سید الشہدا ء حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کے خطوط و خطبات کا اجمالی جائزہ

سید الشہدا ء حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کے خطوط و خطبات کا اجمالی جائزہ

سید الشہدا ء حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کے خطوط و خطبات کا اجمالی جائزہ

مصنف: مفتی محمد اسماعیل خان نیازی جولائی 2024

وارث ِ علوم ِ نبیؐ، پیکرِ جود و سخا، نواسۂ رسول (ﷺ)، جگرگوشہ ِ بتول (رضی اللہ عنہا)،سیّد الشہداء حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ)   مکہ مکرمہ میں امن وسکون سے اپنی حیات مبارکہ کے شب وروز بسرفرمارہے تھے حکومت کی مخالفت کے باوجود کسی کی ہمت نہ تھی کہ آپ (رضی اللہ عنہ) کی طرف میلی آنکھ بھی اٹھا کر دیکھتا- یہاں تک کہ کوفیوں کے پے در پے خطوط آنا شروع ہوگئے-جیساکہ امام ذہبی لکھتے ہیں:

’’حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کے پاس اہل کوفہ کی طرف سےقاصد ایک دیوان لے کر آئے جس میں ایک لاکھ لوگوں کے اسماء تھے‘‘-[1]

مشہور مؤرخ علامہ ابن جریر طبری ؒ کے مطابق :

’’سیّد الشہداء حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کی بارگاہِ اقدس میں آنے والے خطو ط کی تعداد 150تھی اور ان میں سے ہرایک خط کولکھنے والے ایک ،دو یا چارافراد تھے‘‘[2]

رئیس المؤرخین علامہ ابن خلدون تفصیلاً لکھتے ہیں:

’’جب کوفیوں کو بیعتِ خلافتِ یزید اور حسین ابن علی (رضی اللہ عنہ) کے مکہ چلے جانے کا حال معلوم ہوا تو حضرت علی سلیمان بن صرد کے مکان پر جمع ہوئے اور چند لوگوں کی طرف سے جن میں سلیمان و مسیّب بن محمد و رفاعہ بن شداد و حبیب بن مظاہر وغیرہ تھے- امام حسین بن علی (رضی اللہ عنہ) کو اس مضمون کا خط لکھا کہ آپؓ یہاں تشریف لائیے ہم لوگوں نے نعمان کے ہاتھ پر یزید کی بیعت نہیں کی نہ جمعہ اور عید کی نمازوں میں اس کے ساتھ شریک ہوتے ہیں- اگر آپؓ تشریف لائیں تو ہم اس کو نکال دیں گے -خط عبد اللہ بن سبع ہمدانی اور عبد اللہ بن دال کی معرفت روانہ کیا گیا- پھر دو راتوں کے بعد دوسرا خط تقریباً150آدمیوں کی جانب سے اس مضمون کا خط لکھا گیا- پھر تیسری مرتبہ بھی اس مضمون کا خط روانہ کیا گیا- جس کو شبت بن ربعی،حجاز بن الجبر ،يزيد بن الحرث یزید بن رویم، عُروہ بن قیس عمر بن الحاج زبیدی محمد بن عمر التمیمی وغیرہ نے بڑے شدّ و مد سے لکھا تھا‘‘-[3]

ان خطوط میں منتیں اور التجائیں اور یہ یقین دلایا گیا کہ ہم سب مرد و زن آپؓ کے اشارہِ ابروپر سب کچھ نثارکردیں گے- حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) نے اپنے قریبی رفقاسے مشورے کے بعد مسلم بن عقیل (رضی اللہ عنہ)کو حالات کی خبر گیری کے لیے بھیجا اورحکم فرمایا کہ وہ حضرت ھانی بن عروہ (رضی اللہ عنہ) کے پا س ٹھہریں- حضرت مسلم بن عقیل (رضی اللہ عنہ) نے وہاں جاکر حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کی طرف لکھا:

’’ بَايَعَنِي إِلٰى الآنَ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ أَلْفاً، فَعَجِّلْ اس وقت تک اٹھارہ ہزارلوگ میری بیعت کرچکے ہیں-پس آپؓ جلدی فرمائیں‘‘-[4]

شارح صحیحین علامہ غلام رسول سعیدیؒ سیِّد الشہداء حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کی کوفہ روانگی کی بابت رقم طراز ہیں  :

’’اہل کوفہ نے جب آپ (رضی اللہ عنہ) کو بیعت کے لیے دعوت دی اور آپؓ نے مسلم بن عقیل (رضی اللہ عنہ) کو دریافتِ حال کے لیے کوفہ بھیجااوران کی یقین دہانی کے بعد آپؓ اہل ِ کوفہ کی دعوت قبول کرلی اس کی وجہ یہ تھی کہ آپؓ کے نزدیک یزید کی حکومت صحیح نہیں تھی اورجب آپؓ کو خلافت علی منہاج النبوۃقائم کرنے کا ایک موقع ملاتو آپؓ  کے نزدیک یہ ضروری تھاکہ آپؓ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے اور جو لوگ آپؓ  سے ایک صالح حکومت قائم کرنے کی درخواست کر رہے تھے ان کی اس درخواست کو منظورفرماتے اس وجہ سے آپؓ کوفہ روانہ ہوگئے‘‘-[5]

’’اورجب آپؓ کوفہ کے قریب پہنچے تو اہل کوفہ نے ابن زیاد کے دھمکانے سے نواسۂ رسول (ﷺ)کے ساتھ باندھا ہوا عہدِ وفا توڑ دیا-اہلِ کوفہ نے جس انداز میں غداری کا طریق اپنایا تاریخ ا س کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے- حتی کہ ان کی غداری ایک ضرب المثل (’’کُوْفِیْ لَایُوْفِیْ‘‘ اہل ِ کوفہ وفا نہیں کرتے) بن گئی،اہل کوفہ کی حقیقت بیان کرتے ہوئے لبطہ بن فرزدق اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں، فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا امام حسین (رضی اللہ عنہ) سے ملاقات کا شرف حاصل کیا، تو میں نے عرض کی-(یاحسینؓ!):

’’القُلُوبُ مَعَكَ، وَالسُّيوفُ مَعَ بَنِي أُمَيَّةَ‘‘

’’(کوفیوں )کے دل تو تمہارے ساتھ ہیں مگر تلواریں بنوامیہ کےساتھ ہیں‘‘- [6]

کربلا روانگی سے پہلے سیِّدالشہداء حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) اور اہل کوفہ کے درمیان خطوط کا تبادلہ بھی ہوا-یہاں آپؓ   کے تحریر کردہ خطوط مبارکہ میں سے چندخطوط کو لکھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں:

نوٹ: ان خطوط کا تذکرہ علامہ ابن جریر طبری ؒ، علامہ ابن اثیرؒ اور دیگر کئی مؤرخین نے بھی باختلاف الفاظ فرمایا ہے -

خط 1:حضرت حسین (رضی اللہ عنہ) کا خط بنام اہل کوفہ

’’بسم الله الرحمن الرحیم !حسین بن علی (رضی اللہ عنہ) کی طرف سے جماعت مومنین و مسلمین کو -

امّابعد !’’ہانی اور سعید تم لوگوں کے خط لے کر میرے پاس آئے- تمہارے قاصدوں میں یہ دونوں شخص سب کے آخر میں وارد ہوئے جو کچھ تم نے لکھا اور بیان کیا اس کو میں نے سمجھ لیا -اور تم سب لوگوں کا یہ قول کہ ہمارا کوئی ہدایت کرنے والا نہیں ہے- آپ آئیے!  شاید اللہ آپؓ  کے سبب سے ہم کوحق و ہدایت پر مجتمع کر دے -مجھے معلوم ہوا کہ میں نے اپنے بھائی، ابن عم اور اپنی اہل ِ بیت میں سے جن پر مجھے بھروسہ ہےتمہارے پاس روانہ کیا ہے-میں نے ان سےکہہ دیا ہے تم لوگوں کا حال اور سب کی رائے وہ مجھے لکھ کر بھیجیں- اگران کی تحریر سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ تمہاری جماعت کے لوگ اور صاحبان فضل و عقل تم میں سے سب اس بات پر متفق الرائے ہیں جس امر کے لیے تمہارے قاصد میرے پاس آئے ہیں اور جو مضامین تمہارے خطوط میں مَیں نے پڑھے ہیں- تو میں بہت جلد ان شاء اللہ تمہارے پاس چلا آؤں گا- اپنی جان کی قسم! رہنمائے قوم وہی شخص ہو سکتا ہے جو قرآن پر عمل کرے ،عدل کو اپنائے، حق کا طرف دار ہو، اللہ عزوجل کی ذاتِ اقدس  پر توکل رکھے و السلام‘‘- [7]

خط2:حضرت مسلم بن عقیل (رضی اللہ عنہ) کے راہبروں کی موت

’’سیّد الشہداء حضرت امام حسین نے حضرت مسلم بن عقیلؓ کوبُلا کر قیس بن مسہر صیدادی و عمارہ بن عبید سلولی وعبد الرحمٰن بن عبد اللہ ارجی کے ساتھ روانہ فرمایا - حضرت مسلم (رضی اللہ عنہ) روانہ ہوئے – مدینہ منورہ میں پہنچے-مسجد نبوی(ﷺ) میں نماز ادا فرمائی اپنے لوگوں سے رخصت ہوئےاس کے بعد بنی قیس کے دو راہبروں کو اجرت پر ٹھہرایا- یہ دونوں راہبروں کو لے کر چلے- راستہ بھول گئے-شدت کی پیاس سب پر طاری ہوئی -حضرت مسلم (رضی اللہ عنہ) نے قیس بن مسہر کے ہاتھ حضرت حسین (رضی اللہ عنہ)کو بطن خبیث سے خط لکھا کہ مدینہ سے دو راہبروں کو ساتھ لے کر میں نکلا تھا- وہ راستہ میں بھٹک گئے- ہم سب پیاس کی تکلیف ِشدید میں مبتلا ہو گئے - دونوں راستہ بتانے والے قریب المرگ ہوگئے ہیں - ہم لوگ چلتے چلتے پانی تک پہنچ تو گئے مگر اس حالت میں کہ ذرا ذرا سی جان باقی تھی- (یعنی تنگنائے) سفر کے ان واقعات سے مجھے وسواس ہوتا ہے و السلام- سیّد الشہداء حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ)نے جواب میں لکھا کہ مجھے اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں خوف تو تم میں نہیں پیدا ہو گیا کہ جس کام کے لیے میں نے تم کو بھیجا ہےکہ اس سے معافی چاہتے ہو- پس جدھر جانے کو میں نے تم سے کہہ دیا ہے اسی طرف جاؤ والسلام علیک"-[8]

خط 3: حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) کے خطوط بنام شرفائے  بصرہ:

سیّد الشہداء امام حسین (رضی اللہ عنہ) نے اپنے ایک غلام آزاد سلیمان کے ہاتھ بصرہ کے پانچوں گروہوں کے رؤسا اور اشرافِ شہر کو ایک خط روانہ کیا- ان لوگوں میں مالک بن مسمع بکری اور احنف بن قیس اور منذر بن جارود اور مسعود بن عمرو اور قیس بن الہیثم اور عمر بن عبید اللہ بن معمر کا نام ہے- یہ ایک ہی خط تھا جو سب سرداروں کے نام آیا تھا-(سیّدالشہداء حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) نے تحریر فرمایا):

’’أَمَّا بَعْدُ! اللہ عزّوجل نے حضرت محمد (ﷺ) کو اپنے مخلوقات میں برگزیدہ کیا-آپ (ﷺ) کو نبوت سے نوازا اور آپ (ﷺ) کا رسالت کے لیے انتخاب فرمایا پھر اللہ عزوجل نے آپ (ﷺ) کو اپنے پاس بُلا لیا اورتحقیق آپ (ﷺ) نے اللہ کی مخلوق کی  خیر خواہی کی اورآپ(ﷺ) تک جو پہنچا اس کو (عوام الناس تک) پہنچا یااور ہم لوگ آپ (ﷺ) کے اہل و وصی و ولی و وارث ہیں اور لوگوں میں آپ (ﷺ) کی جانشینی کے لوگوں کی نسبت ہم زیادہ حق دار ہیں -ہماری قوم والوں نے اس باب میں ہم پر اپنے آپ کو ترجیح دی، ہم بھی راضی ہو گئے (ہم راضی اس لیے ہوئے کیونکہ امت مسلمہ کی آپس میں) نا اتفاقی سے ہم نے نفرت کی اور امن و عافیت کو ہم نے پسند کیا اورہم اچھی طرح اس چیز کو جانتے ہیں کہ بہ نسبت ان کے ہم حق کے زیادہ حقدار ہیں- یہ جان بوجھ کر کہ جنہوں نے اس امر کا ذمہ لیا ہے انہوں نے احسان کیا،اصلاح کی،حق کے طالب رہے اللہ عزوجل ان پر رحم فرمائے اور ہمارے اور ان کے گناہوں کو بخش دے- میں نے اپنا قاصد تم لوگوں کے پاس یہ خط دے کر روانہ کیا ہے میں تم کو کتا ب اللہ و سُنت رسول اللہ (ﷺ) کی طرف دعوت دیتا ہوں- اس لیے کہ سنتِ رسول اللہ (ﷺ)   مٹا دی گئی ہے اور بدعت کو رواج دیا ہے- اگر تم لوگ میری بات کو سنو گے اور میری اطاعت کرو گے تو میں تم کو راہ ہدایت پر لگادوں گا- والسلام علیکم ورحمۃ اللہ!‘‘-[9]

خط 4: حضرت حسین بن علی (رضی اللہ عنہ) کی طرف سے اپنے مومنین اور مسلمین بھائیوں کی طرف:

’’تم پر سلامتی ہو -میں تمہارے ساتھ ملکر اس خدا کی حمد کرتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں-اما بعد : مسلم بن عقیل(رضی اللہ عنہ) کا خط میرے پاس آیا ہے جس میں انہوں نے مجھے تمہاری رائے کی عمدگی اور تمہارے سرداروں کے ہماری مدد پر متفق ہونے ،تمہارے اور ہمارے حق کا مطالبہ کرنے کی اطلاع دی ہے ،ہم اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ عمدہ طور پر ہمارا کام کر دے اور تم لوگوں کو اس کا بڑا اجر دے اور میں نے8  ذوالحجہ یوم الترویہ کو بروز منگل تمہاری طرف کوچ کیا ہے پس جب میرا ایلچی تمہارے پاس آئے تو اپنے معاملہ کو پوشیدہ رکھنا اور سنجیدہ رہنا اور میں انہی دنوں میں تمہارے پاس آرہا ہوں - ان شاءالله ! والسلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ !

راوی بیان کرتا ہے کہ حضرت مسلم (رضی اللہ عنہ) کا خط آپؓ کو شہید ہونے سے 27 راتیں پہلے ملا جس کا مضمون یہ تھا:

’’امابعد! پیش رو اپنے اہل سے جھوٹ نہیں بولتا بلا شبہ سب اہل کوفہ آپ کے ساتھ ہیں، آپ جب میرے اس خط کوپڑھیں تو آجائیں - والسلام علیکم!‘‘[10]

اجمالی جائزہ:

پہلی بات تو یہ ہے سیّدالشہداء امام حسین (رضی اللہ عنہ) نے یزید کی بد اعمالیوں کے باوجود ان کے خلاف لوگوں کو نہیں اُبھارا - ہاں اتنا ضرور کیا کہ اپنا ہاتھ مبارک،یزید پلید کے ہاتھ میں نہیں دیا اور جتنے یہ خطوط تھے- یہ اہل کوفہ کے خطوط کے جواب میں تھے،جن میں کوفیوں نے اپنے اوپرظلم وستم اور یزیدیوں کی بے دینی اور ان کی شریعت مطہرہ کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں کا تذکرہ تھا -

یہ اس بات کی دلیل ہے آپ (رضی اللہ عنہ) نے انہیں یزید کے خلاف نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود بار بار مطالبہ کیا- یہاں تک کہ بعض خطوط میں یہ بھی درج تھا اگر آپؓ  تشریف نہیں لاتے تو ہم قیامت کے دن سرخرو ہوں گے کیونکہ ہم نے اپنے تئیں سارے حالات سےآگاہ بھی کیا اور اپنے آپ کو مدد کے لیے پیش کیا-لیکن نواسۂ رسول (ﷺ) خاموش رہے-یہاں تک بھی مرقوم تھا کہ اگر آپؓ نے نظر اندا ز کیا تو معاذ اللہ ہم بروز محشر اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی بارگاہ مبارک میں شکایت کریں گے-اس لیے جب آپؓ  نے کوفہ کی جانب رخت ِ سفر باندھنے سے پہلے اپنے قریبی احباب سے مشاورت کی تو صحابہ کرام (رضی اللہ عنہھم) میں سے اکثریت نے کوفہ جانےسے منع فرمایا لیکن آپؓ  نے انہیں وہ خطوط دکھائے جن میں اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) کی بارگاہ ِ مبارک میں جوابدہی کا کہا گیا-اس لیے آپؓ نے آخری فیصلہ یہی فرمایا میں اپنی جان تو اللہ عزوجل کی بارگاہ ِ اقدس میں پیش کرسکتا ہوں لیکن اس کی بارگاہ میں مجرم کھڑا نہیں ہوسکتا- اس طرح آپؓ  نے رخصت کی بجائے عزیمت کا رستہ اختیار کیا-

خطبات مبارکہ

مقام ِ بیضہ پر خطبہ مبارک:

’’سیّد الشہداء حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) نے مقامِ بیضہ پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان فرمائی اور ارشاد فرمایا:

’’اے لوگو! بے شک رسول اللہ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا ہے کہ جوشخص ایسے بادشاہ کو دیکھے جو ظالم ہو، حرام ِ خدا کو حلال سمجھتا ہو، اللہ تعالیٰ کے عہدکو توڑتا ہو، رسول اللہ (ﷺ) کی سُنت کے خلاف عمل کرتا ہو، بندگانِ خدا کے ساتھ ظلم و سرکشی سے پیش آتا ہو اور پھر قولاً یا فعلاً جو شخص مخالفت نہ کرے توضرور اللہ پاک اس کو بھی اسی کے اعمال میں شامل کرے گا- خبردار! ان (حکمرانوں ) نے شیطان کی اطاعت کو لازم کر لیا ہے اور رحمان کی اطاعت کو ترک کر دیا ہے- فساد کو ظاہر کر دیا ہے اور حدودِ شرع کو معطل کر دیا ہے اور (مالِ) غنیمت کو غصب کر لیا ہے- حرام ِ خدا کو حلال اور حلال ِ خدا کو حرام کر رکھا ہے-ان پہ اعتراض کرنے کا سب سے زیادہ مجھے حق ہے تمہارے خطوط میرے پاس آئے تمہارے  پیامبر میرے پاس تمہاری طرف سے بیعت کرنے کو اس بات پر آئے کہ نہ مجھے (دشمن کے) حوالے کرو گے اور  نہ مجھے شرمندہ کرو گے- پس اگرتم اپنی بیعتوں کو پورا کرو گے تو بہرہ مند ہو گے- مَیں حسین بن علی و فاطمہ ؓ بنت رسول اللہ (ﷺ) کا فرزند  ہوں، میری جان تمہاری جانوں کے ساتھ ہے اور میرے اہل و عیال تمہارے اہل و عیال کےساتھ ہیں- پس میں تمہارا رہنما ہوں اگر تم نے ایسا نہ کیا اور اپنے وعدے کو توڑا اور میری بیعت کو اپنی گردن سے نکال ڈالا تو قسم ہےاپنی جان کی! یہ بات تمہاری کوئی نئی بات نہیں ہے یہی سلوک تم نے میرے باپ اور میرے بھائی اور چچا زاد بھائی مسلم (رضی اللہ عنہ) کے ساتھ اختیار کیا- جس نے تم پربھروسہ کیا اس نے دھوکا کھایا اور جس نے بدعہدی کی تو اس نے اپنے نفس کے لیے کی تم چوک گئے اوربے بہرا رہے، اور جس نے عہد کو توڑا تو اس نے اپنا ہی نقصان کیا اور اللہ پاک تم سے بے نیاز کردے گا - [11]

شب عاشواء کا خطبہ مبارک:

سیدنا امام زین العابدین (رضی اللہ عنہ) نے ارشادفرمایا:

’’شام کو سیدنا امام حسین (رضی اللہ عنہ) نے اپنے اصحاب کو جمع فرمایا ،تومیں قریب ہوگیا کہ سنوں کہ آپؓ کیا فرماتے ہیں، حالانکہ میں مریض تھا-پس میں نے سنا کہ میرے والدِ محترم اپنے ساتھیوں سے فرما رہے تھے -میں اللہ تعالیٰ کی بہترین حمد و ثنا بجا لاتا ہوں اور راحت و مصیبت میں اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا ہوں -اے اللہ! میں تیرا شکر بجا لاتا ہوں کہ تو نے ہم لوگوں کو نبوت کی کرامت عطا فرمائی اورہمیں قرآن کی تعلیم عطا فرمائی- ہم کو (اپنے دین ِ اسلام ) کی فہم عطافرمائی - ہم کو سماعت و بصارت عطافرمائی  اورہم کو مشرکین میں سے نہ بنایا- اس کے بعد مجھے یہ کہنا ہے کہ اپنے انصار سے افضل و بہتر انصار اور اپنے اہل بیت سے زیادہ وفادار و فرمانبرداراہل ِ بیت میں نے نہیں دیکھے-پس میری طرف اللہ تعالیٰ تمام کو بہترین جزاعطافرمائے- سنو! ان  دشمنوں کے ہاتھوں صبح ہماری شہادت ہے اور سنو! تم سب کے بارے  میں میری یہ رائے ہوچکی ہے میری اجازت سے سب چلے جاؤ-میری طرف سے تم پرکوئی روک نہیں ہے- دیکھو!رات کی تاریکی چھائی ہوئی ہے اسے غنیمت سمجھو‘‘-[12]

خطبہ نمبر : 3

جب رات ہوئی تو آپ (رضی اللہ عنہ) نے ارشاد فرمایا:

’’دیکھو! رات کی تاریکی چھائی ہوئی ہے اسے غنیمت جانو، تم میں سے ایک ایک شخص میرے اہل ِ بیت (رضی اللہ عنہ) میں سے ایک ایک کا ہاتھ پکڑلے ،پھر جب تم لوگ اپنے اپنے قصبوں میں ،شہروں میں نکل جاؤیہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تم کو اطمینان عطا فرما دے -یہ لوگ میرے طلب گار ہیں اور اگر مجھے شہید کر لیں گے تو پھر کسی  اورکا بھی خیال نہیں کریں گے،(حضرت اما م حسین (رضی اللہ عنہ) کی یہ بات سن کر )آپؓ کے بھائی، بیٹے، بھتیجے، حضرت عبداللہ بن جعفرؓ کے دونوں بیٹے (بھانجے) سب عرض گزار ہوئے ہم سے یہ نہیں ہوگا کہ آپؓ کے بعد ہم زندہ رہیں-اللہ تعالیٰ وہ دن ہم کونہ دکھائے ،سب سے پہلے حضرت عباس بن علی (رضی اللہ عنہ) نے یہ کلمہ ادا فرمایا- پھر سب نے اسی طرح کے کلام ارشاد فرمائے، پھر امام عالی مقام سیدنا امام حسین (رضی اللہ عنہ) نے ارشاد فرمایا: اے اولادِ عقیل!مسلم کا شہید ہونا تمہارے لیے کافی ہے تم چلے جاؤ-تحقیق میں تم کو اجازت دیتا ہوں، تو تمام رفقاء کرام (رضی اللہ عنہ) نےعرض کی! لوگ کیاکہیں گے؟ یہی کہیں گے کہ ہم نے اپنے بزرگ اور اپنے سردار اور ان کے ساتھ اپنے بنی عم کو جو بہترین عم تھے چھوڑ کر چلے آئے،نہ ان کےساتھ برچھی کاوار کیااورنہ کوئی تلوار کا ہاتھ مارا اور یہ بھی معلوم نہیں ہواکہ ان پر کیا گزری-نہیں!اللہ کی قسم!ہم ایسا نہیں کریں گے-بلکہ ہم اپنی جانیں ،اپنامال ،اپنے اہل وعیال کو اپنے آپ پر فدا کر دیں گے اور ہم آپؓ کےساتھ شامل ہوکرقتال کریں گے - اللہ تعالیٰ وہ زندگی عطانہ فرمائے جو آپؓ کے بعد ہو، مسلم بن عُوْسِجَہ اسدی (رضی اللہ عنہ) کھڑے ہوئے اور عرض کی: کیا ہم آپؓ کو چھوڑکرچلے جائیں اور ابھی تک اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اقدس میں آپؓ کے حقوق سے ہم سبکدوش نہیں ہوئے اور اللہ کی قسم! جب تک میری برچھی ان لوگوں کے سینے میں ٹوٹ کر نہ رہ جائے اور میں ان سے اپنی تلوار کےساتھ لڑوں گا- جب  تک ا س (تلوار) کا قبضہ میرے ہاتھ میں ہے اور مَیں آپؓ سے جدا نہیں ہوں گا- اگر ان سے لڑنے کے لیے ہتھیار میرے پاس نہ ہوتے تو میں آپؓ کی امداد میں انہیں پتھر مار مار کرآپؓ کی رفاقت میں شہید ہو جاتا-حضرت سعد بن عبداللہ(رضی اللہ عنہ) نے عرض کی:ہم آپؓ سے جدانہیں ہوں گے یہاں تک کہ اللہ پاک ملاحظہ فرمالے کہ ہم نے اللہ کے رسول (ﷺ) کی (بظاہر ظاہری) عدم موجودگی میں آپؓ کے ساتھ حفاظت میں رہے -اللہ کی قسم!اگرمیں جان لیتاکہ میں شہیدہوجاؤں گا ،پھرزندہ کیا جاؤں گا پھرزندہ جلا دیا جاؤں گا، پھرمیری خاک اڑا دی جائے گی اور یہ حالت ستر مرتبہ مجھ پر ایسے گزرے گی تو جب تک آپؓ کی امداد میں میری شہادت نہ ہوتی تو میں جناب کی ذات مبارکہ سے جدا نہ ہوتا- پس یہ (جدا ہونا) کیسے ممکن ہو سکتا ہے میں (کبھی بھی) ایسا نہیں کروں گا اور اب تو ایک ہی مرتبہ شہید ہونا ہے اور اس میں وہ شرف و کرامت ہے جس کا ابدتک زوال نہیں-

حضرت زہیر بن قَیْن (رضی اللہ عنہ)  نے عرض کی واللہ! میں ضرور یہ چاہتا ہوں کہ شہید کیا جاؤں پھر زندہ کیا جاؤں پھر شہید کیا جاؤں اسی طرح ہزاردفعہ شہیدہوں اور یہ کہ اللہ تعالیٰ آپؓ کی ذات مبارکہ کو آپؓ کے اہل بیت (رضی اللہ عنھم) کے ان نوجوانوں کو بچالے-اسی طرح ایک ہی طرح کے ایک دوسرے سے ملتے جلتے کلام آپؓ کے رفقاء کرام (رضی اللہ عنھم) نے ادا کیے- پس ان سب نے عرض کی اللہ کی قسم !ہم آپ (رضی اللہ عنہ) کو چھوڑ کر نہیں جائیں گے-بلکہ آپؓ کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کریں گے- ہم اپنے ہاتھوں، اپنی گردنوں اور اپنی پیشانیوں سے آپؓ کو بچائیں گے- پس جب ہم شہید ہو جائیں گے تو وہ حق جوہم پرہے پورا ادا ہو جائے گا‘‘-[13]

خطبہ نمبر :4

سیدناامام حسین (رضی اللہ عنہ) نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان فرمائی اور اللہ تعالیٰ کا ذکر اس کے شان کے مطابق فرمایا اور پھر سیدنا حضرت محمد رسول اللہ (ﷺ) پر اور اللہ تعالیٰ کے فرشتوں پر اور اللہ تعالیٰ کے تمام انبیاء کرام (رضی اللہ عنھم)پر درود کا نذرانہ پیش فرمایا -اس کے بعد آپؓ نے فرمایا:

’’اے لوگو! میرے حسب و نسب پر غور کرو اور دیکھو تو سہی میں کون ہوں- پھراپنی طرف غور کرو اور اپنے آپ پر ملامت کرو اور غور کرو کہ آیا تمہارے لیے میرا قتل کرنا اور میری عزت کا خیال نہ کرنا روا ہے؟ کیا میں تمہارے نبی (ﷺ) کی صاحبزادی کا بیٹا نہیں ہوں؟ اور آپ (ﷺ) کے وصی اور آپ (ﷺ) کے چچا کے بیٹے کا بیٹانہیں ہوں جو (بچوں میں) سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے اور سیدنا رسول اللہ (ﷺ) جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے لے کرتشریف لائے اس کی تصدیق کرنے والے ہیں ؟اورکیا حضرت حمزہ (رضی اللہ عنہ)جو سیدالشھداء ہیں وہ میرے والد کے چچا نہیں ہیں؟ اور حضرت جعفر طیار شہید  ذوالجناحین میرے چچا نہیں ہیں؟ اور کیا تم تک آپ (ﷺ) کا یہ قول مبارک نہیں پہنچاہے جو آپ (ﷺ) نے میرے اور میرے بھائی حسن (رضی اللہ عنہ) کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ :’’یہ میرے دونوں جوانان ِ اہل ِ بہشت کےسردار ہیں ‘‘-پس اگر تم  میری ان باتوں کی جو کچھ میں تم سے کہ رہاہوں تصدیق کرو تویہ سب کچھ حق ہے‘‘- [14]

خطبہ نمبر: 5

محمد بن حسن (رضی اللہ عنہ)سے روایت ہے کہ جب عمر بن سعد ’’سیدنا اما م حسین (رضی اللہ عنہ)‘‘ کی بارگاہِ اقدس میں آیا اور آپؓ کو یقین ہوگیا کہ وہ آپؓ کو شہید کرنے والے ہیں تو آپؓ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان فرمائی -پھر آپؓ نے ارشاد فرمایا:

’’جو معاملہ در پیش ہے تم سب اس کو دیکھ رہے ہو، اور بے شک دنیا تبدیل ہوگئی ہے اور اچھی حالت سے نکل کر بری حالت کی طرف چلی گئی ہےاوردنیا کی اچھائی نے پیٹھ پھیرلی ہے اور(اس کی یہ حالت برقرارہے )یہاں تک کہ اس میں اتنا کچھ باقی رہ گیا ہے جتنا کہ برتن کا دھوون یا زندگی کا حقیر حصہ جیسا کہ بُری چراگاہ-کیاآپ دیکھتے نہیں ہیں کہ حق پہ عمل نہیں ہو رہا اور باطل ہے کہ اس سے منہ ہی نہیں موڑاجارہا؟مومن کوچاہیے کہ وہ حق پہ رہ کر اللہ تعالیٰ کی ملاقات کا شوق رکھے اور (لیکن ان حالات میں ) مَیں بے شک  شہادت کو سعادت شمارکرتا ہوں اور ظالموں میں زندگی بسرکرنا مجھے ناپسندیدہ ہے ‘‘- [15]

اجمالی جائزہ:

سیدنا امام حسین (رضی اللہ عنہ) سن 61ھ میں دنیا اور لوگوں کی حالت کو بیان فرمارہے ہیں- ابھی تو حضور نبی پاک (ﷺ) کو ظاہری طور پر رخصت ہوئے صرف ’’ 50‘‘ سال گزرے تھے- ابھی تو براہِ راست حضور نبی کریم (ﷺ) سے ہدایت پانے والے بزرگ صحابہ کرام (رضی اللہ عنھم) مو جود تھے لوگ ان سے دین کی رہنمائی اور ہدایت لے سکتے تھے- لیکن پھر بھی دنیا کی رنگینیوں نےاپنا جادو کیسا دکھایا -  اگر یزید اور یزیدیوں کو نسبتِ رسول اللہ (ﷺ) کا ذرا سا بھی لحاظ ہوتا تو خاندانِ نبوت سے ایسا رویہ کبھی اختیار نہ کرتے -

جے کجھ مُلاحظہ سرورؐ دا کردے تاں خیمے تمبو کیوں سڑدے ھو
جے کر مَندے بیعت رَسُولی پانی کیوں بند کردے ھو

خطوط کی طرح خطبات مبارکہ بھی ظاہرکرتے ہیں کہ آپؓ سب کچھ اتمام ِ حجت کے لیے کر رہے تھے تاکہ روزِ محشر کسی کے پاس کوئی عُذر نہ رہے کہ  نواسۂ رسول (ﷺ) نے ہماری رہنمائی نہیں کی اورہم لاعلم رہے ورنہ اگر ہمیں علم ہوتا تو کبھی غلط حرکت نہ کرتے اور اگر یز ید کی من مانیوں کے بارے ہمیں علم ہوتا اور ہماری کوئی رہبری کرتا تو ضرور باہر نکل کر ہمیں جہاد کرتے-دراصل آپؓ نے قیامت تک کے لیے تما م لوگوں کو حق پہ ڈٹنے ،اللہ عزوجل کی بارگاہ مبارک میں تن، من، دھن کی قربانی پیش کرنے اور باطل کے سامنے سرنگوں نہ ہونے اور مرعوب نہ ہونے کا درس دیا-اس لیے کہاجاتاہے کہ سیدالشہداء حضرت امام حسین (رضی اللہ عنہ) نے ’’کلمہ طیبہ کا نقش‘‘ کربلا کی ریت پر   تحریر کردیا-

اختتامیہ:

اگر اللہ عزوجل انسان کے دل پہ مہر نہ لگائے اور انسان کی آنکھوں پہ غفلت کی پٹی نہ چڑھ جائے تو یہ چیز بخوبی سمجھ آجاتی ہے کہ جب سیِّدالشہداء سیدناامام حسین (رضی اللہ عنہ) مکہ مکرمہ سے روانہ ہوئے تو نہ تو آپؓ نے ملت کے سوادِ اعظم اہل ِ سنت کو اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی اور نہ انہیں اپنے ساتھ مل کر دشمن کے ساتھ جنگ کرنے کی دعوت دی اور نہ ہی بھاری قسم کا لشکری ساز و سامان اکٹھا فرمایا- کیونکہ آپؓ کے پیش نظر کسی سے جنگ کرنا نہ تھاکیونکہ جنگ کے ارادے سے جانے والا اپنے ساتھ ایک عظیم لشکر، اسلحہ اور دیگر جنگی سامان وافر مقدار میں لے کر جاتا ہے- وہ اپنے ساتھ عورتیں، بچے اور معمولی ساز و سامان ساتھ نہیں لے جاتا- لیکن باوجود قلیل ساز و سامان اور تعداد میں کم ہونے کے باوجود نواسۂ رسول (ﷺ)،جگرگوشہ ِ بتول سلام اللہ علیھا سیدنا امام حسین (رضی اللہ عنہ)  نے جس کمال صبر و استقامت اور اللہ عزوجل کی رضا پہ مر مٹنا سکھایا وہ اپنی مثال آپ ہے- بڑی تعداد میں ہونے اور حکومت میں ہونے کے باوجود یزیدی بھیڑوں کو حسینی شیروں کامقابلہ کرنے کی سکت نہ تھی- اس لیے انہوں نے عذر تلاش کرنے شروع کئے اور دریائے فرات پہ پہرے بیٹھا کر پانی بند کر دیا -لیکن ان تمام ناکہ پابندیوں کے باوجود سیدالشہداء  سیدنا  امام حسین (رضی اللہ عنہ) کے رفقاء کرام (رضی اللہ عنھم) کےعزم و استقلال میں ذرہ بھر بھی کمی نہیں ہوئی- یہ وجہ ہے کہ بالآخر جب دس محرم کی رات آئی تو سیدنا امام حسین (رضی اللہ عنہ) نےاپنی اہل ِ بیت اور اصحاب (رضی اللہ عنھم) کو جمع فرما کر خطبہ ارشاد فرمایا: یزیدیوں کو مجھ سے غرض ہے اس لیے تم میں سے جو جانا چاہے وہ چلاجائے- لیکن ان غیور،وفادار اور عزم و ہمت کے پیکر رفقاء نے عرض کی :

 ’’لَا أَبْقَانَا اللهُ بَعْدَكَ، وَاللهِ لاَ نُفَارِقُكَ‘‘[16]

’’اللہ تعالیٰ ہم کو تمہارے بعد ہم کو باقی نہ رکھے، اور اللہ کی قسم ہم آپ (رضی اللہ عنہ)سے جدانہیں ہوں گے‘‘-

انہوں نے اپنے اس وعدے کوسچ کر دکھایا اور آخر دم تک آپؓ کی رفاقت کی سعادت سے بہرہ مندرہے-تمام رفقاء کرام (رضی اللہ عنھم)کی شہادت کےبعد آپؓ اللہ تعالیٰ کی رضاپہ لبیک کہتے ہوئے اپناتن، من، دھن اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربان کر گئے اوربوقت شہادت’’ آپؓ  کے جسم مبارک پہ 33 زخم کے  نشان تھے‘‘-[17]درحقیقت آپؓ رہتی دنیا تک یہ مثال قائم فرماگئے کہ اللہ پاک کی رضا کیلیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کیا جائے-

٭٭٭


[1]سیراعلام النبلاءباب: الحُسَيْنُ الشَّهِيْدُ أَبُو عَبْدِ اللهِ بنُ عَلِيِّ بنِ أَبِي طَالِبٍ بنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ(ؓ)

[2]ابن جریرطبری، (المتوفى: 310هـ)، تاريخ الرسل والملوك ،،باب: ذكر الخبر عن مراسله الكوفيين الحسين علیہ الصلٰوۃ والسلام ،ج:5

[3]ابنِ خلدون، عبد الرحمٰن ابنِ خلدون  ؒ (808ھ)، تاریخ ابن خلدون، ، ج:اول- دوم،ص:512۔

[4]سیراعلام النبلاءباب: الحُسَيْنُ الشَّهِيْدُ أَبُو عَبْدِ اللهِ بنُ عَلِيِّ بنِ أَبِي طَالِبٍ بنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ(ؓ)

[5]شرح صحیح مسلم ،ج:،3،ص:506

[6]سیراعلام النبلاءباب: الحُسَيْنُ الشَّهِيْدُ أَبُو عَبْدِ اللهِ بنُ عَلِيِّ بنِ أَبِي طَالِبٍ بنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ(ؓ)

[7]ابن جریر طبری،، تاريخ الرسل والملوك ،باب:  ذكر الخبر عن مراسله الكوفيين الحسين علیہ الصلٰوۃ والسلام،ج:5،ص:353

[8]ایضاً، ج:5،ص:354-355

[9]ایضاً،ص:357

[10]ابن كثير، إسماعيل بن عمر بن كثير  (المتوفى: 774هـ)، البداية والنهاية،الناشر: ،ج:8،ص:168

[11]ابن جریر طبری، تاريخ الرسل والملوك ، باب:  ذكر الخبر عن مراسله الكوفيين الحسين علیہ الصلٰوۃ والسلام،ج:5،ص:403۔

[12]ایضاً،ص:418۔

[13]ابن کثیر، ،البداية والنهاية (الناشر: دار إحياء التراث العربي،الطبعة: الأولى 1408ھ)، باب:  ثُمَّ دَخَلَتْ سَنَةُ إحدى وستين،ج: 8،ص:191۔192۔

[14]ابن جریر طبری، تاريخ الرسل و الملوك ، باب، مقتل الْحُسَيْن رضوان الله عَلَيْهِ،ج:5،ص:424۔

[15]الطبرانی، المعجم الکبیر،،باب: الحسين بن علي بن أبي طالب ؓ،رقم الحدیث:2842، ج: 3،ص:114۔

[16]سیراعلام النبلاءباب: الحُسَيْنُ الشَّهِيْدُ أَبُو عَبْدِ اللهِ بنُ عَلِيِّ بنِ أَبِي طَالِبٍ بنِ عَبْدِ المُطَّلِبِ(ؓ)

[17]ایضاً

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر