اسلام کا پانچواں رُکن عظیم "حج"

اسلام کا پانچواں رُکن عظیم

اسلام کا پانچواں رُکن عظیم "حج"

مصنف: مفتی محمد اسماعیل خان نیازی جون 2021

کچھ عبادات محض بدنی ہوتی ہیں ،جیسے روزہ اور نماز ،کچھ مالی جیسے زکوٰۃ لیکن اللہ رب العزت نے حج کو بدنی اور مالی دونوں عبادات کا مرکب بنایا ہے- حج کے لغوی معانی قصد و ارادہ کے ہیں [1]اور شر عی اصطلاح میں مخصوص زمانہ میں مخصوص افعال کی ادائیگی کے ساتھ مخصوص مقامات کی زیارت (کا ارادہ) کرنا ہے - [2]

حج کے مسائل پہ تفصیلاً گفتگو کرنے سے پہلے چند روایات بیت اللہ (خانہ کعبہ ) کے بارے میں لکھنے کی سعادت حاصل کرتے ہیں :

1:’’جَعَلَ اللّٰهُ الْكَعْبَةَ الْبَیْتَ الْحَرَامَ قِیٰمًا لِّلنَّاسِ‘‘[3]

’’اللہ نے ادب والے گھر کعبہ کو لوگوں کے قیام کا باعث کیا ‘‘-

کعبہ کے لفظی  معانی بلندی کے ہیں،کعبہ کو اس لیے کعبہ کہتے ہیں کیونکہ یہ اللہ عزوجل کے ہاں بلنداور شرف والا ہے اور اس گھر کو باقی گھروں پہ فضیلت دی گئی ہے -

2:’’وَلْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ‘‘[4]

 ’’اور اس ’’البیت العتیق‘‘ کا طواف کریں‘‘-

اس کانام’’عتیق‘‘ کیوں رکھاگیا؟

اس کی وجہ تسمیہ(نام رکھنے کی وجہ)بیان کرتے ہوئے علامہ غلام رسول سعیدیؒ لکھتے ہیں کہ:

’’اس کو بیت عتیق اس لیے کہا جاتا ہے کہ یہ سب سے قدیم بیت ہے اور عتیق کا معنی قدیم ہے بلکہ بعض علماء کے نزدیک آسمان اور زمین سے پہلے اس بیت کو بنایا گیا-عتیق کا دوسرا معانی ہے آزاد-اور بعض روایات کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس بیت کو طوفانِ نوح میں غرق ہونے سے آزاد رکھا اور طوفان کے وقت اس کو اوپر اٹھا لیا گیا-عتیق کا معانی قوی بھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس بیت کو اتنا قوی بنایا ہے کہ جوشخص اس کو تباہ کرنے کا ارادہ کرتاہے اس کو خود تباہ کر دیا جاتا ہے اور جو شخص اس بیت کی زیارت کے قصد سے آئے اللہ عزوجل اس کو جہنم سے  آزاد کردیتا ہے‘‘- [5]

3:’’وَ اِذْ قَالَ اِبْرٰهِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا الْبَلَدَ اٰمِنًا‘‘[6]

’’ اور یاد کرو جب ابراہیمؑ نے عرض کی اے میرے رب اِس شہر کو امان والا کردے‘‘-

اس آیت مبارک کی تفسیر میں امام طبریؒ ایک روایت نقل فرماتے ہیں:

’’ حضرت قتادہؓ  بیان فرماتے ہیں کہ ہم سے یہ ذکر کیا گیا کہ حضرت آدم ؑ کے ساتھ بیت اللہ کو زمین پر اتارا گیا- اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا:میں تمہارے ساتھ ایک بیت کو نیچے اتار رہا ہوں، اس کے گرد اس طرح طواف کیا جائے گا جس طرح میرے عرش کے گرد طواف کیا جاتا ہے پھر اس کے گرد حضرت آدم ؑ نے طواف کیااور آپؑ  کے بعد مؤمنین نے طواف کیا-پھرجب طوفانِ نوح کے زمانہ میں اللہ عزوجل نے قومِ نوح کو غرق فرمایا تو اللہ عزوجل نے بیت اللہ کو اوپر اٹھالیا اور اس کو زمین کے عذاب سے محفوظ رکھا-پھر بیت اللہ آسمان میں معمور رہا، اس کے بعد حضرت ابراہیم ؑ کعبہ کے آثار تلاش کررہے تھے تو انہوں نے اس کو پہلے کی پرانی بنیادوں پر تعمیرکیا‘‘- [7]

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ:

’’بیت اللہ زمین کی تخلیق سے دو ہزار سال پہلے موجود تھا‘‘-[8]

یہ دعاءِحضرت ابراہیمؑ کی شرف ِ قبولیت کی دلیل ہے کہ اللہ عزوجل نے اس کو اغیار کے تسلط اور جنگ و جدال سے محفوظ فرمایا اور آج بھی حدودِ حرم میں شکار پہ پابندی ہے بلکہ اللہ عزوجل حرم کی سرزمین پہ اُگنے والے درختوں کو بھی کٹنے سے محفوظ فرماتاہے -

حج کی فرضیت:

حج کس سال میں فرض ہوا؟

اس کے بارے میں اگرچہ علماء کرام کا اختلاف ہے، بعض نے 5ھ، بعض نے6ھ، لیکن راجح قول کے مطابق حج 9ھ میں فرض ہوا اور یہی علامہ ابن عابدین شامیؒ کا قول ہے- [9]آقا کریم (ﷺ) نے  10  ھ میں واحد حج ادا فرمایا جسے حجۃ الوداع کہا جاتا ہے- نیز اسی حج کے دوران میں اپنا مشہور خطبہ حجۃ الوداع بھی دیا اور اس میں دین اسلام کی جملہ اساسیات و قواعد اور اس کی تکمیل کا اعلان کیا- اس حج میں حج کے تمام مناسک کو درست طور پر ادا فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’خُذُوا عَنِّي مَنَاسِكَكُمْ لَعَلِّي لَا أَرَاكُمْ بَعْدَ عَامِي هَذَا‘‘[10]

’’اپنے مناسک حج مجھ سے لے لو یعنی سیکھ لوشاید میں تم سے اس سال کے بعد ملاقات نہ کروں ‘‘-

(حضور نبی رحمت (ﷺ) کا یہ فرمان مبارک امرِ غیبی پہ دلا لت کرتاہے )

حج کی فرضیت درج ذیل فرامین مبارکہ سے ثابت ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’ وَ اَتِمُّوا الْحَجَّ وَ الْعُمْرَةَ لِلّٰهِ‘‘ [11]

’’اور حج اور عمرہ اللہ کےلیے پورا کرو‘‘-

دوسرے مقام پہ ارشاد فرمایا:

’’وَ لِلّٰهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلًاطوَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللّٰهَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ‘‘[12]

’’اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج کرنا ہے جو اس تک چل سکے اور جو منکر ہو تو اللہ سارے جہان سے بے پرواہ ہے‘‘-

حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم(ﷺ) نے ارشادفرمایا:

’’إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ، قَدْ فَرَضَ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ‘‘[13]

بے شک اللہ عزوجل نے تحقیق تم پر حج فرض فرمایا ہے‘‘-

سیدنا علی المرتضیٰؓ سے مروی  سیدی رسول اللہ (ﷺ)کا فرمان مبارک ہے:

’’مَنْ مَلَكَ زَادًا وَرَاحِلَةً تُبَلِّغُهُ إِلَى بَيْتِ اللهِ وَلَمْ يَحُجَّ فَلَا عَلَيْهِ أَنْ يَمُوتَ يَهُودِيًّا، أَوْ نَصْرَانِيًّا‘‘[14]

’’جوشخص سفرِ خرچ اور اسی سواری پہ قادرہو جو اسے بیت اللہ تک پہنچادے اوروہ حج نہ کرے تو اس پر کوئی حرج نہیں کہ وہ یہودی مرے یا نصرانی‘‘-

نیز دیگر احادیثِ مبارکہ میں بھی تاکیداً حج کرنے کا حکم آیا ہے اور حج نہ کرنے والے کے لیے وعید وارد ہوئی ہے، اس لیے امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ صاحبِ استطاعت شخص پر حج کرنا فرض ہے اور فقہاء کرام کے اقوال مبارکہ کی روشنی میں ا س کا منکر کافرہے -

فضائل حج:

حج کے فضائل پہ محدثین نے مستقل ابواب قائم فرمائے ہیں،اختصار کی خاطر یہاں صرف چار روایات پہ اکتفاء کرتے ہیں :

1:وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ‘‘[15]

’’اور لوگوں میں حج کی عام ندا کردے وہ تیرے پاس حاضر ہوں گے پیادہ اور ہر دُبلی اونٹنی پر کہ ہر دُور کی راہ سے آتی ہیں ‘‘-

اس آیت کی تفسیر میں علامہ قرطبیؒ لکھتے ہیں :

’’جب حضرت ابراہیمؓ نے کعبہ کی تعمیر مکمل فرمالی تواللہ رب العزت کی بارگاہ ِاقدس سے حکم ملا ’’اے ابراہیم!’’أَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ ‘‘ حضرت ابراہیمؓ  نے عرض کی :اے میرے رب !میر ی آواز کہاں تک پہنچے گی؟اللہ پاک نے ارشادفرمایا:تم اعلان کرو، اس آواز کو پہنچانا میرا کام ہے -چنانچہ آپؑ ’’جَبَلَ أَبِي قُبَيْس‘‘ پر تشریف لے گئے اور بلند آواز سے پکارا: اے لوگو!بے شک اللہ عزوجل نے تمہیں اس گھر کے حج کا حکم ارشادفرمایا ہے تاکہ وہ تم کو اس کے بدلے جنت عطا فرمائے اور تمہیں دوزخ کے عذاب سے نجات دے-پس تم حج کرو-پس جو لوگ ابھی پیدا نہیں ہوئے تھے انہوں نے اس اعلان کو سن کر جواب دیا ’’ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ!‘‘ پس جس نے بھی اس دن (حضرت ابراہیم ؑ کی دعوت کا) جواب دیا-(جس نے جتنی بار لبیک کہا)اتنی بار وہ حج کرے گا، جس نے ایک مرتبہ جواب دیا تو وہ ایک مرتبہ حج کرے گا اور جس نے دو مرتبہ جواب دیا تو اسے دومرتبہ حج کی سعادت نصب ہوگی اوریہ تلبیہ (لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ) اس وقت سے جاری وساری ہے - [16]

2:حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم(ﷺ) نے ارشادفرمایا:

’’مَنْ حَجَّ لِلهِ فَلَمْ يَرْفُثْ، وَلَمْ يَفْسُقْ، رَجَعَ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ‘‘[17]

’’جس شخص نے اللہ کیلئے حج کیا اور شہوت آمیز باتیں نہیں کیں اور نہ کوئی گناہ کیا، تو وہ حج سے ایسا واپس ہوگا جیسے اپنی ماں کے پیٹ سے اسی دن پیدا ہوا ہے ‘‘-

3:حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ (ﷺ)نے ارشادفرمایا:

’’حج اور عمرہ کرو کیونکہ یہ فقر اور گناہوں کو اس طرح مٹاتے ہیں جس طرح بھٹی لوہے، چاندی اور سونے کے زنگ کو مٹاتی ہے اور حج مبرورکی جزا صرف جنت ہے‘‘-[18]

4: حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ:

’’رسول اللہ (ﷺ) کی بارگاہِ اقدس میں عرض کی گئی (یا رسول اللہ (ﷺ)! کون سا عمل بہتر ہے؟ آپ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا: اللہ اور اس کے رسول (ﷺ) پہ ایمان لانا، عرض کی گئی: پھر اس کے بعدآپ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا:اللہ عزوجل کی راہ میں جہاد-عرض کی گئی، پھر اس کے بعد (یا رسول اللہ (ﷺ) کون ساعمل افضل ہے؟) آپ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا: حج مبرور‘‘-[19]

(حج مبرور کے بارے ایک قول یہ ہے اس میں اس نے کوئی گناہ نہ کیاہو ایک قول یہ ہے جوحج ریاکاری سے پاک ہو)

حج کے فرض ہونے کی شرائط:

علامہ احمد بن محمد بن احمد القدوریؒ بیان فرماتے ہیں :’’الْحَجُّ وَاجِبٌ عَلَى الْأَحْرَارِ الْمُسْلِمِیْنَ الْبَالِغِينَ الْعُقَلَاءِ الْأَصِحَّاءِ إذَا قَدَرُوْا عَلَى الزَّادِ وَالرَّاحِلَةِ فَاضِلًا عَنْ الْمَسْكَنِ وَمَا لَا بُدَّ مِنْهُ، وَعَنْ نَفَقَةِ عِيَالِهِ إلَى حِينِ عَوْدِهِ وَكَانَ الطَّرِيقُ آمِنًاوَيُعْتَبَرُ فِيْ حَقِّ الْمَرْأَةِ أَنْ يَكُونَ لَهَا مَحْرَمٌ ‘‘[20]

’’حج ہر آزاد،مسلمان، بالغ، عاقل اور تندرست پر واجب ہے جب یہ لوگ زادِ راہ اور سواری پرقادر ہوں (جبکہ یہ زادِ راہ اور سواری) اس کے رہنے کے گھر،ضروریات کی چیزوں اور واپس آنے تک اس کے بال بچوں کے خرچ سے زائد ہواور عورت کے حق میں معتبر یہ ہے کہ اس کا کوئی محرم (اس کے ساتھ )ہو‘‘-

امام قدوریؒ کی اس تعریف کی روشنی میں حج کے واجب(یہ ذہن نشین رہے یہاں واجب فرض کے معانی میں ہے )  ہونے کے لیے گیارہ شرطیں ہیں -

1:آزاد ہونا، 2:مسلمان ہونا، 3:بالغ ہونا، 4:عاقل ہونا، 5:تندرست ہونا، 6:سامانِ سفر کا ہونا، 7:سواری پہ قادر ہونا، 8:گھر کی ضروریات سے زائدہونا، 9:واپس آنے تک اہل وعیال کے خرچے کا بندوبست کرکے جانا، 10:راستہ پُر امن ہو،11:عورت کے لیے شرط ہے کہ اس کا محرم رشتہ دار یا خاوند اس کے ساتھ ہو-

حج تب تک فرض نہیں ہوگا جب تک مذکورہ شرائط نہ پائی جائیں جب یہ شرائط پائی جائیں گی تو امام ابو یوسفؒ کے نزدیک اس پہ فی الفور حج فرض ہے بغیر عذر کے تاخیر کرنے سے گناہ گارہوگا-نیز حج زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے - اس کے بعد جو حج اد اکرے گا وہ نفلی ہوگا-

حج کی اقسام:

حج قِران:

 (قاف کے نیچے زیر) احناف کے نزدیک سب سے افضل حج ہے، اس میں عمرہ اور حج کا احرام ایک ساتھ باندھا جاتا ہے مگر عمرہ کرنے کے بعد قارن حلق یا قصر نہیں کروا سکتا اسے بدستور احرام میں رہنا ہو گا، دسویں، گیارہویں یا بارہویں ذوالحج کو قربانی کرنے کے بعد حلق یا قصر کروا کے احرام کھول سکتا ہے-قِران کرنے والا حاجی قارِن کہلاتا ہے-

حج تمتُّع:

یہ حج صرف میقات کے باہر رہنے والے ہی ادا کر سکتے ہیں- اس میں حاجی عمرہ کی ادائیگی اور حلق و قصر کرنے کے بعد احرام کھول سکتے ہیں- جسے وہ پھر 8 ذوالحج یا اس سے پہلے پہن لیتے ہیں-اس حج کا شرف حاصل کرنے والے کو ’’متمتع‘‘ کہتے ہیں-

حج افراد:

حج افراد کرنے والے حاجی کو ’’مُفرِد‘‘ کہتے ہیں -اس حج میں عمرہ شامل نہیں ہے- اس میں صرف حج کا احرام باندھا جاتا ہے- حج کے وقت تک حجاج حالت اِحرام ہی میں رہتے ہیں، پھر وہ حج مکمل کرنے کے بعد ہی احرام کھولتے ہیں-اہل مکہ اور حِل یعنی میقات اور حدود حرم کے درمیان میں رہنے والے باشندے حج افراد کرتے ہیں نیز دوسرے ملک سے آنے والے بھی حج افراد کر سکتے ہیں-

مواقیتِ حج:

مواقیت، میقات کی جمع ہے، مجازاً اس سے مراد وہ مقامات ہیں جہاں سے عازمینِ حج(حج کا ارادہ کرنے والے) احرام باندھتے ہیں -میقا ت کی دو اقسام ہیں :

میقات زمانی:

حج کیلئے میقات زمانی’’حج کے مہینے یعنی شوال، ذوالقعدہ اور دس روز شروع ذی الحجہ کے ہیں اور عمرہ کیلئے میقات زمانی سارا سال ہے ‘‘-

میقات مکانی:

مواقیت مکانی جنہیں سیدی رسول اللہ (ﷺ)نے حج و عمرہ کرنے والوں کو احرام پہننے کے لیے متعین کیا ہےپس جو آدمی حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتا ہو اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ بغیر احرام کے میقات مکانی سے گزر جائے اور وہ پانچ مقامات ہیں جن کی وضاحت محبوب مکرم (ﷺ) کےاس فرمان مبارک میں ہے :

’’حضرت عبد اللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ذوالحلیفہ کو مدینہ والوں کیلئے، جُحْفَہ کو شام والوں کیلئے،’’قَرْنَ المَنَازِلِ‘‘ کو نجد والوں کیلئے ، يَلَمْلَمْ کو یمن والوں کیلئے میقات(احرام باندھنے کی جگہ) مقرر فرمایا: (مزید ارشادفرمایا) یہ مواقیت ان لوگوں کیلئے ہیں (جن کا ذکرکیا گیا یعنی مدینہ منورہ، شام، نجد اور یمن کیلیے)اور ان لوگوں کیلئے ہیں جو دوسرے ملکوں سے ان جگہوں پر سے گزریں، جب وہ حج اور عمرہ کی ادائیگی کیلئے آئیں اور جو ان کے علاوہ ہیں ان کا میقات وہ ہے جہاں وہ پیدا ہوئے یہاں تک کہ اہل مکہ کا میقات مکہ ہے ‘‘- [21]

اس حدیث مبارک میں مذکورہ مواقیت کی مختصر وضاحت درج ذیل ہے:

  1. ذُو الحلیفہ: یہ مدینہ طیبہ کی میقات ہے- اس زمانہ میں اس جگہ کا نام ابیارِ علی ہے-
  2. جُحفہ: یہ شامیوں کی میقات ہے، یہ شام، مصر اور مغرب سے آنے والوں کیلئے میقات ہے-
  3. یَلَملَم: اہلِ یمن کے لیے- جسے آج کل”سعدیہ‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے-
  4. قَرن المنازل: یہ نجد والوں کی میقات ہے، اسے آج کل ’’السیل الکبیر‘‘ بھی کہا جاتا ہے مکہ سے 75 کلو میڑ کے فاصلے پر ہے-
  5. ذاتِ عرق: یہ عراق والوں کی میقات ہے- اس کی تعیین دور نبوی (ﷺ) کی بجائے حضرت عمر فاروقؓ کے دور خلافت میں ہوئی-

نیز اہل مکہ کا میقات:اہل مکہ اپنے گھر یا مسجد حرام ہی سے احرام باندھ سکتے ہیں، البتہ عمرہ کا احرام باندھنے کے لیے انہیں حدود حرم سے باہر تنعیم یا عرفہ جانا ہوگا-

مسئلہ:

یہ مواقیت اُن کے لیے بھی ہیں جن کا ذکر ہوا اور ان کے علاوہ جو شخص جس میقات سے گزرے اُس کے لیے وہی میقات ہے اور اگر میقات سے نہ گزرا تو جب میقات کے برابر آئے اس وقت احرام باندھ لے-

احرام:

احرام کے لغوی معانی حرام کرنا اور اصطلاح میں حج یا عمرہ کی نیت سے مقام ِ میقات سے دو سفید چادریں مرد بطورِ لباس استعمال کرتے ہیں ایک چادر بطورتہبند اور دوسری کو کندھے پر اوڑھ لیا جاتاہے -احرام کویہ نام اس لیے دیاگیاہے کیونکہ احرام کی حالت میں مردپہ بعض حلال کام بھی حرام ہو جاتے ہیں-جیسے سلا ہوا کپڑا پہننا،خوشبو لگانا،جنگلی جانور کا شکار کرنا،سر اورداڑھی کے بال کاٹناوغیرہ -

حج بدل:

ضعیف العمر،کمزور اور مریض شخص اپنی طرف سے کسی کو حجِ بدل کرواسکتا ہے-لیکن حجِ بدل ادا کرنے والے کے لیے شرط ہے کہ وہ اپنا فرض حج ادا کرچکا ہو-

’’حضرت عبداللہ بن عباس ؓ روایت بیان فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت مآب (ﷺ) میں عرض کی:’’یا رسول اللہ (ﷺ)! میرا باپ وفات پا گیا ہے اور اس نے حج ادا نہیں کیا-کیامیں اس کی طرف سے حج کر سکتا ہوں؟ تو آپ (ﷺ) نے ارشاد فرمایا: تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تمہارے باپ پہ قرض ہوتا تو تم ادا کرتے؟ اس نے عرض کی: ہاں! آپ (ﷺ) نے ارشادفرمایا : ’’فَدَيْنُ اللهِ أَحَقُّ‘‘ [22]

’’اللہ عزوجل کا قرض اس بات کا زیادہ حق دار ہے (کہ اس کو اداکیاجائے ) ‘‘-

 اس کی فضیلت بیان فرماتے ہوئے حضور نبی کریم (ﷺ)  نے ارشادفرمایا :

’’جس نے اپنے باپ اور اپنی ماں کی طرف سے حج کیا،اس کا اپنا حج بھی ہوگیااور اس کو دس حج کرنے کی فضیلت بھی ملے گی‘‘- [23]

اسی طرح حضرت زید بن ارقم ؓ سے مروی ہے کہ سیدی رسول اللہ (ﷺ) نے ارشادفرمایا:

’’جب کوئی شخص اپنے والدین کی طرف سے حج کرے تووہ حج اس کی طرف سے بھی قبول کیا جاتاہے اوراس کے والدین کی طرف سے بھی اور ان (والدین )کی روحیں آسمان میں خوش ہوتی ہیں اور وہ اللہ عزوجل کے ہاں نیکی کرنے  والا لکھا جاتاہے ‘‘- [24]

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے ارشادفرمایا:

’’جس نے اپنے والدین کی طرف سے حج کیا،یا ان کا کوئی قرض ادا کیا، وہ قیامت کے دن ابرار(نیکی کرنے والوں)  کے ساتھ اٹھایا جائیگا‘‘-[25]

حج کاباطنی پہلو:

کوئی بھی کام کرتےوقت ہمارے ذہن میں ہمیشہ یہ بات رہے کہ ہر چیز کا ایک ظاہر ہوتا ہے اور ایک باطن-ایمان کے ہوتے ہوئے ہم ظاہر ی اعمال سرانجام دینے سے اپنے ذمہ سے فرض کی ادائیگی کرلیتے ہیں اور اللہ رب العزت کی بارگاہ سے اجر و ثواب کی امید بھی رکھتے ہیں یہ  طریق  بالکل برحق اور شریعت مطہرہ  کے عین مطابق ہے-لیکن اللہ عزوجل کے قرب ووصال کے حصول کے لئے  ہمیں چیزوں کے باطنی پہلو پہ بھی توجہ دینی چاہیے-اس کی سادہ مثال کچھ اس طرح بن سکتی ہے کہ ایک آدمی بازار سے کچھ فروٹ یا ڈرائی فروٹ (اخروٹ وغیرہ) خریدتاہے - جو بظاہر بالکل ٹھیک ہوتے ہیں لیکن گھر آکر پتہ چلتاہے کہ وہ اندر سے خراب یعنی گلے سڑے ہوئے ہیں -آپ خودسوچیں کہ اس شخص کاردعمل کیا ہوگا؟ یقیناً ان کو وہ ضائع کردےگا اور اگر اس کا بس چلا تو وہ دکاندار کو واپس کردے گا-اسی طرح ہمارے اعمال جو بظاہر بالکل صاف شفاف نظرآتے ہیں، لیکن خدانخواستہ ان کے ساتھ اگر ریا کاری، تکبر، لالچ، ڈر وغیرہ کی آمیزش (ملاوٹ) ہوگئی تو  اللہ رب العز ت کی  بارگاہِ اقدس میں وہ اعمال قبولیت کے اعلیٰ مقام تک نہیں پہنچ سکتے بلکہ   بعض اوقات وہ اعمال منہ پہ ماردیے جاتے ہیں کیونکہ رسول اللہ (ﷺ)  نے ارشاد فرمایا:

’’إِنَّ اللهَ لَا يَنْظُرُ إِلَى أَجْسَادِكُمْ، وَلَا إِلَى صُوَرِكُمْ، وَلَكِنْ يَنْظُرُ إِلَى قُلُوبِكُمْ‘‘[26]

’’بے شک اللہ تعالیٰ تمہارے اجسام اور تمہاری صورتوں کو نہیں دیکھتا بلکہ تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے‘‘-

 اگر دل دنیا وی یانفسانی خیالات میں گھرا ہوا ہے تو اعمال کیونکر اللہ رب العزت کی بارگاہ ِ اقدس میں شرفِ قبولیت حاصل کرسکتے ہیں ؟

کوئی صوفی ظاہری اعمال کی قطعاً مخالفت نہیں کرتا،ہاں اتنا ضرور ہے کہ وہ اعمال کے ظاہر کے ساتھ اس کے باطنی پہلو کی طرف توجہ دلاتے ہیں اورجو صوفیاء کرام خِلوت (چلہ یا گوشہ نشینی) اختیارکر تے ہیں اس کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے  کہ  ہم اعمال ظاہری کو سرانجام دیتے وقت صرف ظاہر تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کی حقیقت تک پہنچ کر اللہ پاک کا قرب و وصال اور اس کے محبوب کریم(ﷺ) کی بارگاہ مبارک کی حضوری کو حاصل کیا جائے -جیساکہ محبوبِ سبحانی سیدنا الشیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے حج کے باطنی پہلو پہ روشنی ڈالتے ہوئے ارشاد فرمایا:

’’حج طریقت کی راہ میں زادِ راہ اور سواری صاحب تلقین (مرشد کامل)کی تلاش اور اس سے اخذ فیض ہے-یہی پہلا قدم ہے اس کے بعد مسلسل ذکر باللسان اور اس کے معانی کو سامنے رکھنا ہے-حتی کہ دل زندہ ہوجائے اور اس کے بعد باطنی ذکر کی باری آتی ہے یہاں تک کہ اسماء صفات کے مسلسل ورد سے مَن صاف ہو جائے -ایسے میں کعبہ سرّ انوار صفا ت کے ذریعے سامنے آجاتا ہے، جیساکہ اللہ عزوجل نے حضرت ابراہیم ؑ کا حکم ارشادفرمایا تھا کہ سب سے پہلے کعبۃ اللہ کو صاف کرو‘‘-

’’وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ اَنْ طَهِّرَا بَیْتِیَ لِلطَّآىٕفِیْنَ وَ الْعٰكِفِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ‘‘[27]

’’ اور ہم نے تاکید فرمائی ابراہیم و اسمٰعیل کو کہ میرا گھر خوب ستھرا کرو طواف والوں اور اعتکاف والوں اور رکوع و سجود والوں کے لیے‘‘-

کعبہ ظاہر اس لیے صاف کیا جاتاہے کہ طواف کرنے والے لو گ آئیں گے جو کہ مخلوق ہیں جبکہ کعبہِ باطن اللہ عزوجل کے لیے صاف ہوتا ہے -باطن کے کعبہ کو غیر کے خیال سے صاف کر کے اسے اللہ عزوجل کی تجلی کے قابل بنایا جاتا ہے پھر روح ِ قدسی کا احرام باندھا جاتا ہے،پھر دل کے کعبہ میں حاضری دی جاتی ہے - [28]

اس لیے سلطان العارفین حضرت سلطان باھوؒ فرماتے ہیں :

’’پانچواں بنائے اِسلام حج ہے جس کا ظاہر حج ِثواب ہے اور باطن حجِ بے حجاب ہے -پس حاجی بھی دو قسم کے ہوتے ہیں، ایک ظاہر کے حاجی یعنی حاجی الحرم اور دوسرے باطن کے حاجی یعنی حاجی الکرم- ظاہر کے حاجی میدانِ عرفات کی طرف متوجّہ ہوتے ہیں اور باطن کے حاجی وحدانیت مع اللہ ذات میں غرق ہوتے ہیں - یاد رکھ کہ ظاہری کعبہ وہ ہے جسے حضرت اِبراہیم خلیل اللہ نے آب و گل سے تعمیر کیا اور باطنی کعبہ وہ ہے جسے ربّ ِجلیل نے جان و دل سے پیدا کیا- باطن کے حاجی کا دل قلب ِسلیم ہے جو اُس وقت تک نفس کے خلاف محو ِ جہاد رہتا ہے جب تک کہ حاجی کا ظاہر و باطن ایک نہیں ہو جاتا - اِسلام کے ظاہری و باطنی دونوں طریق مسلمان کے لئے بال و پر کی حیثیت رکھتے ہیں - جب تک وہ ظاہر و باطن کے دونوں قدم حضور نبی کریم (ﷺ) کے قدم پر نہیں لے جاتا نفاق سے باہر نہیں نکل سکتا- جب تک وہ نفاق سے باہر نہیں نکلتا وہ مومن مسلمان حاجی اور ذاکر ِ قلبی کہاں ہو سکتا ہے ؟[29]

٭٭٭


[1]( سرخسی، محمد بن أحمد، المبسوط(بیروت:دارالمعرفۃ)،کتاب المناسک،ج:4،ص:2)

[2]( عبد الغني بن طالب الحنفی، اللباب في شرح الكتاب(بیروت،مکتبۃ العلمیہ)،کتاب الحج،ج:1،ص:178)

[3](المائدہ:97)

[4](الحج:29)

[5](سعیدی،غلام رسول(ؒ)،سید،تبیان القرآن(لاہور:فریدبک سٹال،1426ھ)، ج2،ص:265-266)

[6](ابراہیم:35)

[7](الطبری،محمد بن جریر(ؒ)،جامع البيان في تأويل القرآن (مؤسسة الرسالة،1420ھ)ج:2،ص:45)

[8](حاکم ،محمد بن عبداللہ، المستدرك على الصحيحين(بيروت،دار الكتب العلمية 1411ھ)ج:2،ص:563،رقم الحدیث:3911)

[9]( شامی،محمد أمين بن عمر بن عبد العزيز(ؒ)، رد المحتار على الدر المختار( بیروت،دارالفکر،1412ھ) كِتَابُ الْحَجِّ،ج:2،ص:455)

[10]( البیہقی،أحمد بن الحسين بن علی، السنن الكبرى،ایڈیشن دوم(البروت:دارالکتب العلمیہ،1424ھ)كِتَابُ الْحَجِّ،ج:5:ص:204)

[11](البقرۃ:19)

[12](آلِ عمران:97)

[13](النسائی، أحمد بن شعيب بن علی(ؒ)، سنن النسائی، (حلب،مكتب المطبوعات الإسلامية،1406ھ)،باب وجوب الحج، ج:05، ص:110)

[14]( الترمذی ،محمد بن عيسى، سنن الترمذی، (مصر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفےٰ البابي الحلبي– (1395ه) (أَبْوَابُ الحَجِّ عَنْ رَسُولِ اللهِ (ﷺ)(َ2951)ج3،ص:167)

[15](الحج:27)

[16](القرطبي، محمد بن أحمد،الجامع لأحكام القرآن۔ ( القاهرة:دار الكتب المصرية- 1384ه)،زیرآیت:الحج:27،ج12۔ص:38)

[17](البخاری،  محمد بن اسماعیل، الجامع الصحیح(بیروت ۔لبنان۔1422ھ)كِتَابُ الحَجِّ، رقم الحدیث(1521)،ج 2،ص:133)

[18]( الترمذی ،محمد بن عيسى، سنن الترمذی، (مصر: شركة مكتبة ومطبعة مصطفےٰ البابي الحلبي– (1395ه) (أَبْوَابُ الحَجِّ عَنْ رَسُولِ اللهِ (ﷺ)(َ2951)ج3،ص:166)

[19]( البخاری،  محمد بن اسماعیل، الجامع الصحیح(بیروت ۔لبنان۔1422ھ)كِتَابُ الحَجِّ، رقم الحدیث(1519)، ج 2،ص:133)

[20]( القدوری،احمد بن محمدبن احمد(ؒ)،المختصر القدوری(راولپنڈی،مکتبہ امام احمد رضا(ؒ)، کتاب الحج،ص:122۔123

[21](صحیح البخاری،کتاب الحج،ج 2،ص:134)

[22]( سنن النسائی ،ج:05،ص:118)

[23]( دار قطنی، علي بن عمر بن أحمد، سنن الدارقطني(بیروت:مؤسسة الرسالة،1424ھ)كِتَابُ الْحَجِّ،ج:03،ص:300۔رقم الحدیث:2610)

[24]( سنن الدارقطني، ج:03،ص:299۔رقم الحدیث:2607

[25](سنن الدارقطني ج:03،ص:299۔رقم الحدیث:2607

[26]( صحیح مسلم ،مسلم بن الحجاج، (بیروت،دار إحياء التراث العربي) كتاب الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ،ج:4،ص:1986)

[27](البقرۃ:125)

[28](سرالاسرار فی ما یحتاج الیہ الابرار)

[29](محک الفقرکلاں)

سوشل میڈیا پر شِیئر کریں

واپس اوپر