قوموں کا عروج و زوال

قوموں کا عروج و زوال

قوم کی تعریف اور مآخذ :

قوم کسی خطۂ ارض میں رہنے والا وہ گروہ ہے جس میں نسلی، لسانی اور تاریخی وحدت پائی جاتی ہو اور جو ایک نظام کے تحت متحد ہو-[1] لفظ قوم لاطینی لفظ ناٹیو( nāscor)سے ماخوذ ہے جس کا مطلب پیدائش، لوگ (نسلی اعتبار سے)، ذات یا طبقے سے ہو سکتے ہیں-ایک قوم کی ثقافتی ، معاشرتی ، تاریخی اور سیاسی شناخت لوگوں کی خصوصیت کی حامل ہوتی ہے- اس لحاظ سے، کسی قوم کے احساس کی تعریف اس گروہ کی رائے کے طور پر کی جاسکتی ہے  جو ثقافتی اعتبار سے اس کی شناخت کرتے ہیں-[2] باالفاظِ دیگر قوم کسی ریاست، علاقے، ملک یا وہاں موجود باشندوں کی طرف اشارہ ہے یعنی قوم اس بات کا ثبوت ہے کہ کوئی جگہ موجود ہے جہاں لوگ اپنی تاریخ اور تہذیب و ثقافت کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں-

قوموں کا عروج و زوال

اور مفکرین و مؤرخین کی آراء :

فارسی زبان کی مشہور ضرب المثل ہے کہ ’’ہَر کَمَالِے رَا زَوَالِے، ہَر زَوَالِے رَا کَمَال‘‘ یعنی ہر عروج کو زوال اور ہر زوال کو عروج ہے-اسی فلسفے کے تحت قوموں اور تہذیبوں کا عروج و زوال بھی ایک فطری عمل ہے جس میں ہر دور کے اعتبار سے کئی اسباب و عوامل کار فرماہوتے ہیں -انسانی تاریخ قوموں کے عروج وزوال کی ان گنت مثالوں سے بھری پڑی ہے- مثلاً بنی اسرائیل دنیا کی معزز و معتبر قوم تھی جس پر انعامات ِ خداوندی کی کثرت سے فراوانی تھی لیکن جب وہ نفس پرستی اور دینی و اخلاقی طور پر دیوالیہ پن اور قوانین و حدود ِالٰہی سے بغاوت کی مرتکب ٹھہری تو مفتوح و مغلوب ہو گئی- (قرآن کریم نے بنی اسرائیل کی سرگزشت اور دیگر اقوام کے عروج و زوال کافلسفہ بڑی صراحت سے بیان فرمایا ہے جو آج بھی اقوامِ عالم کیلئے عبرت ہے)-اسی طرح روما سلطنت (Roman Empire) تقریباً 1000سال قائم رہنے کے باوجود بالآخر زوال پذیر ہوئی جس کی کئی سماجی اور معاشی و اقتصادی وجوہا ت تھیں-علاوہ ازیں ایسی اقوام کی طویل فہرست ہے جنہوں نے عروج کے بعد اپنی بد اعمالیوں اور کمزوریوں کے سبب زوال کا مزہ چکھا-

بلاشبہ قوموں اور تہذیبوں کا عروج و زوال، ارتقا و انحطاط اور سماجی تغیر و تبدل تاریخ انسانی کے ہر عہد میں مختلف مسلم و غیر مسلم، اہل ِعلم و دانش اور فلاسفہ کی بحث کا سنجیدہ موضوع رہا ہے-

مسلمان مفکرین میں ابن خلدون، امام سخاوی، شکیب ارسلان اور علامہ اقبال نے اس اہم موضوع پر عالمانہ ومجتہدانہ بصیرت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے جبکہ مغربی مفکرین ٹائن بی، اسپنگلر، ویجوہیگل اور کارل مارکس نے اپنے اپنے انداز میں قوموں اور تہذیبوں کےعروج وزوال پر قابل قدر بحث کی ہے- [3]

علامہ عبدالرّحمٰن ابنِ خلدون کے نزدیک جس طرح انسان پہلے بچپن پھر جوانی اور بڑھاپے کے ادوار سے گزرتا ہے اسی طرح اقوام بھی اسی نشیب وفراز سے گزرتی ہے-جس طرح زندگی کیلئے موت شرط ہے اسی طرح قوموں پہ عروج و زوال لازم ہے[4]- مزید آگے چل کر ابنِ خلدون لکھتے ہیں کہ:

’’لوگوں کی خوشحالی یا پریشانی قوموں کے عروج و زوال میں بنیادی وجہ ہوتی ہے-ابن خلدون کے مطابق صرف معاشی تغیر ہی نہیں بلکہ اخلاق، انسٹیٹیوٹ، نفسیاتی پریشر، سیاست، سماجی اور جغرافیائی عناصر تاریخ کے دھارے کو بدلتے ہیں یا زوال کی وجہ بنتے ہیں‘‘-[5]

ویجو ہیگل (1648-1744) کے خیال میں عر وج کے زوال کا باعث، اخلاقی کمزوری، بددیانتی اور مذہب سے دوری ہوتی ہے اور ویجوکے نزدیک آفاقی اصول ہے کہ ہرپسماندہ قوم ترقی کرے گی اور ہرترقی یافتہ قوم کو زوال آئے گا- [6]

اوسوالڈ ااسپنگلر (1880-1936ء) کے نزدیک قوموں اور تہذیبوں کو دائمی عروج نصیب نہیں ہوتابلکہ گردش ایام نامی گرامی اقوام کو اوج ثریا سے زمین پر مار دیتی ہیں- مغربی تہذیب جس کی ظاہری چمک دمک کے باعث اس کے زوال کے بظاہر تو کوئی آثار نظر نہیں آتے لیکن اسپنگلر کو مغربی تہذیب کا زوال نوشتہ دیوار لگتا ہے جس کا انکشاف وہ اس طرح کرتا ہے کہ:

’’ہر وجود فانی ہے، صرف انسان ہی نہیں بلکہ زبانیں، نسلیں، ثقافتیں سب عارضی ہیں- آج سے چند صدیوں بعد کسی مغربی ثقافت کا وجودنہیں ہوگا- کوئی جرمن، انگریزفرانسیسی نہ ہوگا‘‘-[7]

حکیم الاُمت علامہ اقبالؒ بھی قوموں اورتہذیبوں کے زوال کے منکر نہیں ہیں بلکہ وہ زوال کی تعبیر قدرت کے فطری اور اٹل قوانین کی روشنی میں کرتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ اگر قومیں قیادت کے مطلوبہ اوصاف سے متصف ہوں تو انہیں عروج مل سکتا ہے-اقبال تن آسانی اور راحت پسندی کو زوال کا سبب بتاتے ہیں- مزید علامہ اقبال نے قوموں کے عروج زوال کی داستان میں فرد کی سیرت وکردار کی تعمیر کو اولیت دی ہے اور یہ حقیقت واضح کی ہے کہ فرد کے بغیر تعمیرِ معاشرہ کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا- علامہ اقبال کے نزدیک ’’دنیا میں کسی قوم کی اصلاح نہیں ہوسکتی جب تک اس قوم کے افراد اپنی ذاتی اصلاح کی طرف توجہ نہ دیں‘‘[8]- اقبالؒ نے شاعرانہ پیرائے میں اسے کچھ اس طرح بیان کیا ہے:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملّت کے مقدر کا ستارا

مسلم اقوام کے عروج و زوال کا مختصر جائزہ:

ملت ِ اسلامیہ ایک عظیم الشان ماضی اور منفرد تاریخ کی حامل ہے کیونکہ مسلمانوں کی وابستگی اور فیضان کا منبع کتاب ِ ہدایت اور سیدالانبیاء خاتم النبیین حضرت محمد مصطفےٰ(ﷺ) کی ذاتِ قدسیہ ہے- اسلامی تاریخ کا بنظرِ عمیق مطالعہ کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں پر ایک ایسا دور گزرا ہے جب وہ علمی و فکری،ادبی و سائنسی،سماجی و اخلاقی اور تہذیبی و ثقافتی لحاظ سے بامِ عروج پر تھے-خلافت ِ راشدہ، خلافتِ عباسیہ، سلطنتِ اندلس، سلطنتِ سلجوقیہ اور سلطنتِ عثمانیہ (جو 1517ء میں حجاز کی فتح کے بعد میں خلافتِ عثمانیہ میں تبدیل ہو گئی) مسلمانوں کے عروج کی ایسی محیر العقول مثالیں ہیں کہ جب مسلمان علم و حکمت، آرٹ، فنون ِ لطیفہ، ایجادات، طرزِ حکومت و معاشرت، آئین سازی، جمہوریت، ریاستی نظم و نسق اور فتوحات کے میدان میں دنیا کو لیڈ کر رہے تھے اور یہ مسلم نشاۃ ثانیہ اور شوکت و تجمل کا دور تھا لیکن آہستہ آہستہ مسلمان زوال کی طرف بڑھنے لگے-مسلمانوں کا باقاعدہ زوال 11 ویں صدی ہجری میں شروع ہو ا جس کے کئی اسباب اور وجوہات تھیں- تاریخِ جدید میں مغلیہ سلطنت برِ صغیر میں مسلمانوں کے عروج اور شوکت کی آخری کڑی تھی جو ایک طویل عرصہ تک قائم رہی لیکن بالآخر زوال پذیر ہوئی-محققین کے مطابق کمزور سیاسی و دفاعی منصوبہ بندی، علوم و ایجادات کی سرپرستی کرنے سے غَفلت، اخلاقی اقدار کی نا پاسداری،  بد دیانتی، سستی و کاہلی،  ترکِ فرض، بہت حد تک آمدنی اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم، امت مسلمہ میں تضاد اور بے جا اختلاف مسلم اُمہ کے زوال کی بنیادی وجوہات ہیں-اس کے علاوہ قرآنی تعلیمات سے دوری بھی مسلمانوں کے زوال کی نشانیاں ہیں- [9]

57 ممالک، کثیر زرِ مبادلہ، کثیر معدنی وسائل، کثیر ہیومن ریسورس، بہترین بری، فضائی و بحری افواج کے باوجود آج اُمتِ مسلمہ بحیثیت ِ مجموعی زوال و پستی کا شکار ہے جس کی وجہ اپنے عظیم الشان ماضی اور اسلام کی تعلیمات و سنہری اصولوں سے غفلت و بیگانگی ہے- اسی لیے دوسری اقوام مسلمانوں پر سیاسی،معاشی و اقتصادی لحاظ سے غالب ہیں اور ہم بقول اقبالؒ ہاتھ پر ہاتھ دھرے اپنی شکست کا انتظار کر رہے ہیں-

قیامِ پاکستان کے مقاصد اور پاکستان کی حالیہ صورتحال :

اسلامی جمہوریہ پاکستان کرۂ ارض پر ریاستِ مدینہ کے بعد دوسری اسلامی نظریاتی ریاست ہے جسے مدینہ ثانی بھی کہا جاتا ہے-اس عظیم اور منفرد مملکت کا قیام برِ صغیر کی تاریخ میں اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے- پاکستان دنیا میں احیائے اسلام اور تعلیماتِ قرآن و سنت کی عملی تجربہ گاہ کیلئے حاصل کیا گیا تھا لیکن پاکستان کی حالیہ صورتحال، اِس کو درپیش چیلنجز  اور قیام ِ پاکستان کے مقاصد سے عملی انحراف و دوری کی عکاسی کرتے ہیں-قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک ہم صرف معیشت کا رونا رو رہے ہیں - گرچہ معاشی و اقتصادی استحکام بھی قومی ترقی کیلئے ناگزیر ہے لیکن اس سے کہیں بڑھ کر ایک اسلامی ریاست کے عروج و اقبال کیلئے اس کا نظریہ، تہذیب و ثقافت، اقدار و روایات اور تعلیماتِ اسلام کی آبیاری و تحفظ لازمی عنصر ہے جسے ہم نے تقریبا ً فراموش کر رکھا ہے- بقول قائد اعظمؒ قیام ِ پاکستان کا واحد مقصد اسلام کی حفاظت ہے جو پاکستان کے نظریاتی و روحانی وجود کا سرچشمہ ہے- آپؒ کے الفاظ میں:

Pakistan is not only a practicable goal but the only goal if you want to save Islam from complete annihilation in this country”.[10]

’’پاکستان نہ صرف ایک قابلِ عمل مقصد ہے بلکہ یہ اسلام کو اس ملک میں مکمل انعدام سے بچانے کا واحد راستہ ہے‘‘-

الغرض! دنیا میں پاکستان کے قیام کا مقصد اسلامی جمہوری اصولوں،نظریۂ اسلام اور اسلامی تہذیب و ثقافت کی آبیاری اور اس عظیم مملکت کو حقیقی فلاحی ریاست بنانے کیلئے قرآن و سنت کو اپنا رہبر و پیشوا بنانا ہے-لیکن موجودہ پاکستان قیامِ پاکستان کے اسلامی مقاصد اور فکر سے کوسوں دور ہے-

مذکورہ تحریر اسی موضوع پر بحث کرتی ہے جس میں ہم پاکستان کی حالیہ صورتحال کے تناظر میں چند ایسی وجوہات ضبطِ تحریر میں لائیں گے جو پاکستان کی ترقی و خوشحالی اور دنیا میں پاکستان کے عروج کے حصول کیلئے بنیادی رکاوٹ ہیں جن میں نظریاتی ضعف، اخلاقی و روحانی بحران، عدم مساوات و برابری، انصاف اور قانون کی بالادستی کا فقدان،کرپشن و بدعنوانی کا المیہ، نوجوان نسل میں تساہل و تغافل پسندی اور ہمارا تعلیمی معیار و تعلیمی نظام سرِ فہرست ہیں جن کا تذکرہ ذیل میں کیا گیا ہے-

نظریاتی دوری اور اخلاقی و روحانی بحران:

 یہ حقیقت ہے کہ نظریہ کسی ملک یا قوم کی بقاء میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے جس سے انحراف و دوری قوم کے زوال کا بنیادی سبب بنتا ہے-جب بھی کوئی قوم ترقی و عروج کی منازل طے کرتی ہے تو اس کے پیچھے اس کی نظریاتی قوت (Ideological Force) واحد اور مضبوط سہارا ہوتی ہے-مملکتِ پاکستان ’’لَا اِلہَ اِلَّا اللہ مُحَمَّدُالرَّسُوْلُ اللہ‘‘ جیسے منفرد و عظیم نظریے کی بنیاد پر قائم کی گئی اور یہی نظریہ پاکستان کی فلاح و بقاء کی کلید ہے لیکن پاکستان میں نظریہ پاکستان کے خلاف ہر دور میں سازشیں ہوتی رہی ہیں جس میں کچھ پاکستان اور اسلام دشمن عناصر بالخصوص نوجوان نسل کے ذہن و قلب فتنہ و فساد کا زہر انڈیل کر انہیں اپنی نظریاتی و روحانی بنیادوں سے دور کرنے میں اپنا گھناؤنا کردار ادا کرتے ہیں- پاکستان میں نوجوان نسل اپنی نظریاتی اساس سے دن بدن دور ہوتی جارہی ہے جس کی ایک بڑی وجہ قیامِ ِ پاکستان کے نظریاتی مقاصد سے ناآشنائی ہے- نظریے کے بعد دوسرا لازمی پہلو اخلاقیات (Ethics)  و روحانیت (Spirituality)  کا  ہے جس کے بغیر مثالی و فلاحی معاشرہ کی تشکیل کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا- اخلاقی و روحانی بحران کی وجہ سے معاشرے میں سماجی برائیاں اور نفس پرستی کی شکل میں روحانی اضطراب جنم لیتا ہے جو بالآخر معاشرے کو زوال تک پہنچادیتا ہے-

آج مملکت ِ پاکستان میں تقریباً ہر سطح (جیسے سیاسی،سماجی اور کاروباری وغیرہ) پر اخلاقی و روحانی بحران نظر آتا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ وطنِ عزیز میں لوگوں کا اسلام اور صوفیائے کرام کی اخلاقی و روحانی تعلیمات کی طرف رجحان بہت ہی کم ہے حالانکہ اخلاق و روحانیت اسلام کی اساس ہے-اس کے علاوہ پاکستان میں نوجوان نسل میں اخلاقی و روحانی اقدار اور شعور کو فروغ دینے میں تعلیمی و تحقیقی سطح پر کوئی خاص تربیتی کورس یا باقاعدہ ڈسپلن موجود نہیں ہے جو لوگوں کو اسلامی اخلاقیات سے روشناس کروائے-بالآخر اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لوگ اخلاقی و روحانی تعلیم سے تہی دامن ہونے کی وجہ سے غلط راستہ اختیار کرتے ہیں جس سے پھر معاشرے میں اخلاقی برائیاں، شدت پسندی ، تعصبات، مار دھاڑ اور روحانی تذبذب جنم لیتی ہیں -

پاکستان میں عدل و انصاف اور قانون کی بالادستی کافقدان :

دینِ اسلام نے ہر معاملے میں عدل و انصاف کا حکم دیا ہے چاہے قانونی عدل (Judicial System)ہو یا عمرانی عدل (Social Justice) اسلام ہر قسم کی ناانصافی کی سختی سے تردید کرتا ہے کیونکہ کوئی بھی ملک یا معاشرہ انصاف اور قانون کی حکمرانی کے بغیر ترقی نہیں کر سکتا اور فی الحقیقت مثالی ریاست اور طرزِ حکومت کا تصور نظام ِ عدل قائم کیے بغیر ممکن ہی نہیں- دورِ قدیم میں بادشاہ ہی سلطنت کا حکمران ہوتا، انصاف اور قانون کا پیمانہ اسی(فردِ واحد) کے ہاتھ میں ہوتا تھا، وہ جس کے حق میں جو فیصلہ صادر کرتا وہی حتمی مانا جاتا لیکن وقت کے تقاضوں کے ساتھ ساتھ فرد کی بالا دستی کی بجائے قانون کی بالا دستی قائم ہوتی چلی گئی- قانون کی حکمرانی سے معاشرے میں امن و استحکام اور عدل و انصاف رواج پکڑتا ہے اور ہر ایک کو یکساں حقوق میسر آتے ہیں جبکہ نا انصافی اور قانون کی حکمرانی کے بغیر معاشرے میں عدم استحکا م کی ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے جو اسے جلد یا بدیر زوال کی طرف دھکیل دیتی ہے-

بد قسمتی مملکت ِ پاکستان میں سماجی اور عدالتی سطح پر انصاف اور قانون کی بالا دستی کا شدت سے فقدان نظر آتا ہے جہاں جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا نظام نافذ ہے -جیسے قدیم یونانی فلسفی افلاطون (PLATO) قانون کے بارے میں کہتا ہے: ’’قانون مکڑی کا وہ جالا ہے جس میں صرف کیڑے مکوڑے پھنستے ہیں جبکہ بڑے جانور اس کو پھاڑ کر نکل جاتے ہیں‘‘-یعنی قانون کی گرفت میں صرف غریب ہی آتے جبکہ امیر قانون کی گرفت سے با آسانی نکل جاتے ہیں- پاکستان میں کچھ ایسی ہی صورتحال ہے جہاں غریب اور امیر کیلئے یکساں انصاف کا نظام برائے نام ہے-شاید یہی وجہ ہے کہ WJP کی حالیہ رپورٹ (2021ء) کے مطابق پاکستان قانون کی بالادستی (Rule of Law) کے 139 ممالک میں 130 سے نمبر پہ آتا ہے جبکہ جنوبی ایشیا ء میں پاکستان چھ ممالک میں سے پانچویں نمبر پر آتا ہے- [11]

افراد میں تساہل و تغافل پسندی/ نوجوان نسل کی ترجیحات:

یہ تاریخی حقیقت ہے کہ قوموں کی تعمیر و تشکیل میں افراد(بالخصوص نوجوان نسل) کا ایک غیرمعمولی کردار ہوتا ہے اور کسی بھی قوم کے افراد اس کے تنِ مردہ میں اپنی سعی و جستجو ،محنت و ہمت اور جذبہ قربانی سے نئی روح پھونکتے ہیں -با الفاظِ دیگر نوجوان سرمایہ تعمیر ِ ملت ہوتے ہیں -لیکن جب یہی نوجوان تن آسانی،سستی و کاہلی اور تغافل پسندی کا شکار ہو جائیں تو قوموں کے مفتوح و مغلوب ہونے میں ذرا بھی دیر نہیں لگتی ہے-قرآن کریم نے ایمان والوں کے غلبے کیلئے سستی و کاہلی کے خاتمے کو لازمی شرط قرار دیا ہے جیسا کہ ارشادِ  باری تعالیٰ ہے کہ :

’’اور نہ سستی کرو اور نہ غم کھاؤ تم ہی غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو‘‘-[12]

مومن کیلئے یہی شرط ہے کہ وہ سستی و غفلت ترک کر دے- حکیم الاُمت علامہ اقبالؒ نوجوانوں میں اسی مرض کا شکوہ کچھ اس انداز میں کرتے ہیں:

ترے صوفے ہیں افرنگی، ترے قالیں ہیں ایرانیِ
لہُو مجھ کو رُلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی

آج پاکستانی نوجوان نسل کی اکثریت تساہل و تغافل پسندی کے شدید مرض میں مبتلا ہے جن میں محنت،سعی پیم، سخت کوشی اور جذبہ ایثار و قربانی نام کی کوئی چیز نہیں- نوجوان نسل کی سوچ اجتماعی اور قومی مفاد کیلئے کام کرنے کی بجائے صرف انفرادی و ذاتی مفاد تک محدود ہوکر رہ گئی ہے- یہی پاکستان کی دن بدن تنزلی اور ترقی یافتہ اقوام کی صف میں شامل نہ ہونے کی ایک بہت بڑی وجہ ہے-ہمارے نوجوانوں کی اکثریت زندگی میں مشکلات سےبچنے کے لئے آسان راستہ (Shortcut) تلاش کرتی ہے لیکن کامیاب وہی لوگ ہوتے ہیں جو اپنے ملک اور قوم کی محبت اور قومی ترقی و خوشحالی کی خاطر ہر طرح کی مشکل بخوشی گلے لگاتے ہیں-عصر ِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق پاکستان کو بامِ عروج تک پہنچانے کیلئے نوجوانوں کو اپنی ترجیحات اور سمتوں کو درست کرنا ہوگا-

عدم مساوات و برابری اور انسانی حقوق کی پریکٹس:

اسلام ایک عالمگیر و آفاقی دین ہے جوکائنات میں انسانی حقوق کا سب سے بڑا داعی ہے- قرآن ِ کریم اور احادیث مبارکہ میں ہمیں انسانی مساوات و برابری اور انسانی حقوق کے تحفظ کی زبردست تلقین ملتی ہے-اسی طرح اسلام الخلق عيال الله (تمام مخلوق اللہ کا کنبہ ہے) کے فلسفہ کے تحت تمام نسلی لسانی،مذہبی و علاقی امتیازات کی تردید کرتا ہے یہی اسلام کا حسن ِ معاشرت اور اسلامی سماج کا اساسی اصول ہے جسے درج ذیل سطور سے سمجھا جاسکتا ہے:

’’تمام بنی نوع انسان کی اصل ایک ہے- کسی فرد کو دوسرے فرد پر رنگ و نسل، علاقہ و زبان کی وجہ سے کوئی برتری حاصل نہیں،تما م انسان برابر ہیں -ہر ایک کے حقوق و فرائض یکساں ہیں اور ہر ایک قابلِ احترام ہے-انسان کی فضیلت اور تکریم کا معیار اس کا حسن ِ عمل ہے جو فرد معاشرے میں مثبت کردار ادا کرتا ہے، اپنے ابنائے جنس کے حقوق کا پاس کرتا ہے اور خدمتِ خلق کے عمل میں سر گرم رہتا ہے وہی فرد اللہ کے نزدیک مکرّم ہے اور سماج میں عزت و احترام کا حقدار ہے-اسلام نے بنی نوع انسان کی وحدت و سالمیت کا تصور عطا کیا ہے- یہ تصور مستقل اور دائمی ہے کسی زمانے میں بھی کسی بھی ترمیم یا تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے‘‘-[13]

پاکستان دنیا میں انسانی حقوق کے تحفظ میں ہمیشہ سرِ فہرست رہا ہے بلکہ پاکستان نے انسانی حقوق کے تمام مشترکہ اعلامیوں پر دستخط بھی کررکھے ہیں- آئینِ پاکستان کا آرٹیکل A25 تمام شہریوں کی برابری اور حقوق کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے جو ایک اسلامی فلاحی ریاست کی بنیادی شناخت ہے-آقا پاک (ﷺ) نے ریاستِ مدینہ میں مساوات و برابری کا عملی نمونہ پیش کیا لیکن بدقسمتی سے مدینہ ثانی (پاکستان) میں موجودہ حالات کے تناظر میں اس چیز کا شدت سے فقدان ہے- پاکستان میں بسنے والے تمام مذاہب و عقائد کے لوگوں کو بلاتفریقِ رنگ و نسل ہرطرح کی مذہبی،سماجی اور سیاسی آزادی قانون نے دی ہے- لیکن پاکستان کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو حالات دگرگوں نظر آتے ہیں جیسے عوامی عدالتیں لگنے کا رواج چل نکلا ہے -یہ حقیقت ہے کہ بعض دفعہ پاکستان کے اندر سے ہی پاکستان مخالف عناصر ایسے واقعات میں ملوث ہوتے ہیں جن کی وجہ سے عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی ہوتی ہے-حکومت ِ پاکستان کو ایسے عناصر پر کڑی نظر رکھنی چاہیے-اسی طرح پاکستان میں صنفی عدم مساوات اور گھریلو تشدد ایک بڑا مسئلہ ہے-ایک طرف تو آئے روز پاکستان میں گھریلو اور جنسی تشدد کے کئی واقعات رپورٹ ہوتے ہیں لیکن خاتمے کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدمات نہیں اٹھائے جاتے جو خاندانی نظام کو تباہی کی طرف لے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف فحش مواد کی آسان ترسیل نے خاندانی اقدار اور رشتوں کے احترام کی روایات کا کباڑہ کر کے رکھ دیا ہے ، اس پہ آواز اٹھانے والے ہمیشہ مغربی میڈیا اور دیسی مغرب زدہ لبرل طبقہ کی تنقید کی زد میں رہے ہیں-

کرپشن( بدعنوانی) کاالمیہ :

کرپشن یا بدعنوانی انسانی تہذیب میں معاشرتی و ملکی ترقی میں اپنے زہریلے و منفی اثرات کی وجہ سے ایک مورثی المیہ تصور کیا جاتا رہا ہے جس کی جڑوں کا آغاز معاشرے میں 4 عیسوی سے قبل ہوتا ہے-کرپشن کا مفہوم بہت وسیع ہے جس کی کئی اقسام (جیسے سیاسی، عدالتی، سول و بیورو کریسی اور سرکاری مناصب و ذرائع کے ذریعے کرپشن وغیرہ) -کرپشن کے معاشی و اقتصادی ترقی پر اثرات کے حوالے سے ورلڈ بینک نے اس کی تعریف کچھ یوں کی ہے:

“Corruption is a Complex Phenomenon. Its roots lie deep in bureaucratic and Political institutions, and its effect on development varies with country condition”.[14]

اس وقت کرپشن بہت سے ترقی پذیر و ترقی یافتہ ممالک کا سنجیدہ مسئلہ ہے- جہان تک پاکستان کی بات ہے یہاں کرپشن جیسا ناسور تیزی سے پھیل رہا ہے-اگرچہ موجودہ حکومت پاکستان میں کرپشن کے سدِّ باب کو اپنی ترجیح بنائے ہوئے ہے لیکن تاہم اس مسئلے پر پوری طرح قابو نہیں پایا گیا- دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ ابھی تک کرپشن سے آہنی ہاتھوں سے نہیں نمٹا گیا جو اس کے خاتمے کیلئے قائد اعظمؒ کا وژن تھا کہ :

“Corruption and bribery are like poison and a horrible disease, which need to be put down with an iron hand”.[15]

 پاکستان میں کرپشن کی وجہ سے غربت و بے روزگاری، سماجی بدحالی اور معاشی عدم استحکام و تنزلی جیسے مسائل جنم لے رہے ہیں- کرپشن اور معیشت کبھی ایک ساتھ نہیں چل سکتے ، اگر ملک میں کرپشن بڑھے گی تومعیشت کمزور ہو گی اسی طرح کرپشن کم ہو گی تو معیشت مضبوط و مستحکم ہوگی- 2014ء میں پاکستانی تھنک ٹیکس کی اکثریت کے مطابق کرپشن پاکستان کا نمبر 1 مسئلہ تھا اور موجودہ پاکستان میں بھی یہ مسئلہ سرِ فہرست نظر آتا ہے-ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ2020ء کے مطابق پاکستان کرپشن کےلحاظ سے 180 ممالک میں سے 124 نمبر پہ آتا ہے جو 2019ء کی نسبت محض ایک سال میں 4 گنا بڑھ گئی ہے کیونکہ 2019ء میں پاکستان 120 ویں نمبر پر تھا-

پاکستان میں تعلیم کا معیار اور نظامِ تعلیم :

اسلام میں علم کی اہمیت و فضیلت مسلّم ہے جس سے قطعی انکار ممکن نہیں-حضور رسالت ِ مآب (ﷺ) نے جزیرہ عرب میں انقلاب کی بنیاد ایمان و ایقان اور اعلیٰ اخلاق و محبت واحترام کے ساتھ ساتھ تعلیم و تعلّم پر رکھی اور گود سے گور تک علم حاصل کرنے کی تلقین فرمائی (علاوہ ازیں علم کے موضوع پہ بے شمار احادیث مباکہ موجود ہیں) -قرآن کریم نے بھی یہ سوال ’’کیا علم والے اور جاہل برابر ہوسکتے ہیں؟‘‘ اٹھا کر علم والوں کی فضیلت پر مہر ثبت کردی ہے- الغرض یہ تعلیم ہی تھی جس کی بدولت مسلمان صدیوں تک دنیا میں فائق رہے اور علم وعرفان کا نور پھیلاتے رہے- عباسی خلیفہ ہارون الرشیدکے دور میں بیت الحکمہ (House of Wisdom) کا قیام مسلمانوں کی علم و تحقیق سے محبت کا نمایاں ثبوت ہے-

یہ حقیقت ہے کہ تعلیم کسی بھی قوم یا ملک کی سیاسی، سماجی اور اقتصادی ترقی میں بنیادی عنصر کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ ہر معاشرے کا بنیادی حق ہے- لیکن پاکستان میں ناخواندگی (غیر تعلیم یافتہ) ایک بڑا المیہ ہے-حالانکہ بانی پاکستان کے فرمان کے مطابق ’’تعلیم پاکستان کیلئے زندگی اور موت کا مسئلہ ہے‘‘- جو اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ پاکستان کی ترقی اور وقار کو برقرارکھنے کیلئے ہمیں تعلیم کو اولین حیثیت دینی ہے-ناخواندگی کی وجہ سے ہم نہ صرف اخلاقی و فکری اعتبار سے دیگر اقوام کی نسبت پیچھے ہیں بلکہ اپنے قومی مقاصد کے حصول میں بھی تنزلی کا شکار ہیں-ملکِ پاکستان اپنے دیگر ترقی پذیر ہمسائے ممالک کی نسبت تعلیمی معیار میں نہایت پست ہے جس کی وجہ نظام تعلیم میں بہتری اور اصلاحات کی طرف عدم توجہی ہے- بدقسمتی سے پاکستان میں شعبہ تعلیم کیلئے مختص فنڈز دیگر شعبہ جات کے مقابلے میں بہت کم ہیں- پاکستان میں تعلیمی سیکٹر پر GDPکا صرف 672 فیصد خرچ کیا جاتا ہے جو گزشتہ 20 سالوں سے چلا آرہا ہے- یہ سچ ہے کہ اب تک کسی حکومت نے پاکستان کے تعلیمی نظام میں اصلاحات کیلئے کوئی ٹھوس اقدمات نہیں اٹھائے- UNICEFکی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریبا ً 22.8 ملین بچے سکول کی تعلیم سے محروم ہیں-[16] اس کے علاوہ پاکستان میں شرحِ تعلیم کے اعداد و شمار انتہائی مایوس کن نظرآتے ہیں -اس وقت پاکستان میں خواندگی کی شرح 62.3 فیصد ہے جس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں تقریبا ً 60 ملین لوگ ناخواندہ ہیں -[17] یہ خوش آئند قدم ہے کہ موجودہ حکومت تعلیمی اصلاحات کیلئے کسی حد تک مؤثر کردار ادا کررہی ہے لیکن پاکستان کو دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں لے جانے کیلئے تعلیم کے معیار کو مزید ترجیحی بنیادوں پہ بہتر بنانا ہوگا-

مذکورہ بالابیان کے علاوہ بھی کئی ایسے سیاسی،سماجی اور معاشی فیکٹرز ہیں(جن پر خوفِ طوالت کی وجہ سے بات نہیں کی جاسکتی) جو ملکی ترقی و خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ ہیں لیکن ان سے کہیں زیاہ پاکستان کی ترقی کیلئے مذکور ہ پہلوؤں پر فوکس کرنے کی ضرورت ہے-

خلاصۂ بحث:

آج ہمیں قیام ِ پاکستان کے مقاصد کا گہرائی سے مطالعہ کرنےاور بانیانِ پاکستان کی فکر اور نظریےسے قلبی و روحانی تعلق مستحکم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر ہم پاکستان کے مقاصد کو سمجھتے ہوئے نظریہ پاکستان کو تھامے رکھیں گے تو یہ عظیم ملک دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن کر اُبھرے گا- برعکس ایں اگر ہم اسلامی اقدار و رویات، تعلیمات ِ اسلاف اور  اسلامی جمہوریت کے اصولوں کو ترک کریں گے تو شکست و ریخت ہمارا مقدر ہوگی- مزید برآں! بحیثیت ِ پاکستانی چند سوالات ہمیں اپنے ضمیر سے پوچھنے چاہییں کہ کیا ہم پاکستان اور اسلام سے وفادار ہیں؟ کیا ہم قومی و ملیّ فرائض بخوبی نبھا رہے ہیں؟ کیا پاکستان کو فلاحی ریاست بنانے میں ہم اپنامثبت کردار ادا کررہے ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ہمیں فخر ہونا چاہیے کہ ہم ایک ایسے ملک کی خدمت کررہے ہیں جس کی خدمت اسلام کی خدمت ہے لیکن اگر ایسا نہیں تو ہمیں اپنے ایمان و ایقان کی سلامتی کیلئے دعاگو ہونا چاہیے-

الغرض! پاکستا ن کی حالیہ صورتحال ہم سے اپنی ملیّ ذمہ داریوں اور صحیح معنوں میں قومی فرائض کی ادائیگی کا تقاضا کرتی ہے کہ ہم ملکی تعمیر و ترقی اور خوشحالی میں خلوص اور دیانتداری سے اپنا کردار ادا کرتے رہیں تاکہ پاکستان جلد دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑا ہوسکے-

٭٭٭


[1]https://www.rekhtadictionary.com/meaning-of-qaum?lang=ur

[2]https://ur.nsp-ie.org/nacion-3945

[3]http://khayaban.uop.edu.pk/Shumaray/17_Khazain_2007/Iqbal_our_spingler.html

[4]مقدمہ ابنِ خلدون

[5]ایضاً

[6]افتخار حسین آغا، ڈاکٹر، قوموں کی شکست و زوال کے اسباب کامطالعہ، مجلس ترقی ادب کلب روڈ لاہور، 1992ء، ص:191

[7]اسپنگلر،زوال مغرب حصہ اول، ص :128، ترجمہ مظفر حسین ملک، ڈاکٹر (اسلام آباد مقتدرہ قومی زبان 2004ء)

[8]مقالات اقبال، ص :35

[9]http://ijbel.com/wp-content/uploads/2016/06/KLiISC_118.pdf

[10]Address, Aligarh Muslim University, March 10, Speeches and Writings of Mr. Jinnah, (Lahore: Shaikh Muhammad Ashraf, 1964)

https://worldjusticeproject.org/sites/default/files/documents/Pakistan_2021%20WJP%20Rule%20of%20Law%20Index%20Country%20Press%20Release.pdf [11]

[12]العمران:139

[13]تصوف اور عمرانی مسائل،اقبالؒ کی نظر میں،طالب حسین سیال،ص:103،اقبال اکادمی پاکستان،2012

[14]http: // www. Worldbank.org

[15]https://ace.punjab.gov.pk/quaid_message

[16]https://www.unicef.org/pakistan/education

[17]http://mofept.gov.pk/ProjectDetail/NjQ4ZTg2NjItOWM2NC00Y2IxLTkzMDgtMjU2OTFhMjA4NzNh

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر