سورۃ الفاتحہ

سورۃ الفاتحہ

تعارف:

سورة فاتحہ قرآن مجید فرقان حمید کی وہ عظیم سورة ہے جسے اللہ رب العزت نے اُمت محمدی (ﷺ) کیلیے تحفۂ خاص کے طور پر نازل کی- سورة فاتحہ قرآن کریم کے مقدمے کی حیثیت رکھتی ہے - اسے دیباچہ یا آغازِ کلام کا معنی بھی قرار دیا جاسکتا ہے- یہ قرآن کریم کی پہلی سورة ہے اس لیے اسے فاتحہ یعنی افتتاحی (آغاز) کہا جاتا ہے- اس کی کوئی آیت ناسخ و منسوخ نہیں- اس سورة کی ہر آیت محکم ہے اور علوم قرآنی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے- سورة فاتحہ پر کسی بھی فتنہ پرور کا اعتراض کرنا نا ممکنات میں سے ہے- سورۃ فاتحہ کے دلنشین فرامین لطائف و معارف ایک عظیم شان کے مالک ہیں کیونکہ اس کا اسلوب دعائیہ ہے اور اس میں فطرت انسانی کی خاص ترجمانی کی گئی ہے اوریہ انسان کو اس کی حقیقت تک رسائی فراہم کرتی ہے-یہ ایسی عظیم سورۃہے جو انسان کو روز اول سے محشر تک یاد رکھنے کا حکم اور تعلیم دیتی ہے- یہ قرآن کریم کے مضامین عقائد، عبادات، قصص اور امثال پر مشتمل ہے گویا یہ سورۃ سمندر کو کوزہ میں بند کرنے کے مترادف ہے کیونکہ  اس کے مضامین خلاصۃ القرآن کا درجہ رکھتے ہیں- مزید برآں یہ اپنے اندر فلسفہ و حکمت کو ضم کیے ہوئے ہے-

زمانہ نزول:

یہ مکی سورة ہے، یہ حضور رسالت مآب (ﷺ) کے ابتدائی زمانے کی سورة ہے- آپ (ﷺ) کا مکی دور نہایت مشکل دور تھا اور آپ نہایت نامساعد حالات کا سامنا کر رہے تھے- یہ سورة آپ (ﷺ) کی تسلی و تشفی کے لئے نازل کی گئی جو کہ قرآن کریم کی سب سے عظیم ترین سورۃ کا درجہ رکھتی ہے- اس کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ بعض مفسرین نے حضرت مجاہد کے قول کی وجہ سے سبع مثانی کی وجہ ٔ تسمیہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ سورۃ مبارکہ دو بار نازل ہوئی ایک مرتبہ مکہ میں اور ایک مرتبہ مدینہ میں-

معنی ومفہوم:

سورة فاتحہ کا اجمالاً جائزہ لیتے ہوئے ہم اس کے منفرد اسماء، بمعنی و مفہوم اور اس کی سات (7) دلکش آیات کی عظمت کو بیان کرتے ہیں-

قرآن پاک کا افتتاح اس سورۃ مبارکہ سے کیا گیا ہے اس لئے اس کا نام فاتحہ ہے-

فاتحہ کا مادہ ’’فتح‘‘ عام طور پر کامیابی کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے- قرآن کریم میں ارشاد ہے :

’’اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا‘‘[1]

’’بے شک ہم نے آپ کو روشن فتح عطا فرمائی‘‘-

یہاں یہ آیت اس نقطہ کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ حقیقی معنوں میں کامیابی اور فتح کی ضمانت اس بات پر منحصر ہے کہ اس کی تعلیمات کی صحیح پیروی اس کی حقیقٰی معنوں کے مطابق حاصل کی جائے اور اس کے ان فیوض و برکات سے مستفیض ہوں جو اس سورۃ میں پوشیدہ ہیں-اسی طرح ہم مزید فتح کے مطالب پر غور کریں تو ’’زاد المیسر و الکشف والبیان‘‘ کے باب سورۃ فاتحہ کے مطابق یہ لفظ ’’فتح یفتح‘‘ سے مشتق ہے ’’یعنی کھولنا‘‘-فتح سے متعلق قرآن مجید میں فرمانِ باری تعالیٰ ہے:

’’فَتَحْنَا عَلَیْہِمْ اَبْوَابَ کُلِّ شَیْءٍ ط حَتّٰی اِذَا فَرِحُوْا‘‘ [2]

’’ہم نے ان پر ہر چیز (کی فراوانی) کے دروازے کھول دیے یہاں تک کہ جب وہ ان چیزوں (کی لذتوں اور راحتوں) سے خوش  (ہوکر مدہوش) ہوگئے‘‘-

گویا الفاتحہ سے مراد حقیقی برکت و سعادت کا راستہ کھولنا ہے جو انسانی زندگی کو فکری الجھنوں سے نجات دلا کر ذہنی سکون اور اطمینان قلب تک رسائی دیتی ہے-

امام راغب اصفہانیؒ فرماتے ہیں کہ فتح دو قسم کی ہے؛’’فتح ظاہری اور فتح باطنی ‘‘-

’’المفردات‘‘ میں مذکور ہے: [3]

’’ان دونوں میں سے ایک آنکھ سے معلوم ہوتی ہے جیسے دروازہ کھولنا، تالہ، گانٹھ اور سامان کھولنا وغیرہ‘‘-

’’دوسری نور بصیرت سے معلوم ہوتی ہے جیسے نور بصیرت، علمی تاثرات اور روحانی برکات کے باعث اس کا نام الفاتحہ ہونا یقیناً قابل ستائش ہے‘‘-

باعتبار زمانہ لفظ فاتحہ پر غور کیا جائے تو یہ اِنشراحِ صدر کے مفہوم پر دلالت کرتی ہے جو کہ مُغیّباتِ رَبّانی کے علم کے دَروازے کا کھل جانا اور علُومِ معارِف سے فیض یاب ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے- جیسے کہ المفردات کے مطابق:

’’فلاں نے علم کا بند دروازہ کھول دیا‘‘- [4]

اس معنی کو اگر قرآن کریم کے مطابق جانچتے ہیں تو قرآن فرماتا ہے:

’’قَالُوْا اَتُحَدِّثُوْنَہُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ لِیُحَآجُّوْکُمْ بِہٖ عِنْدَ رَبِّکُم‘‘ [5]

’’کہتے ہیں کیا تم ان (مسلمانوں) سے (نبی آخر الزماں (ﷺ) کی رسالت اور شان کے بارے میں) وہ باتیں بیان کردیتے ہو جو اللہ نے تم پر تورات کے ذریعے ظاہر کی ہیں تاکہ اس سے وہ تمہارے رب کے حضور تمہیں پر حجت قائم کریں‘‘-

جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے کہ یہ ’’فتح یفتح‘‘ سے مشتق ہے یعنی کھولنا اور اس فتح سے مفتاح مشتق ہوا ہے جس کا مطلب کنجی ہے اور اس کی جمع پر نظر کی جائے تو ’’مفاتح‘‘ اور ’’مفاتیح‘‘ سامنے آتے ہیں-

کنجی کےمعنی کو لیا جائے تو یہ ایک ایسا آلہ ہے جس کے ذریعے کسی بند چیز کو کھولا جا سکتا ہے اور سورۃ فاتحہ کے مفہوم پر غور کیا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ سورة کی تعلیمات یقیناً اپنے مطالب و معارف میں مخفی اسرار و رموز پنہاں کیے ہوئے ہے جن تک رب تعالیٰ کی منشا کے بنا کوئی رسائی حاصل نہیں کر سکتا- جیسا کہ قرآن حکیم میں ارشاد ہے:

’’وَ عِنْدَہٗ مَفَاتِحُ الْغَیْبِ لَا یَعْلَمُہَا اِلَّا هُوْ‘‘ [6]

’’اور غیب کی کنجیاں (یعنی وہ راستے جن سے غیب کسی پر  آشکار کیا جاتا ہے) اس کے پاس (اس کی قدر و ملکیت میں) ہیں انہیں اس کے سوا (از خود) کوئی نہیں جانتا‘‘-

درجہ بالا آیات میں مفاتح لفظ جو کہ مفتاح کی جمع ہے اس کا مطلب کھولنا، منکشف کرنا ہے-

گویا کنجیوں کا موجود ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ مَشِیَّتِ ایزدی غیب کو بند رکھنا نہیں چاہتی بلکہ اسے کھولنا چاہتی ہے؛اور غیب کا کھلنا ’’باطنی علم کا کھلنا‘‘ ہے  یعنی اس کا صحیح معنوں میں ادراک ہونا ہے-

اب یہاں علم کے کھلنے سے مراد وہ علم نہیں ہے جو صحیفوں سے حاصل ہوتا ہے بلکہ درحقیقت وہ خاص علم ہے جو کہ انسان کے باطن میں بُوٹی کی مانند پیوست ہوکر پھلتے پھولتے خوشبودار تناور درخت کی شکل اختیار کر لیتا ہے اور پھر وہ سینہ بہ سینہ منتقل ہوتا چلا جاتا ہے- سورہ فاتحہ کی ابتداء ’’الحمد للہ‘‘ میں اسم اللہ کے بارے میں صوفی بزرگ حضرت سخی سلطان باھوؒ صاحب اپنے خوبصورت کلام میں فرماتے ہیں کہ:

الف: اَللہ چَنْبے دِی بُوٹی میرے مَن وِچ مُرشد لَائی ھو
نَفی اَثبات دَا پَانی مِلیس ہَر رَگے ہَر جَائی ھو
اَندر بُوٹی مُشک مَچایا جَاں پھُلّاں تے آئی ھو
جِیوے مُرشِد کامِل باھوؒ جَیں ایہہ بُوٹی لائی ھو

حضرت سخی سلطان باھوؒ یہاں ’’الف: اَللہ چَنْبے دِی بُوٹی ‘‘ میں موجود اس علم کو بیان کر رہے ہیں جس کی کنجیاں اللہ رب العزت کے پاس ہیں جس کی بدولت  باطن کوشعور نصیب ہوتا ہے اور علم و معرفت کے دروازے کھلتے ہیں -کیونکہ وہ جس کیلیے چاہے غیب کو فتح فرما دے اور جس کے لیے چاہے علم و ہدایت کے مخفی خزانوں کا دروازہ کھول دے اور علم و معرفت کی راہ میں آنے والی رکاوٹیں دور کر کے غنی علوم عطا کر کے کامیاب کر دے-

ذات باری تعالیٰ نہ صرف علام الغیوب ہے بلکہ وہ ذات اقدس تو فاتح الغیب بھی ہے-

(الفاتحہ) سورة حق تعالیٰ کی خصوصی ہدایت، جنت کے خزانوں کا دروازہ  یعنی علم و معرفت کے دروازے کھولنے والی ہے- اس لئے اس کا مقام قرآن کریم کی ابتداء  میں ہےجس کے بغیر کامیابی ناممکن ہے- جیسا کہ حضور نبی کریم (ﷺ) کا فرمانِ ذیشان ہے:

’’جو بامقصد کام حمدِ الٰہی سے شروع نہ کیا گیا اس میں (حقیقی) کامیابی نہیں ہوتی‘‘-[7]

حقیقی کامیابی کیلیے انتہائی عاجزی اور کمال خشوع کے ساتھ ساتھ قرآنی علوم و ہدایت کا دروازہ اگر کسی سورة سے کھلتا ہے تو وہ سورۃ فاتحہ ہے اور جس کو فاتحہ کی حقیقت نصیب ہے تو یہ قابل قدر اور قابل ستائش بات ہے کہ اس پر ہدایت کے خزانے کھول دیے گئے-

سورہ فاتحہ کے بہت سے اسماء ہیں جو اس کی فضیلت و شان و تقدیس کو بیان کرتے ہیں-ان میں سے چند درج ذیل ہیں:

  1. 1.      اُم الکتاب، اُم القرآن

حضرت ابو ہریرہ (رضی اللہ عنہ)سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا:

’’الحَمدُ للہ ربّ العالمین اُم القران و اُم الکتاب و السبع المثانی ‘‘[8]

’’الحمدللہ ربّ العالمین (یعنی سورہ الفاتحہ) اُم القرآن،اُم الكتا ب اور السبع المثانی ہے‘‘-

حضرت عبادہ بن صامت(رضی اللہ عنہ)سے مروی ہے کہ آپ (ﷺ) نے فرمایا:

’’لا صلاۃ لمن لم یقرأ بام القران‘‘[9]

’’اس شخص کی نماز نہیں ہوئی جس نے اُم القرآن (یعنی سورہ الفاتحہ) نہیں پڑھی‘‘-

وجہ تسمیہ اُم:

اہل عرب کسی بھی کام کی جڑ کو ’’اُم ‘‘کہتے ہیں جس کے اجزاء اُسی کے تابع ہوں- اسی طرح ’’اُم الراس‘‘ اس جلد کو کہا جاتا ہے جو پورے دماغ کی جڑ یا جامع ہو-اسی طرح اہل لشکر اپنے علم یا علامتی نشان جس کے نیچے سب مجتمع ہوں اُم کہتے ہیں-مکّہ کو بھی( اُم القری) کہا جاتا ہے کیونکہ یہ پہلا شہر ہے جہاں سے اسلام کی کرنیں پھوٹیں-

قرآن کریم میں ارشاد ہے:

’’إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ ‘‘[10]

’’بے شک سب سے پہلا گھر جو لوگوں(کی عبادت) کے لیے بنایا گیا وہی ہے جو مکہ میں ہے ‘‘-

  1. 2.      السبع المثانی:

سورہ الفاتحہ کا یہ نام ’’السبع المثانی‘‘ کا ذکر اللہ تعالیٰ نے خود قرآن کریم میں ارشاد فرمایا:

’’وَ لَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِّنَ الْمَثَانِي وَ الْقُرْآنَ الْعَظِيمَ ‘‘[11]

’’اور بیشک ہم نے آپ کو بار بار دہرائی جانے والی سات آیتیں یعنی (سورۃ الفاتحہ)اور بڑی عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے‘‘-

جامع ترمذی، مسند احمد، بیہقی، دارقُطی میں حضرت ابو ہریرہ ، حضرت علی، حضرت عبداللہ ابن عباس (رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ آپ(ﷺ)نے متعدد مقامات پر ارشاد فرمایا :

’’و انھا السبع من المثانی و القرآن العظیم اعطیتہ ‘‘[12]

’’یہی سورۃ سبع مثانی ہے اور یہ وہ قرآنِ عظیم ہے جو مجھے دیا گیا‘‘-

  1. 3.      اساس القرآن:

سورۃ فاتحہ کا ایک نام اساس القرآن بھی موسوم کیا جاتا ہےکیونکہ یہ قرآنِ کریم کی اساس یعنی بنیاد کی اہمیت رکھتی ہے-

  1. 4.      سورۃ الشکر:

سورۃ فاتحہ کو سورۃ شکر بھی کہا جاتا ہے اور وجہِ تسمیہ یہ ہے کہ اس سورۃ کا پڑھنا شکرِ الٰہی کرنا ہےجو عطا، رحمت، نعمت اور ہدایت کی صورت میں عظیم احسان، اللہ کریم نے ہم پر کیا ہے اس کی تعریف بھی شکر کے زُمر ے میں آتی ہے-

  1. 5.      سورۃ الکنز:

کنز کے لغوی معنی خزانے کے ہیں اور یہ سورۃ علوم و ہدايات اور اسرار و رموز کا خزانہ خود میں سموئے ہوئے ہے-

’’جامع الترمذی‘‘ میں مذکور ہے:

’’خدا کی قسم جس کے قبضہ قُدرت میں میری جان ہے اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کی مثل تورات، انجیل، زبور اور خود قرآن میں بھی نازل نہیں فرمائی‘‘-[13]

  1. 6.      سورۃ النور:

ایک دفعہ حضرت جبرائیل (علیہ السلالم) آپ (ﷺ) کی خدمت میں تشریف فرما تھے کہ دھماکے کی ایک زور دار آواز آئی- جبرائیل (علیہ السلام)نے اوپر دیکھا اور عرض کیا کہ آج آسمان کا وہ دروازہ کُھلا ہے جو پہلے کبھی نہیں کھلا تھا-پھر ایک فرشتہ بارگاہ رسالت مآب (ﷺ) میں حاضر ہوا اور عرض کی ’’یا رسول اللہ‘‘ (ﷺ)خوش ہو جائیے:

’’آپ (ﷺ) کو دو نور ایسے عطا کیے گئے ہیں کہ آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں ملے تھے ایک سورۃ الفاتحہ اور دوسرا سورۃ البقرۃ کی آخری دس آیات- ان میں سے جو حرف آپ پڑھیں گے آپ(ﷺ) کو نور میسر آئے گا‘‘-[14]

یوں تو کلامِ الٰہی تمام تر نور ہی ہے لیکن اس نور کا پیکر کمال کا درجہ سورۃ الفاتحہ کو حاصل ہے-

  1. 7.       سورۃ الرقیہ:

’’رقیہ‘‘ لفظ عربی زبان میں تریاق کیلیے استعمال ہوتا ہے- حضرت ابو سعید خدری (رضی اللہ عنہ) روایت کرتے ہیں کہ:

’’چند صحابہ کرام (رضی اللہ عنہ)سفر میں تھے کہ ایک خاتون نے سانپ کے ڈسے تریاق کی بابت اُن سے دریافت کیا تو ایک صحابی نے سورۃ الفاتحہ پڑھ کر اس شخص پر دم کر دیا جس سے وہ صحت یاب ہو گیا، آپ (ﷺ) تک یہ ماجرا پہنچا تو آپ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’کیا وہ نہیں جانتا تھا کہ (یہ)سورت تریاق ہے ‘‘-[15]

  1. 8.      فاتحۃ الکتاب:

’’سنن الدرمی‘‘ میں روایت مذکور ہے :

’’من لم یقرأ بام الکتاب فلا صلٰوۃ له ‘‘[16]

’’جس نےام الکتاب(سورۃ فاتحہ) نہ پڑھی تو اس کی نماز نہیں ہے‘‘-

حضرت عبادہ بن صامت (رضی اللہ عنہ)سے مروی ہے کہ آپ (ﷺ)نے فرمایا:

’’لا صلاة لمن لم یقرأ بفاتحة الکتاب‘‘ [17]

’’اس شخص کی نماز نہ ہوئی جس نے فاتحۃ الكتاب(یعنی سورہ فاتحہ) نہیں پڑهی‘‘-

عبدالملک بن عمیر (رضی اللہ عنہ)سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم (ﷺ) نے فرمایا:

’’فاتحةالكتاب شفاءمن كل داء ‘‘[18]

’’سورۃ فاتحہ ہر مریض کے لیے شفاء ہے‘‘-

  1. 9.      سورۃ الواقیہ:

الواقیہ سے مراد کسی کو تکلیف اور مصیبت سے محفوظ کرنا اور چھپا لینے کے ہیں اسی لحاظ سے یہ سورۃ اپنی برکات سے انسان کو مصائب و آلام سے بچاتی ہے اسی لیے اس کا نام الوا قیہ بھی ہے-

10.  سورۃ الکافیہ:

اس سورہ کو سورۃ الکافیہ بھی کہا جاتا ہے کہ کوئی سورۃ اس کی جگہ پر مکمل اور کافی نہیں ہے- حضرت عبادہ بن صامت (رضی اللہ عنہ)سے مروی ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’سورة ام القران ہر ایک سورة کا عوض ہے لیکن کوئی اور سورة اس کا عوض نہیں‘‘-[19]

11.  سورة الدعا:

سورة الفاتحہ کا اسلوب دعائیہ ہے اور اسی بناء پر اسے سورة الدعا بھی کہا جاتا ہے-

12.  سورة الوافیہ :

سورة الفاتحہ کا نام الوافیہ بھی ہے اس کے معنی ہیں پورا کرنا- اس کا نصف پڑھنا جائز نہیں ہے- مثلاً دیگر سورتیں جن کی آیات کم از کم چھ سے زائد ہوں انہیں نصف کرکے دو رکعت میں پڑھا جا سکتا ہے- لیکن سورة الفاتحہ کیلیے اجازت نہیں ہے-بلکہ  اسے ہر رکعت میں مکمل ہی پڑھا جائے گا- اس لئے اسے ’’الوافیہ ‘‘کہا گیا اور اجر و ثواب کی کثرت بھی ایک وجہ ہو سکتی ہے-

13.  سورة الشفاء:

امام دارمیؒ نے ’’مسند‘‘ اور امام بیہقیؒ نے ’’شعب الایمان‘‘ میں روایت کیا ہے:

’’فاتحۃ الکتاب زہر کے لئے شفاء ہے‘‘-[20]

حضرت سعید بن منصور اور امام بیہقیؒ حضرت ابو سعید خدری(رضی اللہ عنہ) سے مرفوعاً مروی ہے:

’’فاتحة الکتاب شفاء من کل داء‘‘[21]

14.  سورة الحمد:

سورة فاتحہ کا آغاز لفظ ’’الحمد‘‘ سے ہوتا ہے اسی لحاظ سے اس سورہ کا نام ’’سورۃ الحمد‘‘ ہے- سورة فاتحہ میں اللہ کی تعریف اور توصیف بیان کی گئی ہے جو کہ اللہ کی شان اور کبریائی کے تذکرے سے معمور ہے اور اس کے احسانات و انعامات کی طرف نشاندہی کرتی ہے-

حضرت ابو سعید بن معلیٰ(رضی اللہ عنہ) روایت کرتے ہیں کہ آپ(ﷺ) نے فرمایا:

’’قرآن کی سب سے عظیم سورۃ الحمد ہے‘‘-[22]

15.  سورة المناجات:

سورة فاتحہ کا ایک نام ’’سورة المناجات‘‘ بھی ہے- سورة فاتحہ کے ابتدائی لفظ کے علاوہ یہ پوری سورة رب تعالیٰ کی کبریائی اور منا جا ت پر مشتمل ہے-

16.  سورة الصلاة:

سورة فاتحہ کو سورة الصلاة بھی کہا جاتا ہے- سورة فاتحہ کی شان اور ناگزیریت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس سورة کے بغیر نماز نہیں ہوتی، اس کا پڑھنا واجب ہے-

آپ (ﷺ)  نے فرمایا:

’’جس نے ’’فاتحۃ الکتاب‘‘ نہ پڑھی اس کی نماز پوری نہ ہوئی‘‘- [23]

اس کے علاوہ اس کے ناموں میں یہ بھی  شاملہ ہیں:

17.  سورة التفویض

18. سورة تعلیم المسئلہ

19.  سورة السوال

سورۃ فاتحہ کے مضامین کا اجمالاً جائزہ:

سورۃفاتحہ کے مضامین کا اجمالی جائزہ لیں تو اس کی ابتدائی آیات ’’علم العقائد‘‘ اور زندگی کی عملی پہلو کی اصلاح کے بعد تصوّر ہدایت کی طرف توجہ مرتکز کرتی ہے -

الْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ :

اس مقدس سورۃ کی ابتداء ’’الحمد للہ‘‘ سے ہوتی ہے اس میں لفظ ’’الله‘‘ رب کائنات کی صفت الوہیت کی طرف اشارہ کرتا ہےکہ وہ یکتا ذات ہے جو تمام تعریفوں کی مستحق ہے وہی ذات مالکِ کائنات ہے جو الٰہ کہلانے کا حق رکھتی ہے اور وہی حقدارِ الوہیت ہے- یہاں لفظ ’’الٰہ‘‘ سے مراد وہ ذات اقدس ہے جو تمام تر کائنات کی خالق ہے اور ہر کمال کی ابتداء اور انتہاء اُسی سے شروع اور اُسی پر اختتام پذیر ہوتی ہے-الوہیت کا ذکر قران پاک میں متعدد مقامات پر بدرجہ اتم موجود ہے -

سورہ فاطر میں ارشاد ہے:

’’هَلْ مِنْ خالِقٍ غَيْرُ اللهِ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ لا إِلهَ إِلَّا هُوَ ‘‘[24]

’’اللہ کے سِوا کیا کوئی اور خالق ہے؟ جو آسمان اور زمین سے رزق عطا کرے-اُس کے سِوا کوئی الہ نہیں‘‘-

ربّ العالمین:

کائنات میں انسان کی حقیقت کا نقطۂ آغاز ربوبیت سے اِس طرح ہے کہ ربّ العالمین کے الفاظ پر غور کیا جائے تو یہ صفات ربوبیت پر دلالت کرتے ہیں جس کا قرآن پاک میں یوں  ارشاد ہے:

’’أَلَسْتَ بِرَبِّكُمْ قَالُواْ بَلَى شَهِدْنَا أَن تَقُولُواْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا غَافِلِيْنَ‘‘[25]

’’کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ وہ (سب) بول اٹھے؟ کیوں نہیں!(تو ہی ہمارا رب ہے) ہم گواہی دیتے ہیں تاکہ قیامت کے دن یہ (نہ) کہو کہ ہم اس عہد سے بے خبر تھے‘‘-

یہ وہ کلمات ہیں جس کے ذریعے حقیقتِ انسانی کا آغاز اقرارِ ربوبیت کی صورت میں رونما ہوا-سورۃ فاتحہ کے افتتاحی کلمات ’’اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ‘‘ روزِ اوّل کے اس وعدے کی یاد دلاتے ہیں جس کا قول و اقرار خالق اور مخلوق کے مابین ہوا- سورۃ فاتحہ انسان کو اس کے رب کی طرف رجوع کی یاد دلاتی ہے جو کہ حقیقتِ انسان کا پہلا سبق بھی ہے-

اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ:

سورۃ فاتحہ میں صفت الوہیت اور صفت ربوبیت کے بعد جس صفاتِ مبارکہ کا ذکر ہے وہ ’’رحمٰن اور رحیم‘‘ ہے -خالقِ کائنات کی رحمت اس قدر وسیع ہے کہ پوری کائنات پر چشمۂ رحمانیت کا فیض حاوی ہے-

جیسا کہ قرآنِ مجید میں ذکر ہے:

’’رَّبِّ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا الرَّحْمٰنِ‘‘[26]

’’آسمان اور زمین اور جو کچھ اُس کے درمیان میں ہے سب پرورگار رحمٰن کا ہے‘‘-

’’وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ‘‘[27]

’’اور بیشک آپ کا ربّ ہی غالب رحم فرمانے والا ہے‘‘-

مٰلِکِ یَومِ الدِّینِ :

لفظ دین (د-ی-ن) جزا اور اطاعت کے معنی میں استعمال ہوتا ہے- دین کی جزا اور سزا سے مراد وہ جزا کے دن کا مالک ہے اور اچھے برے اعمال کا بدلہ اُسی کے ہاتھ ہے- سورہ الفاتحہ کی اِس آیت’’ مٰلِکِ یَومِ الدِّیْنِ‘‘ میں ربّ تعالیٰ کی شانِ مالکیت بیان کی گئی ہے کہ وہ مالکِ کائنات زندگی کے آغاز سے لے کر انجام تک ہر پہلو سے واقف ہے اور جو اصول اور ضابطۂ حیات اُس نے مقرر کیا ہے اُس کے مُطابق روزِ جزا یعنی قیامت والے دن اُن کا مؤاخذہ کرے گا تو یہاں اس آیت سے مراد دین کی جزا اور سزا کا مالک ہے-

اِیّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیّاکَ نَسْتَعِین:

علوم العقائد کے بعد سورۃ فاتحہ زندگی کے عملی پہلو کی اصلاح کی طرف رجحان پیدا کرتی ہے-سورہ فاتحہ کی آیت ’’ایّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیّاکَ نَسْتَعین‘‘،’’(اے اللہ!) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور ہم تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں‘‘- عبادت سے مراد انتہائی عاجزی ہے سورۃ فاتحہ اس میں یہ تعلیم دیتی ہے کہ مالک کائنات صرف اللہ ربّ العزت ہے اور اُسی سے ہی استعانت میں انسان کی بقاء اور بھلائی ہے اور وہی مالک کائنات عبادت کے لائق ہے اور وہی عظمت و کبریائی کا مالک ہے-

اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ:

یہ اسلوب دعائیہ ہے اور اس میں ربَ تعالیٰ سے استدعا کی گئی ہے کہ صحیح راستے کی رہنمائی فرما یعنی وہ راستہ جس پر چل کر زندگی و آخرت میں کامیابی حاصل ہو اور زندگی کا حقیقی مقصد حاصل ہو سکے اور استقامت اور حصول مقصد کی ضمانت کے ساتھ منزِل مقصود تک رسائی بھی ممکن ہو-

سورہ فاتحہ کی آخری آیت:

’’صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ‘‘

’’ان لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا، اُن لوگوں کا نہیں جن پر غضب کیا گیا اور نہ (ہی) گمراہوں کا ‘‘-

یہ آیت جن ہستیوں کی طرف اشارہ کر رہی ہے وہ انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی طرف ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کے انعام یافتہ برگزیدہ بندے ہیں-

سورۃ فاتحہ وہ عظیم سورت ہے جس نے راہ حق کو راہ باطل سے جدا کیا-اس لئے جو طالب ان ہستیوں کا ہم سفر ہو جائے گا اسے شیطان بھٹکا نہ سکے گا- جیسا کہ قرآنِ کریم کی آیت میں شیطان کی بے بسی عیاں ہے-

’’وَ لَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ‘‘[28]

’’ان سب کو ضرور گمراہ کر کے رہوں گا- سوائے تیرے اُن برگزیدہ بندوں کے جو ( میرے اور نفس کے فریبوں سے) خلاصی پا چکے ہوں‘‘-

سورة فاتحہ کی عظمت:

حضرت ابو ہریرہ(رضی اللہ عنہ) سے مروی ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:

’’میں نے اپنے اور اپنے بندے کے درمیان نماز کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے -آدھی میرے لیے ہے اور آدھی میرے بندے کے لئے اور میرے بندے کو وہی ملے گا جو اس نے مانگا ‘‘-[29]

پھر حضور نبی کریم (ﷺ)نے ارشاد فرمایا کہ جب بندہ نماز میں سورہ فاتحہ پڑھتے ہوئے ’’ اَلْحَمْدُ لِلهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ‘‘ کہتا ہے تو باری تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’حمدنی عبدی‘‘  ’’ میرے بندے نے میری حمد کی‘‘-

جب بندہ ’’ اَلرَّحْمَٰنِ الرَّحِيْمِ‘‘ کہتا ہے تو ارشاد ہوتا ہے:

’’اثنی علی عبدی‘‘،

’’میرے بندے نے میری مزید تعریف کی‘‘-

جب بندہ ’’ مٰلِکِ یَومِ الدِّینِ‘‘ کہتا ہے تو ارشاد ہوتا ہے:

 ’’مجدنی عبدی وھذالی‘‘

’’میرے بندے نے میری بزرگی بیان کی اور یہ میرے لیے ہے ‘‘-

اس کے بعد جب بندہ ’’اِیّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیّاکَ نَسْتَعین‘‘ کہتا ہے تو ارشاد ہوتا ہے:

’’ھذا بینی وبین عبدی‘‘

’’یہ بات میرے اور میرے بندے کے درمیان منقسم ہے‘‘-

پھر جب بندہ ’’اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ‘‘ کہتا ہے توندا آتی ہے:

’’ھذا لعبدی ولعبدی ما سئال‘‘

’’یہ حصہ خالصتاً میرے بندے کے لئے ہے اور میرے بندے کو وہی ملے گا جو اس نے مانگا‘‘-[30]

حرفِ آخر:

یہ ایک ایسی عظیم سورۃ ہے کہ ہر روز اڑتالیس (48) مرتبہ  مومن کا مشامِ جان معطر کرتی ہے - سورۃ فاتحہ نے حیاتِ اِنسانی کا جو مقصد بیان کیا اور جس طرح نصب العین کے تعین سے لے کر حفاظت و استقامت کے ساتھ منزِل مقصود تک پہنچنے کی تعلیم دی وہ اپنی مثال آپ ہے- سورۃ الفاتحہ زندگی کے جُملہ علوم کا احاطہ کرتی ہے اور قرآنی ہدایت کی صحیح معرفت تک رسائی کے دروازے کھولتی ہے-

٭٭٭


[1]( الفتح :1)

[2](الانعام:44)

[3](المفردات:621)

[4](ایضاً)

[5](البقرۃ:46)

[6](الانعام:59)

[7](سنن ابن ماجہ، کتاب النکاح)

[8](سنن ابی داؤد ، کتاب الصلوٰۃ)

[9](مسند احمد، ج:5، ص:322)

[10](آل عمران:92)

[11]( الحجر:87)

[12](جامع الترمذی،ابواب فضائلِ القران)

[13](ایضاً)

[14](صحیح مسلم،کتابِ فضائلِ القران)

[15](صحیح البخاری،کتاب الفضائل القران )

[16](سنن الدرمی،کتابِ الصلوٰۃ)

[17](سنن نسائی،کتاب الافتتاح )

[18](سنن الدارمی،کتاب  فضائلِ القرآن)

[19](تفسیر کبیر ،ج:1، ص:176)

[20](ایضاً)

[21]( کنزالعمال، رقم الحدیث:2500)

[22](صحیح بخاری، کتاب الفضائل القران)

[23](تفسیر کبیر ،ج:1، ص:162)

[24](سورہ فاطر:3)

[25](الاعراف:172)

[26]( سورہ النباء،:37)

[27](الشعراء :9)

[28](الحجر:39-40)

[29](جامع الترمذی ابواب تفسیر القران)

[30](جامع ترمذی، ابواب تفسیر القرآن)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر