اسلامی معیشت و تجارت : سیرت النبیﷺ کی روشنی میں

اسلامی معیشت و تجارت : سیرت النبیﷺ کی روشنی میں

اسلامی معیشت و تجارت : سیرت النبیﷺ کی روشنی میں

مصنف: مفتی سید صابر حسین اکتوبر 2023

سیرت النبی (ﷺ) کے ہمہ جہت پہلوؤں میں ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں ہر شعبہ ٔزندگی کے حوالے سے نظریاتی سطح سے لے کرعملی سطح تک کی رہنمائی فراہم کی گئی ہے -اِن تمہیدی کلمات کے بعد جب انسان کی زندگی کے اہم ترین شعبہ معیشت کا سیرت النبی (ﷺ) کے تناظر میں تجزیہ کیا جاتا ہے ،تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ آپ (ﷺ) نے اِس اہم شعبے سے متعلق ایسے اَحکامات عطا فرمائے ہیں، جن پر عمل پیرا ہوکر دنیا میں منصفانہ اور اَخلاقی بنیادوں پر مستحکم نظامِ معیشت کا قیام عمل میں لایا جاسکتا ہے- عرب چونکہ تجارت کے پیشے سے وابستہ تھے، لہٰذا رسول اللہ (ﷺ) نے بھی اِس شعبے کو ابتدائی طور پر بطورِ ذریعۂ آمدن اختیار فرمایا اور اعلانِ نبوت سے پہلے متعدد دفعہ تجارت کی غرض سے ملکِ شام و یمن کا سفر فرمایا- اِن تجارتی اَسفار میں ایک معروف سفر وہ بھی ہے، جس میں آپ (ﷺ)  نے اُمُّ المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ (رضی اللہ عنہا) کا مال لے کر شام کی طرف کوچ فرمایا اور وہاں آپ نے منافع بخش کاروبار کیا- آپ (رضی اللہ عنہا)کے غلام میسرہ نے آپ (ﷺ) کے حسنِ تجارت کا ذکر جب اُن کے سامنے کیا ،تو وہ اِس قدر متاثر ہوئیں کہ اُنہوں نے آپ (ﷺ) کو نکاح کا پیغام بھیج دیا- یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس تجارتی سفر کے دوران رسول اللہ (ﷺ) کی وہ کون سی خاص بات تھی، جس سے میسرہ متاثر ہوئے- لہٰذا مؤرخین لکھتے ہیں کہ آپ (ﷺ) نے اس سفر میں تجارت میں دو اُصول اختیار کئے ہوئے تھے، ایک نرمی اور دوسرا کم شرحِ منافع - لہٰذا اگر کوئی شئے کم منافع میں بھی فروخت ہو رہی ہوتی، تو آپ (ﷺ) اُسے فروخت کر دیتے-ایک مرتبہ دورانِ تجارت آپ (ﷺ) نے خشک اور تر گند م کو الگ الگ کرکے مختلف قیمتوں میں فروخت کیا، تو آپ (ﷺ) کے اِس رویے کو دیکھ کر تاجر حیران رہ گئے، کیونکہ اُس زمانے میں تجارت میں اِس طرح کی ایمانداری کا تصور ہی موجود نہیں تھا- تاجروں کو اِس جانب مائل کرنے کے لئے آپ (ﷺ) نے فرمایا :

’’سچائی اور ایمانداری کے ساتھ معاملہ کرنے والا تاجر نبیوں ، صدّیقوں اور شہداء کے ساتھ ہوگا ‘‘-[1]

نرمی، کم شرحِ منافع پر فروخت کرنا اور اَشیاءِ فروخت کے عیوب کو گاہکوں پر ظاہر کرنا معیشت و تجارت کی ترقی کے لئے وہ کسوٹیاں ہیں، جن کی آپ (ﷺ) نے باقاعدہ ترغیب دی اور صحابہ کرام (رضی اللہ عننھم) نے اِنہیں اختیار کرکے اپنی تجارت کو وسعت دی- چنانچہ حضرت جابر بن عبداللہ (رضی اللہ عنہ) روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا کہ:

’’اللہ تعالیٰ اُس شخص پر رحم فرمائے، جو خرید و فروخت اور قرض کا تقاضا کرتے وقت نرمی کا برتاؤ کرے‘‘-[2]

حضرت سائب (رضی اللہ عنہ) نے قبولِ اسلام کے بعد ایک موقع پر رسول اللہ (ﷺ) کی تجارتی زندگی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:

’’ میرے ماں باپ آپ (ﷺ)پر قربان جائیں، آپ نے درست فرمایا- آپ میرے شریک تجارت تھے اور آپ نہ تو جھگڑا کرتے تھے اور نہ بحث کرتے تھے ‘‘-[3]

معروف تاجر صحابی حضرت عبدالرّحمٰن بن عوف (رضی اللہ عنہ) سے اُن کی تجارت و معیشت میں کامیابی کی وجہ جب دریافت کی گئی ،تو آپ نے نرمی اور کم شرحِ منافع پر اَشیاء کو فروخت کرنے کو اِس کامیابی کی بنیادی وجہ قرار دیا-

روزگارِ معیشت کے حصول میں نرمی اور کم شرحِ منافع دو ایسے رویے ہیں جو جدید معیشت و تجارت میں عنقاء کی مانند ناپید ہیں- اس کی وجہ یہی ہے کہ جدید اُسلوبِ تجارت میں منافع کے حصول کو تجارت میں سب سے اہم عنصر کے طور پر لیا گیا ہے، یہاں منافع کا حصول ہی سب کچھ ہے- یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب منافع ہی سب کچھ ہو،تو لازمی طور پر وہاں سختی کا عنصر غالب آجاتا ہے اور نرمی رفو چکر ہو جاتی ہے- جدید معاشی نظریات کے حامیین میں اکثر کی سوچ یہی ہے کہ تجارت و معیشت کا اَخلاقی اقدار سے کوئی تعلق نہیں- اِس نظریئے کے حامیین کہتے ہیں:

“Ethics and Business don’t mix. Business is a technical, not an ethical matter”.[4]

’’کاروبار اور اَخلاقیات ایک نہیں ہوتے، کیونکہ کاروبار ایک تیکنکی معاملہ ہے، نہ کہ اَخلاقی‘‘-

اِسی طرح ایک اور قول ہے :

“There are no ethical companies, because they all break the ethical rules from time to time”.[5]

’’اَخلاقی بنیادوں پر قائم کوئی کمپنی نہیں ہے کیونکہ وہ وقتًا فوقتًا اَخلاقی قوانین کو توڑتے رہتے ہیں‘‘-

      آج کی تجارت بنیادی اَخلاقیات سے عاری ہے، یہی وجہ ہے کہ تاجر ہر وہ ہتھکنڈہ اِستعمال کرتا ہے، جس سے اُس کے کاروبار کو فروغ ملے، چاہے اُس کے اثرات معاشرے پر کتنے ہی منفی کیوں نہ پڑرہے ہوں- اِن کے ہاں معیشت و تجارت کی ترقی میں اَخلاقی اَقدار سے زیادہ صارف (consumer behavior) کا رویہ اہمیت رکھتا ہے،چنانچہ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ اُن کا صارف اُن سے کیا چاہ رہا ہے- اُن کے اِشتہارات صارف کی چاہت کے مطابق ہی تیار کئے جاتے ہیں، اگرچہ اُن اِشتہارات سے معاشرے میں بے حیائی و فحاشی فروغ پارہی ہو یا لوگوں میں کسی شئے سے متعلق بلاضرورت اِشتہاء پیدا ہورہا ہو ،اُنہیں اِس سےکوئی سروکار نہیں-یہی وجہ ہے کہ ریڈیو، ٹیلی ویژن اور اَخبارات سے لے کر سڑکوں پر آویزاں دیوہیکل سائن بورڈز تک بےہودہ اِشتہارات سے بھرے پڑے ہیں- جبکہ رسول اللہ (ﷺ) نے صارف کے مزاج سے زیادہ شریعت کے مزاج کی پاسداری کا حکم دیا ہے -

ناجائز منافع خوری جدید معیشت و تجارت میں ایک کاروباری تیکنیک کی حیثیت رکھتی ہے- لہٰذا چند خود ساختہ اُصولوں کی پاسداری کے ساتھ کوئی جتنا چاہے منافع کما سکتا ہے- چاہے اُس کے لئے وہ ذخیرہ اندوزی کا سہارا لے یا لوگوں کی مجبوری کا فائدہ اُٹھاکر اِستحصالی کیفیت پیدا کرے یا اِجارہ داری قائم کرکے اپنے ارادے کی تکمیل کرے- جبکہ رسول اللہ (ﷺ) کی سیرت میں ناجائز منافع خوری کے سدِّباب کے لئے امکانی حد تک ہدایات ملتی ہیں- یہی وجہ ہے کہ سیرتِ نبوی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے مسلم تاجروں نے جب اِن دو مثبت رویوں کو اختیار کیا ،تو وہ نہ صرف دنیا کے بہترین تاجر بلکہ اِسلام کے مبلغ بن گئے، جہاں گئے تجارت و معیشت کے ساتھ ساتھ افرادِ معاشرہ کو اپنے رویے سے متاثر کرکے کفر کی ضلالت و گمراہی سے دین کی روشنی کی طرف بھی گامزن کرتے رہے- چنانچہ چین، انڈونیشیا، ملائیشیا اورتھائی لینڈ سمیت کئی ممالک میں اِسلام ان ہی تاجروں کے حسنِ رویئے کی وجہ سے پھیلا-

سیرتِ رسول (ﷺ) کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اِسلامی معیشت و تجارت میں اَخلاقیات کا پہلو سب سے زیادہ نمایاں ہے- یہی وجہ ہے کہ آپ (ﷺ) نے معیشت و تجارت میں اَخلاقی پسماندگی اور اِستحصالی رجحان پیدا کرنے والے سارے عوامل کو اُن کی جڑوں کے ساتھ اُکھاڑ پھینکا- ایسے ترغیبی اور قانونی اَحکامات دیئے ، جن پر عمل پیرا ہونے کی صورت میں منصفانہ تقسیمِ دولت کویقینی بنانا آسان ہوجاتا ہے- سود، جس کی ہر شریعت میں سختی کے ساتھ ممانعت آئی ہے[6]، کے سدِّباب کے لئے ہنگامی بنیادوں پر عملی اِقدامات اُٹھائے اور اس کے متبادل کے طور پر خرید و فروخت کے متعدد طریقے متعارف کرائے-خطبۂ حجۃ الوداع کے موقع پر پالیسی بیان دیتے ہوئے رسول اللہ (ﷺ) نے سود کی قطعی حرمت کو بیان کردیا اور حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ کی طرف سے لوگوں پر عائد سود کے خاتمے کا اعلان کر دیا-

 سود سے متعلق رسول اللہ (ﷺ) کے سخت ترین وعیدوں کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے عصرِ حاضر کے معاملات پر غور کیا جائے، تو آپ (ﷺ) کی سختی کی وجہ واضح ہوکر سامنے آجاتی ہے کہ آج دنیا کی معاشی تباہی و بدحالی میں سود کا جس قدر حصہ ہے، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں- خاص طور پر 2008ء کے بین الاقوامی مالیاتی بحران کے بعد تو دنیا کے ماہرینِ معیشت نے بغیر کسی لیت و لعل کے تسلیم کیا کہ اِس تباہی و بربادی کی بنیادی وجہ سودی نظام ہے- یہاں تک کہ عیسائیوں کے اُس وقت کے سب سے بڑے مذہبی پیشوا نے بھی برملا اعلان کیا کہ دنیا آئندہ اس طرح کے مالیاتی بحران سے محفوظ رہنا چاہتی ہے،تو اُسے معیشت و بینکاری میں وہ نظام اختیار کرنا ہوگا ، جسے اِسلام نے متعارف کرایا ہے-[7] معیشت کے معروف محقق محمد منیر احمد لکھتے ہیں :

’’2008ء کے گلوبل فنانشل کرائسز(GFC) کے بعد اہلِ مغرب کے پاس سرمایہ داری کے دفاع میں کوئی دلیل یا جواز موجود نہیں کیونکہ یہ بحران اِنتہائی ترقی یافتہ مغربی ممالک میں ’’at the heart of Wall Street‘‘ وقوع پذیر ہوا ہے- معاشی نظاموں کی ایک اور خصوصیت یہ بھی ہے کہ ایک نظام کی ناکامی کی صورت میں متبادل نظام کی تلاش شروع ہوجاتی ہے- اس وقت ہر طرف سے نظامِ سرمایہ داری میں اصلاحات کی باتیں ہو رہی ہیں- ورلڈ اکنامک فورم نے مختلف مذاہب کے پیروکاروں سے تجاویز طلب کی ہیں- تاکہ سرمایہ داری کے سفینے کو مکمل طور پر ڈوپنے سے بچایا جاسکے- پچھلے 500 برس کی معاشی تاریخ میں یہ بے بسی اور لاچاری نظامِ سرمایہ داری پر کبھی نہیں آئی- اِن نازک حالات میں ’’ساتویں صدی کی مدینہ اکنامکس‘‘ اہلِ مغرب کے لئے تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوسکتی ہے‘‘-[8]

فاضل مصنف یہاں مدینہ اکنامکس سے مراد رسول اللہ (ﷺ) کی سیرتِ طیبہ کی روشنی میں معاشی اصلاحات کی بات کررہے ہیں، کیونکہ ساتویں صدی میں جس معاشی نظام کا آغاز کیا گیا، وہ سیرتِ نبوی (ﷺ) ہی کا ایک روشن باب ہے-

سودی نظام اپنے اندرکس قدر تباہ کن اثرات رکھتا ہے، اِس حقیقت پر گفتگو کرتے ہوئے اِسلامی معیشت کے ماہر شیخ محمود احمد صاحب اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’’Man and Money‘‘ میں لکھتے ہیں:

’’تین چیزیں سود کے ساتھ ساتھ بڑھنا شروع ہوجاتی ہیں- جتنا سود بڑھے گا اُسی قدر بے روزگاری بڑھے گی، اَفراطِ زر  (inflation) میں اِضافہ ہوگااور اس کے نتیجے میں شرح سود (interest rate) بھی بڑھے گی- شرح سود کے بڑھنے سے بے روزگاری مزید بڑھے گی اور اَفراطِ زر میں اور زیادہ اضافہ ہوگا- الغرض یہ ایک دائرہ ٔ خبیثہ ہے،جس کے نتیجے میں ملک کی معیشت بالکل تباہ ہوجاتی ہے اور یہ تباہی ایک وقت تک پوشیدہ رہتی ہے لیکن پھر یک دم اس کا ظہور بڑے بڑے بینکوں کے دیوالیہ ہونے کی صورت میں ہوتا ہے- ابھی جو کوریا کا حشر ہورہا ہے ، وہ آپ کے سامنے ہے- اس سے پہلے روس کا جو حشر ہوچکا ہے، وہ پوری دنیا کے لئے باعثِ عبرت ہے- سودی معیشت کا معاملہ تو گویا شیش محل کی طرح ہے، اِس میں تو ایک پتھر آکر لگے گا اور اِس کے ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گے، اِس کے برعکس معاملہ صدقات کا ہے، جو بڑھتا ہی رہتا ہے‘‘-[9]

ماہرینِ معاشیات ہر 50 یا 60 برس کے بعد آنے والے اِس بحران کی اصل وجہ سود ہی کو قرار دیتے ہیں کیونکہ سود سے بظاہر معیشت ترقی کرتی ہوئی نظر آتی ہے، لیکن حقیقت میں وہ ترقی حقیقی اورپائیدارنہیں بلکہ عارضی ہوتی ہے اور کچھ ہی عرصے میں تنزّلی(declining) کا شکار ہوجاتی ہے- سود لینے والا اِسی غلط فہمی میں مبتلا رہتا ہے کہ وہ سود کے ذریعے اپنے مال میں اضافہ کررہا ہے لیکن حقیقت میں وہ اپنی بربادی کا سامان پیدا کررہا ہوتا ہے اور اَچانک ہی اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آکر اپنا سب کچھ کھودیتا ہے- لہٰذا سود میں تباہی ہی تباہی ہے، ترقی نہیں-قرآنِ مجید میں اِس اہم اور ناقابلِ تردید حقیقت کو اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے:

’’اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے، اور اللہ کسی ناشکرے، بڑے گناہ گار کو پسند نہیں کرتا‘‘-[10]

اِسی طرح ایک مقام پر اِرشاد فرمایا:

’’اور جو مال تم لوگوں کو دو تاکہ وہ لوگوں کے مال میں بڑھتا رہے ،حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک نہیں بڑھتا اور جو تم اللہ کی رضا کے لئے زکوٰۃ دیتے ہو، تو وہی لوگ (اپنے مال) کو بڑھانے والے ہیں‘‘- [11]

مذکورہ دونوں آیاتِ کریمہ کا مُدّعا یہی ہے کہ سود مال میں اضافہ نہیں بلکہ اِس کی تباہی کا باعث بنتا ہے اور وطنِ عزیز کی معاشی تباہی کے پیچھے سود ہی کا عنصر کارفرما ہے- جس سے چھٹکارے کے بغیر معاشی ترقی کا خواب ’’احمقوں کی جنت‘‘ میں رہنے کے مترادف ہے-

رسول اللہ (ﷺ) نے اپنی سیرتِ طیبہ کے ذریعہ اِسلامی معیشت و تجارت کے خدّو خال کا اِس باریک بینی کے ساتھ بیان فرمایا کہ آج کی دنیا حیران و ششدر رہ جاتی ہے- مثال کے طور پر آپ (ﷺ) نے ایک موقع پر تجارت میں قسم کھانے سے منع فرماکر اِس کی علَّت بھی بیان فرمادی کہ اِس سے وقتی طور پر تجارت کو فروغ تو مل جاتا ہے لیکن فی نفسہٖ وہ تجارت برکت سے عاری ہوجاتی ہے-بظاہر یہ ہدایت عمومی نوعیت کی ہے لیکن جب اِس کے اثرات پر غور و فکر کیا جائے، تو تجارتی اُصول و ضوابط کے نئے نئے دریچے کھلنا شروع ہوجاتے ہیں- قسم کھانے سے ممانعت کی ایک وجہ یہ سامنے آئی کہ اِس سےخریدار کا بھاؤ تاؤ کا حق سلب ہوتا ہے کیونکہ جب فروخت کنندہ قسم کھاکر اپنے سودے کی قیمت اور اُس کے اَوصاف بیان کردیتا ہے،تو قسم کے بعد عام طور پر خریدار مزید بات چیت نہیں کرتا اور لینے پر آمادہ ہوجاتا ہے- گویا کہ قسم اُس وقت اُس کے لئے اَخلاقی دباؤ کا باعث بن کر بھاؤ تاؤ کرنے سے اُسے روک دیتی ہے، جو تجارتی اَخلاقیات کے خلاف ہے- چنانچہ قسم کھانے سے روک دیا گیا-

آج پوری دنیا میں بروکری زوروں پر ہے-خریدار اور فروخت کنندہ بلا واسطہ معاملہ کرنے کی بجائے مڈل مین (middle man)یا ایجنٹ(agent) کا سہارا لیتے ہیں- مڈل مین کا نظریہ پوری دنیا میں رائج ہے اور یہ ایک انڈسٹری کی شکل اختیار کرچکا ہے- اِس کے کچھ فوائد بھی ہوسکتے ہیں، لیکن بنظرِ غائر جب اِس کے پوشیدہ اَثرات پر غور کیا جائے،تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں کہ اِس کی وجہ سے اِستحصالی رجحان فروغ پا رہا ہے- فروخت کنندہ کو اپنی چیز کی مناسب قیمت نہیں مل رہی ہے،تو دوسری جانب خریدار مڈل مین کے نرغے میں آکر شئے کی حقیقی قیمت سے زیادہ ادا کررہا ہے- اِس کی وجہ سے ہر شئے کی قیمت آسمان کو چھُو رہی ہے- خاص طور پرپراپرٹی کی قیمت میں ہوشربا اضافے کی وجہ یہی مڈل مین ہے- جبکہ  حضور نبی رحمت (ﷺ) نے اپنے اِرشادات میں اِس کی حوصلہ شکنی فرمائی ہے- چنانچہ آپ (ﷺ) نے کسی شہری کو دیہاتی کا مال فروخت کرنے سے منع کردیا[12] تاکہ اصل خریدار اور فروخت کنندہ آمنے سامنے آکر شئے کا بھاؤ تاؤ کریں اور طلب و رَسد کے فطری قانون کو سامنے رکھتے ہوئے، شئے کی قیمت متعین کریں- اِسی طرح زمانۂ جاہلیت میں قیمتوں کو متاثر کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی رائج تھا کہ جب کاشتکار اپنی زمین کی پیداوار فروخت کرنے کے لئے شہر کا رُخ کرتاتھا ،تو بعض شہری تاجر شہر سے باہر ہی اُنہیں روک لیا کرتے تھے اور اِنتہائی چالاکی کے ساتھ اُس سے کہتے کہ شہر میں جانے کی کیا ضرورت ہے، یہ مال ہم کو فروخت کردو، ہم اُنہیں آگے لوگوں سے بیچ دیں گے- اِس طرح سادہ دیہاتی اپنا مال شہریوں کو فروخت کر دیتے لیکن اُنہیں نہیں معلوم ہوتا کہ شہر میں اُن کے مال کی کیا مانگ ہے اور قیمت کیا ہے؟ اس طرح تاجر بعد میں منہ مانگی قیمت میں سستی قیمت میں خریدے گئے مال کو فروخت کرکے عام لوگوں کا استحصال کرتے ،جیسا کہ آج بھی یہی ہورہا ہے-دراصل اِسلام تجارتی معاملے میں کسی تیسرے شخص کی مداخلت کو پسند نہیں کرتا- اس کی وجہ یہ ہے کہ اِس عمل سے چیزوں کی حقیقی قیمت کا تعین مشکل ہوجاتا ہے اور واسطہ بننے والا شخص (middle man) اپنے فائدے کے لئے کبھی فروخت کنندہ اور کبھی خریدار کو نقصان پہنچاتا ہے، تو بازار کی آزادی کو متاثر کرنے والے ان دونوں ہی عوامل کی رسول اللہ (ﷺ) نے ممانعت اِرشاد فرما دی- گویا کہ اَخلاقی اُصولوں پر مبنی آزادانہ تجارت (Free Economy) کا تصور رسول اللہ (ﷺ) ہی کی سیرتِ مبارکہ میں ملتا ہے-

بازار وہ جگہ ہے، جہاں تاجر حضرات اپنے اَموالِ تجارت صارفین کو فروخت کرنے کی غرض سے دکانوں، ریڑھیوں اور اسٹالوں میں رکھتے ہیں اور آزادانہ ماحول میں اپنی تجارت کو فروغ دینے کی کوشش کرتے ہیں- آپ (ﷺ) معیشت کی ترقی و ترویج کے لئے صالح اور اَخلاقی بنیادوں پر قائم بازار کی اہمیت سے خوب واقف تھے-اَحادیثِ مبارکہ میں ہے کہ زمانۂ جاہلیت میں عُکاظ (یہ بازار ماہِ ذوالقعدہ کے شروع سے بین ذوالقعدہ کے درمیان لگتا تھا)، ذوالجنہ(یہ بیس ذوالقعدہ سے یکم ذی الحج تک لگتا تھا) اور ذوالمجاز (یکم ذی الحج سے لے کر آٹھ ذی الحج تک)کے نام سے تین بازار لگتے تھے- ان میں لوگ اپنے اموال کی خرید و فروخت کرتے تھے- زمانۂ جاہلیت میں اِن بازاروں کو میلے کی حیثیت بھی حاصل تھی، جس کی وجہ سے وہاں چند منکرات اور ناپسندیدہ اُمور بھی دیکھنے کو ملتے تھے- چنانچہ صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) اِن بازاروں میں جانے سے اِجتناب کرتے لیکن جب قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا حکم آیا کہ تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم اپنے ربّ کے فضل کو تلاش کرو یعنی حج کے زمانے میں بھی تمہارے لئے تجارت کرنا جائز ہے،[13]تو پھر مسلمانوں نے منکرات سے بچتے ہوئے اِن بازاروں میں کاروبار کا سلسلہ شروع کیا-

حضرت اَنس (رضی اللہ عنہ)کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) بھی کسبِ معاش اور اپنی ضروریات کی تکمیل کے لئے بازار گئے اور اُمت کو بازاروں میں جانے کا عملی نمونہ پیش کیا- یہ معاملہ تو مکی زندگی میں تھا، جہاں تک مدینۂ منورہ کا تعلق ہے ،تو آپ (ﷺ) جس وقت وہاں تشریف لے گئے، اُس وقت وہاں یہودیوں کے چار بازار موجود تھے- ان میں سے دو ’’سوقِ زبالہ‘‘ اور ’’سوقِ بنی قینقاع ‘‘ ہر قسم کے کاروبار کے لئے تھےاور کاروبار پر اُن ہی کا تسلط قائم تھا- رسول اللہ (ﷺ) نے مسلمانوں کو اُن بازاروں میں کاروبار کرنے کی اِجازت دینے کی بجائے اُن کے لئے الگ بازار قائم فرمایا ،جسے جدید ماہرینِ معیشت نے ’’خیمہ مارکیٹ ‘‘ کا نام دیا ہے-

رسول اللہ (ﷺ) کے زمانۂ اَقدس میں معیشت و تجارت کی تمام تر صورتیں رائج تھیں، لیکن اُن میں کچھ صورتیں جائز اور کچھ ناجائز تھیں- زمانۂ جاہلیت میں چونکہ جائز و ناجائز کا کوئی باقاعدہ تصور موجود نہیں تھا بلکہ تاجر حضرات جزوی اَخلاقی حدود و قیود کے ساتھ ان کاروباری صورتوں کو اختیار کئے ہوئے تھے- رسول اللہ (ﷺ) نے اِن معاشی و تجارتی معاملات پر خصوصی توجہ دی اور اُن کی تنقیح (purification) کرتے ہوئے، جائز صورتوں کو بعینہٖ قائم رکھا، جن میں جزوی قباحتیں تھیں، اُن کی اصلاح فرمادی جیسے بیع سلم و استصناع وغیرہ اور جو بالکل ہی قابلِ اصلاح نہیں تھیں ،اُنہیں مطلقًا ناجائز قرار دے جیسے سوداورحرام اَشیاء کی خریدوفروخت وغیرہ-

الغرض! سیرتِ نبوی (ﷺ) سے کامیاب معیشت و تجارت کے تمام اُصول و ضوابط میسر آتے ہیں، آج کی دنیا معاشی استحصال، غربت وافلاس، بے روزگاری، اَفراطِ زر اور تمام معاشی مسائل سے نکلنے کے لئے حضور نبی کریم (ﷺ) کی سیرت سے رہنمائی لے سکتی ہے- اِس کے بغیر معاشی عدل و انصاف، منصفانہ تقسیمِ دولت اور غربت کے خاتمے کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا -

٭٭٭


[1](سننِ ترمذی، کتاب البیوع، باب ماجاء فی التجار تسمیۃ التی ایاھم)

[2](صحیح بخاری، کتاب البیوع، باب السہولۃ والسماحۃ فی الشراء والبیع)

[3](سننِ ابی داؤد، کتاب الادب، باب فی کراھیۃ المراۃ)

[4]Donaldson, J (1999), “Codes, Stakeholders and Business Philosophy”,

[5]DTI (Department of Trade & Industry), UK (25.05.02), “Corporate Social Responsibility”,

www.societyandbusiness.gov.uk: Developing Corporate Social Responsibility in the UK

[6](النساء:161)

[7]Kayed, R. N., & Hassan, M. K. (2011). The global financial crisis and Islamic finance. Thunderbird International Business Review, 53(5), 551-564.

[8]) مدینہ اکنامکس، ص:17، مطبوعہ ایوانِ علم وفن لاہور)

[9](اَربعینِ حرمتِ سود، ص:20، مطبوعہ شعبہ نشرواِشاعت دارالاقتصاد الاسلامی، لاہور)

[10] (البقرہ:276)

[11](الروم: 39)

[12](صحیح مسلم، کتاب البیوع،باب تحریم البیع الحاضر لباد)

[13]( البقرہ:198)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر