اورنگ زیب عالمگیراورتشکیلِ پاکستان

اورنگ زیب عالمگیراورتشکیلِ پاکستان

اورنگ زیب عالمگیراورتشکیلِ پاکستان

مصنف: مفتی محمد اسماعیل خان نیازی اگست 2019

اورنگزیب عالمگیر (مختصر تعارف) و حالات ِزندگی:

ابو المظفر محی الدین محمد اورنگ زیب عالمگیر  1028ھ (بمطابق 3 نومبر 1618ء) میں دہود کے مقام پہ پیدا ہوئے -دہود احمد آباد اور مالوہ کی سرحد پر واقع ہے-[1]آپ کی 3 بیویاں (نواب بائی، دلرس بانو بیگم اور رنگ آبادی محل)، پانچ بیٹے (محمد سلطان (حافظِ قرآن)، معظم شاہ عالم (حافظِ قرآن اور اسے علمِ حدیث میں کمال حاصل ہونے کی وجہ سے ’’ندوۃ المحدثین‘‘بھی کہتے تھے)، محمد اعظم شاہ ،سلطان محمد اکبر، محمد کام بخش)، پانچ بیٹیاں (زیب النساء (صاحبِ دیوان شاعرہ، حافظہِ قرآن، تفسیر کبیر کا ترجمہ ’’زیب التفاسیر‘‘کے نام سے کیا)، زینت النساء، زبدۃ النساء،بدر النساء (حافظہِ قرآن) اور مہر النساء تھیں ‘‘- [2]

90 برس کی عمر میں 50 سال ڈھائی ماہ حکومت کرنے کے بعد آپؒ کی وفات بعد از نماز فجرکلمہ طیبہ کا ذکر کرتے ہوئے جمعہ کے دن 28 ذوالقعدہ 1118ھ بمطابق 1707ء میں ہوئی اور خلد آباد میں تدفین کی گئی- [3]

اب ذیل میں آپؒ کے بارے میں چند محققین اور مؤرخین کی آراء پیش کی جاتی ہیں :

فسانہ سلطنتِ مغلیہ کے اطالوی نژاد مصنف نیکو لاؤچی منوچی جو نقاد بھی ہیں اور شاہ اورنگزیب کے معاصر بھی ، رقم طراز ہیں کہ:

’’شاہ جہان کا تیسرا پسر(بیٹا) شہزادہ اورنگ زیب عالمگیر موجودہ فرمانروائے ہندوستان ہے-یہ اوضاع و اطوار میں اپنے اور بھائیوں سے مختلف ہے، یہ اپنے تمام معاملات کو عقل مندی کے ساتھ راز دارانہ طریقہ سے پوشیدہ رکھتا ہے -یہ ہروقت کسی نہ کسی معاملہ کی نسبت پر غور و خوض کرتا رہتا ہے‘‘-[4]

مزید لکھتے ہیں:

’’یہ ہمیشہ سادہ اور ارزاں غذا کھاتا ہے، اکثر مولیاں، سیم، جو اور اسی قسم کی ترکاری و اناج پر بسر کرتا ہے ،عام طور سے خیرات بہت تقسیم کرتا ہے ،روزے بہت رکھتا ہے اورطرح طرح کی ریاضت و مجاہدات میں مصروف رہتا ہے -ہروقت نماز یا تلاوت قرآن مجید میں مشغول رہتا ہے جب باہر نکلتا تو تسبیح اس کے ہاتھ میں ہوتی ہے –ہر موقع پراللہ تعالیٰ کانام زبان سے جاری رہتا گویا اسے دنیا میں کسی سے کچھ مطلب نہیں ‘‘- [5]

شمس العلماء مولوی ذکاء اللہ لکھتے ہیں :

’’اورنگ زیب ایک نڈر و بیباک شخص تھا، 14برس کی عمر میں جب ہاتھی نے اپنی سونڈسے اس پر کمندڈالی تواس نے اپنے گھوڑے سے ایسا چیل بند ڈالا کہ ہاتھی کو مات کیا-جب شاہ جہاں نے کہا،ایسی جگہ ڈٹ نہیں جاتے بلکہ ہٹ جاتے ہیں تو اس وقت بیٹے نے ہاتھ جوڑ کرعرض کیا: غلام کواللہ تعالیٰ نے پیچھے ہٹنے کیلیے پیدا نہیں فرمایا‘‘-[6]

’’اورنگزیب عالمگیر فقہ میں امام اعظم ابوحنیفہؒ کے مذہب پہ اور عقیدہ میں امام ابو منصور ماتریدیؒ کے منہج پہ چلتا تھا ، اس کے سارے اعمال و افعال و عقائد اس حنفی و ماتریدی روایت کے مطابق تھے- وہ ہمیشہ باجماعت نماز ادا کرتا،شاہ جہان آباد یا اگر کسی اور بڑے شہر سے شکار کے لیے چلا جاتا تو جمعرات کو شہر میں آجاتا،  تاکہ نمازِ جمعہ میں ناغہ نہ ہو،تراویح وختم کلام اللہ میں آدھی رات تک صلحاء فضلاء کی جماعت کے ساتھ مشغول رہتا، رمضان کے عشرہ آخرہ میں معتکف ہوتا، ہرہفتہ میں تین دن پیر،جمعرات اور جمعہ کوروزہ رکھتا تھا،قرآن مجید اپنے ہاتھ سے لکھتا،ہمیشہ باوضو رہتا،کلمہ طیبہ، اذکار و ادعیہ ماثورہ کو پڑھتا رہتا اور متبرک راتوں میں شب بیدار اور راتوں کو حق طلبی کے واسطے مسجد دولت خانہ میں اہل اللہ سے صحبت رکھتا - محرم و ربیع الاول کے مہینے میں بارہ ہزار، رجب میں دس ہزار، شعبان میں پندرہ ہزار اور رمضان میں تیس ہزارکا وظیفہ مستحقین میں تقسیم ہوتا تھا- اس کے ساتھ ساتھ فضلاء مدارس کے وظائف بھی مقرر کئے‘‘- [7]

فتاوٰی عالمگیری:

چونکہ عالمگیر دل سے چاہتا تھاکہ اہل ِ اسلام فتویٰ دیے گئے مسائل علماء مذہب حنفی پہ عمل کریں اور ایک نسخۂ جامعہ ترتیب دیا جائے تاکہ سب کو زیادہ عمل کئے گئے مسائل کی تلاش میں سہولت کے ساتھ قدرت حاصل ہو،اس کام کی نگرانی شیخ نظام الدین سہالوی کو تفویض ہوئی اور علماء کو مناسب وظائف سے نوازا گیا-چنانچہ دو لاکھ روپے صر ف اس کتاب کے لوازم میں خرچ ہوئے - [8]

علم سے محبت:

آپؒ علوم دینیہ تفسیر و حدیث و فقہ سے مکمل استفادہ حاصل کرتے-آپؒ حافظِ قرآن تھے ،شہزادگی میں ایک قرآن اپنے ہاتھ سے لکھ کرمکہ معظمہ بھیجا اور ایام شاہی میں دوسرا قرآن مجید لکھ کر مدینہ منورہ میں بھجوایا،جس کی جدول، لوح اور جلد میں سات ہزار روپے خرچ کیے - [9] یہ بھی یاد رکھا جائے کہ آج جسے ’’درسِ نظامی‘‘ کہا جاتا ہے یہ اورنگزیب کے دور کے جید عالمِ دین شیخ نظام الدین سہالوی کا مرتب کردہ نصاب ہے جسے انہوں نے اورنگزیب کی تجویز پہ مرتب کیا تھا،  اِسی نسبت سے اس کو ’’نظامی‘‘کہتے ہیں -

ریاست میں بعض دینی اقدامات:

خافی خان نظام الملک لکھتے ہیں: ’’بادشاہ نے پاس ِ شریعت کی خاطر عربی مہینوں اور قمری سال مقرر کرنے کا حکم دیا، دفاتر کے حساب میں شمسی تاریخ پر عربی تاریخ کو مقدم رکھا گیا، جشن نو روز کو بالکل بند کرا دیا اور حکم دیا کہ شراب خانے جوئے بازی کو بند کروا دیا جائے-ناچ گانے کی ممانعت کی عام منادی بھی کرادی گئی (اور نظام ٹیکس کی اصلاح کرتے ہوئے) سارے محاصل جو اسی عنوانات کے تحت آتے تھے اور ان کے تحت کروڑوں روپیہ قلم رو ہند سے سرکاری خزانہ میں جمع ہوتا تھا- عالمگیر نے پورے ملک سے ان ٹیکسوں کو ختم کر دیا اور ان کی معافی عطا کر دی- (موسیقی پہ چونکہ پابندی لگادی گئی اس لیے طنزیہ طور پہ اس فن کے متعلقہ لوگوں نے موسیقی کاعلامتی جنازہ نکالا)توبادشاہ نے فرمایا :اس طرح زمین میں دبا دو کہ پھر کبھی آواز نہ نکلنے پائے- درشن[10] کی معانعت کر دی ، نجومی بادشاہی مجلسوں اور دیوانی کے دفاتر میں جزو لازم بنے ہوتے تھے،ان کو باقاعدہ ملازم رکھا جاتا تھا، عالمگیر نے تمام نجومیوں کو برخاست کر دیا، بادشاہ نے تمام امور ملکی اور جزئی و کلی مقدمات میں قاضیوں کو اتنے اختیارات دے دئیے کہ سلطنت کے صاحب مدار بڑے بڑے امراء بھی ان سے رشک و حسد کرنے لگے، عالمگیر نے ازراہ حق پرستی اور عدل گستری دار الخلافہ اور دوسرے شہروں میں منادی کرائی کہ جس کسی کو بادشاہ کے خلاف کوئی شرعی دعوٰی ہو یا کسی کا مطالبہ بادشاہ کے ذمہ ہوتو وہ حاضر ہوکر بادشاہی وکیل سے رجوع کرے اور اپنا استغاثہ پیش کرے اور اپنا حق ثابت ہونے کے بعد وصول کرے- مزید ہدایات بھی دیں کہ تمام ممالک محروسہ کے شہروں میں اور دار الخلافہ میں شرعی وکیلوں کو مقرر کیا جائے تاکہ اللہ تعالیٰ کے جو بندے دار الخلافہ پہنچنے سے معذور ہوں وہ ان وکلائے شرعی کے پاس رجوع کر کے اپنا استغاثہ داخل کر دیں-

وُسعتِ مُطالعہ:

مصطفٰے خان نےایک رسالہ تالیف کیا تھا -شہزادہ نے ایک دن وہ رسالہ بادشاہ کو ملاحظہ میں پیش کر دیا اور عرض کیا:یہ مصطفٰے خان کی تصنیف ہے، بادشاہ نے مطالعہ کے بعدفرمایا: اسے تصنیف نہیں تالیف کہو، شہزادہ نے عرض کیا: چونکہ ابھی تک اس موضوع پر کسی دوسرے نے فکر نہیں کی ہے اس لیے اسے تصنیف کَہ سکتے ہیں ،بادشاہ نے جھنجھلا کر کتب خانہ کے داروغہ کو حکم دیا کہ اس موضوع پر اس سے پہلے بھی جو ایک رسالہ لکھا گیا ہے کتب خانہ سے اسے نکال کر دکھاؤ-

اولیاء اللہ سے محبت اور مزارات پہ حاضری:

اورنگ زیب کی سواری اجمیر پہنچ گئی تو خواجہ معین الدین چشتیؒ کی زیارت کی، اس طرح جس وقت بادشاہ نے گلبر کہ پہنچ کر اس کے مضافات میں قیام کیا تو وہ کئی بارحضرت قدوۃ الواصلین سید محمد گیسو درازؒ کے مزار پر گیا اور درگاہ کے خدام کو بیس ہزار نذرانہ کیا- اس کے علاوہ شیخ محمد وارثؒ سے بھی شرف ملاقات حاصل کیا-

اورنگزیب پہ اعتراضات:

اعتراض:اورنگ زیب عالمگیر ایک نہایت ظلم و جبر روا رکھنے والا حکمران تھا کیونکہ اس نے اپنے باپ کو قید کر دیا اور سلطنت کے لیے اپنے بھائیوں سے جنگ کرتارہا اورآخر ان کو مارڈالا، وغیرہ وغیرہ

جواب: بحیثیت مسلمان علم میں ہونا چاہیے کہ جن کی زندگی اللہ کیلئے وقف ہو، جن کا مقصد و مشن غلاظتوں کا خاتمہ اور عدلِ الٰہی کا قیام ہو اُن کی نظر میں رشتے، جان، مال وغیرہ کی اہمیت گھاس کے تنکے جتنی بھی نہیں ہوتی- بقول اقبال :

یہ مال و دولت، دنیا، یہ رشتہ و پیوند
بتان ِ وہم و گمان، لا الہٰ الا اللہ

کسی کا ماننا یا انکار کرنا کوئی معنے نہیں رکھتا جبکہ یہ حقیقت واضح ہے اورنگزیب نے کئی سو سالہ مغل تعیش پرستی کے دور کا خاتمہ کر کے سر زمینِ ہند پہ دین کا صحیح معنوں میں اَحیا کیا - اگر اورنگزیب کا مقصد پاور پالیٹیکس کے ذریعے بھائیوں کا خاتمہ کر کے اپنے لئے حکومت قائم کرنا تھا تو ہند و پاک کے کونے کونے میں اسلامی عدل و انصاف کے ترازو کیوں نصب ہوئے ؟ تعیش پرستی و جاہلانہ رسومات کا خاتمہ کیوں کیا گیا؟

 اورنگ زیب عالمگیر کی ذاتی زندگی کامطالعہ کرنے سے ان پہ ہوس اقتدار کا اعتراض رفع ہو جاتا ہے کیونکہ جس کی زندگی کی ترجیحات میں سب سے بڑی ترجیح اللہ اور اس کے رسول (ﷺ)کی رضا اور خوشنودی ہو وہ ہوسِ اقتدار کے لیے اتنے بڑے اقدامات کیسے اٹھا سکتا ہے -رشید اختر ندوی اپنی کتاب ’’اورنگزیب‘‘ میں انہی اعتراضات کے جوابات دیتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’اس نے یقیناً بوڑھے اور بیکار باپ سے تاج چھینا،اس نے یقیناً باپ کو نظر بند کیا، لیکن کب ؟ صرف اس وقت جب باپ نے اس کے نیک ارادوں کی تکمیل میں رکاوٹ پیدا کی، اورنگ زیب اول آخرمسلمان تھا اور اسے وہ حدیث مبارک یاد تھی جسے مستندمؤرخین نے روایت کیا ہے،یہ حدیث (مبارک) حضرت ابوبکر صدیق (رضی اللہ عنہ) اور ان کے بیٹے (حضرت) عبد الرحمٰن کے متعلق ہے کہ جب حضرت ابوبکر صدیق(رضی اللہ عنہ) شروع دورمیں مدینہ تشریف لائے تو (حضرت) عبدالرحمٰن مکہ ہی میں رہ گئے تھے اورکفار کے لشکرکے ساتھ، باپ اور باپ کے پیرو مرشد رسول اللہ (ﷺ) پر چڑھائی میں شریک ہوئے، لڑائی کے بعد عبدالرحمٰن نے بڑے فخرکے ساتھ اپنے باپ سے کہا، و اللہ! عین لڑائی میں دو بار آپ میرے تیر کی زد میں آئے، مَیں چاہتا تو میرا تیر آپ کی شہ رگ چاٹ جاتا، مگر آپ (رضی اللہ عنہ) میرے باپ تھے، اور میرا دل آپ پر تیر نہ چلا سکا، باپ نے یہ بات سنی اوربیٹے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دیا:اللہ جانتاہے میرے بیٹے! اگر لڑائی میں تم میرے تیر کی زد پرآتے تو مَیں تمہیں کبھی نہ چھوڑتا ‘‘-

مزید لکھتے ہیں کہ:

’’اکبر سے لے کر شاہ جہان تک جو حکومت ہورہی تھی، وہ ملت کے مفاد کے لئے انتہائی مضر تھی، اورنگ زیب نے آخر وقت تک باپ کا احترام کیا، لیکن جب باپ نے جہاں آرابیگم کی مدد سے اسے چھپ کر شکست دینی چاہی تو اورنگزیب کو باپ کی نظر بندی پر مجبور ہونا پڑا-باپ یقیناً قابلِ احترام ہے، باپ کے سامنے آنکھیں نہیں اٹھنی چاہئیں، مگر ہم نے اوپر جو روایت بیان کی اس کے پیش نظر اورنگ زیب کا فعل (صرف) جائز نہیں (بلکہ) ضروری تھا‘‘-

شاہ جہان کی ذاتی زندگی کے متعلق اطالوی مصنف منوچی ’’فسانہ سلطنتِ مغلیہ‘‘ میں رقمطراز ہیں:

’’شاہ جہان کو جس قدر عورتوں کی طرف توجہ تھی،اس کا بیان کرنا ناممکن ہےمگر اس پر بھی ا س کی ہوس کم نہیں ہوتی تھی ،علاوہ اس کے اس نے عام عورتوں کو جن میں اکثر رقاصہ تھیں،بہت زیادہ آزادی دے دی تھی جو سلطنت کی کچھ رقم بطورِ محصول ادا کرتی تھیں[11] اس لیے اورنگ زیب عالمگیر ؒ نے اپنے بیٹے سلطان محمد کے ذریعے جب پیغام بھیجا: اعلیٰ حضرت حرم سراء میں بہ آسائش رہیں اور عورتوں کے ساتھ بہ اطمینان اپنا دل بہلائیں اور اب کاروباری سلطنت کی وجہ سے پریشان نہ ہوں، بادشاہ کا تمام بار یہ فدوی اپنے سر لیتا ہے‘‘ -[12]

شہزادہ داراشکوہ کے بارے میں لکھتے ہیں :

’’دارا شکوہ ہندوؤں کے دین اور آئین کی طرف مائل تھا، برہمنوں، جوگیوں، سنیاسیوں کے ساتھ صحبت رکھتا تھا، ان کو مرشد کامل اورعارف بحق واصل سمجھتا تھا اور ان کی وید کی کتاب کو آسمانی و خطاب ربانی جانتاتھا ‘‘- [13]

اقبال دارالشکوہ کے متعلق کہتے ہیں :

تخمِ الحادے کہ اکبر پرورید
باز اندر فطرتِ دارا دمید

’’اکبر نے لادینیت کا جو بیج بویاتھا اور جس کی نشوونما کی تھی پھر وہی بیج داراشکوہ کی فطرت میں پھوٹا‘‘-

منوچی شہزادہ شجاع کے بارے میں رقمطراز ہے:

’’شاہ جہاں کا دوسرا فرزند شجاع تھا،ان کی راجہ جسونت سے بھی بڑی دوستی تھی جوداراشکوہ کارفیق تھا،سب سے پہلے اس نے اپنے باپ سے بغاوت کی، شجاع مثل اپنے باپ کے موسیقی کابہت شائق تھا،کئی کئی دن تک وہ باہر نہیں آتا تھا اور عورتوں میں مشغول رہتا تھا، شراب بکثرت پیتا اور طوائفوں اور کسبیوں پر بہت روپیہ خرچ کرتا -[14]

شہزادہ مُراد کے بارے لکھتے ہیں:

’’شاہ جہاں کا چوتھا پسر مراد بخش سب بھائیوں سے چھوٹا تھا - ایسا کم عقل تھا کہ سوائے شراب پینے، ناچ دیکھنے اور گانا سننے کے علاوہ کسی کام کی صلاحیت نہ رکھتا تھا- جب مراد بخش گورنر گجرات تھا تو ایک شخص نے جو اس کے وزیر سے کچھ رنج رکھتا تھا-عرض کیا کہ یہ وزیر دھوکہ باز ہے اور بظاہر دوست بنا ہوا ہے یہ سن کر اس نے بغیر کسی تحقیقات کے وزیر کے ایسا نیزہ مارا جس سے وہ فوراً مر گیا ‘‘- [15]

اورنگزیب کی اپنے بھائیوں کو قتل کرنے کی وجہ ان کی عیاشیاں، غیر مسلم نواز پالیسیاں اور سرعام شریعت کی خلاف ورزیاں تھیں، نیز طاقت کی سیاست کے تناظر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک پھندہ اور چار سر تھے ، اگر یہ عدل کی بجائے رحم کرتا تو باقی شہزادے فتنہ و فساد، غداریوں اور بغاوتوں سے ریاست کا دھڑن تختہ کر دیتے نتیجتاً پاک و ہند کو خرافات سے پاک کرنے اور دین کا احیا کرنے کا جو کام اورنگزیب نے کر دکھایا، وہ ناکام ہو جاتا - اِس لئے شہزادوں کو جو مِلا وہی اُن کا جائز حَق تھا -جہاں تک شاہ جہان کو قید کرنے کا تعلق ہے تو اُس کی قید ظالم اور فاسق بیٹوں کو سپورٹ کرنے کی وجہ سے تھی اور اہم بات یہ ہے کہ شاہ جہاں نے آخری عمر میں اوررنگ زیب عالمگیر کو اِس سب پہ معاف بھی کر دیا تھا-[16]

اورنگ زیب پہ بھائیوں کے قتل کے اعتراض کا خوبصورت جواب ڈاکٹراوم پرکاش پرشاد بھی لکھتے ہیں :

’’اپنے ایک بھائی کو مارنے پر اورنگزیب کو ظالم کہا گیا، لیکن بودھ ذرائع کے مطابق مویہ شہنشاہ (اشوک) نے اپنے 99 بھائیوں کو مار کر گدی (تخت) حاصل کی-سوواں اور سب سے چھوٹا بھائی تس کو پہلے تو چھوڑ دیا اور بعد میں حکومت پر قبضہ کرنے کا الزام لگا کر اسے بھی مروا دیا،کلنگ کی لڑائی میں اس نے ایک لاکھ آدمیوں کو مارا اور ڈیڑھ لاکھ آدمیوں کو قیدی بنایا-’’اسو کا ودان‘‘ کے مطابق اشوک نے بدھ مٹھوں میں رہنے والے سبھی مذہبی پیش واؤں کے قتل کاحکم دیاکیونکہ وہ سب تارک مذہب تھے-ایک بار حرم سرا کی عورتوں نے اسے بد صورت بتایا تو پانچ سو (500)عورتوں کو زندہ جلوا دیا اور وہ چانڈا شوک ’’ظالم اشوک‘‘کہلوایا-اس نے ایک ایسا مقام مخصوص کیا اور ایسے آلات اور افراد کاتعین کیا جن کا کام بے قصورلوگوں کو پکڑ کر سخت ایذائیں پہنچانا تھا، ان جہنم نما مقامات کی دیکھ بھال وہ خود کیا کرتا تھا،ایک سات سال کے بھکشو اشوک کو بودھ بنا دیا اور اسی بھکشو کے کہنے پر اس نے بدھ مذہب کی مخالفت کرنے والے برہمنوں کو قتل کروا دیا- [17]

اوم پرکاش پرشاد اپنے ہم مذہب مورخین کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اشوکِ اعظم کی تعریفوں کے پُل باندھنے والوں کو اس کے 99 بھائیوں کا قتل نظر نہیں آتا جب وہ اورنگزیب پہ طعنوں کے نشتر چلاتے ہیں ؟

اعتراض:اورنگ زیب عالمگیر نے اقلیتوں کے حقوق کا خیال نہ رکھتے ہوئے مندروں کو توڑا اور غیر مسلموں کو جِزیے کے شکنجے میں کس لیے رکھا؟

جواب: جس قدر بت خانے توڑے گئے، انہیں مقامات کے توڑے گئے جہاں ریاست کے خلاف پُر زور بغاوتیں برپا ہوئیں-عالمگیر 25 برس تک دکن میں رہا، ان ممالک میں ہزاروں بت خانے تھے لیکن کسی تاریخ میں ایک حرف بھی نہیں مل سکتا کہ اس نے کسی بت خانے کو ہاتھ بھی لگایا ہو- [18]

ہر حکومت کو حق ہے کہ چاہے ان کے اپنے ہم مسلک بھی تخریب کاری جیسا کوئی ایسا قدم اٹھائیں تو وہ ان کی روک تھام کرے جیسا کہ خود سرور کائنات نورِ مجسم (ﷺ) نے مسجد ضرار کو گرانے کا حکم ارشاد فرمایا کیونکہ اس مسجد کو منافقین نے تخریب کاری کیلیے استعمال کرنا شروع کر دیا تھا-

ڈاکٹر اوم پرکاش پرشاد لکھتے ہیں:

’’اس طرح یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ تخت کے استحکام کیلئے مندر ہو یا مسجد جہاں بھی باغی عناصر دکھائی دئیے یا چوری چھپے جمع کئے ہوئے کثیر مال ودولت کاپتہ چلا، اس صورت میں اسلام ہو یا کوئی دوسرا مذہب رکاوٹ نہیں بننے دیا -مذہبی مقامات کے تقدس اور پُر امن ماحول قائم رکھنے کیلئے اورنگ زیب نے مندروں کی طرح مسجدوں پر بھی کڑی نظر رکھی‘‘- [19]

بلاوجہ مندروں کو توڑنے کی بات کی کوئی حقیقت نہیں کیونکہ مندروں کو توڑنے کی روایات سے زیادہ ان کو آباد کرنے کی روایات ہیں جیسا کہ ڈاکٹر اوم پرکاش پرشاد لکھتے ہیں:

’’اپنی حکومت کے ابتدائی زمانہ میں اورنگ زیب نے شریعت کے حکم کے مطابق ہندوؤں، عیسائیوں کے مندروں اور گرجا گھروں کا احترام کیا- اس نے ایک قانون بنایا کہ کوئی پرانامندر منہدم یا مسمار نہ کیاجائے ‘‘-

مزید لکھتے ہیں :

’’بی این پانڈے کے بقول اس کی حکومت کی پالیسی تھی کہ اس نے ہندو مندروں اور مٹھوں کیلیے وظیفے مقرر کئے-الٰہ آباد میں واقع ناتھ مہادیو کے مندر،بنارس میں کاشی وشوناتھ کے مندر، چتر کوٹ کے بالاجی مندر، کوہاٹی میں واقع اومانند مندر، شترونجی میں جین مندر اور شمالی ہند میں واقع بے شمار مندروں اور گردواروں کے لئے اورنگ زیب نے جاگیریں مقرر کیں ‘‘-[20]

سکھ دھرم کے دسویں گرو شری گرو گوبند نے اورنگ زیب کی تعریف و توصیف اور بادشاہ کی اطاعت کے عزم میں فارسی میں کئی اشعار لکھے ہیں، سکھ دھرم کی معروف کتاب سو ساکھی میں بھی اورنگزیب کی زہد و ریاضت کی تعریف لکھی گئی ہے-

جہاں تک جزیہ کا تعلق ہےیہ وہ رقم ہے جو ’’اہل ِ ذمہ‘‘ سے لی جاتی ہے اوروہ رقم ان کی جان کی حفاظت کیلیے کفایت کرتی ہے -[21]

جزیہ اورنگ عالمگیر نے کیوں وصول کیا؟

اس کاسادہ جواب تو یہ ہے کہ وہ پکامسلمان تھا،وہ اکبری رعایات[22] کی بجائے قرآن و سنت پہ عمل پیر اتھا- ددسری بات یہ ہے کہ یہ وہ اعتراض ہے جس کا کوئی سرپاؤں نہیں ہے یہ ایسے ہی ہے جیسے اب یورپ میں کہا جاتا ہے کہ مسلمان مساجد کے مینار کیوں بناتے ہیں؟ مسلمانوں کی عورتیں حجاب کیوں اوڑھتی ہیں؟ وغیرہ- حالانکہ مسلمان (صاحب استطاعت)  زکوٰۃ، عُشر اور دوسرے صدقات و خراج وغیرہ ادا کرتے ہیں اور کفار جزیہ ادا کرتے ہیں-اس کے بدلے میں مسلم حکومت ان کے جان و مال،عزت آبرو کا تحفظ کرتی ہے- جزیے کے متعلق فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَلَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ لَا یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللہُ وَرَسُوْلُہٗ وَلَا یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ حَتّٰی یُعْطُوا الْجِزْیَۃَ عَنْ یَّدٍ وَّ ہُمْ صٰغِرُوْنَ‘‘ [23]

’’لڑو ان سے جو ایمان نہیں لاتے اللہ عزوجل پر اور قیامت پر اور حرام نہیں مانتے اس چیز کو جس کو حرام کیا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول مکرم (ﷺ) نے اور سچے دین کے تابع نہیں ہوتے یعنی وہ جو کتاب دیے گئے جب تک اپنے ہاتھ سے جزیہ نہ دیں ذلیل ہوکر‘‘-

اسی آیت مبارک پہ عمل فرماتے ہوئے خود حضور نبی کریم (ﷺ) اور خلفائے راشدین (رضی اللہ عنھم) نے کفار سے جزیہ وصول فرمایا -

سلطان العارفین (قدس اللہ سرّہٗ) اور اورنگ زیب عالمگیر:

اورنگ زیب عالمگیر کے اللہ عزوجل کا مقرب اور راہ راست پہ ہونے کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو (قدس اللہ سرّہٗ) نے ان کی تائید فرمائی-اورنگ زیب آپؒ کے ہم عصر تھے اور اورنگ زیب کو آپؒ سے شرف ِ ملاقات بھی نصیب تھا-یہ بات ناممکن ہے کہ آپؒ کسی ایسے شخص کی تائید فرمائیں جس کے ظاہر و باطن میں تضاد ہو یا جو راہ راست پہ نہ ہو-

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو (قدس اللہ سرّہٗ) اپنی تصنیفِ لطیف ’’امیر الکونین‘‘ میں لکھتے ہیں کہ:

’’ا ِس تصنیف کا مصنف... فقیر باھُو فنا فی ھُو ولد بازیدؒ عرف اعوان ساکن قلعۂ شور نے بادشاہ اورنگ زیب عبید اللہ جو محمد رسول اللہ (ﷺ) کا با اخلاص و صاحب ِ یقین غلام ہے اور جس کی نگاہ حق بین ہے کے دورِ حکومت میں اُن چند کلمات کو جو کل مہمات کی چابی اور ہر مشکل کے لئے مشکل کشا ہیں کتابی صورت دے کر اُس کا نام امیر الکونین رکھا ہے‘‘-

کلید التوحید خورد میں آپؒ فرماتے ہیں :

’’بادشاہِ اسلام شاہ اورنگ زیب اللہ تعالیٰ اُسے ’’نون و صاد‘‘ کی حرمت سے ابد الاباد تک جمعیت بخشے کہ وہ دین کو زندہ کرنے والا ہے، حضرت محمد رسول اللہ (ﷺ)کا غلام ہے، شریعت کی اتباع میں علم الیقین کے مرتبے پر فائز ہے اور دینِ محمد ی (ﷺ)کو راسخ کرنے والا ہے‘‘-

آپؒ نے اورنگ زیب کی خدمات کو خراج ِ تحسین پیش کرتے ہوئے اپنی ایک تصنیف کو ان کے نام سے منسوب فرما کر ’’اورنگ شاہی‘‘ رکھا جس میں آپؒ فرماتے ہیں:

’’مراتب بے شمار لا حد و لا تعداد حضرت محی الدین راسخ الدین عادل بادشاہ اورنگ زیب عالمگیر کو حاصل ہیں جو ہر طریقت سے واقف باعیان ناظر خلق اللہ کیلئے فیض بخش ہے اور جس نے غوث الاعظم (قدس اللہ سرّہٗ) کی ہر کتاب سے اسم اللہ کا حصہ اور کلام کا جواب باصواب حاصل کیا ہے‘‘-

آپؒ کلید التوحید کلاں میں فرماتے ہیں کہ:

’’بادشاہِ اسلام، محی الدین،صاحب شریعت، دین محمدی (ﷺ) پر ثابت قدم، قاتل کفار، حضور نبی کریم (ﷺ)  کا باطنی صحابی اور بندگانِ خدا میں برگزیدہ شاہ اورنگ زیب غازی اللہ تعالیٰ اُسے جمعیت و استحکام بخشے کے دورِ حکومت میں‘‘-

اورنگزیب اور علامہ محمداقبال :

سلطان العارفین حضرت سلطان باھُو (قدس اللہ سرّہٗ) کی طرح علامہ محمداقبالؒ نے اورنگزیبؒ کو اس خطے میں دینِ حق کا مُحافظ قرار دیا ہے اور فرمایا ہے کہ:

شاہ عالمگیر گردون آستاں
 اعتبار دودمانِ گورگاں
پایہ اسلامیاں برتر ازو
احترامِ شرعِ پیغمبرؐ ازو
درمیان کار زار کفر و دیں
ترکشِ مارا خد نگِ آخریں[24]

’’شہشاہ عالمگیر کا رتبہ اتنا بلند ہے کہ آسمان اس کے دروازے کی دہلیز تھا، وہ شہنشاہ جو گورگانی خاندان کے لئے باعث ِافتخار تھا مسلمانوں کا درجہ اس کی وجہ سے بلند ہوا اور رسول اللہ (ﷺ) کی شریعت کا احترام اس کی وجہ سے قائم دائم ہو گیا-کفر اور دین کی کشمکش میں شہنشاہ عالمگیر ہندوستان میں اسلام کی ترکش کا آخری تیر تھا‘‘-

حق گزید از ہند عالمگیر را
آن فقیر صاحبِ شمشیر را
از پے احیائے دین مامور کرد
بہر تجدید یقین مامور کرد
برق تیغش خرمنِ الحاد سوخت
شمع دین در محفل ما بر فروخت[25]

’’اللہ تعالیٰ نے ہندوستان میں سے عالمگیر کو چن لیا وہ عالمگیر جو درویش بھی تھا اور بے پناہ قوت دار شمشیر کا مالک بھی-(عالمگیر کو اس غرض سے چنا) کہ ہندوستان میں دین از سرِ نو زندہ ہوجائے اور مسلمانوں کی پھر سے یقین و ایمان کی رگوں میں خون دوڑنے لگے-عالمگیری شمشیر کی بجلی نے الحاد (اکبر و دارالشکوہ) کا خوشہ جلا کے رکھ ڈالا اور ہماری مجلس میں دین کی شمع روشن کر دی‘‘-

علامہ محمد اقبالؒ عالمگیر کی دین اسلام کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

شمعِ توحید را پروانہ بود
چو ابراہیم اندریں بتخانہ بود

’’عالمگیر توحید کی شمع کا پروانہ تھا اورہندوستان کے بت خانے میں اس نے سنتِ حضرت ابراہیم (﷤) کا احیاء کیا‘‘-

مؤرخین کی جانبداری:

ہم اورنگزیب کے بارے جب تاریخ کی کتب میں کی گئی ستم ظریفیوں کا جائزہ لیتے ہیں تو مؤرخین کی کچھ اقسام کا پتہ چلتا ہے تو ان کی مخالفت کی وجہ بھی سمجھ آتی ہے :

ہندو مؤرخین: سبھی ہندو مؤرخین نہیں ، لیکن شیو سینا ذہنیت والے اِس لئے اورنگزیب کی مخالفت کرتے ہیں کہ اس نے اکبری رعایات کا خاتمہ کیا اور ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کا خواب چکنا چور کرنے کی راہ ہموار کی -

لادینیت نواز مؤرخین: یہ اس لئے مخالف ہیں کہ اورنگزیب کی پالیسیوں سے شجرِ اسلام کو ہند میں تقویت ملی، بالخصوص فقہ حنفی و عقیدہ ماتریدیہ کا صحیح معنوں میں احیا و اجرا ہوا- آج تک بھی پاک و ہند میں قانونِ شریعت کے نفاذ کا جو مطالبہ کیا جاتا ہے یہ مطالبہ بھی اورنگزیب کا دیا ہوا ہے-

صفوی نواز مؤرخین: اولاً اورنگزیب کے پردادا ہمایوں اور بعد ازاں اورنگزیب کے دادا جہانگیر کی بیوی نور جہان کے ذریعے سے مغل دربار اور حکومت میں ایران کےصفویوں کا بہت بڑا اثر قائم ہوا جو شاہجہان کے دور میں بھی فروغ پاتا رہا ، اورنگزیب نے اس صفوی اثر کا خاتمہ کیا-

متحدہ ہندوستانی قومیت کے حامی : یہ گروہ بھی اکبری نظریۂ قومیت کا حامی ہے اور سمجھتا ہے کہ اقبال اور قائد اعظم کی سوچ کو اورنگزیب کے عہد سے تاریخی تقویت ملتی ہے اس لئے اورنگزیب کی مخالفت کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے-

انگریز مؤرخین: انگریز کیلئے سب سے بڑا مسئلہ حریت پسند مسلمانوں کو قابو کرنا تھا جن کی زیادہ تر تربیت نظامی مدرسوں میں ہوئی تھی- نیز ، انگریزی مفادات کا تحفظ اورنگ زیب پسند مسلمانوں سے خطرہ میں پڑتا ہے اس لئے انگریز ہمیشہ اکبر کو ترجیح دیتے ہیں جیسا کہ ہند کے آخری وائسرائے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے پاکستان کی قانون ساز اسمبلی کو خطاب میں کہا تھا-

تعیش پرست مؤرخین: اورنگزیب نے چونکہ شراب و شباب اور دیگر اخلاقی قباحتوں پہ حُکمِ شریعت سے پابندی عائد کر دی تھی، رقاصاؤں اور فحاشی پھیلانے والوں کو نکیل ڈالی تھی اس لئے رنگین طبیعتوں کے مؤرخین بھی عموماً اورنگ زیب کو بُرا بھلا کَہ کے تسکینِ نفس کرتے رہتے ہیں-

’’منتخب اللباب‘‘ (مغلیہ دور حکومت) کے مقدمہ میں محمد اقبال سلیم لکھتے ہیں:

’’اورنگ زیب عالمگیر کی بیدار مغزی، دین پناہی اور مجاہدانہ سرگرمیوں کو برے افکار اور اعمال قرار دینے کی سعی انگریز مؤرخین کی طرف سے ہمیشہ ہوتی رہی ہے اور ’’انگریزوں کے شاگرد ہندوؤں اور مسلمانوں‘‘ کی طرف سے بھی -اس سلسلہ میں چن چن کر ان تصانیف کو سر آنکھوں پر جگہ دی گئی جو عقائد کے اختلاف اور وطنی تعصب کی بناء پر عالمگیر میں صرف عیب ہی عیب دیکھ سکتے ہیں‘‘- [26]

تشکیل پاکستان میں اورنگ زیب عالمگیر کا کردار :

تشکیلِ پاکستان کے اگر اغراض مقاصد پر نظر ڈالی جائے تو اس کی کڑیاں ہمیں ریاستِ مدینہ جو کہ نظریہ اسلام پر پہلی مسلم ریاست قائم کی گئی سے ملتی ہیں-تشکیلِ پاکستان بھی نظریہ اسلام کے تسلسل کی ایک کڑی ہے- برصغیر پاک و ہند میں اسلام کا پرچم بلند کرنے اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جدوجہد کرنے والے مجدد، علماء، صوفیاء، بادشاہوں کی صف میں ایک نمایاں مجاہدِ اسلام، محی الدین، سلطانِ عادل اورنگ زیب عالمگیرؒبھی موجود ہیں- تشکیلِ پاکستان میں اورنگزیب کے کردار کو سمجھنے کیلیے ہمیں دو قومی نظریہ کے تناظر میں آپ کی خدمات کو سمجھنے کی ضرورت ہے جس سے ہمیں ہمارے مطلوبہ جوابات مل سکتے ہیں-

اگر حالات کا جائزہ لیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ مغلیہ سلطنت اور مسلمانوں کو درپیش خطرات میں سے ایک طرف ریاست بغاوتوں کی وجہ سے لہو لہان تھی تو دوسری طرف مسلمان اسلامی اقدار سے عاری ہو رہے تھے- ملحدِ اعظم جلال الدین اکبر نے ہوس اقتدار کی خاطر مسلمانوں کی شناخت ختم کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی حتی کہ اس نے تمام حدود پھلانگ کر اپنا نیا دین ’’اکبر کا دین ِ الٰہی‘‘ متعارف کروایا جس میں نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور دیگر شعائرِ اسلام کا تمسخر اڑایا جانے لگا، حتی کہ بادشاہ کو سجدہ کیا جانے لگا- دوقومی نظریہ سے مراد ’’مسلمان اورہندو ہرلحاظ سے دو الگ قومیں ہیں‘‘-اکبر نے اس نظریہ کی دھجیاں اڑادیں-بقول اقبال :

شمع دل در سینہ ہا روشن نبود
ملتِ ما از فساد ایمن نبود

 (اکبربادشاہ کے دور میں) سینوں میں دلوں کی شمعیں روشن نہ تھیں اور ہماری ملت فتنہ و فسادسے محفوظ نہیں سمجھی جاسکتی تھی‘‘-

سیاسی و سماجی کردار:

دین اکبری کی وجہ سے مسلم- ہندو تقسیم نے مغلیہ سلطنت کو کافی ٹھیس پہنچائی- محی الدین اورنگ زیب عالمگیرؒ نے نہ صرف ان فضول رسومات کا خاتمہ کر کے اسلامی اقدارکا احیاء فرمایا بلکہ مسلمانوں کی الگ شناخت کو دوبارہ بحال فرما کر دین ِ اسلام کا احیاء فرمایا-یہاں اس بات کی ذکر ضروری ہے کہ آپؒ نے غیر مسلم اقلیتیوں کے حقوق کا بھی خیال رکھا اور ان کی عبادت گاہوں اور رسومات کو منانے کی آزادی کو قائم رکھا-مسلمان اور ہندوؤں کے الگ قومی تشخص کو بحال کر کے اورنگ زیب عالمگیر نے دوقومی نظریے کی بنیاد فراہم کرنے میں اہم کردار کیا -اورنگ زیب عالمگیر کی اپنے باپ اور بھائیوں سے جنگ کی بنیادی وجہ بھی ان کی ہندو نوازی اوراسلامی اقدار سے منہ موڑنا تھا- آپ نے ’’ادْخُلُوْا فِی السِّلْمِ کَآفَّۃً‘‘ کی عملی تفسیر بن کر اپنے آپ کواسلامی سانچے میں ڈھالا اور پھر بعد میں گھر اور معاشرے سے  غیر اسلامی اثر و رسوخ کو ختم کیا-

آپ کی وفات کے بعد آپؒ کے بیٹوں میں حکمرانی کی جنگ چھڑ گئی جس نے نہ صرف نظریاتی طور پر مسلمان قوم کو نقصان پہنچایا بلکہ ریاستی طور پر بھی مسلمانوں کو کمزور کر دیا جس کی وجہ سے انگریز –ہندو گٹھ جوڑ اس عظیم اسلامی مغلیہ سلطنت کے تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے میں کامیاب ہو گئے اور اسلام دشمن مؤرخین نے بھی اس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سلطنت کے زوال کا سارا ملبہ اورنگ زیب عالمگیر کے کندھوں پر ڈال کے آپؒ کو اپنی ہی قوم کی نظر میں گرانے کا مکروہ کھیل کھیلا- مگرعلامہ اقبال جیسے حق گو نے آپ پر اچھالے گئے کیچڑ کو یوں صاف کرتے ہیں؛

حق گزید از ہند عالمگیر را
آں فقیر صاحبِ شمشیر را
از پۓ احیائے دین مامور کرد
بہرِ تجدیدِ یقیں مامور کرد
برقِ تیغش خرمنِ الحاد سوخت
شمعِ دیں در محفلِ ما بر فروخت

’’اللہ تعالی نے ہندوستان میں سے عالمگیر کو چن لیا- وہ عالمگیر جو درویش بھی تھا اور بے پناہ قوت دار شمشیر کا مالک بھی-(عالمگیر کو اس غرض سے چنا ) کہ ہندوستان میں (دین اکبری کے بعد) دین از سر نو زندہ ہوجائے اور مسلمانوں کی پھر سے یقین و ایمان کی رگوں میں خون ڈورنے لگے- عالمگیری شمشیر کی بجلی نے الحاد (لادینیت ) کا خرمن (خوشہ ) جلا کر راکھ ڈالا اور ہماری مجلس میں دین کی شمع روشن کردی‘‘-

دین اکبری کے خاتمے اور اسلامی تشخص کی بحالی سے اورنگ زیب کا تشکیلِ پاکستان کیلیے کردار نمایاں نظر آتا ہے- دین اکبری کے فساد نے مسلمانوں میں مسلم ریاست کی ضرورت کا ولولہ پیدا کیا جس کی چنگاری آہستہ آہستہ آگ میں تبدیل ہو گئی اور ہندو ؤں کے مسلم کش نظریات کو بھسم کر کے 1947ء کو ہندوستان کی تقسیم کی وجہ بنی- اورنگ زیب ہندوستان میں کفر اور دین کی کشمکش میں اسلام کے ترکش کا آخری تیر تھا جس نے تشکیل پاکستان کی تحریک کو عملی جامہ پہنانےمیں اہم کردار ادا کیا-

خلاصہ کلام:

مملکت ِ خدا داد پاکستان کی تاریخ جب بھی غیر جانبدار تاریخ لکھی جائے گی تو یہ لکھاجائے گا:

’’پاکستان اللہ تعالیٰ کا عطیہ خاص ہے (اہلِ بصیرت نے اس کو حضرت صالح (علیہ السلام)کی اونٹنی سے تشبیہ دی ہے اس لیے) جو بھی اس کے درپے ہوگا اس کی کسی بھی حوالے سے بد خواہی کرے گا اللہ پاک اس کو رسوا فرمائے گا-پاکستان رسول اللہ (ﷺ)کی نظر عنائت کا صدقہ ہے رسول اللہ (ﷺ)نے خود بنفس ِ نفیس اس وقت کے کئی علماء و مشائخ کو خواب میں تشریف لاکر تلقین فرمائی-اس کے بعد ہراس شخص جس نے اعلائے کلمۃ الحق کیلیے کام کیا یا وہ کر رہا ہے اس کا تشکیل ِ پاکستان میں روشن کردار ہے جس کو نظر انداز کرنا ایک حقیقت کو جھٹلانا اور احسان فراموشی ہوگی‘‘-

٭٭٭


[1]( منتخب اللباب(مغلیہ دورِ حکومت) ازخافی خان نظام الملک ،حصہ سوم ص:22)

[2](اورنگ زیب عالمگیر، شمس العلماء مولوی ذکاء اللہ، ص:490،)

[3]( منتخب اللباب(مغلیہ دورِ حکومت) ازخافی خان نظام الملک،حصہ سوم، ص:473)

[4]( فسانہ سلطنت مغلیہ (اطالوی سیاح منوچی کی یاداشتیں ) ترجمہ:خان بہادر سید مظفر علی خان،ص:206،)

[5]( ایضاً،ص:168-169)

[6](اورنگ زیب عالمگیر، شمس العلماء مولوی ذکاء اللہ)

[7](ایضاً)

[8](ایضاً)

[9](ایضاً)

[10]( یہ ایک رسم تھی جس کو ’’درشن جھروکہ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا جس میں لوگ صبح کو بطور عبادت بادشاہ کا دیدار کرتے تھے اور دیدار کیے بغیر کھاتے پیتے نہیں تھے،ان میں زیادہ تعداد ہندوؤں کی تھی ،اس فرقہ کو درشنی فرقہ کہتے تھے-)

[11]( فسانہ سلطنت مغلیہ (اطالوی سیاح منوچی کی یادداشتیں )، ترجمہ:خان بہادر سید مظفر علی خان،ص:177-178)

[12]( ایضاً،ص:261)

[13](اورنگ زیب عالمگیر، شمس العلماء مولوی ذکاء اللہ ،ص:32-33،)

[14]( ایضاً:ص:205)

[15]( ایضاً، ص:214)

[16]( منتخب اللباب(مغلیہ دورِ حکومت) ازخافی خان نظام الملک، ص:176،)

[17](اورنگ زیب عالمگیر از ڈاکٹر اوم پرشاد، ص: 170)

[18](اورنگ زیب عالمگیر از شبلی نعمانی)

[19](اورنگ زیب عالمگیر از ڈاکٹر اوم پرشاد ص: 170،)

[20](ایضاً، ص:169-170)

[21]( المفردات، ج:1، ص:121، مطبوعہ بیروت)

[22](در اصل ہندوؤں کو یہ رقم اس لیے بھی ناگوار گزرتی تھی کیونکہ اکبر نے ان کے دل جیتنے کے لیے یہ (جزیہ کی )رقم موقوف کردی تھی)

[23](التوبہ:29)

[24]( رموز بیخودی ، علامہ محمد اقبال )

[25](ایضاً)

[26](مقدمہ منتخب اللباب (مغلیہ دورِ حکومت) ازخافی خان نظام الملک،)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر