اسلاموفوبیا : موجودہ رجحانات اور انسدادی اقدامات(راؤنڈٹیبل ڈسکشن)

اسلاموفوبیا : موجودہ رجحانات اور انسدادی اقدامات(راؤنڈٹیبل ڈسکشن)

اسلاموفوبیا : موجودہ رجحانات اور انسدادی اقدامات(راؤنڈٹیبل ڈسکشن)

مصنف: مسلم انسٹیٹیوٹ جون 2019

مسلم انسٹیٹیوٹ نے 21 مارچ  2019ء بروز جمعرات ’’اسلاموفوبیا:موجودہ رجحانات اور انسدادی اقدامات‘‘کے موضوع پر راؤنڈ ٹیبل ڈسکشن کا اہتمام کیا- سینیٹر راجہ ظفرالحق (سیکریٹری جنرل، مؤتمرالعالم الاِسلامی) نے راونڈٹیبل ڈسکشن کی صدارت کی جبکہ صاحبزادہ سلطان احمد علی (چیئرمین مسلم انسٹیٹیوٹ) نے ابتدائی کلمات ادا کیے- عثمان حسن (ممبر ایڈیٹوریل بورڈ مسلم پرسپیکٹو جنرل)نے راؤنڈ ٹیبل ڈسکشن کی کاروائی کو ماڈریٹ کیا- سکالرز، ماہرینِ تعلیم، ملکی و غیر ملکی سفراء اور پالیسی سازوں نے اس موقع پر ڈسکشن میں حصہ لیا-

ماہرین کے پینل میں جناب احمر بلال صوفی ایڈووکیٹ (سابق وفاقی وزیر قانون و انصاف)، صاحبزادہ محمد امیر سلطان (ممبر سٹینڈنگ کمیٹی آن فارن افیئرز، نیشنل اسمبلی آف پاکستان)، ڈاکٹر ماریہ سلطان (ڈائریکٹر جنرل، ساؤتھ ایشین سٹریٹیجک سٹیبلٹی انسٹیٹیوٹ)، پروفیسر ڈاکٹر طغرل یامین (ایسوسی ایٹ ڈین، سینٹر فار انٹرنیشنل پیس و سٹیبلٹی، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی)، ایمبیسڈر (ر) عامر اے شادانی (سابق سفیر پاکستان)، پروفیسر ڈاکٹر محمد خان (ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز، انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی)، ڈاکٹر بکر نیم الدین (پیس اینڈ کنفلکٹ سٹڈیز، نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی)، ڈاکٹر ثروت رؤف (شعبہ عالمی امور، نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز) اور محمد حمزہ افتخار (ریسرچ ایسوسی ایٹ مسلم انسٹیٹیوٹ ) شامل تھے-

ماہرین کے پینل کی جانب سے کیے گئے اظہارِ خیالات کا خلاصہ ذیل میں دیا گیا ہے:

اسلاموفوبیا بیسویں صدی کے تلخ ترین حقائق میں سے ایک حقیقت کے طور پر سامنے آیا ہے جس نے مسلم معاشرے اور مغرب کے درمیان موجود خلیج کو مزید گہرا کیا ہے- اگرچہ اسلاموفوبیا کا وجود صدیوں پر محیط ہے لیکن نائن الیون کے بعد سے اس کی شدت میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ انٹرنیٹ، ویب سائٹس،میڈیا اور سیاستدانوں کی جانب سے اسلام کے بارے میں کیا جانے والا جھوٹا اور منفی پروپیگنڈا ہے- ڈاکٹر کرس ایلن اور ڈاکٹر جورگن نیلسن ’’Summary Report on Islamophobia in the EU after 11 September 2001‘‘میں لکھتے ہیں کہ:

’’مسلم مخالف اور دیگر نسلی تعصب پر مبنی خیالات و جذبات کی اثر پذیری میں اضافہ ہوا ہے اور ان نظریات کی قبولیت مزید بڑھ سکتی ہے‘‘-

ڈاکٹر لیون جیکسن (یونیورسٹی آف ہڈرس فیلڈ، برطانیہ) اپنی کتاب Islamophobia in Britain: The Making of a” “Muslim Enemy (2017میں رقم طراز ہیں کہ 2001ء سے برطانیہ میں مسلمانوں کو ایک ایسے اندرونی و بیرونی دشمن کے طور پر پیش کیا گیا ہے جس سے سماجی ہم آہنگی اور قومی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہیں-

میڈیا کی جانب سے غیر مسلموں میں اسلاموفوبیا پر مبنی مواد کو سالہا سال سے خبروں، ٹی وی شوز، موویز، کتب اور جرائد کے ذریعے سے پھیلایا جا رہا ہے جس میں مسلمانوں اور اسلام کا مسخ شدہ چہرہ پیش کیا جا تاہے- اس ضمن میں بعض سیاسی لیڈرز کی جانب سےنامناسب سیاسی زبان بھی اس مسئلے کو ہوا دے رہی ہے جیسا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان ہے کہ قدامت پسند اسلام ہمارے ساحلوں کی جانب رواں دواں ہے جبکہ مائیک پنس کہتے ہیں کہ ہمیں اسلامی دہشتگردی کو اپنے ساحلوں تک پہنچنے سے روکنا ہو گا- اسی طرح آسٹریلوی سینیٹر فریزر ایننگ کا بیان ہے کہ اب بھی کسی کو مسلم تارکینِ وطن اور تشدد کے مابین تعلق پر شک ہے؟

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دہشتگردی کے واقعہ کے بعد پوری دنیا میں بالخصوص آسٹریلیا اور برطانیہ میں اسلاموفوبک حملے کیے گئے ہیں- اسلاموفوبیا کا اظہار مختلف اشکال میں چاہے وہ ثقافتی ہوں یا نظریاتی ہو رہا ہے- اسلاموفوبیا کا تیزی سے پھیلاؤ نہایت سنگین ہے جس سے دنیا کے امن کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں- اس سے مسلم دنیا میں خوف و سراسیمگی پھیل رہی ہے- مسلم دنیا کو اسلاموفوبیا کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہو گا اور ایک دیرپا حکمتِ عملی تشکیل دینا ہو گی جس کے لیے اس کی وجوہات کا جاننا لازم ہے- سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ اسلاموفوبیا دنیا میں تیزی سے ابھرتی ہوئی مسلم شناخت کا ردعمل ہے- دوسری وجہ اقوامِ عالم اور ثقافتوں کا مکمل علم نہ ہونا ہے کیونکہ دنیا کی آبادی تقریباً 7.5 ارب ہے جس میں 1.8 ارب مسلمان ہیں جو کہ کل آبادی کا 24 فیصد بنتے ہیں- آبادی کے اتنے بڑے حصے کو اپنے پیغامِ امن کی ترویج کے لیے ایک مربوط حکمتِ عملی اپنانا ہو گی- تیسرا، نائن الیون اور سیون سیون لندن دھماکوں نے مغرب میں انتہاء پسندوں کو مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں مدد دی ہے- چوتھا، ماضی کے کچھ سالوں میں بعض سیاسی رہنماؤں کی جانب سے دیے گئے بیانات بھی متنوع ثقافت کے لیے باعثِ نقصان ثابت ہوئے ہیں- پانچواں، چونکہ اسلام پوری دنیا میں پھیلے 1.8 ارب مسلمانوں کے دل و جان کا حصہ ہے ، اس لیے مذہبی آزادی پر قدغن لگانے اور مذہب مخالف قوانین منظور کرنے سے بھی اس مسئلے کی حساسیت میں اضافہ ہوا ہے-

اس موقع پر اسلاموفوبیا کی قانونی حیثیت پر بحث بھی برمحل ہو گی- اسلاموفوبیا کی مذہبی حیثیت حالیہ رجحان نہیں بلکہ یہ صدیوں سے موجود ہے- یورپ میں جن سیاسی نظریات سے ماضی میں اجتناب کیا جاتا تھا اس وقت ان نظریات کو قبول کیا جا رہا ہے- ماضی میں عوامی طور پر اسلام یا مسلمانوں کی تضحیک ایک مشکل کام تھا- لیکن اب سیاسی نظریات کی تبدیلی کی وجہ سے اس وقت دنیا میں اسلام سے نفرت کے اظہار کے لیے مسلمانوں کی توہین سیاسی طور پر جائز ہے- مذہبی اور سیاسی حیثیت کے ساتھ ایک اور پہلو کسی معاملے کی عوامی حیثیت بھی ہے- اسلام کے خلاف کوئی بینر آویزاں کرنا یا جھنڈا لہرانا اب ایک عام عمل ہے کیونکہ اس کو مذہبی و سیاسی اداروں کے ساتھ ساتھ عوامی قبولیت بھی حاصل ہو رہی ہے- اوپر بیان کردہ حقائق نہایت دل شکستہ ہیں کیونکہ اس سے کرۂ ارض پر پائی جانے والی مختلف تہذیبوں کے مابین بڑی تیزی سے خلیج حائل ہو رہی ہے-

اسلام محض مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہ حیات کا نام ہے- اسلام معاشی، معاشرتی، انفرادی اور سیاسی عوامل میں مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے- یہ امن ،اخوت اور برداشت کی ترویج کرتا ہے اور عالمی نظامِ انصاف پر مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے- تاریخ سے ثابت ہے کہ اسلام کے ظہور سے دنیا کی تقدیر بدل گئی جیساکہ خلافتِ عثمانیہ کے دور میں لوگ جبر و استبداد کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئےاور انصاف پر مبنی معاشرتی نظام کی تشکیل کی- اسلامی معاشرہ ایک ایسے نظام کا حامل ہے جس میں ناانصافی اور ظلم کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں- اقوامِ متحدہ کی موجودگی کے باوجود، مسلمان افغانستان، فلسطین، کشمیر، یمن، لیبیا، شام، میانمار اور دنیا کے دوسرے حصوں میں ظلم کا شکار ہیں- سانحہ کرائسٹ چرچ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسلاموفوبیا اپنی جڑیں مضبوط کر رہا ہے اور اگر عالمی برادری نے اس کا بروقت سدِ باب نہ کیا تو انتہا پسند عناصر مسلمانوں کے خلاف مزید سنگین بربریت کا ارتکاب کر سکتے ہیں- اس تناظر میں نیوزی لینڈ کی پرائم منسٹر جاسنڈاآرڈن کا کردار قابل تحسین ہے جنہوں نے مسلمانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا مظاہرہ کیا-

ڈسکشن سے اخذ کی گئی سفارشات ذیل میں دی گئی ہیں:

1     مسلم قیادت، ممالک، سماجی کارکنان اور تنظیموں کو اسلام کے حقیقی تصور کو اجاگر کرنے اور اسلاموفوبیا کی مذمت کے لیے سرگرم کردار ادا کرنا چاہیے-

2     عالمی برادری بالخصوص اقوامِ متحدہ کو اسلاموفوبک واقعات کا سخت نوٹس لے کر شدید مذمت کرنی چاہیے- مسلم قیادت کو سیاسی اور سفارتی دونوں ذرائع سے اسلاموفوبیا کے تدارک کے لیے متحرک کیا جائے-

3     غیر مسلم ممالک میں قائم مسلم ممالک کے سفارتخانوں کو اسلام کا مثبت تاثر اجاگر کرنے کے لیے مقامی آبادی کے لیے پروگرامات منعقد کرنے چاہیے-

4     اوآئی سی کو دوسری اقوام اور عالمی تنظیموں پر اسلاموفوبیا کے خلاف اقدامات کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے- ایک ایسے انٹرنیشنل لیگل فریم ورک یا کنونشن کی تشکیل دی جائے جو نہ صرف اسلاموفوبیا بلکہ تمام مذاہب کے خلاف تعصب کا سدباب کرے-

5     غیر مسلم ممالک میں قائم پاکستانی قونصل خانوں اور مشنز کو مقامی آبادی میں اسلام کے متعلق صحیح آگاہی کے لیے سیمینارز اور ایونٹس منعقد کرنے چاہیئں-

6     پاکستانی قیادت کو مغربی ممالک کی حکومتوں سے مل کر ان ممالک کے معاشروں سے اسلاموفوبیا کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے اور مسلم اقوام کے سافٹ امیج کے لیے کام کرنا چاہیے-

7     سکالرز اور ماہرینِ تعلیم کو شدت پسندانہ دائیں بازو نظریات جیسا کہ ’’تہذیبوں کا تصادم‘‘سے نمٹنے کے لیے فکری کاوش کرنی چاہیے-

8     عالمی تنظیموں،اقوامِ متحدہ اور اوآئی سی میں ایسی علمی و تحقیقی سٹڈیز جمع کروائی جائیں جن سے اسلاموفوبیا کے خلاف مزید آگاہی و تحرک پیدا ہو-

9     یونیورسٹیز میں کانفرنسز منعقد کی جائیں جن میں اسلاموفوبیا سے متعلق تحقیقی مقالہ جات پیش کیے جائیں اور بہتری کے لیے اقدامات اور رہنما اصول وضع کیے جائیں-

10     میڈیا اور نشر و اشاعت کی انڈسٹری کو اپنی اشاعت سے متعلق مزید احتیاط اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا-

٭٭٭

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر