی جنگ عظیم کے بعد امریکہ بحرہند اور بحر الکاہل میں واحدغالب سمندری طاقت کے طور پر اُبھرا -سرد جنگ (Cold War)میں بھی امریکہ اپنی سمندری طاقت کو اپنے تزویراتی مفادات(Strategic Interests) کے حصول  کی خاطر استعمال کرتا رہا ہے-اپنی بحری موجودگی کی وجہ سے امریکہ نے بحر ہند کے خطے میں سویت یونین کے اثرکو دبا کر رکھا اور ابھی بھی امریکہ اپنا مقام اور (Status-quo)قائم رکھنا چاہتا ہے-

پاکستان تزویراتی طور پر وسطیٰ اور جنوبی ایشا کے سنگم پر واقع ہے جو خشکی سے محصور (Landlocked)سنٹرل ایشین ری پبلکس (Central Asian Republics)اور توانائی کے بھوکے جنوبی ایشائی ممالک کو جوڑتا ہے اور بحیرہ عرب کے گرم پانی تک پہنچاتا ہے-اسی طرح اس کی توانائی میں امیر اور خود کفیل ایران کے ساتھ بھی ایک طویل سرحد ملتی ہے- قدرت نے پاکستان کو نوسو(۹۰۰) کلومیٹرطویل ساحلی پٹی سے نوازا ہے-۱۹۸۲ءکےیونائیٹڈ نیشن کنوینشن آن لاء آف سیز (United Nation Convention of Law of Seas 1982)کے مطابق پاکستان کو خصوصی اقتصادی زون (Exclusive Economic Zone) میں دو سو (۲۰۰) ناٹیکل میل ایکسپلوریشن حقوق (Exploration Rights) حاصل ہیں جبکہ تین سوپچاس(۳۵۰) ناٹیکل میل کانٹیننٹل شیلف (Continental Shelf) کا حق ہے-پاکستان کی تقریباً نوے (۹۰)فیصد تجارت اور سو (۱۰۰) فیصد تیل کی درآمدات سمندر کے ذریعے ہوتی ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ میری ٹائم سیکٹر پاکستانی معیشت کی بنیاد ہے-تزویراتی اہمیت کی حامل اور دنیا کی توانائی کی ضروریات کی روح رواں ’’آبنائے ہرمز‘‘کے قریب ہونے کی وجہ سے پاکستان کو اور بھی زیادہ اہمیت حاصل ہے-چونکہ دنیا کی بہترین اور اُبھرتی ہوئی معاشی طاقتوں کے لیے توانائی بہت اہمیت کی حامل  ہے لہٰذا آبنائے ہرمز پر تیل کی کھیپ میں خلل امریکہ،یورپی یونین اور جاپان جیسے ممالک کے لیے بہت مسائل پیدا کرسکتا ہے-ماورائے ساحل ہائیڈرو کاربنز(Offshore Hydrocarbons) اور قابل استعمال معدنی ذخائر بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں جن میں تیل،لوہا،مینگا نیز گیس اور ہائیڈریٹس وغیر ہ شامل ہیں جو تمام توانائی کے حصول میں استعمال ہوتے ہیں-ابھی تک ابتدائی تحقیقات کے مطابق بلوچستان کے ساحلی علاقے میں گیس ہائیڈریٹس کے بڑے ذخائر موجود ہیں  جن پر مزید کام کی ضرورت ہے-البتہ تا  حال کراچی اہم بندرگاہ اور پاکستانی صنعت کا مرکز ہونے کی وجہ سے پاکستان کے اقتصادی انجن کی حیثیت رکھتا ہے-

۲۰۰۲ءمیں پاکستان اور چائنہ کے درمیان گوادر بندرگاہ کی تعمیر کا معاہدہ طے پایا تھا-گوادر بلوچستان میں بحیرہ عرب کےساحل پر واقع ہے یہ بندرگاہ ایران سے بہتّر (۷۲)کلو میٹر اور آبنائے ہرمز سے چارسو(۴۰۰) کلو میٹرپر واقع  نہایت اہمیت کی حامل ہے-پاک چائنہ اقتصادی راہداری (China Pakistan Economic Corridor/CPEC)کی تعمیر کے مراحل کو دیکھتے ہوئےاس بندرگاہ کی اہمیت کا اندازہ باآسانی لگایا جاسکتا ہے-اب تک چائنہ کا اسی(۸۰) فیصد خام تیل آبنائے ملاکہ اور آبنائے ہر مز (جن پر بھارتی اور امریکی اثر بہت  زیادہ ہے) کے ذریعے خلیجی ریاستوں سے درآمد ہوتا ہے-لیکن پاک- چائنہ راہ داری اور گوادر کے قابل عمل ہونے کے بعد چائنہ کی توانائی اور خام تیل وغیرہ کی درآمدات محضوظ طریقہ سے ہونگی اور اُس کے ساتھ ساتھ انڈیا سے چار سو ساٹھ (۴۶۰)کلو میٹر دوری کی وجہ سے پاکستان کی سٹریٹیجک ڈیپتھ(Strategic Depth) میں بھی اضافہ ہو گا-اس بندرگاہ کی وجہ سے پاکستان خلیج فارس اور آبنائے ہرمز سے ہونے والی تعلقات کی سمندری لائنوں (Sea Lines of Communication/SLOC’s )کی بھی نگرانی کرسکتاہے اور پاکستان چینی بحریہ کی مدد سے بھارتی حرکات و سکنات پر بھی کڑی نظر رکھ سکتا ہے -

مستقبل قریب میں پاکستان کو ممکنہ مسائل یا خطرات کو دو (۲)حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے-روایتی اور غیر روایتی خطرات (Traditional and Non-Traditional Challenges/Threats)-اگرروایتی خطرات کی بات کی جائے تو بھارت سر فہرست ہے-پاک بھارت نا خوشگوار تعلقات،مسئلہ کشمیر اور دہشت گردی وغیرہ سے جنگ کے خطرات منڈلاتے رہتے ہیں البتہ سر کریک (Sir Creek)کی وجہ سے سمندری جنگ بھی ہو سکتی ہے-بھارت قریب ہونے کی وجہ سے اپنی فضائیہ اور بحریہ کا بیک وقت استعمال کر کے ہمارے بنیادی اساس اوراثاثہ جات کو شدید نقصان پہنچا سکتا ہے جو کہ اُس کے عزائم اور اِرادوں سے عیاں ہے کہ وہ ایسا کرے گا -مزید یہ کہ ہماری جنوب مشرقی  تعلقات کی سمندری لائنوں (SLOC’s) سے علیحدگی کے امکانات بھی موجود ہیں-بلیو واٹر نیوی سٹیٹس (Blue Water Navy Status)حاصل کرنے اور عالمی طاقت بننے کے جنون میں بھارت نے روس سے ایٹمی / جوہری آبدوز (Nuclear Submarine) بھی لی ہے اور اپنی ذاتی جوہری آبدوز بھی بنا رہا ہے-اس کے ساتھ ساتھ طاقت کے اظہار(Power Projection) کے لیے فریگیٹ اور ڈسٹرائیر(Frigates and Destroyer)جیسےجنگی جہاز اور طیارہ بردار بحری جہاز (Aircraft Carrier)بھی حاصل کیے ہیں-مزید یہ کہ بھارت سمندرسے جوہری ہتھیار چلانے کی صلاحیت پر بھی کام کر رہا ہے جس سے دونوں جو ہری ممالک کے درمیان موجود تزویراتی استحکام متاثر ہو گا جو کسی بھی ناگزیر المیہ کا سبب بن سکتا ہے  لہٰذا پاکستان کو  بھارت کی بڑھتی ہوئی جنگی صلاحیتوں کا بروقت ادراک کرتے  ہوئے اپنے دفاع کے لیے عالمی طاقتوں (چائنہ اور روس)کے ساتھ مل کر اپنی جوہری صلاحیت پر کام کرنا ہوگا اور پاکستان کے لیے  ضروری ہے کہ وہ اپنی سمندری ذمہ داریاں اور مسائل کا ازسر نو بغور جائزہ لے اور مناسب  دفاعی اور معاشی حکمتِ عملی اختیار کرے-

غیر روایتی مسائل اور خطرات میں قزاقی، منشیات،اسلحہ اور انسانی سمگلنگ وغیر ہ شامل ہیں بحری جہاز اور سمندری بنیادی اثاثی ڈھانچے کے لیے ایک خوفناک  خطرہ سمندری دہشت گردی بھی ہے فرانسیسی سپر ٹینکر لیمبرگ (LIMBURG)اور جاپانی ٹینکرز ایم سٹار اور یو ایس ایس کول (M Star and USS COLE)پر حملے دہشت گردی کی واضع مثالیں ہیں-منشیات سمگلنگ کی بات کی جائے تو ہم جانتے ہیں کہ افغانستان میں دنیا کی نو(۹) فیصدافیون(Opium) کاشت کی جاتی ہے جسے زمینی تجارتی راستوں کے ساتھ ساتھ منشیات کی تجارت کے مشہورراستےہیش ہائی وے(Hash Highway) (جو شمالی بحیرہ عرب سے یورپ اور شمالی امریکہ کو ملاتا ہے) سے  اسمگل کیا جاتاہے  الغرض اس طرح کے دیگر کئی مسائل ہیں جن پر پاکستان کو علاقائی اور عالمی مدد سے قابو پانا ہوگا-

بد قسمتی سے نہایت اہم بحری قوت کا مالک  ہونے کے باوجود پاکستان میں ابتداء ہی سے وہ خاص توجہ نہیں دی گئی جو کہ خطے کے اندر طاقت کے توازن کے لئےضروری تھی ،ہمارے ہمسایہ علاقائی ممالک میر ی ٹائم سیکٹر میں ترقی پذیر ہیں جبکہ ہم ابھی اپنی شپنگ انڈسٹری ہی مستحکم کر پائے-قومی سطح پر سمندری سمجھ بوجھ نہ ہونے اور قلیل بحری فوج ہونے کی وجہ سے بحری مسائل کو زیادہ اہمیت نہیں دی گئی حالانکہ پاکستان سمندری علاقے میں ایک اہم مقام پر ہونے کی وجہ سے بہت سیاسی اثر و رسوخ رکھتا ہے-البتہ گزشتہ چند سالوں میں خصوصاً پاک چائنہ راہ داری اورگوارد پرتعمیراتی کام کےآغاز کے  بعد اس سیکٹر پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے-پاک بحریہ۲۰۰۷ءسے ۲۰۱۷ء تک  ’’امن‘‘کے نام سے پانچ (۵)کامیاب بین الاقوامی بحری مشقیں کروا چکی ہےجس سے نہ صرف پاکستان کی بین الاقوامی عزت اور حیثیت کو فروغ ملا بلکہ پاک بحریہ کا وقار بھی بلند ہوا ہے-فروری۲۰۱۷ءمیں’’امن‘‘نامی بحری مشق میں پینتیس (۳۵)سے زائد ممالک نے اپنے بحری جنگی سازو سامان سمیت شمولیت کی جس کا مقصد بحر ہند میں دہشت گردی اور قزاقی وغیرہ جیسے دیگر خطرات سے مل کر نپٹنے کے عزم کو اُجاگر کرنا تھا-اس عظیم  عمل میں پاک بحریہ مبارک باد کی مستحق ہے -

بدلتے ہوئے عالمی منظر نامے میں اور سمندری راستوں میں بڑھتی ہوئی پاکستانی تجارت کو دشمنوں کے ناپاک عزائم سے محفوظ رکھنے کےلئے ہمیں میری ٹائم سیکورٹی سیکٹر میں شدید محنت کی ضرورت ہے ، جس طرح ہماری بری افواج نے سر زمینِ پاکستان کا دفاع کیا ہے اُسی طرح اب وہ مرحلہ شروع ہونے کو ہے جس میں ہم نے بطور ایک زندہ قوم کے اپنے پانیوں کی حفاظت بھی کرنی ہے اور ان آبی گزر گاہوں کو بھی محفوظ بنانا ہے جن سے اس مملکتِ خُداداد کا معاشی مستقبل وابستہ ہے -(اللہ تعالیٰ ہمارا حامی و ناصر ہو- آمین---!)

٭٭٭

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر